Tag Archives: شاہد خاقان عباسی

کیاآپ جانتے ہیں کہ شاہد خاقان عباسی کے صاحبزادے شادی کے فوراً بعد اپنے خاندان سے علیحدہ کیوں ہو گئے ہیں ؟ وہ آج کل کس کے گھر میں رہائش پزیر ہ


اسلام آباد(آن لائن) وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے صاحبزادے عبداللہ کی طرف سے اپنے دوست کم فنانسرعلی جہانگیر صدیقی کو امر یکہ میں پاکستان کا سفیر تعینات کروانے کے عوض ایف سکس مارگلہ روڈ پر علی صدیقی کی پرتعیش رہائش گاہ بطور تحفہ وصول کرنے کے عمل کا انکشاف ہوا ہے ۔ عبداللہ شاہد گزشتہ ماہ اپنی شادی کے بعد علی جہانگیر صدیقی

کی اسی رہائش گاہ میں شفٹ ہو چکے ہیں۔ جہاں وہ اپنی نوبیاہتا دلہن مریم عبدالہکے ہمراہ رہائش پذیر ہیں۔ خاندانی ذرائع اس امر کی بھی تصدیق کرتے ہیں کہ عبداللہ شاہد کی طرف سے شادی کے بعد ایف سیون ٹو میں واقع آبائی گھر میں رہائش اختیار نہ کرنے کے فیصلے سے خاتون اول شدید ڈیپریشن کا شکار ہو چکی ہیں۔ تاہم عبداللہ اپنی دلہن کو لے کر علی جہانگیر صدیقی کی طرف سے امریکہ میں بطور پاکستانی سفیر تعیناتی کے عوض بطور تحفہ پیش کئے گئے گھر واقع مکان نمبر 14 مین مارگلہ روڈ ایف سکس سیکرٹر اسلام آباد میں شفٹ ہو چکے ہیں۔ عبدالہ شاہد کی طرف سے شادی کے بعد آبائی گھر میں رہائش اختیار نہ کرنے کے فیصلے سے وزیر اعظم پاکستان کی فیملی کافی ڈسٹرب ہو چکی ہے جبکہ عبداللہ شاہد تاحال اپنی ضد پر قائم ہیں ۔ ذرائع اس امر کی بھی تصدیق کرتے ہیں کہ وزیر اعظم کے صاحبزادے کی سادگی سے شادی کا ڈھنڈورہ پیٹنے کے باوجود وزیر اعظم کے عیاش صاحبزادے نے اپنی شادی میں تمام رنگینیوں کا خطر خواہ انتظام کر رکھا ہے جس میں بطور گوئیہ بلائے گئے راحت فتح علی خان کو ایک رات کا 40 لاکھ روپے مول دیا گیا ہے ۔ آن لائن

کی طرف سے موقف جاننے کے لئے رابطہ کرنے پر وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے صاحبزادے عبداللہ شاہد کا کہنا تھا کہ اس بات میں کوئی حقیقت نہیں کہ انہوں نے علی جہانگیر صدیقیکے امریکہ میں بطور پاکستانی سفیر تعیناتی کے عوض کوئی گھر تحفہ میں وصول کیا ہے ۔ انہوں نے اس موقع پر یہ اقرار ضرور کیا کہ وہ ایف سکس میں اپنے دوست کی رہائش گاہ پر بہت زیادہ آتے جاتے رہتے ہیں تاہم ان کے علم میں یہ بات نہیں کہ علی جہانگیر صدیقی کی کوئی رہائش گاہ ایف سکس میں بھی واقع ہے ۔ اس سوال پر کہ انہوں نے اپنی شادی میں راحت فتح علی خان کو گلوکاری کے عوض 40 لاکھ روپے ادا کئے ہیں ان کا کہنا تھا کہ ایسا کرنا کوئی جرم نہیں ۔

بے زبانوں ،بے سہاروں اور ظالموں کے ستائے ہوئے مظلوموں کی آواز آج خاموش ہو گئی ٗشاہد خاقان عباسی افسردہ لہجے میں بہت کچھ کہہ گئے


اسلام آباد (نیو زڈیسک ) صدر مملکت ممنون حسین ٗ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے قانون دان عاصمہ جہانگیر کے انتقال پر اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ قانون کی بالادستی اور جمہوریت کے استحکام کے لیے عاصمہ جہانگیر کا کردار ناقابل فراموش ہے۔اپنے بیان میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے پاکستان کی معروف قانون دان اور انسانی حقوق کی

علمبردار عاصمہ جہانگیر کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ بے زبانوں ،بے سہاروں اور ظالموں کے ستائے ہوئے مظلوموں کی آواز آج خاموش ہو گئی۔ایک بیان میں وزیر اعظم نے کہاکہ بے زبانوں ،بے سہاروں اور ظالموں کے ستائے ہوئے مظلوموں کی آواز آج خاموش ہو گئی۔وزیراعظم نے کہاکہ آج ملک ایک نڈر، بہادر اور اصول پسند شخصیت سے محروم ہو گیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ عاصمہ جہانگیر نے آمریت کو ڈٹ کر للکارا ٗانسانی حقوق کی پامالی کے خلاف بے جگری سے لڑیں اور سچ کو بے دھڑک بیان کرنے کی روایت ڈالی ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ آمریت کے خلاف جمہوریت کے حق میں ان کی کاوشیں اور قانون کی بالادستی کے لیے جدوجہد نا قابل فراموش ہیں۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ عاصمہ جہانگیر کی پوری زندگی عدل و انصاف کے قیام اور قانون کی حکمرانی کیلئے وقف رہی۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ عاصمہ جہانگیر نے ایک بیٹی ،ماں ، قانون دان اورجمہوریت پر کامل یقین رکھنے والے فرد کے طور پر پاکستان کی عدالتی اور سیاسی تاریخ پر ان مٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ان کے انتقال کی خبر پوری قوم کیلیے صدمے کی گھڑی ہے ،اللہ تعالیٰ مرحومہ کی مغفرت فرمائے

اور لواحقین کو صبر جمیل عطا کرے۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے خلاف ایل این جی کرپشن سکینڈل کی راولپنڈی سے کراچی نیب کو ٹرانسفر کرنے پر


اسلام آباد (نیو زڈیسک ) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے خلاف ایل این جی کرپشن سکینڈل کی راولپنڈی سے کراچی نیب کو ٹرانسفر کرنے پر چیئرمین نیب نے ڈائریکٹر جنرل نیب راولپنڈی ناصر اقبال سے جواب طلب کرلیا ہے۔ ڈی جی نیب راولپنڈی ناصر اقبال نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے ایل این جی کرپشن سکینڈل کی

تحقیقات نیب دائریکٹوریٹ کراچی منتقل کردیں جو کہ ایک غزیز قانونی اقدام ہے۔  ذرائع نے بتایا ہے کہ چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال نے ڈی جی نیب راولپنڈی ناصر قبال کے اس اقدام کو مسترد کرتے ہوئے وضاحت طلب کرلی ہے اور سخت اقدامات کا فیصلہ بھی کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ نیب کے اندر نیب بنانے کی اجازت ہر گز نہیں دی جائے گی۔ ایل این جی کرپشن سکینڈل کے بڑے ملزمان میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی‘ سیکرٹری داخلہ ارشد مرزا‘ پی ایس او کے ایم ڈی شیخ اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے علاوہ درجن سے زائد افسران شامل ہیں۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ ڈائریکٹوریٹ جنرل نیب کراچی نے سابق چیئرمین نیب قمر الزمان کے دور میں ایل این جی کرپشن سکینڈل کی تحقیقات مکمل کرنے ہیڈ کوارٹر نیب کو رپورٹ ارسال کی تھی جس کو سابق چیئرمین نے سرد خانے میں ڈال دیا تھا۔ تاہم موجودہ چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال نے ایل این جی کرپشن سکینڈل کی از سر نو تحقیقات شروع کر رکھی ہیں اور یہ ذمہ داری ڈی جی نیب راولپنڈی ناصر اقبال کو سونپی تھی ناصر اقبال نے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے ایل این جی سکینڈل کی تحقیقات ڈی جی نیب کراچی کو ارسال کردی ہیں جو کہ ایک غیر قانونی اقدام قرار دیا جارہا ہے۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ ناصر اقبال کا فواد حسن فواد پرنسپل سیکرٹری ٹو وزیراعظم کے ساتھ دوستی کے علاوہ رشتہ داری بھی ہے اور اس سکینڈل کی تحقیقات میں تاخیری حربے استعمال کرکے وہ موجودہ وزیراعظم کو مشکلات سے بچانا چاہتے ہیں جبکہ ناصر اقبال کے بارے میں بھی معلوم ہوا ہے کہ سابق چیئرمین نیب قمر الزمان چوہدری سے مسلسل

رابطہ میں ہیں اور اصل ہدایات انہی سے لے رہے ہیں سابق دور سابق دور میں ناصر اقبال کا نیب ہیڈ کوارٹر میں طوطی بولتا تھا اور تمام بڑے ملزمان کو دی جانے والی رعایت میں ناصر اقبال درپردہ شامل رہتے تھے۔ ایل این جی کرپشن سکینڈل میں قومی خزانہ سے بیس ارب روپے سے زائد کی مبینہ کرپشن کا کیس ہے جس کی ابھی تک شفاف تحقیقات نہیں ہوسکیں۔

لیکن ڈی جی نیب لاہور رکاوٹ بن کر سامنے آگئے ہیں جبکہ چیئرمین نیب نے ناصر اقبال سے اب وضاحب طلب کرلی ہے۔ آن لائن کے اس حوالے سے راولپنڈی نیب کے میڈیا پرسن رضوان سے رابطہ کرکے موقف جاننا چاہا تو انہوں نے جواب نہیں دیا جبکہ ناصر اقبال سے بھی رابطہ کرکے موقف لینے کی کوشش کی گئی لیکن جواب نہیں دیا گیا ناصر اقبال پر الزام

ہے کہ انہوں نے کامرس ہائوسنگ سوسائٹی کے ملزمان سے پلاٹ حاصل کئے تھے جن کی درخواست پر ناصر اقبال کے خلاف کارروائی پہلے ہی جاری ہے۔

شوبز حلقوں میں آجکل وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی او راداکارہ ریشم کے تعلق پر کافی چرچے


اسلام آباد(نیو زڈیسک )شوبز حلقوں میں آجکل وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی او راداکارہ ریشم کے تعلق پر کافی چرچے ہو رہے ہیں ۔ شوبز سے تعلق رکھنے والے بااثر افراد اداکارہ ریشم کے ذریعے اپنی سفارشات وزیر اعظم تک پہنچا رہے ہیں۔ مصدقہ ذرائع نے بتایا کہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی او راداکارہ ریشم کے درمیان گزشتہ 4سال سے تعلقات قائم ہیں

لیکن لیکن شوبز انڈسٹری س وابستہ لوگوں نے اس وقت صنعت کی بہتر ی کیلئے اداکارہ ریشم سے بہت توقعات وابستہ کی وہوئی ہیں کیونکہ شوبز حلقوں میں یہ بات عام ہے کہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اداکارہ ریشم کی ہر بات نہ صرف توجہ سے سنتے ہیں بلکہ اس پر عمل درآمد بھی کرواتے ہیں ۔ وزیرا عظم شاہد خاقان عباسی کے دورہ لندن کے موقع پر بھی اداکارہ ریشم کو انکے ساتھ دیکھا گیاتھا۔

وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ کوئی مانے یا نہ مانے ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابیاں


سیالکوٹ ( نیو زڈیسک ) وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ کوئی مانے یا نہ مانے ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابیاں حاصل کرکے پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر دیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سیالکوٹ انٹرنیشنل ائیرپورٹ،ایوان صنعت وتجارت اور وفاقی وزیر خواجہ محمد آصف کے گھر ورکر کنونشن سے

خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وزیر داخلہ احسن اقبال، وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف اور مشیر ہوابازی مہتاب عباسی بھی انکے ہمراہ موجود تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں نیٹو کی ڈھائی لاکھ فوج امن قائم کرنے میں ناکام رہی جبکہ اسکے برعکس پاکستان نے محدود وسائل سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خاطر خواہ کامیابیاں حاصل کیں اور افراتفری کی پیدا شدہ صورتحال میں ملک کو استحکام کی جانب گامزن کیا۔ انہوں نے کہا کہ جس ملک میں معیاری تعلیم نہ ہو وہ ملک دنیا میں پیچھے رہ جاتے ہیں لہٰذا ہم تعلیمی میدان میں اصلاحات لارہے ہیں اور ہر ضلع میں ایک یونیورسٹی قائم کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی دنیا کے پانچ خطرناک ترین شہروں میں شامل تھا اور ہم نے اسکو امن کا گہوارہ بنادیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نندی پور پاور پلانٹ کے منصوبہ ہم نے مکمل کیا اوربدنامہ بھی ہماری ہوئی حالانکہ یہ منصوبہ پچھلی حکومتوںکا تھا جو کہ2006میں شروع کیا گیا۔ انہوں نے کہ بجلی کا بحران بڑا تھا تاہم ہماری حکومت نے 10ہزار میگا واٹ بجلی کے منصوبوں پر نہ صرف کام شروع کیا بلکہ انہیں بروقت مکمل بھی کیا اور اب انشا اللہ15سال تک بجلی کے حوالے سے مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا اور انشا اللہ بجلی کی قیمتوں میں کمی

بھی لائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے ادوار میں عوام اور کاروباری برادری کے پاس سوئی گیس نہیں تھی ،سی این جی میسر نہیں تھی تاہم آج ہم اس حوالے سے خود کفیل ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے چار پانچ سال میںانتشار پھیلانے کی کوشش کی گئی پر ہم نے مشکلات کے باوجود اپنا کام جارکھا جس کا رزلٹ آج سب کے سامنے ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت

ملک میں تین بڑی سیاسی جماعتوں کی حکومت ہے مگر سب سے اچھی کارکردگی صوبائی حکومت پنجاب کی ہے جہاں عوام کے مسائل کو حل کرکے انکو بنیادی سہولیات کی فراہمی ممکن بنائی جارہی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ جب وہ پشاور یونیورسٹی میں پڑھتے تھے تو لواری ٹنل کا کام شروع کیا گیا جسے ہماری حکومت نے پائی تکمیل تک پہنچا دیا ہے اور اسی

طرح گوادر پورٹ پر6وزیر اعظموں کے ناموں کی تختیاں لگائی گئی ہیں جبکہ اس منصوبے کا کامیابی سے آغاز سابق وزیر اعظم نواز شریف کے دور میں ہوا اور ہم نواز شریف کے ویثرن کے مطابق ہی آگے بڑھیں گے۔ اس کے باوجود کہ ہماری خلاف دھرنے دیئے گئے اور سیاسی عدم استحکام پیدا کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جب ملک میں سیاسی استحکام ہو گا تو

معاشی خوشحالی آئے گی۔28جولائی کے فیصلے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس سے ن لیگ کی حکومت کو بڑا دھچکا لگا مگر اسکے باوجود ہم نے ملک کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھا۔ اس سے پہلے وزیر اعظم پاکستان شاہد خانان عباس نے اپنی آمد پر سیالکوٹ

انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر نئے ٹرمینل کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر این ایچ اے کی جانب سے سیالکوٹ تا لاہور موٹر وے ، رنگ روڈ، فلائی اوورو دیگر منصوبہ جات جن کی لاگت200ارب روپے بتائی جارہی ہے کہ حوالے سے بریفننگ دی گئی۔ وزیر اعظم پاکستان

نے شاہد حاقان عباس نے سیالکوٹ چیمبر میں مقامی درآمدکنندگان اور برآمدکنندگان کے مطالبے پر کہا کہ کسٹم، سیلز ٹیکس، ڈی ایل ٹی ایل وزیر اعظم پیکج 10ارب روپے کے زیر التو10ارب روپے کے ری فنڈز15فروری تک اداکر نے کا وعدہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ

حکومت کے پاس وسائل ہونگے تو ملک معاشی اور اقتصادی ترقی کرے گا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کامرس اینڈ بزنس سینٹر سیالکوٹ میں نادرہ اور پاسپورٹ کے دفاتر قائم کرنے کا اعلان کیا جبکہ وفاقی وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے سمبڑیال کے قریب یونیورسٹیوں کی500ایکڑ زمین پر30ایکڑ نسٹ اور35ایکڑ بحریہ یونیورسٹی کے لئے جگہ مختص کرنے کا اعلان کیا جسکی منظوری وزیر اعظم نے دی۔ بعدازاں وزیر

اعظم شاہد حاقان عباس وفاقی وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف کے گھر گئے جہاں ورکروں کے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 28جولائی کو جب عدالت نے فیصلہ کیا یہ مشکل مرحلہ تھا مگر مسلم لیگ ن کی سب سے بڑی طاقت ہے کہ اس وقت کوئی وزیر

اعظم کا امیدوار نہیں تھا جو فیصلہ پارٹی نے کیا وہ سب نے قبول کیا۔ نواز شریف ہمار ا لیڈ ر ہے ہمارا20سال میں ایک ہی لیڈر تھا آج بھی ہے اور کل بھی رہے گے۔ انہوں نے کہا کہ جوسیاست بدل لیتے لیڈر بدل لیتے ہیں وہ سیاست کی خدمت نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ

مجھے اخباروں نے بڑی تنقید کا نشانہ بنایا مگر میں حقیقت بات کرتا ہوں کہ پاکستان کی عوام نے میاں نواز شریف کووزیر اعظم بنایا تھا اور میرا وزیر اعظم آج بھی نواز شریف ہے اور اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پی ایم ایل این کی کامیابی ہے کہ جو ایم

این یہاں بیٹھے ہیں ان میں سے کسی کو بھی پارٹی وزیر اعظم بناتی وہ سب کو قبول ہوتا اور یہی جمہوریت اور سیاست کی کامیابی ہے اور اس سے بڑی سیاست کی تاریخ میں کوئی کامیابی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جماعت متحد ہے اور ہمیں کسی قسم کی شرمندگی نہیں کیونکہ

پی ایم ایل این اے نے عوام سے کئے وعدوں کو پایہ تکمیل تک پہنچایا ہے۔ انہوں نے میں ہمیشہ کہتا ہو کہ سیاست کے فیصلے عدالتوں میں نہیں ہوتے اور جب جب عدالتوں نے سیاسی مقدمات کے فیصلے کئے نہ تاریخ نے مانا اور نہ ہی عوام نے انہیں قبول کیا، انہوںنے کہا کہ

فیصلے پولنگ اسٹیشنوں پر ہوتے ہیں اور آئندہ جولائی میں انتخابات میں فیصلہ عوام کرے گی، یہی ملک کو ترقی دینے کا راستہ اور یہی خودمختاری کا راستہ اور اس حوالے سے کوئی دوسراراستہ قبول نہیں۔

’’دودھ کا دودھ پانی کا پانی ‘‘ وزیراعظم نے کسے کھلا چیلنج کر دیا ؟


رحیم یار خان(نیو زڈیسک ) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ مخالفین جولائی کے انتخابات میں آکر مقابلہ کرلیں دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائے گا۔ نواز شریف وہ لیڈر ہیں جو وعدے نہیں کام کرکے دکھاتے ہیں، 2013 میں حکومت آئی تو 1800 کلومیٹر موٹروے تعمیر کرائی، اضافی گیس مہیا کیے بغیر پاکستان کے مسائل حل نہیں ہوسکتے تھے

اسی لئے سابق وزیراعظم کا وڑن اور جذبہ تھا کہ ملک میں آئندہ 15 سال کے منصوبے بھی بنائیں گے، پاکستان کی تاریخ میں 42 انچ قطر کی کوئی گیس پائپ لائن نہیں ڈالی گئی ہماری حکومت میں ریکارڈ مدت میں 14 سو کلو میٹر گیس کی پائپ لائن بچھائی گئی، آج ہر صارف کو گیس فراہم کی جا رہی ہے اور کارخانے و صنعتیں لگانے کے لیے گیس میسر ہے، جتنے گیس کنکشن ہمارے دور میں دیے گئے اس کی مثال نہیں ملتی۔ کسی نے کرپشن اور کسی نے گالیوں کی سیاست کی، یہاں پر آپ کو وعدے کرنے والے بھی بہت ملیں گے لیکن مسلم لیگ (ن) خدمت کی سیاست پر یقین رکھتی ہے ۔ مسلم لیگ (ن) آئندہ انتخابات میں بھی کامیاب ہوکر مسائل حل کرے گی، ملک کی ترقی کا سفر مستقبل میں بھی جاری رہے گا، گوادر سے خیبر پختونخوا تک منصوبوں کی فہرست ہے جس پر کام کریں گے۔تفصیلات کے مطابق ہفتہ کے روز وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے رحیم یار خان میں آر ایل این جی کی ترسیل اور فراہمی کے لئے42انچ قطر کی گیس پائپ لائن منصوبے کے افتتاح کے موقع پر کہا ہے کہ آئندہ 15برس کے لئے بجلی کا مسئلہ حل کردیا ہے،معیشت کو جتنی ترقی ہماری حکومت نے دی

ہے کسی اور نے نہیں دی اور جس نے مقابلہ کرنا ہے آئندہ الیکشن میں کرلے،ہماری حکومت نے 1800کلومیٹر موٹروے بنائی اور ہم نے گیس کے20لاکھ نئے کنکشن دئیے ہیں،مسلم لیگ(ن) نوازشریف کی قیادت میں صرف باتیں نہیں بلکہ عملی کام کرکے دکھاتی ہے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ انتہائی کم عرصے میں وہ کام کرکے دکھائے ہیں

جن کو مکمل کرنے کے لئے ترقی یافتہ ممالک میں بھی زیادہ وقت درکار ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ آر ایل این جی کی ترسیل اور فراہمی کے لئے 1400کلومیٹر گیس پائپ لائن ریکارڈ مدت میں مکمل کی ہے،جس میں 700کلومیٹر42انچ کی لائن شامل ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ جب ہماری حکومت آئی تو ملک میں انرجی کا بحران تھا اور بجلی آتی تھی نہ گیس ،

جبکہ گیس کا بحران حل کئے بغیر بجلی کی کمی کے مسئلے پر بھی قابو نہیں پاسکتے تھے لیکن میاں نوازشریف اور مسلم لیگ(ن) کی دور اندیشی اور منصوبہ بندی سے ناممکن مسئلے کا حل نکالا ہے۔انہوں نے کہا کہ اربوں ڈالر کے منصوبے مکمل کئے اور سب سے مشکل کام ایل این جی کے سودے طے کرنا تھا جو ہم نے خوش اسلوبی سے پایہ تکمیل تک پہنچائے۔

وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ گیس فراہمی کی وجہ سے تیل پر چلنے والے بجلی کے کارخانے اب گیس پر چل رہے ہیں اور تیل کی مزید درآمد کی ضرورت نہیں رہی جبکہ ساتھ ہی ساتھ سیاسی مخالفین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وسائل تو اس سے قبل حکومتوں کے پاس بھی موجود تھے لیکن میں چیلنج کرتا ہوں کہ مخالفین پچھلے15

سال کا کوئی ایک بھی قابل ذکر منصوبہ بتا دیں۔وزیراعظم نے کہا کہ قیام پاکستان سے لے کر 2013ء تک صرف580کلومیٹر موٹروے صرف (ن) لیگ نے ہی بنائی تھی جبکہ اب تک1800کلومیٹر موٹرویز کا جال بچھایا جاچکا ہے جس کے ملک پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی سالوں سے کوئی سردیوں میں گیس کی دستیابی کا

سوچ بھی نہیں سکتا تھا جبکہ ہم نے نہ صرف20لاکھ نئے کنکشنز دئیے ہیں بلکہ گیس کی دستیابی کو بھی یقینی بنایا ہے ، ہم میرٹ پر یقین رکھتے ہیں اس لئے تمام کنکشنز سفارش کے بغیر دئیے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ ہم خدمت کی سیاست کرتے ہیں اور عوام پر بھی اعتماد ہے کہ وہ کام کرنے والے کا ساتھ دیں گے اور جس نے مقابلہ کرن ہے آئندہ الیکشن میں کر لے سب دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا

’’ٹرمپ کا پاکستان کیخلاف ٹویٹ ‘‘


اسلام آباد (نیو زڈیسک )پاکستان مسلم لیگ (ن)کے سربراہ ٗ سابق وزیر اعظم محمد نوازشریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان مخالف بیان کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ کسی ریاستی سربراہ کو دوسری ریاست سے مکالمہ کرتے ہوئے مسلمہ بین الاقوامی آداب اور سفارتی اخلاق کا خیال رکھنا چاہیے ٗ یہ کسی ڈکٹیٹر کی حکومت نہیں

کہ ایک فون کال پر ڈھیر ہوجائے ٗعوامی حکومت دھمکیوں کی پرواہ نہیں کرتی ٗکولیشن سپورٹ فنڈ کو امداد یا خیرات کا نام نہ دیا جائے ٗوزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کوئی ایسی حکمت عملی وضع کریں جس سے ہمیں امریکی امداد کی حاجت باقی نہ رہے ٗ ہمیں پورے اخلاص کے ساتھ اپنے کردار اور عمل کا ضرور جائزہ لینا چاہیے۔ بدھ کو پنجاب ہائوس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نوازشریف نے کہاکہ سال نو کے آغاز کے ساتھ ہی امریکی صدر کی طرف سے ایک غیر سنجیدہ ٹوئٹ کا جاری ہونا افسوسناک ہے ۔سابق وزیر اعظم نوازشریف نے کہا کہ کسی ریاستی سربراہ کو دوسری ریاست سے مکالمہ کرتے ہوئے مسلمہ بین الاقوامی آداب اور سفارتی اخلاق کا خیال رکھنا چاہیے۔نوازشریف نے کہاکہ نائن الیون کے بعد سے اب تک سب سے بھاری قیمت صرف پاکستان نیادا کی ہے ٗسب سے بھاری نقصان پاکستان کاہوا ہے ٗ17 برس سے ایسی جنگ میں الجھے جو بنیادی طور پر ہماری نہیں تھی۔انہوں نے کہا کہ امریکی صدر کو معلوم ہونا چاہے کہ 2013 میں مسلم لیگ (ن) نے اقتدار میں آتے ہی دہشت گردی کے خلاف کس بھرپور عزم کا اظہار کیا، اسی کے نتیجے میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز ہوا ٗآج دہشت گردی کی کمر توڑ دی گئی ہے

اور جو بچے کچھے عناصر ہیں انہیں بھی جلد کیفر کردار تک پہنچا دیا جائے گا۔مسلم لیگ (ن) کے صدر نے کہا کہ یہ کسی ڈکٹیٹر کی حکومت نہیں کہ ایک فون کال پر ڈھیر ہوجائے ٗیہ عوامی حکومت ہے جو دھمکیوں کی پرواہ نہیں کرتے ٗہمیں امداد کے طعنے نہ دیئے جائیں، کولیشن سپورٹ فنڈ کو امداد یا خیرات کا نام نہ دیا جائے ٗ ہمیں ایسی فنڈ کی حاجت نہیں،

آپ کو احسان جتانے کی بجائے کسی سپورٹ کا تقاضہ نہیں کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ یقین ہے کہ 2001 میں یہاں آمریت کی بجائے جمہوری حکومت ہوتی تو وہ اپنی خدمات کبھی نہ بیچتی اور اپنی خودی کا سودا بھی نہ کرتی۔نوازشریف نے کہا کہ وزیراعظم شاہد خاقان سے یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ کوئی ایسی حکمت عملی وضع کریں جس سے ہمیں

امریکی امداد کی حاجت باقی نہ رہے تاکہ ہماری عزت نفس پر اس طرح کے حملے نہ کیے جائیں۔سابق وزیراعظم محمد نے کہا کہ تین بار ملک کا وزیراعظم رہا ہوں ٗبہت سے حقائق سامنے ہیں ٗ مخلص اور درد مند شہری کی حیثیت سے یہ بات کہنا چاہتا ہوں کہ ہمیں پورے اخلاص کے ساتھ اپنے کردار اور عمل کا ضرور جائزہ لینا چاہیے ٗبڑی دردمندی سے کہتا رہا

ہوں کہ ہمیں اپنے گھر کی خبر ضرور لینی چاہیے اور سوچنا چاہیے کہ دنیا ہمیں قربانیوں کے باوجود ایسے کیوں دیکھتی ہے۔مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیر اعظم نے کہاکہمیرے مشورے کو نہ صرف نظر انداز کیا جاتا رہا بلکہ اسے کبھی ڈان لیکس اور کبھی کوئی اور نام دے کر میری حب الوطنی پر سوال اٹھائے گئے۔نوازشریف نے کہا کہ ہمیں

اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے کہ دنیا ہماری قربانیوں کے باوجود ہماری بات کیوں نہیں سنتی ٗفوج پولیس ٗسول سیکیورٹی ادارے ٗعوام ٗحتیٰ کہ ہمارے معصوم بچوں کا خون دنیا کی آنکھوں میں اتنا ارزاں کیوں ہوگیا ٗ17 سال کے دوران عظیم جانی و مالی قربانیوں کے باوجود ہمارابیانیہ کیوں نہیں مانا جارہا ٗہمیں ان سوالوں کا جواب تلاش کرنا ہے ٗ

اگر انہیں نظر انداز کیا جاتا رہا اور قومی مفاد کے منافی قرار دیا جاتا رہا تو بہت بڑی خود فربی ہوگی، ایسی ہی خود فریبی کی وجہ سے پاکستان دو لخت ہوچکا۔سابق وزیرعظم نے کہاکہ ہمیں خود فریبی کے اس آسیب سے نجات حاصل کرنا ہوگی ٗیہی طاقت کا اصل سرچشمہ ہے ٗقومی قیادت ٗتمام اداروں ٗمیڈیا ٗدانشوروں اور عوام کو سیاسی الزام تراشیوں کے

کھیل سے ہٹ کران باتوں کا جواب تلاش کرنا چاہیے اور حل بھی دینا چاہیے ٗاگر چاہتے ہیں مستقبل کل اور آ ج سے مختلف ہو اور دنیا کا کوئی ملک ہماری عزت پر حملہ نہ کرے تو ہمیں ایک زندہ قوم کے طور خود احتسابی کی مشق سے گزرنا ہوگا۔

وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ قا ئد ا عظم بین ا لصو با ئی گیمز میں شر کت والے


اسلام آباد (نیو زڈیسک ) وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ قا ئد ا عظم بین ا لصو با ئی گیمز میں شر کت والے کھلاڑیوں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس گیمز میں بڑی تعداد میں کھلاڑیوں کی شرکت ہی اہم اور کا میا بی ہے اور کھلاڑی بھر پور محنت کریں تاکہ آئندہ آنے والے عا لمی مقا بلو ں میں میڈلز حاصل کرکے ملک کا نام روشن کر سکیں

وہ گیمز کی رنگا رنگ اختتا می تقریب کے مو قع پر خطا ب کر رہے تھے۔ انہوں اس موقع پر پہلی سپورٹس یونیورسٹی کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس یونیورسٹی کی منظوری دی جا چکی ہے، انہوں نے وزیراعظم چیلنج کپ ٹورنامنٹ منعقد کروانے کا بھی اعلان کیا ہے اور یہ ٹورنامنٹ آئندہ تین ماہ تک اسلام آباد میں کھیلا جائے گا، انہوں نے سپورٹس فیڈریشنزکے عہدیداران کو کہا کہ کوئی بھی سیاست نہ کرے اور سپورٹس کی ترقی کے لئے اپنا اپنا کردار ادا کرے تاکہ آنے والے اولمپک گیمز میں زیادہ سے زیادہ میڈلز حاصل کر سکیں،اس سے قبل وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ میاں ریاض حسین پیرزادہ نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا تقریب میںآمد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کی خواہش کے مطابق ان کھیلوں کے مقابلوں کا انعقاد کیا، اس موقع پر وفاقی وزیر نے سپورٹس یونیورسٹی کے قیام کے علاوہ وزیراعظم چیلنج کپ فٹ بال ٹورنامنٹ کے انعقاد کی تجویزپیش کی ، جس کو وزیراعظم نے منظور کر لیا ہے، گیمز میں آٹھ ٹیموں نے حصہ لیا جن میں پنجاب، سندھ، بلوچستان، خیبرپختونخوا، فاٹا، آزادوجموں کشمیر، گلگت بلتستان اور اسلام آباد شامل تھیں

۔،اختتامی تقریب کے مہمان خصوصی وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کامیابی حاصل کرنے والی ٹیموں میں ٹرافیاں تقسیم کیں، اس موقع پر وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ میاں ریاض حسین پیرزادہ،وفاقی وزیر عبدالقادر بلوچ، پاکستان ٹینس فیڈریشن کے صدر سینیٹر سلیم سیف اللہ، پاکستان سپورٹس بورڈ کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر اختر نواز گنجیرا، ڈپٹی ڈی جیزمنصوراحمد، شاہداسلام ، ڈاکٹر وقار احمد اور میڈیا ڈائریکٹر محمد اعظم ڈارکے علاوہ کھلاڑیوں اور عوام کی کثیر تعداد نے شرکت کی،۔

سابق وزیراعظم نواز شریف نے پٹرولیم مصنوعا ت کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق اوگرا کی جانب سے بھیجی گئی


اسلام آباد (نیو زڈیسک ) سابق وزیراعظم نواز شریف نے پٹرولیم مصنوعا ت کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق اوگرا کی جانب سے بھیجی گئی سمری کی منظوری کو شہباز شریف سے مشاورت سے مشروط کرتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو سمری منظور کر نے سے روک دیا ہے ،اوگرا نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردو بدل کے

حوالے سے سمری بھی حکومت کو ارسال کر دی، حکومت کو اوگرا کی جانب سے بھیجی گئی سمری میں پیٹرول کی قیمت میں چار روپے چھے پیسے اضافے کی سفارش کی گئی ہے جبکہ مٹی کے تیل کی قیمت میں تیرہ روپے اٹھاون پیسے اضافہ کی سفارش کی گئی ہے ، اوگرا کی جانب سے لائٹ ڈیزل کی قیمت میں بارہ روپے انچاس پیسے فی لیٹر اضافہ ،ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں پانچ روپے تیراسی پیسے فی لیٹر اضافے کی سفارش کی گئی ہے ،دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے قبل وزیراعلیٰ شہباز شریف سے مشاورت کا فیصلہ کیا ہے اور انہوں نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو اوگرا کی جانب سے بھیجی گئی سمری منظور کرنے سے روک دیا ہے ، سابق وزیراعظم نے کا خیال ہے کہ الیکشن قریب ہیں اور ایسے موقع پر پٹرولیم مصنوعا ت کی قیمتوں میں اضافے سے نقصان ہو سکتا ہے ، قیمتوں میں اضافے سے قبل شہباز شریف سے مشاورت ضروری ہے ۔

)کراچی میں وائٹ آئل پائپ لائن موٹرگیسولین منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا ہے


کراچی (نیو زڈیسک )کراچی میں وائٹ آئل پائپ لائن موٹرگیسولین منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا ہے۔وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ٹرانسپورٹرز کے کاروبارکا خیال رکھاہے، منصوبےسے ان کے کاروبارکو نقصان نہیں پہنچے گا۔وزیراعظم نے کہا کہ پائپ لائن منصوبہ حساس نوعیت کا ہے،

ٹینکرزکی بڑی تعداد نظام میں ہونے سےحادثات کا خطرہ رہتا ہے، ٹینکرز سیکنڈری تیل کی ترسیل کریں گے، ان کے کام میں کمی نہیں آئے گی۔انہوں نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کے معیارکوبھی بہتربنارہے ہیں، تیل کی روڈ کے ذریعے ترسیل سے زیادہ نقصان کا خطرہ ہوتا ہے، دنیا بھر میں تیل کی ترسیل پائپ لائنز کے ذریعے کی جاتی ہے۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ آئل ٹینکرز کے معیار پرا وگرا نے تشویش کا اظہار کیا ہے، 15 ارب روپے لاگت کا منصوبہ 20 ماہ میں مکمل ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان فرنس آئل امپورٹ نہیں کرے گا، سیاسی اختلافا ت رہتے ہیں لیکن جب ملک کا معاملہ ہو تو وزیراعلیٰ سندھ ہمیشہ سپورٹ کرتےہیں۔