Tag Archives: عمر

شوہراوربیوی کی عمرمیں کتنافرق ہوتودونوں کارشتہ زندگی بھرکامیاب رہتاہے


شادی کا رشتہ خوشی، دکھ اور دیگر جذبات سے نکل کر اپنے اندر کچھ منفرد فوائد اور حقائق بھی چھپائے ہوئے ہوتا ہے جو ہم سب کے سامنے ہوتے ہیں۔جیسے شوہر اور بیوی کا اچھا تعلق جان لیوا امراض سے بچانے یا ان کا شکار ہونے پر جلد صحت یاب ہونے میں مدد دیتا ہے۔مگر ایک سوال ایسا ہے جو اکثر افراد کے ذہنوں میں اترتا ہے کہ شوہر اور بیوی کی

عمروں میں کتنا فرق انہیں مثالی جوڑی بناسکتا ہے؟ویسے تو کچھ لوگوں کے لیے عمر نمبر سے زیادہ کچھ نہیں اور اس کا زندگی بھر کے رشتے سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا مگر کچھ سائنسدانوں کے خیال میں ایک کامیاب تعلق اور عمر کے فرق میں تعلق موجود ہے۔امریکا کی ایمیری یونیورسٹی کے محققین نے اس بارے میں دلچسپ تحقیق کی ہے جس میں بتایا گیا کہ شادی شدہ جوڑے کی عمر میں کتنا فرق ان کے رشتے کو کامیاب یا ناکام بنانے میں کردار ادا کرسکتا ہے۔اس تحقیق میں 3 ہزار افراد کو شامل کیا گیا جو کہ شادی شدہ تھے۔محققین نے ان سب کے درمیان دلچسپ تعلق دریافت کیا اور وہ یہ تھا کہ عمر کا فرق جتنا زیادہ بڑھتا گیا، شادی کی ناکامی کا خطرہ بھی اتنا ہی بڑھ گیا۔محققین نے اس بارے میں کوئی واضح وجہ بیان نہیں کی مگر ان کا کہنا تھا کہ نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ جن جوڑوں کی عمروں میں فرق بہت زیادہ ہوتا ہے تو ان کے خیالات بھی کافی مختلف اور دلچسپیاں اور مقاصد بھی متضاد ہوتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اگر جوڑے کی عمر میں 5 سال سے زیادہ کا فرق ہو تو ایک دوسرے سے لڑائیاں یا علیحدگی کا خطرہ 18 فیصد بڑھ جاتا ہے۔اگر عمر کا فرق 10 سال ہو

تو یہ خطرہ 30 فیصد تک پہنچ جاتا ہے جبکہ 20 سال سے زیادہ کے فرق پر سب کچھ منفی ہی سمجھا جاسکتا ہے کیونکہ یہ خطرہ 95 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔اسی طرح اگر جوڑے کے درمیان تعلیمی فرق بھی بہت زیادہ ہو تو بھی ایک دوسرے سے علیحدگی کا امکان 43 فیصد ہوتا ہے۔تو پھر جوڑوں کے درمیان مثالی عمر کا فرق کونسا ہے؟تو اس کا جواب محققین کے

مطابق ہم عمر جوڑے زیادہ مثالی ہوتے ہیں جبکہ ایک سے 3 سال کا فرق والے جوڑے بھی اسی گروپ کا حصہ ہیں۔تحقیق کے مطابق ایسے جوڑوں میں اس بات کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں کہ وہ زندگی بھر ایک دوسرے کے ساتھ رہیں گے اور ان کی ممکنہ علیحدگی کا خطرہ 3 فیصد سے بھی کم ہوتا ہے۔ویسے یہ سائنسدانوں کی رائے ہے جو ضروری نہیں ٹھیک ہو کیونکہ ایسا ضروری نہیں کہ عمر کا کم فرق شادی کامیاب بنادے یا زیادہ فرق ہونے پر علیحدگی ہوجائے۔

میری والدہ میرے سا تھ ہر وقت یہ کام کر تی جس کی وجہ سے میں نے 21سال کی عمر میں گھر چھو ڑ دیا تھا ، لیکن وہ لڑکی آج پا کستان کی مشہور اداکارہ بن گئی


معروف پاکستانی اداکارہ حنا الطاف نے انکشاف کیا کہ انہوں نے گھریلو دباؤ اور والدہ کے انتہائی سخت اور تشدد آمیز رویے کی وجہ سے 21 برس کی عمر میں اپنا گھر چھوڑ دیا تھا۔حنا الطاف نے 16 برس کی عمر میں بطور وی جے اپنے کیرئر کا آغاز کیا تھا اور اب وہ متعدد ڈراموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھا رہی ہیں۔2016 میں سماجی مسائل پر مبنی

ڈرامہ سیریل ’اڈاری‘ حنا الطاف کے مقبول ترین ڈراموں میں سے ایک ہے، جس میں ان کے ‘زیبو کے کردار کو خوب پذیرائی ملی تھی۔اسی کردار کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ‘اڈاری میں ان کا کردار ایک ایسی بچی کا تھا جسے بچپن میں تشدد اور زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا، یہ ایک ایسا کردار ہے جسے میں خود سے قریب سمجھتی ہوں کیوں کہ میں نے ایسی ہی تکلیف سہی ہے۔حنا نے بتایا کہ ان کی والدہ کو شیزوفرینیا (بھولنے) کی بیماری تھی اور وہ ذہنی طور پر بھی علالت کا شکار تھیں، جس کی وجہ سے انہیں بہت کچھ برداشت کرنا پڑا۔انہوں نے بتایا کہ جب وہ شوٹنگ یا ریکارڈنگ پر جاتی تھیں، اُس وقت بھی وہ والدہ کا غصہ برداشت کرتیں اور مار بھی کھاتیں اور پھر یہی سلسلہ کام سے آنے کے بعد بھی جاری رہتا تھا۔اداکارہ کا کہنا تھا، ‘میں اکثر اپنی ماں کی مار سے زخمی ہوجاتی تھیں اور جب سیٹ پر جاتی تو میک اپ ٹیم کے سوالات پر جھوٹ بولتی تھیں’۔اداکارہ نے بتایا کہ اس دوران ان کے والد اور دو بھائی اپنی اپنی زندگی میں مصروف تھے، کسی کو کسی سے غرض نہیں ہوتا تھا، انہیں گھر کو مالی طور پر بھی سپورٹ کرنا

پڑتا تھا، یہی وجہ تھی کہ وہ شدید تناؤ اور ذہنی دباؤ کا شکار ہوتی چلی گئیں۔انہوں نے بتایا کہ اس مشکل وقت میں ان کی مدد ڈاکٹر عالم نے کی، جو ماہرِ نفسیات ہیں اور ایسے لوگوں کے لیے کام کرتے ہیں جو ہمت اور جینا چھوڑ دیتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ‘لوگ میرے ہاتھ میں لگی عالم کی مہر کو سمجھتے ہیں کہ وہ میرے بوائے فرینڈ کا نام ہے، جب کہ میں سمجھتی ہوں یہ اُس شخص کا نام ہے جس نے مجھے زندگی کی پہچان کروائی اور میں سمجھتی ہوں کہ جب زندگی ہے ہی چھوٹی تو پھر میں کس صورت سمجھوتا کروں’۔حنا نے بتایا، ‘انہی وجوہات کی بنا پر میں نے 21 برس کی عمر میں گھر چھوڑ دیا بغیر یہ سوچے کہ لوگ کیا کہیں گے، میرے والد خفا رہے لیکن میں نے اُس وقت کوئی بدتمیزی نہیں کی بلکہ خاموشی اختیار کی’۔

والدین کے ساتھ کھانا کھانے والے بچے دیگر بچوں کے مقابلے میں زیادہ صحت مند رہتے ہیں، 5 ماہ سے 10 سال تک کی عمر کے بچوں کا جائزہ لینے کے بعد بات کا


‮کینیڈا (ڈیلی آزاد) ایک حالیہ مطالعے میں انکشاف ہوا ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ کھانا کھانے والے بچے دیگر بچوں کے مقابلے میں زیادہ صحت مند رہتے ہیں اور ان کی دماغی صلاحیتیں بھی بہتر ہوتی ہیں۔کینیڈا میں بچوں کی نفسیات کے ماہرین نے 5 ماہ سے 10 سال تک کی عمر کے بچوں کا جائزہ لینے کے بعد اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ باقاعدگی سے

والدین کے ساتھ دسترخوان پر بیٹھنے والے بچوں کے جسم و دماغ پر اس کے اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں، خاص طور پر دس سال کے بچے اگر والدین کے ساتھ کھانا کھائیں تو وہ اچھی طرح کھانا کھاتے ہیں اور مضر مشروبات مثلا سافٹ ڈرنکس کی جانب کم متوجہ ہوتے ہیں۔ اس سروے کے بعد کینیڈا کے ماہرین نے کہا ہے کہ والدین اپنے بچوں کو ساتھ بٹھا کر کھانا کھانے کے عمل کو بچوں کی زندگی میں سرمایہ کاری تصور کریں، اس کی وجہ یہ ہے کہ کھاتے وقت خوشیوں پر مبنی باتیں ہوتی ہیں اور بچے والدین سے جذباتی طور پر قریب ہوجاتے ہیں۔یونیورسٹی آف مانٹریال میں نفسیات کی پروفیسر لنڈا پاگانی نے کہا ہے کہ بچوں کے ساتھ بیٹھ کر کھانے کا یہ عمل کئی طرح سے مفید ہے۔بچے اس دوران اپنی بات اور مقف کا مثبت اظہار سیکھتے ہیں اور یوں وہ باقی دنیا سے اچھے انداز میں بات کرنا سیکھتے ہیں۔ پروفیسر لِنڈا نے 1997 اور 1998 کے درمیان کینیڈا کے شہر کیوبیک میں پیدا ہونے والے بچوں کا سروے کیا ہے اور اسے ایک طویل عرصے تک جاری رکھا گیا۔اس مطالعے کو کیوبیک لونگی ٹیوڈینل اسٹڈی آف چائلڈ ڈیویلپمنٹ کا نام دیا گیا جس میں والدین سے پوچھا گیا

کہ جب ان کا بچہ 6 برس کا ہوجائے تو وہ یہ بتانا شروع کریں کہ وہ اس کے ساتھ کھارہے ہیں یا نہیں۔اس کے بعد 10 سال کی عمر تک پہنچنے پر والدین اور اساتذہ سے بچے کی ذہانت، پڑھنے کی صلاحیت اور نفسیاتی کیفیات کے بارے میں رپورٹ کرنے کے لئے کہا گیا۔ماہرین نے کہا ہے کہ بچے اگر 6 سال کی عمر سے والدین کے ساتھ بیٹھیں اور کھانا کھائیں تو اس کے مثبت اثرات مرتب ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ 10 سال تک یہ بچے والدین سے الگ تھلگ رہ کر کھانے والے بچوں کے مقابلے میں قدرے چاق و چوبند اور صحت مند رہتے ہیں۔

اب 18سال سے زائد عمر کے لوگ بھی اپنا قد بڑھائیں وہ بھی انتہائی آسان گھریلو نسخے سے ۔۔ طریقہ جان لیں


اسلام آباد(نیوز ڈیسک)چھوٹے قد کے افراد عموماََ اپنے قد کے حوالے سے فکر مند نظر آتے ہیں اور ان کی اپنے قد کے حوالے سے امیدیں 18سال کی عمر گزرنے کے بعد دم توڑ جاتی ہیںکیونکہ کہا یہ جاتا ہے کہ انسان کا قد 18سال کی عمر تک بڑھتا ہے مگر آپ یہ جان کر حیران رہ جائیں گےکہ چھوٹے قد کے افراد18سال کے بعد بھی اپنے قد کو بڑھا سکتے ہیں۔

اگر آپ کا قد بھی چھوٹا ہے اور آپ اس میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں تو ان باتوں پر عمل کر کے آپ اپنے قد میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ اپنی غذا میں دودھ ، خشک میوہ جات، سبزیوں، پھل، پروٹین اور کاربوہائیڈریٹس کا استعمال شروع کر دیں جو کےان ہارمونز کی بڑھوتری میں معاون ثابت ہوں گی جو آپ کا قد بڑھانے کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ ورزش کی عادت اپنائیں اور روزانہ 20سے 30منٹ تک ورزش کریں۔ دن کے کسی بھی حصے میں کم از کم 15 منٹ کےلیے وہ ورزش کیجیے جس سے آپ کے جسم میں کھنچاؤ پیدا ہو جب کہ لٹکنے والی تمام ورزشیں بھی آپ کےلیے بے حد فائدہ مند ہوسکتی ہیں۔ 24گھنٹوں میں سے 8گھنٹے پرسکون نیند ضرور لیں ، سگریٹ اور شراب نوشی ترک کردیجیے اور اس کی جگہ آپ سبزیوں کا سوپ اور جوس استعمال کیجیے۔وہ افراد جو اپنا قد بڑھانے کے خواہش مند ہیں انہیں چاہیے کہ وہ اپنے جسم کو سیدھا رکھیں اور جب بیٹھے ہوں تو 90 ڈگری کا خاص طور پر خیال رکھیں۔سردیوں میں صبح کے وقت دھوپ میں چہل قدمی آپ کے جسم میں موجود وٹامن ڈی کی کمی کو بھرپور انداز میںپورا کرتی ہے جو کہ ہڈیوں کیلئے نہایت ضروری ہے۔

عمر کے جتنے بھی لوگ ہیں ان میں بھاری اکثریت خواتین کی ہے


‮دنیا میں اس وقت 100سال سے زائد عمر کے جتنے بھی لوگ ہیں ان میں بھاری اکثریت خواتین کی ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق اس وقت دنیا میں 100سال کی عمر کو پہنچنے والے 5افراد میں صرف 1مرد ہے اور باقی چار خواتین ہیں۔مرد جسمانی طور پر خواتین سے مضبوط ہوتے ہیں،زیادہ قدآور ہوتے ہیں اور دیگر کئی حوالوں سے بھی خواتین سے بہتر

کارکردگی دکھاتے ہیں لیکن جب طویل العمری کی بات آئے تو سوال اٹھتا ہے کہ خواتین کی عمر مردوں سے زیادہ کیوں ہوتی ہے؟ 80ءکی دہائی میں برطانوی فزیشن اور ماہر جینیات سر سرل کلارک نے تھیوری پیش کی تھی کہ ’جب مرد ریٹائر ہوتے ہیں تو وہ معمول کی زندگی ترک کر دیتے ہیں، زیادہ آرام کرتے ہیں اورزیادہ کھانا شروع کر دیتے ہیں، وہ نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی طور پر بھی غیرمتحرک ہو جاتے ہیں اور اکثر موٹاپے کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ان کے برعکس خواتین اس عمر میں بھی معمول کی زندگی جاری رکھتی ہیں۔ وہ کھانا بناتی ہیں، سودا سلف خریدنے جاتی ہیں،گھر کی صفائی کرتی ہیں، کپڑے دھوتی ہیں، وغیرہ وغیرہ۔چنانچہ خواتین کا ریٹائرمنٹ کے بعد بھی متحرک رہنا ہی ان کی طویل العمری کا راز ہے۔“تاہم سرل کلارک کی اس تھیوری کے حق میں کوئی ٹھوس سائنسی شواہد آج تک دستیاب نہیں ہو سکے تھے۔اب سرل کلارک کی تھیوری کے دہائیوں بعد سائنسدانوں نے خواتین کے طویل عمر پانے کی حقیقی وجہ بتا دی ہے۔ نئی تحقیق میں سائنسدانوں نے بتایا ہے کہ ”دراصل مردوں کے کم عمر پانے کی وجہ ان کی پیدائش سے ہی شروع ہو جاتی ہے

کیونکہ انہیں شروع سے ہی ایک کٹھن زندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔لڑکیوں کی نسبت لڑکوں کی قبل ازوقت پیدائش ہونے کے امکانات 14فیصد زیادہ ہوتے ہیں اورماں کے پیٹ میں لڑکیوں کی نسبت ان کے پھیپھڑوں کی نشوونما کم ہونے کے امکانات حیران کن طور پر 2گنا زیادہ ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ لڑکوں کے پیدائش سے قبل یا فوری بعد دماغی صلاحیتوں کے

بگاڑ کا شکار ہونے، دماغ مفلوج ہونے اور دیگر پیدائشی معذوریوں کا شکار ہونے کے امکانات بھی لڑکیوں سے زیادہ ہوتے ہیں۔ان کے برعکس لڑکیاں ماں کے پیٹ میں اس قدر تیزی سے نشوونما پاتی ہیں کہ پیدائش کے وقت لڑکی کی نشوونما ڈیڑھ ماہ کی عمر کے لڑکے کے برابر ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ وہ لڑکوں سے پہلے چلنا اور بولنا شروع کر دیتی ہیں۔اس سب سے بڑھ کر خطرناک چیز یہ ہے کہ لڑکوں کی پیدائش کے پہلے سال میں ہی موت ہو جانے کے امکانات لڑکیوں کی نسبت ۔ ۔فیصد زیادہ ہوتے ہیں اور اگر وہ زندہ رہیں تو بھی انہیں ہائپرایکٹیوٹی، خودفکری، ٹوریٹیز سنڈروم اور ہکلانے جیسی بیماریاں لڑکیوں کی نسبت سے گنا زیادہ لاحق ہونے کا خطرہ اوراتنا ہی پڑھنے کی صلاحیت کم ہونے کا خدشہ ہوتا ہےزندگی میں آگے چل کر مرد جن چیزوں میں خواتین سے بہتر ہوتے ہیں ان میں ایک ’خطرات کا مول لینا‘ بھی شامل ہیں۔ نوجوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہیں مرد خطرات مول لینا شروع کر دیتے ہیں جو ان کے طویل عمر پانے کے امکانات کو مزید کم کر دیتے ہیں۔اس کے علاوہ مردوں کے منشیات استعمال کرنے اور سگریٹ نوشی کرنے کے امکانات بھی خواتین کی نسبت کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔ یہ تمام عوامل ہیں