Tag Archives: پاکستانیوں

بے روزگار پاکستانیوں کی قسمت جاگ اٹھی،ایسا اعلان کر دیا گیا کہ عوام خوشی سے جھوم اٹھے


اسلام آباد(ویب ڈیسک) پاک چین اقتصادی راہداری کا منصوبہ کامیابی سے جاری و ساری ہے لیکن کچھ ممالک اور آبزرورز چین اور پاکستان کے ساتھ مخاصمت یا ذاتی مفادات کی بناءپر منفی پراپیگنڈا کر رہے ہیں کہ یہ منصوبہ پاکستان کو قرضے کے جال میں جکڑنے کے لیے چین نے شروع کیا ہے اوراس سے پاکستان کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا، لیکن حقیقت اس کے

برعکس ہے۔ برطانوی اخبار ٹیلیگراف کے مطابق پاک چین اقتصادی راہداری کے تحت پاکستان نے جو 5.9ارب ڈالر کا قرض لیا ہے تووہ بہت طویل مدت میں واپس ادا کرنا ہے چنانچہ اس کا پاکستانی معیشت پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔ یہ منصوبہ قرض کا جال نہیں بلکہ پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کا ایک وسیلہ ثابت ہو گا۔ اب تک اس منصوبے کے تحت چین نے 18.9ارب ڈالر کی فنڈنگ کی ہے، جس میں سے صرف یہی 5.9ارب ڈالر واجب الادا قرض ہے، جس پر پاکستان کو صرف 2فیصد سود ادا کرنا ہے اور یہ سود بھی 2021ءسے لاگو ہونا شروع ہو گا۔ باقی تمام رقم توانائی کے منصوبوں کے لیے چینی کمپنیوں اور دوسرے شراکت داروں نے مہیا کی ہے جو قرض نہیں بلکہ سرمایہ کاری ہے۔ اس کے علاوہ چین کی طرف سے گوادر ایسٹ بے ایکسپریس وے کی تعمیر کے لیے جو 14کروڑ 30لاکھ ڈالر قرض دیا گیا ہے وہ بھی بلا سود ہے۔ مزید ویلفیئر کے منصوبوں کے لیے فراہم کیے گئے 2کروڑ 90لاکھ ڈالر بھی بلا سود قرض ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ چین سی پیک پر جتنی رقم خرچ کر رہا ہے اس کا 20فیصد سے بھی کم واجب الادا قرض ہے جبکہ

80فیصد سے زائد رقم مختلف مالی اداروں کے ذریعے عالمی قوانین کے مطابق مختلف منصوبوں پر خرچ کیے جا رہے ہیں۔چین کا یہ 5.9ارب ڈالر کا قرضہ پاکستان کے غیرملکی قرضوں کا صرف 6فیصد بنتا ہے۔گویا پاکستان سی پیک کے تحت صرف 6فیصد تک چین کا مقروض ہو گا، اس کا باقی تمام قرض دیگر ممالک اور مالیاتی اداروں سے لیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ سی پیک کے پاکستان کے لیے فوائد کہیں زیادہ ہیں۔ 2015ءسے اب تک سی پیک کے تحت براہ راست 70ہزار نئی ملازمتیں پیدا ہو چکی ہیں جن میں سے 60ہزار پاکستانیوں شہریوں کو ملی ہیں۔ 2030ءتک اس منصوبے کے تحت 8لاکھ نوکریوں کے مواقع پیدا ہوں گے جس سے پاکستان میں بیروزگاری انتہائی کم ہو جائے گی۔ پاکستان کا ٹرانسپورٹ نیٹ ورک انتہائی خستہ حال ہے جس کی وجہ سے ہر سال جی ڈی پی کا 3.5فیصد نقصان ہوتا ہے۔ سی پیک کے تحت بننے والی راہداریوں، شاہراہوں اور ریلوے ٹریک کے منصوبوں سے پاکستان کا ٹرانسپورٹ نیٹ ورک بہترین حالت میں آ جائے گا اور یہ نقصان نہ ہونے کے برابر رہ جائے گا۔ اس سے کتنی بچت ہو گی؟ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آئی ایم

ایف کے مطابق 2017ءمیں پاکستان کا جی ڈی پی 304ارب 95کروڑ ڈالر رہا۔ چنانچہ اس اوسط سے پاکستان کو خستہ ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کے باعث 10ارب 67کروڑ ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔

امُیدیں ابھی مکمل ختم نہیں ہوئیں کیونکہ۔۔۔ پاکستانیوں کا دل خوش کر دینے والی خبر آگئی


لاہور (ویب ڈیسک) یہ سمجھ لینے کی ضرورت ہے کہ تیل کی تلاش کا کام صبر، مستقل مزاجی اور حوصلے کا متقاضی ہے۔ یہاں ہتھیلی پر سرسوں نہیں جمائی جاتی، نہ یہ تبدیلی قلب کا آپریشن ہے کہ مریض کے ہوش میں آنے پر کامیابی کا اعلان کر دیا جائے اور اگر مریض جانبر نہ ہو تو آپریشن ناکام ٹھہرے۔ تیل و گیس کی تلاش کے کام کو آسان زبان میں اس

طرح سمجھ لیں کہ ہزاروں میٹر گہرائی میں تیل و گیس سے لتھڑا اسفنج کا ایک بہت بڑا ٹکڑا مٹی اور چٹانوں کی تہوں میں دبا پڑا ہے جس کی تلاش جوئے شیر لانے سے کم نہیں، اکثر ایسا ہوا کہ ذخیرے تک پہنچے تو معلوم ہوا کہ خزانے کے سر پر کوئی سائبان نہیں اور جب جھولی میں چھید ہوں تو وہاں قارون کا خزانہ بھی نہیں ٹک پاتا۔ کبھی ذخیرہ ملا تو اس کا ظرف اتنا چھوٹا کہ پیاس بجھنا تو دور کی بات داڑھ بھی گیلی نہیں ہوسکتی۔ تیل و گیس کے ذخیرے کے سر پر غیر نفوذ پذیر چٹان کی موجودگی کیلئے جدید اور آزمائے ہوئے طریقے استعمال ہوتے ہیں لیکن Seismic اور دوسرے ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات دوٹوک اور شفاف نہیں ہوتیں، بالکل درست معلومات کنواں کھود کر ہی حاصل ہوتی ہیں۔ کیکڑا کے حتمی نتائج کا ہمیں علم نہیں بلکہ یہ شائد ای این آئی کو بھی معلوم نہ ہو کہ ٹیسٹ اور اس کا تجزیہ ابھی جاری ہے لیکن جو ابتدائی معلومات میڈیا پر آئی ہیں اس کے مطابق اس بات میں اب کوئی شبہ نہیں کہ یہاں منبع موجود ہے، یہاں ذخیرہ کرنے والی چونے کے پتھر کی مسامدار چٹانیں بھی موجود ہیں۔ یہ مسام ملے ہوئے ہیں اس لئے ان میں موجود تیل و گیس

کو حرکت میں لانا مشکل نہیں، غیر مسامدار چٹانوں نے ذخیرے کا احاطہ کیا ہوا ہے۔ یہ معلومات ملی ہیں کہ ذخیرے کے اوپر کے حصے میں گیس کے آثار ہیں جس کے نیچے پانی ہے، یعنی بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ گیس سے بھری چٹان کی موٹائی اتنی نہیں کہ یہاں سے تجارتی بنیادوں پر گیس نکالی کی جاسکے۔ بلاشبہ اسے آپ ناکامی کہہ سکتے ہیں جس کا ملک دشمن میڈیا ‘کھودا پہاڑ نکلا چوہا’ کہہ کر مذاق اڑا رہا ہے لیکن ارضیات کے طلبہ کیلئے یہ نتائج کسی بھی اعتبار سے مایوس کن نہیں۔ چند برس پہلے شیل نے کیکڑا کے جنوب میں ایک کنواں کھودا تھا جہاں نہ Cap Rock کا کوئی سراغ ملا اور نہ مسامدار چٹانوں کی موجود گی کا احساس ہوا۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو کیکڑا سے ملنے والی معلومات نے امیدو اعتماد کی نئی شمع روشن کی ہے جس کی روشنی میں نئے کنویں کیلئے جگہ کا تعین زیادہ باوثوق انداز میں کیا جاسکے گا۔ اب ماہرین کو زیر زمین پانی کے پھیلاؤ اور ان گیلی چٹانوں کی ڈھلان کا اندازہ کرنا ہے تاکہ نیا سوراخ وہاں کیا جائے جہاں گیس سے بھری چٹانوں کی موٹائی زیادہ ہو۔ کیکڑا کسی بھی اعتبار سے ناکامی نہیں، ضرورت اس بات کی

ہے کہ کروڑوں ڈالر خرچ کر کے جو قیمتی معلومات حاصل ہوئی ہیں انہیں مایوسی کی دیمک کا رزق بنانے کے بجائے ان کی بنیاد پر نئے کنویں کی تیاری شروع کر دی جائے۔ جو لوگ رقم ڈوبنے کا ماتم کر رہے ہیں انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ تیل کی تلاش کیلئے گہری جیب، مضبوط دل اور آہنی اعصاب بنیادی جزو ہیں۔ یہ چھوٹے دل اور ذرا سی مشکل پر ہتھیار رکھ دینے والوں کے بس کی بات نہیں۔ یہ ان بہادروں کا کام ہے جو ناکامیوں کو پیروں تلے مسل کر نیا راستہ بنانے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔ اس بات میں قطعاً کوئی شبہ نہیں کہ پاکستانی سمندر کی تہوں میں تیل و گیس کا ایک سمندر موجزن ہے اور انشااللہ ایک دن یہ ضرور دریافت ہوگا۔ وسائل و قابلیت اور ہنرمند افرادی قوت کی کوئی کمی نہیں، بس حوصلہ مند، مخلص اور بے خوف تکنیکی اور سیاسی قیادت درکار ہے۔

بیرون ملک پاکستانیوں نے عمران خان کا دل خوش کر دیا ، تفصیلات جان کر آپ بھی جھوم اٹھیں گے


کراچی (ویب ڈیسک) بیرون ملک مقیم پاکستانی کارکنوں نے مالی سال 19 کے پہلے دس ماہ(جولائی تا اپریل)میں 17,875.23 ملین امریکی ڈالر وطن بھجوائے جو گذشتہ برس کی اسی مدت میں موصول ہونے والے 16,481.82 ملین ڈالر کے مقابلے میں 8.45 فیصد نمو کو ظاہر کرتا ہے۔ اپریل 2019 میں کارکنوں کی ترسیلات زر کی مالیت 1,778.90 ملین

ڈالر رہی جومارچ 2019 کے مقابلے میں 2 فیصد زائد جبکہ اپریل 2018 کے مقابلے میں 6 فیصدزیادہ ہے۔ بلحاظ ملک اپریل 2019 کی تفصیلات سے پتہ چلتا ہے کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، امریکہ، برطانیہ، خلیج تعاون کونسل خلیج تعاون کونسل کے ملکوں بشمول بحرین، کویت، قطر اور عمان اور یورپی یونین کے ملکوں سے بالترتیب 427.82 ملین ڈالر،372.43 ملین ڈالر،269.56 ملین ڈالر،280.02 ملین ڈالر، 175.44 ملین ڈالر اور 48.19 ملین ڈالر پاکستان بھجوائے گئے،جبکہ اپریل 2018 میں ان ملکوں سے آنے والی رقوم بالترتیب 399.56ملین ڈالر،362.4 ملین ڈالر، 250.91 ملین ڈالر،245.85ملین ڈالر، 167.68ملین ڈالر اور 54.75 ملین ڈالر تھیں۔ اپریل 2019 میں ملائشیا، ناروے، سوئٹزر لینڈ، آسٹریلیا، کینیڈا، جاپان اور دیگر ملکوں سے آنے والی ترسیلات زر مجموعی طور پر 205.43 ملین ڈالر رہیں جبکہ اپریل 2018 میں ان ملکوں سے192.72ملین ڈالر موصول ہوئے تھے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانی کارکنوں نے مالی سال 19 کے پہلے دس ماہ(جولائی تا اپریل)میں 17, 875.23ملین امریکی ڈالر وطن بھجوائے جو گذشتہ برس کی

اسی مدت میں موصول ہونے والے 16, 481.82ملین ڈالر کے مقابلے میں 8.45 فیصد نمو کو ظاہر کرتا ہے۔دوسری جانب خبر یہ ہے کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے نئے کرنسی نوٹ جاری کرنے کے لیے ایس ایم ایس سروس کے ذریعے بکنگ آج ( اتوار) سے شروع ہو گی ۔نئے نوٹ کمرشل بینکوں کی نامزد شاخوں سے دستیاب ہوں گے جو ’’ای برانچز ‘‘ کہلاتی ہیں، اس کے علاوہ ایس بی پی بی ایس سی کے 16فیلڈ دفاتر سے بھی نئے کرنسی نوٹ حاصل کیے جا سکیں گے۔ موبائل ایس ایم ایس سروس کے ذریعے نئے نوٹوں کا اجرا 20 مئی 2019 سے شروع ہوگا اور 31 مئی 2019 تک جاری رہے گا۔ ملک کے 142 شہروں میں 1702 ای برانچز اور ایس بی پی بی ایس سی کے 16 فیلڈ دفاتر کے ذریعے یہ سہولت فراہم کی جائے گی – ایک ایس ایم ایس پر چارجز 1.50 روپے جمع ٹیکس ہوں گے۔نامزد ای برانچوں کی برانچ آئی ڈی اسٹیٹ بینک کی ویب سائٹ www.sbp.org.pk، پی بی اے کی ویب سائٹ www.pakistanbanks.org اور کمرشل بینکوں کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔اس کے علاوہ یہ برانچ آئی ڈی نامزد ای برانچوں کے باہر نمایاں مقام پر آویزاں کی جائے

گی۔ ای برانچ کی برانچ آئی ڈی موجودہ برانچ/ بینکوں کے سوئفٹ کوڈسے مختلف ہے۔طریق کار کے مطابق نئے نوٹ حاصل کرنے کے خواہشمند فرد کو اپنا 13 ہندسوں والا کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ نمبر یا اسمارٹ کارڈ نمبر اور مطلوبہ ای برانچ کی آئی ڈی لکھ کر شارٹ کوڈ 8877پر ایک ایس ایم ایس پیغام بھیجنا ہوگا ۔ بھیجنے والے فرد کو جواب میں ایک ایس ایم ایس موصول ہوگا جس میں اس کا ریڈیمشن کوڈ، ای برانچ کا پتہ اور ریڈیمشن کوڈ کے موثر ہونے کا عرصہ لکھا ہوگا۔ صارف کو موصولہ ریڈیمشن کوڈ ایس ایم ایس میں درج تاریخ کے مطابق زیادہ سے زیادہ دو ایام کار کے لیے موثر ہوگا۔ صارف کو اپنا اصل کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ/ اسمارٹ کارڈ، اس کی ایک فوٹو کاپی اور 8877سے موصولہ ٹرانزیکشن کوڈ لے کر متعلقہ ای برانچ جانا ہوگا جہاں سے نئے نوٹ مل جائیں گے۔ ایک شخص 10روپے کے تین پیکٹ اور 50 روپے اور 100روپے کے ایک ایک پیکٹ لے سکتا ہے

پاکستان اور متحدہ عرب امارات کا متحدہ عرب امارات میں گرفتار پاکستانیوں کو وطن واپس لانے کے لئے موثر حکمت عملی وضع کرنے پر اتفاق


اسلام آباد ۔ (نیوزڈیسک) پاکستان اور متحدہ عرب امارات نے متحدہ عرب امارات میں گرفتار پاکستانیوں کو وطن واپس لانے کے لئے موثر حکمت عملی وضع کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس سلسلے میں متحدہ عرب امارات کے سفیر حماد عبید ابراہیم سلیم الضابی اور وزیراعظم کے سمندر پار پاکستانیوں کے لئے معاون خصوصی ذوالفقار بخاری کے مابین ملاقات میں بات

چیت ہوئی جس میں دونوں اطراف نے متحدہ عرب امارات میں معمولی جرائم میں پکڑے جانے والے پاکستانیوں کے معاملے اور ان کی مشکلات کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات میں دوطرفہ دلچسپی کے امور پر بھی بات چیت کی گئی اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ ملاقات میں تحدہ عرب امارات میں پاکستانی کارکنوں کے لئے کام کرنے کے حالات کو بہتر بنانے پر بھی بات چیت کی گئی اور پاکستانی افرادی قوت کے لئے مواقع بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ متحدہ عرب امارات کے سفیر نے پاکستان میں متحدہ عرب امارات کے قونصلیٹس میں سپیشلائزڈ ویزا ڈیسک قائم کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا تاکہ ویزا کے اجراء کے عمل کو بہتر کیا جاسکے۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی نے وزارت کا دورہ کرنے اور پاکستانی کارکنوں کے مسائل کے حل کے لئے دلچسپی لینے پر متحدہ عرب امارات کے سفیر کا شکریہ ادا کیا۔

حکومت کاسعودی عرب سےقید پاکستانیوں کی جلدرہائی کا مطالبہ


صوابی(نیوزیسک) تحریک انصاف نے سعودی عرب میں قید پاکستانیوں کی رہائی کا معاملہ اٹھا دیا، اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ سعودی سفیرسے سعودی عرب میں قید پاکستانیوں کی رہائی کا معاملہ اٹھایا دیا ہے، چینی وزیرخارجہ نے بھی پسماندہ علاقوں میں جلدتعمیراتی کاموں کایقین دلایا۔ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے آج صوابی میں میڈیا سے

گفتگو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی ڈیم کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالیں۔ پہلی تنخواہ ڈیم کی تعمیر کیلئے فنڈ میں عطیہ کرچکا ہوں۔ اسد قیصر نے کہا کہ اپوزیشن کا احترام کرتے ہیں، ان کی ہر بات سنیں گے۔ الیکشن پراپوزیشن کے مطالبے پرپارلیمانی کمیٹی کا اعلان وزیراعظم کرینگے۔ اسد قیصر نے کہا کہ عوام کو جلد تبدیلی نظر آئے گی۔ وزیراعظم کے100روزہ پلان پرمکمل طورپرعمل ہوگا۔ اسپیکرقومی اسمبلی نے کہا کہ سعودی سفیرسے سعودی عرب میں قید پاکستانیوں کی رہائی کیلئے بات کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چینی وزیرخارجہ نے یقین دلایا کہ پسماندہ علاقوں میں جلد کام کریں گے۔ واضح رہے وزیراعظم عمران خان سے سعودی وزیراطلاعات ڈاکٹرعواد بن صالح نے ملاقات کی۔ سعودی وزیرنے اپنی قیادت کی طرف سے مبارکباد کا پیغام پہنچایا۔ سعودی قیادت نے پاکستان کی حکومت اور عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ دوطرفہ تعلقات پائیدار، وسیع البنیاد اورجامع شراکت داری پرمبنی ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے دو طرفہ تعلقات میں پیش رفت پر اظہار اطمینان کیا۔ وزیراعظم نے سعودی سرمایہ کاروں کوتوانائی،

لائیواسٹاک، زرعی شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت بھی دی۔ مزید برآں وزیر اعظم سے چین کے وزیرخارجہ وانگ ژی نے وفد کے ہمراہ ملاقات کی۔وانگ ژی نے اپنی حکومت کی طرف سے نئی حکومت کے لیے نیک خواہشات کا پیغام پہنچایا۔ چینی وزیرخارجہ نے عمران خان کووزارت عظمی کامنصب سنبھالنے پرمبارکباد پی کی۔ ملاقات میں دو طرفہ اور علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ چینی وزیرخارجہ نے کہا کہ چینی قیادت پاکستان کی نئی حکومت کے ساتھ ملکر کام کرنے کی خواہاں ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ چین کے ساتھ دوستی پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم ستون ہے۔ حکومت پاکستان سی پیک منصوبوں پر عمل درآمد کے لیے پرعزم ہے۔

پاکستانیوں کیخلاف ایسا اقدام جان کر آپ بھی یقین نہیں کرینگے


لاہور(نیوز ڈیسک) ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق بھارت نے حضرت نظام الدین اولیا کے عرس میں شرکت کے خواہش مند پاکستانی زائرین کو ویزے جاری کرنے سے انکار ک ردیا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ بھارت نے آخری لمحے پر زائرین کو ویزے جاری کرنے سے انکار کیا جبکہ بھارت کا یہ اقدام باعث افسوس اور معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ ویزے جاری نہ کرنا 1974 کے

مذہبی سیاحت کے باہمی پروٹوکول کی خلاف ورزی ہے ایسے اقدامات باہمی معاہدوں کے ساتھ مذہبی حقوق کی خلاف ورزیاں ہیں۔ ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان نے گرو ارجن دیو اور مہاراجہ رنجیت سنگھ کی برسی پرخ صوصی ٹرین کی پیشکش کی تھی۔ بھارتی جواب میں تاخیر سے ہزاروں سکھ یاتری پاکستان آنے سے محروم ہوئے۔ بھارت پہلے بھی گرو ارجن دیو، مہاراجہ رنجیت سنگھ کی تقریبات سے

متعلق ایسا کر چکا ہے۔واضح رہے کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی اہلخانہ سے ملاقات کے بعد بھارت نے پاکستان کی انسانی ہمدردی کے اس اقدام کے جواب میں ہرزہ سرائی شروع ک ردی ہے جس سے دو طرفہ تعلقات مزید خراب ہو گئے ہیں۔

پاکستانیوں کیلئے بری خبر ، نواز شریف نے قوم کو خوفزدہ کردیا


لندن (نیوز ڈیسک)سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کو ہم نے اپنے وعدوں کی تکمیل کرتے ہوئے معاشی طور پر استحکام کی جانب گامزن کیا تھا مگر اب ایک بار پھر ملک بدحالی کی جانب جا رہا ہے، سی پیک کے منصوبے بھی اب سستی کا شکار ہوگئے ہیں، منصوبے اب پہلے کی طرح تیزی سے آگے نہیں بڑھ رہے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ملک اب بدحالی کی طرف

 

بڑھنا شروع ہوگیا ہے۔ہم نے لوڈشیڈنگ کو ختم کیا، پاکستان کے اندر اب بجلی آگئی ہے، آج کل بجلی طلب سے بھی زیادہ ہے۔ہمارے دور اقتدار میں دہشت گردی پر بھی کافی حد تک قابو پالیا گیا تھا تاہم اب اس نے پھر سر اٹھالیا ہے۔ اسٹاک ایکسچینج بھی اب نیچے آگیا، ہمارے زمانے میں چڑھتا تھا اور آگے بڑھتا تھا۔ حکومت کے غیر مستحکم ہوجانے کے اثرات لازمی طور پر پڑتے ہیں اور یقیناً یہ صورت حال افسوسناک ہے۔سپریم کورٹ 28 جولائی کے فیصلے کے بارے میں بات کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ اس طرح کے فیصلے قوموں کے لیے انتشار کا باعث بنتے ہیں۔