Tag Archives: بجٹ

بجٹ پاس کروانا حکومت کے لئے انتہائی مشکل ہوگیا، اتحادی جماعت نے ’بغاوت‘ کا اعلان کردیا


اسلام آباد (ویب ڈیسک) بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی مینگل) کے سردار محمد اختر مینگل نے اشارہ دیا ہے کہ ان کی جماعت بجٹ کی منظوری کیلئے ووٹ نہیں دے گی۔ روزنامہ جنگ کے مطابق انہوں نے کہا کہ بجٹ میں بلوچستان کیلئے کوئی ٹھوس چیز مختص نہیں کی گئی اور اس لئے یہ بجٹ ان کی جماعت کے ووٹوں کے میرٹ پر پورا نہیں اترتا۔ انہوں نے کہا کہ

ان کی جماعت نہ صرف بجٹ بلکہ حکومتی رویے سے بھی مایوس ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت نے ان کی جماعت کے ساتھ 6 نکاتی معاہدہ کیا تھا، اس معاہدے پر عملدرآمد کیلئے جو کمیٹی تشکیل دی گئی وہ بدقسمتی سے تاخیر سے اور جلد بازی میں تشکیل دی گئی، جلدبازی میں کی گئی کوئی بھی چیز مقاصد حاصل نہیں کر پاتی۔ جب اختر مینگل کو یاد دہانی کرائی گئی کہ ان کی جماعت کا پی ٹی آئی کے ساتھ معاہدہ اگست میں ختم ہونے والا ہے تو انہوں نے کہا کہ معاہدہ کوئی پاسپورٹ نہیں کہ اس کی معیاد کسی طے شدہ تاریخ پر ختم ہو جائے۔ اخباری ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ہونے والے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں بی این پی مینگل نے شرکت نہیں کی۔ بی این پی مینگل آج کل اسمبلی میں آزاد گروپ کی حیثیت سے بیٹھتی ہے اور اکثر امور پر اپوزیشن کا ساتھ دیتی ہے۔ گزشتہ ماہ وزیراعظم عمران خان اور اختر مینگل کے درمیان ملاقات ہوئی تھی لیکن تعطل تاحال جاری ہے۔ ایک سوال کے جواب میں اختر مینگل کا کہنا تھا کہ گمشدہ افراد کے مسئلے پر کسی پیشرفت کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتے۔

عسکری بجٹ نہ بڑھانے پرآرمی چیف، وزیراعظم کوخراج تحسین پیش کیا گیا


اسلام آباد (نیوزڈیسک) وفاقی بجٹ 2019-20 قومی اسمبلی میں70 کھرب22 ارب روپے بجٹ پیش کردیا گیا ہے، جس میں بجٹ خسارہ 3560 ارب رکھا گیا ہے، وفاقی بجٹ وزیرمملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے قومی اسمبلی میں پیش کیا، بجٹ میں قومی ترقیاتی پروگرام کیلئے1800 ارب رکھے گئے، حماد اظہر نے کہا کہ عسکری بجٹ میں اضافہ نہ کرنے پرآرمی چیف اور وزیراعظم کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، سول بجٹ 437 ارب اور عسکری بجٹ 1150ارب تک مستحکم رکھا جائے گا۔
انہوں نے قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کے میں کہا کہ ملکی قرضے اورادائیگیاں31 ہزارارب ہوگئے تھے، زرمبادلہ ذخائر 18ارب سے گرتے 10فیصد رہ گئے۔ مالیاتی خسارہ 2200 ارب تک پہنچ گیا، تجارتی خسارہ 32ارب ڈالرتک پہنچ گیا۔ تجارتی خسارے میں 4ارب ڈالر کی کمی لائے۔ برآمدات میں کوئی پچھلے پانچ سالوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ بجلی کا گردشی قرضہ 1200ارب تک پہنچ گیا تھا۔

سرکاری اداروں کی کارکردگی میں 1300ارب کا خسارہ تھا۔ روپے کی قدرمستحکم رکھنے کیلئے اربوں روپے جھونک دیے گئے۔ ایسا زیادہ دیر نہیں چل سکتا تھا، یوں 2017ء میں روپیہ گرنا شروع ہوا، اور ترقی کا زور ٹوٹ گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے دور میں برآمدات میں اضافہ ہوا،اور امپورٹ میں 4ارب ڈالر کمی آئی۔بیرون ملک سے آنیوالے پیسے میں 2 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔
چین ،سعودی عرب اور یواے ای سے 9.2ارب ڈالر کی امداد ملی، چین سے 313 اشیاء پر ڈیوٹی تجارت ہوگی، میں دوست ممالک کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔بجٹ کی تیاری میں بیرونی خسارے میں کمی، امپورٹ میں کمی اور برآمدات میں اضافہ کیا جائے گا۔ٹیکس ہدف کویقینی بنائیں گے، ایف بی آر کو550 ارب کا ہدف دیا ہے۔بہت سے لوگ ٹیکس نہیں دیتے،لیکن اب نئے پاکستان میں ایسا نہیں ہوگا۔
مہنگائی کی شرح 7فیصد تک رکھی گئی ہے۔بجلی صارفین کو لاگت سے کم بجلی فراہم کی جائے گی، 200ارب کی سبسڈی رکھی جائے گی۔غربت کے خاتمے کیلئے وزارت بنائی گئی ہے۔احساس پروگرا م سے ان کی مدد کی جائیگی۔ 80ہزار مستحق لوگوں کو بلاسود قرضے دیے جائیں گے۔معذوروں کو آلات فراہم کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ سول اور عسکری بجٹ میں کفایت شعاری کے ذریعے کمی کی گئی۔
سول اور عسکری قیادت نے مثالی اعلان کیا۔ عسکری بجٹ میں اضافہ نہ کرنے پرآرمی چیف اور وزیراعظم کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔سول بجٹ 437ارب اور عسکری بجٹ 1150ارب تک مستحکم رکھا جائے گا۔زراعت کیلئے 12ارب رکھے گئے ہیں،بلوچستان کیلئے ترقیاتی بجٹ 10.4ارب رکھے ہیں۔کراچی کیلئے 45.5ارب فراہم کیے جا رہے ہیں۔بجٹ خسارہ پورا کرنے کیلئے اسٹیٹ بینک سے قرض نہیں لیا جائے گا۔
حماد اظہر نے کہا کہ قومی ترقیاتی پروگرام کیلئے 1800 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔اور غیر ترقیاتی اخراجات کا حجم 6192 ارب 90 کروڑ روپے رکھا گیا ہے۔ زراعت کیلئے 12ارب رکھے گئے ہیں، آبی وسائل کیلئے 70 ارب روپے مختص کیے جا رہے ہیں۔ بلوچستان کیلئے ترقیاتی بجٹ 10.4ارب رکھے ہیں۔ کراچی کیلئے 45.5ارب فراہم کیے جا رہے ہیں۔ بجٹ خسارہ پورا کرنے کیلئے اسٹیٹ بینک سے قرض نہیں لیا جائے گا۔
سود کی ادائیگیوں کے لیے2891ارب 40 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ پنشن کی مد میں اخراجات کا تخمینہ 421ارب روپے رکھا گیا ہے۔ گریڈ ایک سے 16ملازمین کی تنخواہیں 10فیصد اور گریڈ 17سے 20کے ملازمین کی تنخواہوں میں 5فیصد جبکہ گریڈ 21سے 22کے ملازمین کی تنخواہ میں کوئی اضافہ نہیں کیا جائے گا۔ وفاقی کابینہ نے رضاکارانہ اپنی تنخواہوں میں 10کمی کا فیصلہ کیا ہے۔

بجٹ کے بعد ڈالر مہنگا ہو گیا


اسلام آباد (نیوزڈیسک)گزشتہ روز حکومت نے 70 کھرب سے زائد کا بجٹ پیش کر دیاہے جس نے عوام کے ایک مرتبہ ہوش اڑا کر رکھ دیئے ہیں تاہم اب ڈالر کی قدر میں بھی اضافہ ہو گیاہے جس کا اثر بھی براہ راست پاکستانی عوام پر پڑے گا۔ تفصیلات کے مطابق انٹر بینک میں ڈالر کی قدر میں 53 پیسے اضافہ ہو گیاہے جس کے بعد ڈالر انٹر بینک میں پاکستان کی

بلند ترین سطح 152 روپے پر پہنچ گیاہے ۔دوسری جانب سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز ہوتے ہی مثبت رجحان دیکھنے میں آیا ہے ۔ 100 انڈیکس میں کاروبار کے آغاز پر ہی 465 پوائنٹس کا اضافہ ہواہے جس کے بعد انڈیکس 35 ہزاور 125 پوائنٹس پر پہنچ گیاہے ۔

وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے 2019-20 کا مالی بجٹ پیش کر دیا


اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) آج اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہو رہا ہے جس میں وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر 2019-20 کا مالی بجٹ پیش کر رہے ہیں۔اس سے قبل وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ وفاقی کابینہ نے وزراء کی تنخواہوں میں 10 فیصد کمی کی منظوری دے دی ہے۔
کابینہ نے گریڈ 1 سے 16 تک کے ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے کی منظوری دی جب کہ پینشن میں بھی 10 فیصد اضافے کی منظوری دے دی گئی ہے۔اس کے علاوہ گریڈ 17 سے گریڈ 20 کے افسران کی تنخواہوں میں 5 فیصد اضافہ کر دیا ہے۔جب کہ گریڈ 21 سے گریڈ 22 کے ملازمین کی تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔ ایک اور میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا کہ بجٹ میں بجلی کی پیداواراورگیس ڈسٹریبیوشن کاہدف3.4فیصد،تعمیراتی شعبے کاہدف1.5فیصداورہاؤسنگ سروسز4فیصدجبکہ جنرل گورنمنٹ سروسزکی ترقی کاہدف5.7فیصدہے. دستاویز میں فنانس اینڈ انشورنس کا ہدف 6.5 فیصد،برآمدات26ارب،درآمدادکاہدف53ارب ڈالررکھنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ ٹیکس وصولیوں کا ہدف ساڑھے 55 سوارب مقررکیا گیا ہے. وفاقی بجٹ2019-20آج منگل کے روز آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کیا جا رہا ہے نئے بجٹمیں محصولاتی آمدنی میں اضافے، ادائیگیوں کے توازن میں بہتری اور بجٹ خسارے کو کم کرنے کرنے پر توجہ مرکوز رہے گی. بجٹ کا تخمینہ 6800 ارب روپے لگایا جا رہا ہے، اور اس بار اس میں دو نکات نہایت اہم ہیں، ایک یہ کہ پاکستانی فوج نے رضاکارانہ طور پر دفاعی بجٹ نہ بڑھانے کی تجویز اور دوسرا وزیراعظم کی جانب سے ٹیکس وصولیوں پر زوردیا ہے. اس بجٹ میں امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ 750 ارب روپے کے نئے ٹیکس عائد کیے جانے سے بجلی گیس کھانے پینے کی اشیا، گھروں میں استعمال ہونے والی اپلائینسز، الیکٹرونکس، ٹریکٹرز، زرعی آلات اور ملبوسات مہنگے ہوں گے. سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں دس فیصد اضافے کی تجویز بھی ہے‘ آئندہ مالی سال کا بجٹ آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق تیار کیا گیا ہے بجٹمیں دفاع کے لیے 1250 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے. دفاعی بجٹ اورحکومتی بجٹ میں اضافہ نہیں کیا جائے گا اس سے حاصل ہونے والی رقم کو بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع کی ترقی کے لیے استعمال کیا جائے گا آئندہ مالی سال میں قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے 2500 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہےایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف 5550 ارب روپے رکھا گیا ہے.

بجٹ 20-2019: تنخواہوں اور پینشن میں کتنا اضافہ ہوگا؟


اسلام آباد (نیوزڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کی حکومت آج قومی اسمبلی میں اپنا پہلا اور آئندہ مالی سال 2019۔ 20 کا 66 گھرب حجم کا وفاقی بجٹ پیش کرے گی۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ 2700 ارب روپے سے زائد کے بجٹ خسارے کے ساتھ آئندہ مالی سال کا تقریباَ 66 کھرب روہے حجم کا وفاقی بجٹ پیش کیا جائے گا۔آئندہ مالی سال ریونیو کا ہدف

5550ارب روپے رکھا جائے گا۔ گریڈ ایک سے 16 تک کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور ریٹائرڈ ملازمین کی پینشن میں 10 فیصد اضافے اور گریڈ 17 سے 22 تک کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہ کیا جانے کا امکان ہے۔بجٹ میں بجلی کے چھوٹے صارفین کے لیے 216 ارب روپے کی سبسڈی کا اعلان کیا جائے گا،بجٹ میں ساڑھے سات سو ارب سے زائد ٹیکس لگانے جانے کا امکان ہے اور 300 ارب روپے کا ٹیکس استشنیٰ ختم کر دیا جائے گا۔ ایک اور میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا کہ بجٹ میں بجلی کی پیداواراورگیس ڈسٹریبیوشن کاہدف3.4فیصد،تعمیراتی شعبے کاہدف1.5فیصداورہاؤسنگ سروسز4فیصدجبکہ جنرل گورنمنٹ سروسزکی ترقی کاہدف5.7فیصدہے. دستاویز میں فنانس اینڈ انشورنس کا ہدف 6.5 فیصد،برآمدات26ارب،درآمدادکاہدف53ارب ڈالررکھنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ ٹیکس وصولیوں کا ہدف ساڑھے 55 سوارب مقررکیا گیا ہے. وفاقی بجٹ2019-20آج منگل کے روز آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کیا جا رہا ہے نئے بجٹمیں محصولاتی آمدنی میں اضافے، ادائیگیوں کے توازن میں بہتری اور بجٹ خسارے کو کم

کرنے کرنے پر توجہ مرکوز رہے گی. بجٹ کا تخمینہ 6800 ارب روپے لگایا جا رہا ہے، اور اس بار اس میں دو نکات نہایت اہم ہیں، ایک یہ کہ پاکستانی فوج نے رضاکارانہ طور پر دفاعی بجٹ نہ بڑھانے کی تجویز اور دوسرا وزیراعظم کی جانب سے ٹیکس وصولیوں پر زوردیا ہے. اس بجٹ میں امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ 750 ارب روپے کے نئے ٹیکس عائد کیے جانے سے بجلی گیس کھانے پینے کی اشیا، گھروں میں استعمال ہونے والی اپلائینسز، الیکٹرونکس، ٹریکٹرز، زرعی آلات اور ملبوسات مہنگے ہوں گے. سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں دس فیصد اضافے کی تجویز بھی ہے‘ آئندہ مالی سال کا بجٹ آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق تیار کیا گیا ہے بجٹمیں دفاع کے لیے 1250 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے. دفاعی بجٹ اورحکومتی بجٹ میں اضافہ نہیں کیا جائے گا اس سے حاصل ہونے والی رقم کو بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع کی ترقی کے لیے استعمال کیا جائے گا آئندہ مالی سال میں قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے 2500 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف 5550 ارب

روپے رکھا گیا ہے.

پنجاب حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 30سے 35ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے کی تجاویز تیار کر لیں


لاہور(نیوزڈیسک) پنجاب حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 30سے 35ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے کی تجاویز تیار کر لی ہیں ، پنجاب کو تین حصوں جنوبی ، شمالی اور وسطی پنجاب کی تقسیم کے تحت فنڈز دئیے جائیں گے ،وزیر اعظم عمران خان نے پنجاب کے بجٹ کے حوالے سے اہم اجلاس 10جون کو طلب کر لیا ۔نجی ٹی وی نے محکمہ خزانہ

پنجاب کے ذرائع کے حولے سے بتایا ہے کہ آئندہ بجٹ میں زرعی آمدنی کی شرح بڑھانے کی تجویز زیر غور ہے، صوبے میں فیول کے ا ستعمال پر ایک فیصد نیا کاربن ٹیکس لگانے پر غور کیا جا رہا ہے، پروفیشنل ٹیکس کادائرہ کاربڑھانے کی تجویز ہے تاہم وکلا ء پروفیشنل ٹیکس لگانے کی تجویز موخر کر دی گئی ۔ بیوٹی پارلرز اور ہیئر ڈریسرز پر بھی ٹیکس لگانے کی تجویز سامنے آئی ہے۔ ٹیکس لگانے کے ساتھ ساتھ آئندہ مالی سال 5عشاریہ 2فیصد گروتھ ریٹ بڑھانے کی تجویز بھی دی گئی۔آئندہ مالی سال کے دوران5 لاکھ 10 ہزار نوکریاں پید اکرنے کی تجاویز تیار کر لی گئیں ۔اورنج لائن ٹرین منصوبے کو مکمل کرنے کے لئے 14ارب روپے مختص کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت بڑے پیمانے پر انڈسٹریزاور فیکٹریوں کو فروغ دینے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کیلئے 3ارب روپے مختص کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ آمدن کا تخمینہ گزشتہ برس کی نسبت 31فیصد زائد رکھنے کی تجویز ہے جس کے تحت صوبائی آمدن کے 368ارب روپے کا تخمینہ تجویز کیا گیا ہے ۔ جنوبی پنجاب میں ڈسٹرکٹ ڈیلیوری فنڈز یونٹ

بنانے کی تجویز دی گئی ہے ۔ صاف پانی پراجیکٹ کیلئے 10ارب روپے رکھے جانے کی تجویز ہے ۔ذرائع کے مطابق پنجاب کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے جس میں جنوبی پنجاب کیلئے 35فیصد، شمالی پنجاب کیلئے 33فیصد جبکہ وسطی پنجاب کیلئے 32فیصد مختص کرنے کی تجویز ہے ۔ وزیراعظم عمران خان نے 10 جون پنجاب کے بجٹ سے متعلق اہم اجلاس طلب کر لیا ہے ۔ وزیراعظم نے وزیراعلی عثمان بزدار، وزیر خزانہ سمیت 4 رکنی ٹیم کو اسلام آباد طلب کیا ہے۔ اجلاس میں پنجاب کے بجٹ کی ممکنہ تجاویز پر تفصیلی بریفنگ دی جائے گی اورنئے ترقیاتی سکیموں سے متعلق وزیراعظم عمران خان سے منظوری کے بعد بجٹ میں شامل کیا جائے گا ۔

نئے مالی سال 2019-20کے بجٹ کی تیاریاں آخری مراحل میں داخل ہو گئی


پشاور(نیوزڈیسک) نئے مالی سال 2019-20کے بجٹ کی تیاریاں آخری مراحل میں داخل ہو گئی ہیں بجٹ میں ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں دس فیصد اضافہ کی تجویز دی گئی ہیں کنٹریکٹ ملازمین کو بجٹ میں مستقل کر دیا جائے گا ۔ جبکہ ملازمین کے لئے خصوصی مراعات کا پیکج بھی تیار کیاگیا ہے ۔ بجٹ 13جون میں پیش کیا جائے گا۔ وفاقی حکومت کے

بجٹ کے بعد ہی صوبائی حکومت کا بجٹ پیش کردیا جائے گا۔ قبائلی ساتوں اضلاع کے لئے بھی بجٹ تیار کیاگیا ہے سالانہ ترقیاتی منصوبوں ، تعلیم ، صحت ، صاف پانی ، بیروز گاری کے خاتمے کے لئے بھی بجٹ میں فنڈز مختص کیا گیا ہے ۔ نئے مالی سال 2019-20کے بجٹ کی باقاعدہ طور پر منظوری عید الفطر کے بعد طلب کئے جانے والے اجلاس میں کر دی جائیگی ۔ نئے مالی سال 2019-20کے بجٹ کے بعض دستاویزات کے پرنٹنگ کاکام بھی مکمل ہو چکا ہے ۔ جبکہ بعض دستاویزات کی پرنٹنگ کا کام جاری ہیں ۔

اہم ترین خبر مالی سال 2018-2019کے بجٹ کا اعلان کرد یا گیا


اسلام آباد: (مانیٹرنگ ڈیسک) حکومت نے وفاقی بجٹ 27 اپریل کو پیش کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ مشیر خزانہ نے کہا ہے کہ ترقی کی شرح 6 فیصد تک پہنچے گی۔ مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے وفاقی بجٹ 27 اپریل کو پیش کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی مدت 31 مئی کو ختم ہو جائے گی جبکہ ترقی کی شرح 6 فیصد تک پہنچے گی۔ انہوں نے

بتایا کہ وفاقی بجٹ پر تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کی ہے۔ مفتاح اسماعیل کا گزشتہ پانچ سال کے دوران حکومتی کارکردگی پر بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ایک سال میں نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی میں 312 ارب کا اضافہ ہوا۔ گزشتہ 5 سال میں 12 ہزار میگاواٹ بجلی نظام میں شامل کی۔ بل کی مکمل ادائیگیوں والے علاقوں میں لوڈشیڈنگ نہیں کی جا رہی۔ آئندہ چند سالوں میں لوگ لوڈ شیڈنگ کے نام سے بھی واقف نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ 5 سال میں صنعتی صارفین کیلئے گیس کی قیمتیں نہیں بڑھائی گئیں۔ 2013ء میں پٹرول 106.60 روپے اور آج 88.07 روپے ہے۔ ڈیزل 113 روپے فی لیٹر سے کم کر کے 98 روپے تک لائے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اقتصادی ترقی کی شرح 6 فیصد جبکہ مالیاتی خسارہ 5.2 فیصد رہے گا۔ صوبوں کو 2400 ارب کی دگنی ادائیگیاں کی گئی ہیں۔ رواں سال ایف بی آر کی وصولیاں 4 ہزار ارب سے تجاوز کریں گی۔ انہوں نے بتایا کہ مشیرِ خزانہ نے کہا کہ ترقی کے تسلسل کو برقرار رکھنے کی وجہ سے جاری کھاتوں کے خسارے میں اضافہ ہوا۔ بیرونی قرضوں میں کمی اور مقامی قرضوں میں اضافہ ہوا۔ سرکاری شعبے کے ترقیاتی پروگرام کو 10 کھرب پر لے گئے ہیں۔