Tag Archives: کینسر

کینسر میں مبتلا سونالی بیندر بارے انتہائی افسوسناک خبر آگئی ، مداح بھی افسردہ


اسلام آباد(نیو زڈیسک)کینسر سے نبرد آزما بھارتی اداکارہ سونالی بیندرے کا کہنا ہے کہ کیمو تھراپی سے ان کی آنکھیں کمزور ہو گئیں تھیں جس کی وجہ سے وہ گھبراہٹ کا شکار ہو گئیں تھیں۔سونالی بیندرے نے انسٹاگرام پر اپنی نئی تصویر شیئر کرتے ہوئے اپنی نئی آنے والی کتاب کے بارے میں آگاہ کیا ہے۔اپنی پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ انہیں یہ کتاب مکمل کرنے

میں لمبا عرصہ لگا کیونکہ کیمو تھراپی کی وجہ سے ان کی آنکھیں کمزور ہو گئیں تھیں تاہم اب وہ واضح طور پر دیکھنے کے قابل ہیں۔انہوں نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی انکشاف کیا کہ کچھ دن قبل وہ اسی لئے پریشان اور گھبراہٹ کا شکار ہو گئیں تھیں ، ساتھ ہی انہوں نے اپنے مداحوں کو یقین دلایا ہے کہ وہ اب بہتر محسوس کر رہی ہیں۔سونالی بیندرےکینسر کے خلاف دلیرانہ جدوجہد کی علامت بن گئی ہیں اور ان کے اقدامات کو زندگی کے تمام شعبوں‌سے تعلق رکھنے والے افراد کی جانب سے سراہا جاتا ہے۔انہوں نے کینسر کی تشخیص کے بعد کتابوں سے دوستی کر لی اورکتابیں لکھناے کا آغاز کیا۔با ہمت سونالی اکثر و بیشتر سوشل میڈیا پر اپنی خیریت کی خبر مداحوں اوردوستوں کو دیتی رہتی ہیں اور ان کا شکریہ ادا کرتی نظر آتی رہتی ہیں۔

پیلے رنگ کی سبزیوں اور پھلوں کا استعمال کینسر سے محفوظ رکھتا ہے‘مقررین


لاہور (نیوزڈیسک) ماحولیاتی آلودگی ، غیر فطری خوراک، منفی جذبات و خیالات اور غیر فطری طرزِ زندگی کینسر کا باعث بنتی ہے کیونکہ کینسر کا مریض نفسیاتی کمزوری کے ساتھ ساتھ قوتِ مدافعت کی کمزوری کا بھی شکار رہتا ہے، کینسر میں مبتلا مریض کی زندگی کو فطرت کے قریب لاکر اور اس احساسات اور جذبات کو بہتر کونسلنگ دے کراگر فطری

طریقہ علاج کے تحت علاج کیا جائے تو بہتر نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر ڈاکٹر محمد احمد بھٹی(صدر پوش)، پروفیسر ہومیو ڈاکٹر مرزا اعجاز بیگ(صدر ہومیو ونگ) ، ہومیو ڈاکٹر عبدالوحید قریشی(سیکریٹری انفارمیشن پوش)، حکیم ڈاکٹر حبیب الرحمن (صدر حکماء ونگ)، ڈاکٹر جمیل جعفری، حکیم ڈاکٹر نصیر احمد طارق،حکیم ڈاکٹر محمد افضل میو،حکیم ڈاکٹرمحمد ابو بکر، حکیم ملک محمد علی، حکیم حسام مبارک، ڈاکٹر فائزہ زریں اور ڈاکٹر نوشین نے پاکستان اورئینٹل سوسائٹی آف ہیلتھ کیئر پروفیشنلز”پوش” کے زیر اہتمام پومی کے تعاون سے پھیپھڑوں، چھاتی اور رحم کے کینسر کے موضوع پر منعقدہ 147واں پوش ایجوکیشنل سیمینار سے خطاب سے کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ پیلے رنگ کی سبزیوں اور پھلوںکا استعمال کینسر سے محفوظ رکھتا ہے۔ انہوں نے طب یونانی اور ہومیو پیتھک طریقہ علاج کوکینسرکے مریضوں کیلئے بہترین قرار دیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ان طریقہ علاج کے ذریعے کینسر کے مریض نارمل زندگی بسر کررہے ہیں۔

کینسر سے متاثرہ افراد کو آپریشن کے بعد غیر ضروری کیموتھراپی سے نجات مل سکے گی


سڈنی ۔ (نیوزڈیسک) آسٹریلوی ماہرین نے خون کا ایسا نیا سادہ ٹیسٹ متعارف کروایا ہے جس کی مدد سے کینسر سے متاثرہ افراد کو آپریشن کے بعد غیر ضروری کیموتھراپی سے نجات مل سکے گی۔ چینی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق یہ ٹیسٹ آسٹریلیا کے شہر میلبورن کے والٹر اینڈ الیزا ہال انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ریسرچ کے ماہرین نے تیار کیا ہے اور

آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے 40 ہسپتالوں میں اس کو مریضوں پر آزمایا جارہا ہے۔ ٹیسٹ کے ذریعے متاثرہ فرد کے خون کا نمونہ لے کر اس بات کا تعین کیا جاسکتا ہے کہ اس کے جسم میں کینسر ٹیومر (سرطانی رسولی) کے آپریشن کے بعد اس کے کچھ حصے موجود ہیں یا اسے آپریشن کے دوران مکمل طور پر جسم سے نکال دیا گیا ہے۔ اس وقت تک ایسا کوئی طریقہ کار موجود نہیں تھا جس کی مدد سے اس بات کا درست تعین ہوسکے کہ سرطانی رسولی کا آپریشن کس حد تک کامیاب رہا ہے اور مریضوں کو احتیاطاً کیموتھراپی کے تکلیف دہ عمل سے گذرنا پڑتا تھا اور اس کے درد، تھکن، متلی، نظام ہضم کی خرابی، یادداشت متاثر ہونے، حمل سے متعلق اور دل، پھیپھڑوں اور اعصابی نظام پر سائیڈ ایفیکٹس برداشت کرنا پڑتے تھے۔ نئے ٹیسٹ کے ذریعے مریضوں کی بڑی تعداد کو ایسی تمام کیفیات سے نجات مل سکے گی۔ نئے ٹیسٹ کی آزمائش 2015 میں شروع کی گئی تھی جو 2021 ء میں مکمل ہوگی۔

کینسر سے متاثرہ افراد کو آپریشن کے بعد غیر ضروری کیموتھراپی سے نجات مل سکے گی


سڈنی ۔ (نیوزڈیسک) آسٹریلوی ماہرین نے خون کا ایسا نیا سادہ ٹیسٹ متعارف کروایا ہے جس کی مدد سے کینسر سے متاثرہ افراد کو آپریشن کے بعد غیر ضروری کیموتھراپی سے نجات مل سکے گی۔ چینی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق یہ ٹیسٹ آسٹریلیا کے شہر میلبورن کے والٹر اینڈ الیزا ہال انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ریسرچ کے ماہرین نے تیار کیا ہے اور

آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے 40 ہسپتالوں میں اس کو مریضوں پر آزمایا جارہا ہے۔ ٹیسٹ کے ذریعے متاثرہ فرد کے خون کا نمونہ لے کر اس بات کا تعین کیا جاسکتا ہے کہ اس کے جسم میں کینسر ٹیومر (سرطانی رسولی) کے آپریشن کے بعد اس کے کچھ حصے موجود ہیں یا اسے آپریشن کے دوران مکمل طور پر جسم سے نکال دیا گیا ہے۔ اس وقت تک ایسا کوئی طریقہ کار موجود نہیں تھا جس کی مدد سے اس بات کا درست تعین ہوسکے کہ سرطانی رسولی کا آپریشن کس حد تک کامیاب رہا ہے اور مریضوں کو احتیاطاً کیموتھراپی کے تکلیف دہ عمل سے گذرنا پڑتا تھا اور اس کے درد، تھکن، متلی، نظام ہضم کی خرابی، یادداشت متاثر ہونے، حمل سے متعلق اور دل، پھیپھڑوں اور اعصابی نظام پر سائیڈ ایفیکٹس برداشت کرنا پڑتے تھے۔ نئے ٹیسٹ کے ذریعے مریضوں کی بڑی تعداد کو ایسی تمام کیفیات سے نجات مل سکے گی۔ نئے ٹیسٹ کی آزمائش 2015 میں شروع کی گئی تھی جو 2021 ء میں مکمل ہوگی۔

مجھے کینسر کا مرض لاحق نہیں،


منیلا (نیوزڈیسک) فلپائن کے صدر روڈو ریکو دو تیرتے نے کہا ہے کہ اٴْنہوں نے اپنا طبی معائنہ کرایا ہے جس میں ان کی رپورٹس مثبت آئی ہیں۔ انہیں کینسر کا مرض لاحق نہیں۔ اس لیے کسی کو ان کے قریب آنے سے نہیں ڈرنا چاہیے۔ خیال رہے کہ صدر دو تیرتے کو گذشتہ ہفتے کینسر کے شبے کی بنیاد پر ایک نجی اسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں ان کا تفصیلی معائنہ

کیا گیا۔مقامی میڈیا کے مطابق اسپتال سے ڈسچارج ہونے کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ مجھ سے ڈرنے کی ضرورت نہیں، مجھے کینسر نہیں، اس لیے ہاتھ ملانے سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔فلپائن کے وزیرداخلہ نے اڈورڈو انو این نے ایک بیان میں کہا کہ صدر نے اسپتال سے واپس آنے کے بعد ایک عوامی اجتماع سے خطاب میں کہا ہے کہ انہیں سرطان کا مرض لاحق نہیں۔

کینسر سے پریشان لو گو ں کیلئے بڑی خو شخبری ، اعلاج ممکن ہو گیا


برسلز(نیوز ڈیسک ) بیلجیئم کے ماہرین صحت نے کہا ہے کہ آبی نرگس کے پھولوں میں پائے جانے والے الکلائیڈز پیچیدہ سرطانی رسولیوں کو پھیلنے سے روکتے ہیں۔ بیلجیئم کی یونیورسٹی لایبر ڈی بروکسیلیس (یوایل بی) کے ماہرین کی جدید تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ آبی نرگس کے خوبصورت پھولوں میں ’ہیمانتھیمائن‘ نامی ایک الکلائیڈ پایا جاتا ہے جو کینسر

پھیلنے سے روکتا ہے۔ماہرین کے مطابق کینسر کے ہر خلیے میں رائبوسوم پائے جاتے ہیں جسے ’نینومشینز‘ بھی کہا جاتا ہے ۔ سرطانی رسولیاں خود کو بڑھانے کے لئے رائبوسوم کو ہائی جیک کرکے اپنے لیے پروٹین بنانے پر مجبور کردیتی ہیں۔ تحقیق کے دوران ہیمانتھیمائن کو جب کینسر کی رسولیوں پر آزمایا گیا جس نے رائبوسوم کو پروٹین بنانے سے باز رکھا اور دوسرے مرحلے میں رسولی کو بڑھنے سے روک دیا ۔ تحقیق اب اس مراحل میں ہے کہ نرگس سے اخذ کردہ یہ الکلائیڈ کہیں صحت مند خلیات کو تو نقصان نہیں پہنچاتا ۔ اگلے مرحلے میں ماہرین اس پھول کے مزید چار الکلائیڈز نکال کر ان کی آزمائش کریں گے۔

کینسر سے پریشان لو گو ں کیلئے بڑی خو شخبری ، ایسا پھول جس سے اعلاج ممکن ہو گیا


برسلز(نیوز ڈیسک ) بیلجیئم کے ماہرین صحت نے کہا ہے کہ آبی نرگس کے پھولوں میں پائے جانے والے الکلائیڈز پیچیدہ سرطانی رسولیوں کو پھیلنے سے روکتے ہیں۔ بیلجیئم کی یونیورسٹی لایبر ڈی بروکسیلیس (یوایل بی) کے ماہرین کی جدید تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ آبی نرگس کے خوبصورت پھولوں میں ’ہیمانتھیمائن‘ نامی ایک الکلائیڈ پایا جاتا ہے جو کینسر

پھیلنے سے روکتا ہے۔ماہرین کے مطابق کینسر کے ہر خلیے میں رائبوسوم پائے جاتے ہیں جسے ’نینومشینز‘ بھی کہا جاتا ہے ۔ سرطانی رسولیاں خود کو بڑھانے کے لئے رائبوسوم کو ہائی جیک کرکے اپنے لیے پروٹین بنانے پر مجبور کردیتی ہیں۔ تحقیق کے دوران ہیمانتھیمائن کو جب کینسر کی رسولیوں پر آزمایا گیا جس نے رائبوسوم کو پروٹین بنانے سے باز رکھا اور دوسرے مرحلے میں رسولی کو بڑھنے سے روک دیا ۔ تحقیق اب اس مراحل میں ہے کہ نرگس سے اخذ کردہ یہ الکلائیڈ کہیں صحت مند خلیات کو تو نقصان نہیں پہنچاتا ۔ اگلے مرحلے میں ماہرین اس پھول کے مزید چار الکلائیڈز نکال کر ان کی آزمائش کریں گے۔

عرفان خان ،سونالی باندرے کے بعدایک اوربالی ووڈ شخصیت کینسرکاشکار


ممبئی (ویب ڈیسک )رواں برس جولائی میں بولی وڈ اداکارہ سونالی باندرے نے سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے یہ انکشاف کیا تھا کہ وہ کینسر کا شکار ہوگئی ہیں۔سونالی باندرے سے قبل بولی وڈ ہیرو عرفان خان نے بھی سوشل میڈیا کے ذریعے انکشاف کیا تھا کہ وہ بہت بڑی بیماری کا شکار ہوگئی ہیں۔ بعد ازاں ان میں بھی نیورو اینڈو کرائن نامی کینسر کی تشخص

ہوئی تھی۔ابھی عرفان اور سونالی باندرے کا درد لوگ بھولے ہی نہیں تھے کہ ایک اور بھارتی فلم لکھاری اور ہیرو آیوشمن کھرانہ کی اہلیہ طاہرہ کشیپ نے یہ انکشاف کردیا کہ وہ بھی کینسر کا شکار ہوچکی ہیں۔آنے والی رومانٹک کامیڈٰی فلم ‘بدھائی ہو’ کے ہیرو آیوشمن کھرانہ کی اہلیہ 35 طاہرہ کشیپ جو پیشے کے اعتبار سے لکھاری ہیں، انہوں نے بھی سوشل میڈیا کے ذریعے مداحوں کو بتایا کہ وہ بریسٹ کینسر کا شکار ہوچکی ہیں۔طاہرہ کشیپ نے اپنی انسٹاگرام پوسٹ کے ذریعے بتایا کہ کینسر سے ان کا دایاں ‘بریسٹ’ متاثر ہوا ہے اور انہوں نے ‘میسٹیکٹمی’ کروائی ہے۔طاہرہ کشیپ نے بتایا کہ ان میں ‘ڈکٹل کارنوما انسیٹو’ (ڈی سی آئی ایس) نامی وائرس کی تشخیص ہوئی، جس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ ہولی وڈ اداکارہ انجلینا جولی کا آدھا بھارتی ورژن ہیں۔انہوں نے اپنی پوسٹ میں مذاق بھی کیے اور خواتین کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی صحت کا خٰیال رکھیں۔طاہرہ کشیپ نے بتایا کہ ان کی عمر 35 برس ہوچکی ہے اور انہوں نے یہ پوسٹ لوگوں میں شعور بیدار کرنے کے لیے رکھی ہے، ممکن ہے کہ ان کی تصویر سے کچھ لوگوں کو تکلیف پہنچی ہو، تاہم اب یہ حقیقت ہے۔خیال رہے کہ

‘میسٹیکٹمی’ میں بریسٹ کو ہٹادیا جاتا ہے یا پھر انہیں مختصر کرکے کینسر کو مزید پھیلنے سے روکا جاتا ہے۔انجلینا جولی کو بھی 2013 میں بریسٹ کینسر ہوا تھا اور ان کے دونوں بریسٹ کو ہٹا دیا تھا، بعد ازاں اداکارہ کو ‘اوویرین کینسر’ بھی لاحق ہوگیا تھا اور انہوں نے اس کی سرجری کرا رکھی ہے۔انجلینا جولی کی والدہ اور دادی بریسٹ اور اوویرین کینسر سے ہی ہلاک ہوئی تھیں۔طاہرہ کشیپ کے بھی ایک بریسٹ کو ہٹایا یا مختصر کیا گیا ہے۔طاہرہ کشیپ نے 2011 میں آیوشمن کھرانہ سے شادی کی تھی، اس سے قبل وہ کئی سال سے ایک دوسرے سے ملتے آ رہے تھے۔طاہرہ اور آیوشمن کھرانہ کو 2 بچے بھی ہیں، طاہرہ نے ایک کتاب بھی لکھی ہے، جب کہ انہوں نے ایک شارٹ فلم ‘ٹافی’ کو بھی بنایا ہے۔ان کے شوہر آیوشمن کھرانہ ان دنوں اپنی آنے والی فلم ‘بدھائی ہو’ کی تشہیر میں مصروف ہیں، اس فلم میں وہ ثانیہ ملہوترا کے ساتھ کام کرتے دکھائی دیں گے۔

دنیا کی ایک چوتھائی آبادی کو کینسر ، ہارٹ اٹیک کا خطرہ


اسلام آباد(نیو زڈیسک)ماہرین نے جدید تحقیق کے دوران انکشاف کیا ہے کہ دنیا کی ایک چوتھائی آبادی کو اس وقت کینسر اور ہارٹ اٹیک ہونے کا خطرہ ہے۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بہت سے لوگ صرف اس لئے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں کہ وہ مناسب ورزش نہیں کرتے۔ اس کے علاوہ انہیں کم ورزش کر نے

سے بھی ذیابیطس ، کینسر اور دیگر بیماریوں کا خطرہ ہے جو مستقبل میں جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔

روزانہ کم از کم 20 گرام یہ چیز کھائیں دل کی بیماری ،کینسر سے چھٹکارا پائیں


لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) روزانہ کم از کم 20 گرام یعنی مٹھی بھر خشک میوے کھانے سے آپ کو دل کی بیماری، کینسر جیسے مسائل کا خطرہ کم ہو سکتا ہے. خشک میوے کی کھپت پر تمام موجودہ جائزوں کے تجزیہ سے پتہ چلتا ہے کہ روزانہ 20 گرام خشک میوے کھانے سے دل سے جڑی ہوئی بیماری تقریبا 30 فیصد، کینسر 15 فیصد اور قحط موت 22 فیصد کم

ہو جاتیہے۔Imperial امپیریل کالج لندن اور ناروے یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے سائنسدانوں نے پورے دنیا بھر کے 29 شائع Studies کا تجزیہ کیا۔ اس مطالعہ میں کل 819000 لوگ شامل ہوئے تھے جس سے 12000 سے زائد افراد دل سے منسلک ہوئی بیماریوں کے مریض تھے جبکہ000 ،9معاملے heart attack ، 000، 18، صورت دل کی بیماری اور کینسر اور 85000 سے زیادہ قحط اموات کے تھے۔اس کا مطالعہ جرنل بی ایم سی میڈیسن میں شائع ہوا ہے۔