Tag Archives: شناختی کارڈ

کیا آپ جانتے ہیں شناختی کارڈمیں موجود یہ ہند سے کس چیز کو ظاہر کرتے ہیں؟


اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) میڈیا میں چھپنے والی دلچسپ رپورٹ کے مطابق کمپیوٹررائزڈ قومی شناختی کارڈز (سی این آئی سی ایس) میں 13 ہندسوں پر مشتمل نمبرز ہر شہری کو مختلف جاری کیے جاتے ہیں۔ ان میں سے پہلے 5 ہندسے زیادہ اہمیت کے حامل ہوتے ہیں کیونکہ ان میں کسی بھی پاکستانی شہری کی مکمل تفصیلات درج ہوتی ہیں۔ان 5 ہندسوں میں

سے سب سے پہلا ہندسہ کارڈ ہولڈر کے صوبے کو ظاہر کرتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر شناختی کارڈ نمبر 1 سے شروع ہو تو اس کا مطلب ہے کہ یہ شہری صوبہ خیبر پختونخوا کا رہائشی ہے۔ اسی طرح 2 قبائلی علاقوں (فاٹا)، 3 پنجاب، 4 سندھ، 5 بلوچستان، 6 اسلام آباد اور 7 کا مطلب ہے کہ کارڈ ہولڈر کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے۔ ان پانچ ہندسوں میں سے دوسرا عدد ڈویژن، تیسرا ڈسٹرکٹ، چوتھا تحصیل اور پانچواں یونین کونسل کو ظاہر کرتا ہے۔نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے ذرائع کے مطابقشناختی کارڈ نمبرز کے درمیانی حصے میں شامل 7 ہندوسوں کا کوئی خاص مطلب نہیں ہوتا تاہم آخری نمبر کارڈ ہولڈر کی جنس کو ظاہر کرتا ہے۔ مرد شہریوں کو طاق اعداد جیسے 1، 3، 5، 7 اور 9 جبکہ خواتین شہریوں کو جفت اعداد جاری کیے جاتے ہیں۔ نادرا کی جانب سے ہیجڑوں کیلئے ان کی خواہش کے مطابق طاق یا جفت نمبرز ایشو کیے جاتے ہیں۔

معروف سیاسی رہنما بغیر شناختی کارڈ کے ووٹ دینے پہنچ گئے


پشاور(نیوزڈیسک) معروف سیاسی رہنما بغیر شناختی کارڈ کے ووٹ دینے کے لیے پہنچ گئے۔ تفصیلات کے مطابق معروف اے این پی کے امیدوار غلام احمد بلور بغیر شناختی کارڈ کے پولنگ اسٹیشن پر پہنچ گئے۔شناختی کارڈ نہ ہونے کی وجہ سے غلام احمد بلور کو ووٹ دینے سے روک دیا گیا،جس پر غلام احمد بلور نے کہا کہ مجھے پہچانتے نہیں میں انتخابی

امیدوار ہوں۔ میں اپنے پاس شناختی کارڈ نہیں ہوں۔شناختی کارڈ نہ ہونے کی وجہ سے غلام احمد بلور ووٹ کاسٹ نہیں کر سکے۔یاد رہے اس سے پہلے بھی کئی سیاسی رہنما اپنا ووٹ کاسٹ کر چکے ہیں۔جن میں پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان،، ن لیگ کے صدر شہباز شریف،، خواجہ آصف،،،سردار ایاز صادق سمیت کئی رہنماؤں نے ووٹ کاسٹ کیے۔ چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے این اے 130میں ووٹ کاسٹ کیا۔ جب کہ سابق آرمی چیف راحیل شریف نے بھی قطار میں لگ کر ووٹ کاسٹ کیا۔یاد رہے ملک بھر میں پولنگ کا عمل جاری ہے اور کروڑوں پاکستانی ووٹ کاسٹ کر رہے ہیں۔سیکیورٹی کے بھی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔پاک فوج کے ساتھ ساتھ دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی انتخابات کو پر امن بنانے کے لیے ڈیوٹی سر انجام دے رہے ہیں۔ امن و امان برقرار رکھنے کیلئے پاک فوج ،،،رینجرز اور پولیس پولنگ اسٹیشنز کے اندر اور باہر تعینات ہے اس کے علاوہ ایف سی اورپاکفوج کے جوان بھی پولنگ سٹیشنزپرتعینات ہیں، پولنگ سٹیشنزپرتعینات سکیورٹی اہلکار ووٹروں کی جامع تلاشی لے رہے ہیں جبکہ پولنگ سٹیشن

کے اندر کسی بھی قسم کی ممنوع اشیاء ،،اسلحہاور موبائل فونزلے جانے پرمکمل پابندی عائد کی گئی ہے اسکے ساتھ ساتھ بعض مقامات پرمیڈیاکے نمائندوں کوبھی کیمرہ اندرلے جانے کی اجازت نہیں تھی کسی بھی ناخوشگوارواقعے سے نمٹنے کیلئے سکیورٹی ہائی الرٹ ہے جبکہ پولیس اور دیگرقانون نافذ کرنیوالے اداروں کے اہلکار باقاعدہ گشت کرتے رہے اس موقع پر سکیورٹی کلیئرنس کیلئے تربیت یافتہ کتوں کی بھی مددحاصل کی گئی اورجگہ جگہ خفیہ کیمروں کی مدد سے تمام صورتحال کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق عام انتخابات کے موقع پر فوج کی تعیناتی کا مقصد شفاف انتخاباتمیں الیکشن کمیشن کی معاونت کرنا ہے

معروف سیاسی رہنما  بغیر شناختی کارڈ کے ووٹ دینے پہنچ گئے

شناختی کارڈمیں موجود یہ ہند سے کس چیز کو ظاہر کرتے ہیں؟ دلچسپ خبر آگئی


اسلام آباد (نیوز ڈیسک) میڈیا میں چھپنے والی دلچسپ رپورٹ کے مطابق کمپیوٹررائزڈ قومی شناختی کارڈز (سی این آئی سی ایس) میں 13 ہندسوں پر مشتمل نمبرز ہر شہری کو مختلف جاری کیے جاتے ہیں۔ ان میں سے پہلے 5 ہندسے زیادہ اہمیت کے حامل ہوتے ہیں کیونکہ ان میں کسی بھی پاکستانی شہری کی مکمل تفصیلات درج ہوتی ہیں۔ان 5 ہندسوں میں سے سب

سے پہلا ہندسہ کارڈ ہولڈر کے صوبے کو ظاہر کرتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر شناختی کارڈ نمبر 1 سے شروع ہو تو اس کا مطلب ہے کہ یہ شہری صوبہ خیبر پختونخوا کا رہائشی ہے۔اسی طرح 2 قبائلی علاقوں (فاٹا)، 3 پنجاب، 4 سندھ، 5 بلوچستان، 6 اسلام آباد اور 7 کا مطلب ہے کہ کارڈ ہولڈر کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے۔ ان پانچ ہندسوں میں سے دوسرا عدد ڈویژن، تیسرا ڈسٹرکٹ، چوتھا تحصیل اور پانچواں یونین کونسل کو ظاہر کرتا ہے۔نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے ذرائع کے مطابقشناختی کارڈ نمبرز کے درمیانی حصے میں شامل 7 ہندوسوں کا کوئی خاص مطلب نہیں ہوتا تاہم آخری نمبر کارڈ ہولڈر کی جنس کو ظاہر کرتا ہے۔ مرد شہریوں کو طاق اعداد جیسے 1، 3، 5، 7 اور 9 جبکہ خواتین شہریوں کو جفت اعداد جاری کیے جاتے ہیں۔ نادرا کی جانب سے ہیجڑوں کیلئے ان کی خواہش کے مطابق طاق یا جفت نمبرز ایشو کیے جاتے ہیں۔

شناختی کارڈ میں بڑی تبدیلی ہونیوالی ہے؟ خودبھی جا ن لیجیے اوردوسروں کوبھی بتائیے


اسلام آباد (انقلاب ویب ڈیسک) ملک میں دہشت گردی اور انتہا پسندی سے نمٹنے کے لئے نیا قومی بیانیہ تشکیل دے دیا گیا ہے جس کے مطابق جہاد یا جنگ کے اعلان کا اختیار صرف ریاست کے پاس ہے۔ کوئی فرد یا گروپ عوام میں سے کسی کو غیر مسلم قرار نہیں دے سکتا اور نہ ہی کسی پر ”کافر یا مرتد“ کے فتوے جاری کر سکتا ہے۔پاکستان میں کسی نجی ملیشیا، مسلح

جتھے یا فوج کی اجازت نہیں، اقلیتوں کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے۔ قومی آہنگی کے لئے پاسپورٹ، قومی شناختی کارڈ یا دیگر سرکاری دستاویزات میں سے مذہبی شناخت ختم کی جائے۔ یہ قومی بیانیہ وزیرِ اعظم کی منظوری کے بعد نافذ کر دیا جائے گا۔ روزنامہ دنیا کو دستیاب دستاویزات کے مطابق وزارتِ داخلہ کے تحت انسداد دہشت گردی کے قومی ادارے نیکٹا کی طرف سے تیار کئے گئے قومی بیانیہ کے مسودہ میں کہا گیا ہے کہ مجموعی قومی ردعمل کے اہم عنصر کے طور پر بنیاد پرستی روکنے اور بحالی کے لئے طویل مدت حکمت عملی ضروری ہے۔

کسی عسکری گروپ یا ملیشیا کی کوئی گنجائش نہیں، صرف ریاست ہی طاقت کے استعمال کا واحد ذریعہ ہے۔ریاست کے اندر کسی دوسری قوت کو تشدد کی اجازت نہیں، مفاہمت یا بحالی کے نام پر کسی قسم کا معذرت خواہانہ رویہ نہیں ہونا چاہیے۔ بڑے پیمانے پر قتل، ذاتی دشمنی پر قانون کے مطابق نمٹا جائے گا اور اسے ریاست کی طرف سے بنیاد پرستی کے خاتمہ یا مفاہمتی عمل میں شامل نہیں کیا جائے گا۔ ریاست کسی فرد یا گروپ کے ساتھ مفاہمت کے نام پر اسے تحفظ دینے کی پالیسی اختیار نہ کرے۔

بنیاد پرستی کا خاتمہ

صرف مسلح یا انتہا پسند گروپوں تک محدود نہیں بلکہ معاشرے کے ہر شعبہ تک پھیلا ہونا چاہیے۔ مفاہمت کی شرائط میں ریاست کی خود مختاری تسلیم، دوسروں کے نظریات کا احترام، ہر طرح کی نفرت پر مبنی تقاریر کو مسترد کرنا ہو گا۔

قومی بیانیہ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو ایک جدید، ترقی پسند اور پرامن ملک کے طور پر اُمہ کیلئے مثال بنایا جائے جہاں عقیدے، فرقے، ذات، رنگ و نسل کی بنیاد پر تشدد کی کوئی گنجائش نہ ہو۔ کالعدم تنظیموں کیلئے کوئی گنجائش نہیں، ریاست کسی بھی جھنڈے یا نعرے تلے کام کرنے والی عسکریت پسند تنظیموں، ان کے عہدیداروں، سہولت کاروں اور کارکنوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کرے گی۔

پاکستان کے تمام شہری آئین کے تحت ملکی مفادات کے تحفظ کے پابند، دہشتگردی سے نمٹنے والے اداروں، سول آرمڈ فورسز اور کریمنل جسٹس انسٹیٹیوشنز کی صلاحیت بہتر بنانے کیلئے سرمایہ لگایا جائے گا۔ بعض انتہا پسند دوسرے مسلمانوں کو غیر مسلم قرار دیتے ہوئے واجب القتل کے فتوے دینے کے لئے قرآنی آیات کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ علماء اور سکالرز کی ذمہ داری ہے کہ وہ بین العقاعد اور فرقوں میں ہم آہنگی کیلئے مشترک باتیں تلاش کریں۔

افراد کی طرف سے کافر کے فتوے اور ایسے تمام مذہبی اجتماعات اور مناظروں پر پابندی ہو گی۔ نفاذ شریعت کے نام پر طاقت کا استعمال یا لسانی، علاقائی، مذہبی یا فرقہ واریت کی بنیاد پر کوئی مسلح جدوجہد اسلام اور دستور پاکستان کے خلاف ہے۔ ہر طرح کی نفرت انگیز تقاریر، مذہبی شخصیات کو بدنام کرنا، حضور پاک ﷺ اور ان کے صحابہ کی شان میں گستاخی کی سخت ممانعت ہے۔ خلاف ورزی کرنے والوں سے قوانین کے مطابق سختی سے نمٹا جائے گا۔ ریاست توہین رسالت کے مقدمات سے سختی سے قوانین کے مطابق نمٹے گی۔

قومی بیانیہ میں تجویز دی گئی ہے کہ توہین رسالت کے مقدمات صرف اسی صورت درج کئے جائیں جب ایک خصوصی کمیٹی جو قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے نمائندوں، اراکین قومی و صوبائی اسمبلی، اچھی ساکھ والے مذہبی رہنماؤں، اگر کسی اقلیت کا کوئی فرد ملوث ہو تو اس کے نمائندوں پر مشتمل ہو اور سفارش کرے۔ کسی فرد یا گروہ کو قانون ہاتھ میں لینے، مار پیٹ اور ماورائے عدالت قتل کی ہرگز اجازت نہیں، اس طرح کے قتل اور اکسانے والوں کے خلاف سخت ترین کارروائی اور جھوٹے الزامات لگانے والوں کو جرمانہ کیا جائے۔

کریمنل جسٹس سسٹم میں اصلاحات اور اسے مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ دہشت گردوں کی فنانسنگ روکنے کے لئے ادارہ جاتی میکانزم تیار کیا جائے گا۔ ہر طرح کے خیراتی ادارے متعلقہ وزارتوں میں رجسٹرڈ ہونگے۔ خیرات کے ذریعہ اگر کوئی بھی دہشتگردوں کی فنڈنگ میں ملوث پایا جائے تو اس سے سختی سے نمٹا جائے۔ مساجد، خانقاہوں، درگاہوں، گرجا گھروں، صوفی کلچر اور خطے کے ورثے کا تحفظ، اقلیتوں کو ترقی کے مساوی مواقع فراہم کرنے کے لئے پالیسیاں تشکیل، قومی آہنگی کے لئے ریاست پاسپورٹ، قومی شناختی کارڈ اور دوسری سرکاری دستاویزات کے اجرا میں مذہبی شناخت ختم کرے۔

تشدد، انتہا پسندی، نفرت اور نسل پرستی کی نفی کیلئے قومی نصاب تیار، خواتین کے حقوق کو یقینی بنانا ہو گا۔ صوبوں کے نصاب تعلیم میں مدارس کو بھی شامل کیا جائے۔ عسکری تربیت اور نفرت پھیلانے کی تعلیم دینے والے مدارس کو بند اور مالکان کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے۔ کالعدم تنظیموں پر پرائیویٹ سکولز چلانے پر پابندی، سرکاری زمینوں پر بننے والے غیر قانونی مدارس فوری ختم کر دیے جائیں۔ کسی بھی مدرسہ کو بغیر اجازت بیرون ملک سے فنڈز لینے کی اجازت نہیں ہو گی۔ ہر صوبے میں سکول ریگولیٹری اتھارٹی بنائی جائے۔

سول و ملٹری بیوروکریسی میں نظر انداز علاقوں کو زیادہ نمائندگی دی جائے۔ تمام علاقوں میں معیاری ترقی اور معاشی بہتری کے مواقع ہونے چاہیں۔ انتہا پسندی اور دہشتگردی کے انسداد کے لئے قومی بیانیہ کی پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر تشہیر کی جائے۔ انتہا پسندی اور دہشت گردی سے نمٹنے کے حوالے سے معیاری ادارتی پالیسیاں تشکیل دی جائیں۔ انتہا پسندی اور دہشت گردی کے واقعات کی کوریج کے حوالے سے پیمرا اور دیگر متعلقہ ادارے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ساتھ مل کر رہنما اصول تشکیل دیں۔ مذہبی چینلز کو ریگولیٹ کرنے کے لئے پیمرا کارروائی کرے۔

شناختی کارڈ میں اب ایک تبدیلی ہونے کوہے


اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ملک میں دہشت گردی اور انتہا پسندی سے نمٹنے کے لئے نیا قومی بیانیہ تشکیل دے دیا گیا ہے جس کے مطابق جہاد یا جنگ کے اعلان کا اختیار صرف ریاست کے پاس ہے۔ کوئی فرد یا گروپ عوام میں سے کسی کو غیر مسلم قرار نہیں دے سکتا اور نہ ہی کسی پر ”کافر یا مرتد“ کے فتوے جاری کر سکتا ہے۔پاکستان میں کسی نجی ملیشیا، مسلح جتھے یا فوج کی اجازت نہیں، اقلیتوں

 

کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے۔ قومی آہنگی کے لئے پاسپورٹ، قومی شناختی کارڈ یا دیگر سرکاری دستاویزات میں سے مذہبی شناخت ختم کی جائے۔ یہ قومی بیانیہ وزیرِ اعظم کی منظوری کے بعد نافذ کر دیا جائے گا۔ روزنامہ دنیا کو دستیاب دستاویزات کے مطابق وزارتِ داخلہ کے تحت انسداد دہشت گردی کے قومی ادارے نیکٹا کی طرف سے تیار کئے گئے قومی بیانیہ کے مسودہ میں کہا گیا ہے کہ مجموعی قومی ردعمل کے اہم عنصر کے طور پر بنیاد پرستی روکنے اور بحالی کے لئے طویل مدت حکمت عملی ضروری ہے۔ کسی عسکری گروپ یا ملیشیا کی کوئی گنجائش نہیں، صرف ریاست ہی طاقت کے استعمال کا واحد ذریعہ ہے۔ریاست کے اندر کسی دوسری قوت کو تشدد کی اجازت نہیں، مفاہمت یا بحالی کے نام پر کسی قسم کا معذرت خواہانہ رویہ نہیں ہونا چاہیے۔ بڑے پیمانے پر قتل، ذاتی دشمنی پر قانون کے مطابق نمٹا جائے گا اور اسے ریاست کی طرف سے بنیاد پرستی کے خاتمہ یا مفاہمتی عمل میں شامل نہیں کیا جائے گا۔

 

ریاست کسی فرد یا گروپ کے ساتھ مفاہمت کے نام پر اسے تحفظ دینے کی پالیسی اختیار نہ کرے۔ بنیاد پرستی کا خاتمہ صرف مسلح یا انتہا پسند گروپوں تک محدود نہیں بلکہ معاشرے کے ہر شعبہ تک پھیلا ہونا چاہیے۔ مفاہمت کی شرائط میں ریاست کی خود مختاری تسلیم، دوسروں کے نظریات کا احترام، ہر طرح کی نفرت پر مبنی تقاریر کو مسترد کرنا ہو گا۔قومی بیانیہ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو ایک

 

جدید، ترقی پسند اور پرامن ملک کے طور پر اُمہ کیلئے مثال بنایا جائے جہاں عقیدے، فرقے، ذات، رنگ و نسل کی بنیاد پر تشدد کی کوئی گنجائش نہ ہو۔ کالعدم تنظیموں کیلئے کوئی گنجائش نہیں، ریاست کسی بھی جھنڈے یا نعرے تلے کام کرنے والی عسکریت پسند تنظیموں، ان کے عہدیداروں، سہولت کاروں اور کارکنوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کرے گی۔پاکستان کے تمام شہری آئین کے تحت ملکی مفادات کے تحفظ کے پابند، دہشتگردی سے نمٹنے والے اداروں، سول آرمڈ فورسز اور کریمنل جسٹس انسٹیٹیوشنز کی صلاحیت بہتر بنانے کیلئے سرمایہ لگایا جائے گا۔ بعض

 

انتہا پسند دوسرے مسلمانوں کو غیر مسلم قرار دیتے ہوئے واجب القتل کے فتوے دینے کے لئے قرآنی آیات کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ علماء اور سکالرز کی ذمہ داری ہے کہ وہ بین العقاعد اور فرقوں میں ہم آہنگی کیلئے مشترک باتیں تلاش کریں۔ افراد کی طرف سے کافر کے فتوے اور ایسے تمام مذہبی اجتماعات اور مناظروں پر پابندی ہو گی۔ نفاذ شریعت کے نام پر طاقت کا استعمال یا لسانی، علاقائی، مذہبی یا فرقہ واریت کی بنیاد پر کوئی مسلح جدوجہد اسلام اور دستور پاکستان کے خلاف ہے۔ ہر طرح کی نفرت انگیز تقاریر، مذہبی شخصیات کو بدنام کرنا، حضور پاکؐ اور ان کے صحابہ کی شان میں گستاخی کی سخت ممانعت ہے۔ خلاف ورزی کرنے والوں سے قوانین کے مطابق سختی

 

سے نمٹا جائے گا۔ ریاست توہین رسالت کے مقدمات سے سختی سے قوانین کے مطابق نمٹے گی۔قومی بیانیہ میں تجویز دی گئی ہے کہ توہین رسالت کے مقدمات صرف اسی صورت درج کئے جائیں جب ایک خصوصی کمیٹی جو قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے نمائندوں، اراکین قومی و صوبائی اسمبلی، اچھی ساکھ والے مذہبی رہنماؤں، اگر کسی اقلیت کا کوئی فرد ملوث ہو تو اس کے نمائندوں پر مشتمل ہو اور سفارش کرے۔ کسی فرد یا گروہ کو قانون ہاتھ میں لینے، مار پیٹ اور ماورائے عدالت قتل کی ہرگز اجازت نہیں، اس طرح کے قتل اور اکسانے والوں کے خلاف سخت ترین کارروائی

 

اور جھوٹے الزامات لگانے والوں کو جرمانہ کیا جائے۔کریمنل جسٹس سسٹم میں اصلاحات اور اسے مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ دہشت گردوں کی فنانسنگ روکنے کے لئے ادارہ جاتی میکانزم تیار کیا جائے گا۔ ہر طرح کے خیراتی ادارے متعلقہ وزارتوں میں رجسٹرڈ ہونگے۔ خیرات کے ذریعہ اگر کوئی بھی دہشتگردوں کی فنڈنگ میں ملوث پایا جائے تو اس سے سختی سے نمٹا جائے۔ مساجد، خانقاہوں، درگاہوں، گرجا گھروں، صوفی کلچر اور خطے کے ورثے کا تحفظ، اقلیتوں کو ترقی کے مساوی مواقع فراہم کرنے کے لئے پالیسیاں تشکیل، قومی آہنگی کے لئے ریاست پاسپورٹ، قومی شناختی کارڈ اور دوسری سرکاری دستاویزات کے اجرا میں مذہبی شناخت ختم کرے۔تشدد، انتہا پسندی، نفرت اور نسل پرستی کی نفی کیلئے قومی نصاب تیار، خواتین کے حقوق کو یقینی

 

بنانا ہو گا۔ صوبوں کے نصاب تعلیم میں مدارس کو بھی شامل کیا جائے۔ عسکری تربیت اور نفرت پھیلانے کی تعلیم دینے والے مدارس کو بند اور مالکان کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے۔ کالعدم تنظیموں پر پرائیویٹ سکولز چلانے پر پابندی، سرکاری زمینوں پر بننے والے غیر قانونی مدارس فوری ختم کر دیے جائیں۔ کسی بھی مدرسہ کو بغیر اجازت بیرون ملک سے فنڈز لینے کی اجازت نہیں ہو گی۔ ہر صوبے میں سکول ریگولیٹری اتھارٹی بنائی جائے۔سول و ملٹری بیوروکریسی میں نظر انداز علاقوں کو زیادہ نمائندگی دی جائے۔ تمام علاقوں میں معیاری ترقی اور معاشی

 

بہتری کے مواقع ہونے چاہیں۔ انتہا پسندی اور دہشتگردی کے انسداد کے لئے قومی بیانیہ کی پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر تشہیر کی جائے۔ انتہا پسندی اور دہشت گردی سے نمٹنے کے حوالے سے معیاری ادارتی پالیسیاں تشکیل دی جائیں۔ انتہا پسندی اور دہشت گردی کے واقعات کی کوریج کے حوالے سے پیمرا اور دیگر متعلقہ ادارے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ساتھ مل کر رہنما اصول تشکیل دیں۔ مذہبی چینلز کو ریگولیٹ کرنے کے لئے پیمرا کارروائی کرے۔