Tag Archives: زینب قتل

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے زینب قتل از خود نوٹس کیس نمٹا تے ہوئے کہا ہے کہ


لاہور(نیو زڈیسک ) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے زینب قتل از خود نوٹس کیس نمٹا تے ہوئے کہا ہے کہ آئی جی پنجاب پولیس کیپٹن ریٹائرڈ عارف نواز خان کے شکر گزار ہیں، ہائیکورٹ کے فیصلے کے مطابق 7 روز میں فیصلہ کیا جائے۔ ہفتہ کو چیف جسٹس پاکستان نے زینب قتل از خود نوٹس کیس نمٹا دیا ہے ۔ سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں

ایک کیس کی سماعت کے دوران جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ زینب قتل کیس میں ملزم کو پکڑنے پر انسپکٹر جنرل( آئی جی)پنجاب پولیس کیپٹن ریٹائرڈ عارف نواز خان کے شکر گزار ہیں۔ ہائیکورٹ کے فیصلے کے مطابق 7 روز میں فیصلہ کیا جائے۔ یاد رہے پنجاب کے ضلع قصور سے اغوا کی جانے والی 7 سالہ بچی زینب کو زیادتی کے بعد قتل کردیا گیا تھا، جس کی لاش گذشتہ ماہ 9 جنوری کو ایک کچرا کنڈی سے ملی تھی ۔زینب کے قتل کے بعد ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور قصور میں پرتشدد مظاہرے پھوٹ پڑے جس کے دوران پولیس کی فائرنگ سے 2 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔بعدازاں چیف جسٹس پاکستان نے واقعے کا از خود نوٹس لیا تھا اور 21 جنوری کو سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں ہونے والی ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے زینب قتل کیس میں پولیس تفتیش پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کیس کی تحقیقات کے لیے تفتیشی اداروں کو 72 گھنٹوں کی مہلت دی تھی۔جس کے بعد 23 جنوری کو پولیس نے زینب سمیت 8 بچیوں سے زیادتی اور قتل میں ملوث ملزم عمران کی گرفتاری کا دعوی کیا، جس کی تصدیق وزیراعلی پنجاب شہباز شریف نے بھی کی۔ملزم عمران ان دنوں پولیس کی تحویل میں ہے اور اس کے خلاف ٹرائل جیل میں کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

چیف جسٹس نے زینب قتل از خود نوٹس کیس نمٹا دیا


لاہور (نیو ز ڈ یسک )یف جسٹس نے زینب قتل از خود نوٹس کیس نمٹا دیا۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کی جانب سے زینب قتل از خود نوٹس کیس نپٹا دیا گیا۔اور ملزم عمران علی کا چالان پیش کر دیا گیا ہے۔عدالت نے کہا کہ زینب کے قاتل عمران علی کو پکڑنے پر آئی جی پنجاب کے مشکور ہیں۔اگر اس کیس سے متعلق کسی کو کوئی شکایت ہو تو وہ درخواست دائر

 

کر سکتا ہے۔ یاد رہے کہ ملزم عمران علی قصور میں ہونے والی ننھی زینب کا قاتل ہے۔جس نے زینب کو زیادتی کا نشانہ بھی بنایا تھا۔زینب قتل کیس کے مرکزی ملزم کو دن رات کی محنت کے بعد قتل کے کئی روز بعد گرفتار کیا گیا۔عدالت نے فیصلہ کیا تھا زینب قتل کیس کی آئیندہ سماعت جیل میں ہوگی اور ملزم عمران علی کا ٹرائل بھی جیل میں ہو گا۔آج عدالت نے اس کیس کو نمٹا دیا ہے۔

زینب قتل کیس میں اہم پیشرفت


اسلام آباد(نیوز ڈیسک) زینب قتل کیس میں اہم پیشرفت، زینب کے والد نے ملزم عمران کا تحقیقاتی ریکارڈ حاصل کرنے کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا۔ عدالت نے زینب کے والد کی ریکارڈ حاصل کرنے کی استدعا مسترد کردی۔

زینب قتل کیس میں چونکا دینے والی پیشرفت !سفاک قاتل نے کیسے اور کہاں کہاں کتنی بچیوں کو اپنی حوس کا نشا نہ بنایا؟سب سامنے کےبعد اب عمران علی کیساتھ کیا سلوک ہونے والا ہے ؟


لاہور ( نیو زڈیسک )زینب قتل کیس میں چونکا دینے والی پیشرفت !سفاک قاتل نے کیسے اور کہاں کہاں کتنی بچیوں کو اپنی حوس کا نشا نہ بنایا؟سب سامنے کےبعد اب عمران علی کیساتھ کیا سلوک ہونے والا ہے ؟ زینب قتل کیس میں اہم پیشرفت، مرکزی ملزم عمران کو مزید 7 بچیوں سے زیادتی اور قتل کیسز میں نامزد کر دیا گیا، پولیس نے ملزم عمران کا

انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت سے 3 روزہ ریمانڈ حاصل کر لیا۔انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت کے ایڈمن جج سجاد احمد نے کیس کی سماعت کی۔ ملزم عمران کو سخت سکیورٹی میں انسداد دہشتگردی عدالت میں پیش کیا گیا۔ تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کا ڈی این اے 7دوسرے کیسز سے بھی میچ ہو گیا ہے، ملزم عمران نے زینب سمیت 8بچیوں کو اغواء کر کے قتل کیا۔ تفتیشی افسر نے عدالت کو مزید بتایا کہ ملزم عمران بچیوں کو چیز دینے کے بہانے اغوا کرتا تھا، ملزم سے مزید تفتیش کرنا چاہتے ہیں لہٰذا عدالت سے استدعا ہے کہ ملزم کو 5 روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا جائے۔عدالت نے دلائل مکمل ہونے کے بعد آٹھ بچیوں کے قتل میں ملوث ملزم کو 3 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔

زینب قتل کیس کے ملزم عمران کے متعدد بینک اکاؤنٹس کی خبریں سامنے آئی تھیں


لاہور(نیو زڈیسک )گزشتہ روز زینب قتل کیس کے ملزم عمران کے متعدد بینک اکاؤنٹس کی خبریں سامنے آئی تھیں اور اینکر پرسن شاہد مسعود نے ملزم کے متعدد بینک اکاؤنٹس کا دعویٰ کیا تھا جس پر وزیراعلیٰ پنجاب نے نوٹس لیتے ہوئے جے آئی ٹی کو اس معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔ اسٹیٹ بینک نے زینب قتل کیس کے ملزم عمران کے کسی بھی

کمرشل بینک میں اکاؤنٹ کی تردید کردی۔نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جے آئی ٹی نے زینب قتل کیس کے ملزم عمران کے اکاؤنٹس کی تحقیقات کیں اور قصور کے تمام بینکوں میں ملزم کے اکاؤنٹس کی چھان بین مکمل کی جس میں ملزم کا قصور کے 12 بینکوں میں کوئی اکاؤنٹ نہیں ملا۔دوسری جانب اسٹیٹ بینک نے ملزم کے بینک اکاؤنٹس کی مکمل چھان بین کرکے جے آئی ٹی کو رپورٹ دے دی جس میں ملزم عمران کے کسی بھی کمرشل بینک میں اکاؤنٹ کی تردید کی گئی ہے۔اسٹیٹ بینک میں مانیٹری پالیسی کے اعلان موقع پر گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ نے کہا کہ زینب قتل کیس میں ہر قسم کا تعاون کریں گے، مرکزی بینک کے ایک افسر کو جے آئی ٹی میں شامل کرنےکا کہا گیا، اسٹیٹ بینک کے افسر شوکت علی کو جے آئی ٹی کا ممبر بنایا گیا ہے۔

زینب قتل کیس ،ملزم عمران علی کاعدالت میں چالان پیش ہونے کے بعد سات دن میں فیصلہ دیا جائے ،لاہورہائی کورٹ


لاہور(نیوزڈیسک):ننھی سات سالہ زینب کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے ملزم عمران علی کو گزشتہ روز انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں پیش کیا گیا ،جس پر وزیراعلی پنجاب شہباز شریف نے زینب قتل کیس کو روزانہ کی بنیاد پر چلانے کے لئے چیف جسٹس ثاقب نثار سے درخواست کی تھی جسے چیف جسٹس ثاقب نثار کی جانب سے روزانہ کی بنیاد اس کیس کی سماعت کے لئے یقین دہانی کروائی گئی تھی ۔ تفصیلات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے نوٹی فکیشن جاری کیا گیا ہے جس میں زینب کے قتل کے مقدمے میں دہشت گردی ایکٹ کی دفعات شامل کی گئی ہیں ۔نوٹیفکیشن میں احکامات بھی جاری کئے گئے ہیں جس میں کہا گیا کہ ملزم عمران علی کا چالان عدالت میں پیش ہونے کے بعد 7روز میں فیصلہ سنایا جائے ۔

زینب قتل کیس کے ملزم عمران نے دوران تفتیش انتہائی سنسنی خیز انکشافات کرتے ہوئے 10 بچیوں کے ساتھ زیادتی کا اعتراف کرلیا


لاہور(نیو زڈیسک ) زینب قتل کیس کے ملزم عمران نے دوران تفتیش انتہائی سنسنی خیز انکشافات کرتے ہوئے 10 بچیوں کے ساتھ زیادتی کا اعتراف کرلیا۔پنجاب کے ضلع قصور سے اغواء کی جانے والی 7 سالہ بچی زینب کو زیادتی کے بعد قتل کردیا گیا تھا جس کی لاش 9 جنوری کو ایک کچرا کنڈی سے ملی تھی۔پولیس نے 14 روز کی تگ و دو کے بعد

گزشتہ روز ملزم عمران کو گرفتار کیا جو قصور میں دیگر 8 بچیوں کے قتل میں بھی ملوث ہے۔جے آئی ٹی ذرائع کے مطابق ملزم عمران نے دوران تفتیش انکشافات کیے کہ اس نے زینب کو پونے 7 بجے اغوا کیا، مناسب جگہ نہ ملنے پر زینب کو ڈیڑھ کلو میٹر سے زائد ساتھ لے کر گھوما، ۔زیر تعمیر سوسائٹی میں پکڑے جانے کے خوف سے کوڑے کے ڈھیر پر زینب کو لے گیاملزم عمران نے مزید بتایا کہ وہ جن گھروں میں کام کرتا انہی کی بچیوں کو اغوا کرتااور کوشش میں ہوتا کہ مجھے کہیں زیر تعمیر گھر مل جائے میں نے 8 بچیوں سے زیر تعمیر مکانوں جب کہ 2 سے کوڑے کے ڈھیروں پر زیادتی کی۔عمران نے مزید بتایا کہ اس نے چلڈرن اسپتال میں داخل کائنات کو دہی دلوانے کے بہانے اغوا کرکے زیادتی کا نشانہ بنایا۔ملزم سے تفتیش کرنے والی جے آئی ٹی کے ذرائع کا کہنا ہےکہ ملزم عمران چند روز سے زینب کے گھر بار بار جاکر کئی گئی گھنٹے بیٹھا رہا، عمران کے 8 بچیوں کے ساتھ ڈی این اے میچ کرگئے ہیں جب کہ دو بچیوں کے ڈی این اے فارنزک شواہد ضائع ہونے کے باعث میچ نہیں کیا جاسکا لیکن ملزم نے خود 10 بچیوں سے زیادتی کا اعتراف کیا ہے۔

ملزم عمران علی ولد ارشد کا پہلا ڈی این اے ٹیسٹ 14 جنوری جبکہ دوسرا 20 جنوری کوہوا


لاہور (نیو زڈیسک ) ملزم عمران علی ولد ارشد کا پہلا ڈی این اے ٹیسٹ 14 جنوری جبکہ دوسرا 20 جنوری کوہوا۔جبکہ اس سے قبل زینب قتل کیس میں گرفتار مبینہ ملزم عمران علی کے ڈی این اے ٹیسٹ سے ثابت ہو گیا ہے کہ وہی زینت سمیت 8 بچیوں کے قتل میں ملوث ہے۔معتبر ذرائع نے جیو نیوز کو بتایا ہے کہ زینب قتل کیس میں گرفتار مبینہ ملزم

عمران علی کا ڈی این اے ٹیسٹ لیا گیا جس سے ثابت ہوا ہے کہ وہی نا صرف زینب بلکہ دیگر 7 بچیوں کے ساتھ زیادتی اور قتل کے واقعات میں ملوث ہے۔زینب قتل میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے تفتیش مکمل کرتے ہوئے بتایا کہ چار ملزمان نے عمران کو واردات کے بعد چھپنے میں مدد فراہم کی جب کہ ان میں سے ایک ملزم عمران کے خلاف وعدہ معاف گواہ بن گیا ہے۔ پنجاب فرانزک لیب نے تمام ملزمان کے پولی گرافک ٹیسٹ مکمل کرکے رپورٹ جے آئی ٹی کے حوالے کردی ہے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم عمران علی کو اسپیشل برانچ کی مدد سے گرفتار کیا گیا تھا اور اسے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی پریس کانفرنس کے دوران میڈیا کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق گرفتار ملزم عمران علی کو لاہور پہنچا دیا گیا ہے جبکہ زینب کے والد اور چچا بھی لاہور پہنچ گئے ہیں۔یاد رہے کہ پولیس نے 7 سالہ زینب کے قتل کے شبہ میں ملزم عمران کو پہلے بھی حراست میں لیا تھا لیکن پھر بچی کے رشتے داروں کے کہنے پر اسے چھوڑ دیا گیا تھا، تاہم اب ڈی این اے میچ ہوجانے کے بعد پولیس نے ملزم کو دوبارہ گرفتار کرلیا۔

لزم زینب قتل کے ہونے والے تمام احتجاج میں شامل رہا ، ملزم وقوعہ کے بعد مدعیوں کے ساتھ پھرتا رہا


لاہور (نیو زڈیسک )ملزم زینب قتل کے ہونے والے تمام احتجاج میں شامل رہا ، ملزم وقوعہ کے بعد مدعیوں کے ساتھ پھرتا رہا، ملزم کا پہلا ڈی این اے ٹیسٹ 14 جنوری جبکہ دوسرا 20 جنوری کوہوا۔جبکہ اس سے قبل زینب قتل کیس میں گرفتار مبینہ ملزم عمران علی کے ڈی این اے ٹیسٹ سے ثابت ہو گیا ہے کہ وہی زینت سمیت 8 بچیوں کے قتل میں ملوث ہے۔

معتبر ذرائع نے جیو نیوز کو بتایا ہے کہ زینب قتل کیس میں گرفتار مبینہ ملزم عمران علی کا ڈی این اے ٹیسٹ لیا گیا جس سے ثابت ہوا ہے کہ وہی نا صرف زینب بلکہ دیگر 7 بچیوں کے ساتھ زیادتی اور قتل کے واقعات میں ملوث ہے۔زینب قتل میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے تفتیش مکمل کرتے ہوئے بتایا کہ چار ملزمان نے عمران کو واردات کے بعد چھپنے میں مدد فراہم کی جب کہ ان میں سے ایک ملزم عمران کے خلاف وعدہ معاف گواہ بن گیا ہے۔ پنجاب فرانزک لیب نے تمام ملزمان کے پولی گرافک ٹیسٹ مکمل کرکے رپورٹ جے آئی ٹی کے حوالے کردی ہے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم عمران علی کو اسپیشل برانچ کی مدد سے گرفتار کیا گیا تھا اور اسے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی پریس کانفرنس کے دوران میڈیا کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق گرفتار ملزم عمران علی کو لاہور پہنچا دیا گیا ہے جبکہ زینب کے والد اور چچا بھی لاہور پہنچ گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق پولیس نے 7 سالہ زینب کے قتل کے شبہ میں ملزم عمران کو پہلے بھی حراست میں لیا تھا لیکن پھر بچی کے رشتے داروں کے کہنے پر اسے چھوڑ دیا گیا تھا، تاہم اب ڈی این اے میچ ہوجانے کے بعد پولیس نے ملزم کو دوبارہ گرفتار کرلیا۔

زینب قتل کیس کے لواحقین کےزبردست خبر آگئی


لاہور (نیو زڈیسک ) بچے غیرمحفوظ ہیں۔ نجی ٹی وی چینل  کی رپورٹ پر پنجاب حکومت نے ایکشن لے لیا۔ زیادتی کیسز انسداد دہشتگردی عدالتوں کو بھیجنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ پنجاب میں ڈی این اے ایکٹ بنانے کا بھی اعلان، یونیسف کی تجاویز شامل ہوں گی۔ننھی زینب سے درندگی نے کئی سوالات کو جنم دے دیا۔ پنجاب میں بچے غیرمحفوظ ہیں۔ دنیا نیوز کی

خصوصی رپورٹ پر حکومت بھی سوچنے پر مجبور ہو گئی۔پنجاب میں ڈی این اے ایکٹ بنانے کا اعلان کر دیا۔ نئے قانون میں یونیسف کی تجاویز شامل ہوں گی۔ وزیر اعلیٰ کی تشکیل دی گئی کمیٹی نے کام شروع کر دیا۔ کمیٹی 15 جنوری کو ابتدائی جبکہ 22 جنوری کو حتمی سفارشات وزیر اعلیٰ کو پیش کرے گی۔ سی ایم کمیٹی کی ابتدائی سفارشات تیار ہو گئیں۔ جہاں کسی بچے سے زیادتی ہو گی، اردگرد 2 کلو میٹر علاقے کے رہائشی تمام مردوں کا ڈی این اے ہو گا۔ بچوں کے حوالے سے حفاظتی تدابیر اور نصاب میں مضامین شامل کرنے جبکہ یونیورسٹی سطح پر تحقیقی مضامین نصاب میں شامل کرنے کی تجاویز بھی زیرغور ہیں۔بچوں سے زیادتی کیسز انسداد دہشتگردی عدالتوں کو بھیجنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ ایسے کیسز سے نمٹنے کیلئے امریکہ اور ترقی یافتہ ممالک کی طرز پر اقدامات کئے جائیں گے۔ پنجاب میں بھی امریکہ جیسا امبر الرٹ نظام وضع کیا جائیگا۔ سفارشات میں زیادتی کے کیسز کی تحقیقات تاخیر کا شکار ہونے کی وجوہات بھی تلاش کی جائیں گی۔