Tag Archives: بالوں

وہ لڑکی جسے لوگوں کے بالوں پر ہاتھ پھیرنے کے ہزاروں روپے ملتے ہیں


لندن(ویب ڈیسک) آپ کے اپنے تو آپ کو گلے لگاتے اور آپ کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہیں لیکن آپ یہ سن کر دنگ رہ جائیں گے کہ مغربی ممالک میں یہ ایک باقاعدہ پیشہ ہے اور لوگوں اس کام کے ذریعے لاکھوں روپے کما رہے ہیں۔ ربیکا میکولا نامی خاتون بھی انہی میں سے ایک ہے جو دو سال قبل اس پیشے سے منسلک ہوئی اور اب اس نے ’نورڈک کڈل‘

(Nordic Cuddle)کے نام سے ایک کمپنی قائم کر لی ہے جہاں اپنے علاوہ 10ملازم بھی رکھ لیے ہیں جو ہزاروں روپے فیس کے عوض لوگوں کو گلے لگاتے اور ان کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہیں۔دی مرر کے مطابق ربیکا میکولا کا کہنا ہے کہ ’ ’ دو سال قبل یہ کام امریکہ میں تو بہت مقبول ہو چکا تھا لیکن برطانیہ میں زیادہ لوگ اس سے واقف نہیں تھے۔ جب میں نے یہ کام شروع کیا تو بہت کم گاہک ملتے تھے لیکن اب میں اپنے 10ملازمین کے ساتھ یہ کام کر رہی ہوں اور گاہکوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔“ ربیکا نے بتایا کہ ”کسی کو پیار سے گلے لگانا اور اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرنا اسے ڈپریشن اور ذہنی تناؤ سے نجات دلاتا ہے، اس لیے یہ ایک عوامی فلاح کا بھی کام ہے۔ جب آپ کسی کو گلے لگاتے ہیں تو اس کے جسم میں خوشی کا ہارمون ’سیروٹونین‘ (Serotonin)پیدا ہوتا ہے جو اس کی ذہنی پریشانی کو ختم کرتا ہے۔ جب ہم اپنے گاہکوں کو گلے لگاتے اور ان کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہیں تو انہیں بے پناہ سکون و طمانیت ملتی ہے اور وہ ایک غنودگی کے عالم میں چلے جاتے ہیں، ان کی اس حالت کو میں ’کڈل کوما‘(Cuddle coma)کہتی ہوں۔“

بالوں کے ذریعے لوگوں کے وہ راز جانیں جو وہ خود آپ کو کبھی نہیں بتا نا چاہیں گے ۔۔ حیران کن تحریر


اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)مختلف خواتین و حضرات کے بالوں کی رنگت بھی ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے جبکہ بال بنانے کا انداز یعنی ہیئر اسٹائل بھی جداگانہ ہوتا ہے لیکن بالوں کے رنگ سے لے کر ہیئر اسٹائل تک کی مدد سے آپ کی شخصیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ماہرین نے ہزاروں افراد کا مطالعہ کرنے کے بعد بالوں کی رنگت اور بال بنانے کے انداز

کا انفرادی شخصیت کے ساتھ گہرا تعلق دریافت کیا ہے جو بہت دلچسپ بھی ہے۔وہ خواتین جن کے بالوں کی رنگت گہری ہوتی ہے وہ بہت ذہین ہوتی ہیں لیکن ان کی شخصیت دوسروں کے لیے بہت پراسرار بھی ہوتی ہے۔ اگر مردوں کے بال گہری رنگت والے ہوں تو وہ بھی ذہین ہوتے ہیں البتہ خواتین کے برعکس وہ اپنی شخصیت کو پراسراریت میں لپیٹے نہیں ہوتے۔سرخی مائل رنگت والے بال زیادہ تر خواتین ہی میں ہوتے ہیں اور ایسی خواتین ایڈونچر پسند کرتی ہیں یعنی انہیں سیر سپاٹے کے علاوہ ایسے نت نئے تجربات کرنے کا شوق ہوتا ہے جو ایک خاص درجہ جوش اور ولولے کا تقاضا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سرخی مائل بالوں والی خواتین کی صحت بھی عموماً قابلِ رشک ہوتی ہے۔اگر آپ مرد ہیں اور آپ کے بالوں کی رنگت میں سنہرا پن نمایاں ہیں تو آپ ایک پرکشش انسان ہیں جو صنفِ مخالف کے لیے مقناطیس کا درجہ رکھتے ہیں۔ تاہم خواتین آپ کو زیادہ ذہین نہیں سمجھتیں۔کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے بال ادھیڑ عمری سے پہلے ہی ہلکے سرمئی اور سفید ہونے لگتے ہیں۔ایسے خواتین و حضرات کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ پُراعتماد مزاج رکھتے ہیں یعنی

وہ اپنی زندگی کے کسی بھی پہلو کے بارے میں فیصلہ کرتے وقت خوب سوچ بچار کرتے ہیں اور اس کے بعد جب وہ کوئی فیصلہ کرلیتے ہیں تو پورے اعتماد کے ساتھ اس پر ڈٹ جاتے ہیں اور کسی بھی قسم کے دباؤ کو خاطر میں نہیں لاتے۔ وہ خواتین جن کے بال عمر سے پہلے ہی سرمئی اور سفید ہونے لگتے ہیں وہ اپنی طبعی عمر کے مقابلے میں کہیں زیادہ پختہ ہوتی ہیں۔

جگمگاتی جلد اور چمکدار بالوں کے لیے بہترین ٹوٹکے


اگر تو آپ اپنی جلد اور چہرے کو پرکشش بنانا چاہتے ہیں تو اب مہنگے فیشلز اور مصنوعات پر پیسے ضائع کرنا چھوڑ دیں۔ درحقیقت جگمگاتی جلد اور چمکدار بالوں کے کچھ بہترین نسخے تو آپ کے اپنے کچن میں چھپے ہیں جو درج ذیل ہیں۔
لیموں
لیموں ایسی چیز ہے جو آپ کے تصورات سے زیادہ کارآمد ثابت ہوسکتی ہے۔ لیموں کی مدد سے آپ چہرے پر عمر بڑھنے کے اثرات یا چھائیوں کو موثر طریقے سے غیرنمایاں کرسکتے ہیں۔ بس ان حصوں پر براہ راست لیموں کا عرق لگائیں اور پندرہ منٹ تک لگا رہنے دیں اور پھر دھولیں۔اگر مینی کیور کا وقت نہیں تو تو آدھا لیموں لیں اور اس کا عرق گرم پانی میں ملا کر اپنے ناخن اس میں پانچ منٹ تک ڈوبے رہنے دیں۔ باہر نکالنے کے بعد لیموں کے چھلکوں سے ناخنوں کی پشت اور اگلے حصے کو رگڑ لیں۔
زیتون کا تیل
اگر تو آپ کے بال روکھے اور خشک ہے تو ان میں چمک واپس لانے کے لیے ایک چھوٹے باﺅل میں چھ چم زیتون کے تیل کو ڈال کر مائیکروویو پر گرم کرلیں، اسی دوران تولیے کو بھی کسی چیز سے گرم کرلیں۔ اس کے بعد تیل کو اپنے بالوں پر انگلیوں کی مدد سے لگائیں اور مالش کریں۔ گرم تولیے کو سر پر آدھے گھنٹے تک کے لیے لپیٹ لیں اور پھر شیمپو سے دھویں۔
کیلا
کیلوں سے آپ قدرتی اور نمی سے بھرپور فیس ماسک تیار کرسکتے ہیں اور اس پر کوئی خاص خرچہ بھی نہیں آتا۔ بس چوتھائی کپ دہی، دو چائے کے چمچ شہد اور ایک درمیانے سائز کے کیلے کو مکس کرلیں، اسے دس سے بیس منٹ تک جلد پر لگائیں اور پھر ٹھنڈے پانی سے دھولیں۔
شہد
کیا کیل مہاسوں کا سامنا ہے تو خام شہد کو اس پر لگا کر دس سے پندرہ منٹ تک کے لیے چھوڑ دیں اور پھر دھولیں۔ شہد میں موجود جراثیم کش خوبیاں کیل مہاسوں کا باعث بننے والے بیکٹریا کا خاتمہ کردیں گی۔ اسی طرح شہد زبردست ہیئر کنڈیشنر بھی ثابت ہوسکتا ہے اور روکھے بالوں میں نئی جان ڈال سکتا ہے۔ ایک چائے کا چمچ شہد اور دو چائے کے چمچ زیتون کے تیل مکس کریں اور پھر اپنے بالوں پر لگا کر بیس سے تیس منٹ بعد دھولیں۔ ہلدی گھروں میں عام استعمال ہونے والا یہ مصالحہ صدیوں سے خوبصورتی بڑھانے کے لیے بھی استعمال ہورہا ہے، یہ فنگل انفیکشن جیسےبالوں کی خشکی کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ ایک چائے کا چمچ اعلیٰ معیار کی تازہ ہلدی کو ایک چائے کے چمچ ناریل کے تیل میں اور لمیوں کے عرق میں ملائیں۔ اس محلول کو ایک ہفتے تک روزانہ ایک گھنٹے کے لیے متاثرہ جگہ پر لگائیں۔ جی ہاں روزانہ بہت زیادہ پانی پینا شروع کردیں، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ کئی گیلن بلکہ کم از کم آٹھ گلاس پانی پینا معمول بنالیں۔ یہ چیز نہ صرف آنکھوں کے گرد سیاہ حلقوں کو ختم کرنے کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگی بلکہ یہ آپ کی جلد کی بہتر صحت اور ڈی ہائیڈریشن کو دور کرنے کا بھی سپرفارمولا ہے۔ خالص پانی قدرت کا جھریاں دور کرنے والا ٹونک ہے، تو آپ اسے اپنے غذائی پلان سے خارج کیوں کرتے ہیں؟

شٹر اسٹاک فوٹو

شٹر اسٹاک فوٹو

شٹر اسٹاک فوٹو

شٹر اسٹاک فوٹو

شٹر اسٹاک فوٹو

شٹر اسٹاک فوٹو

قدرتی گھنے بالوں اور معصومیت کی وجہ سے شہرت پانے والی سات سالہ جاپانی بچی


قدرتی گھنے بالوں اور معصومیت کی وجہ سے شہرت پانے والی سات سالہ جاپانی بچیسوشل میڈیا پر قدرتی گھنے بالوں اور معصومیت کی وجہ سے شہرت پانے والی سات سالہ جاپانی بچی صرف چند ماہ میں ہزاروں لوگوں کی پسندیدہ شخصت بن گئی۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق جاپان سے تعلق رکھنے والی سات سالہ بے بی چانکو قدرتی طور پر گھنے

بالوں کی وجہ سے سماجی رابطے ایپ انسٹا گرام پر 80 ہزار لوگوں کی پسندیدہ شخصیات بن گئی ہے بچی کی خوبصورت تصاویر کی بدولت اس کے چاہنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے۔بے بی چانکو گھنے بالوں کے ساتھ پیدا ہونے والی دنیا میں پہلی بچی نہیں تاہم جس رفتار سے چانکو کے بال بڑھ رہے ہیں کہ اور اُن بالوں کو جس خوبصورت انداز میں سنوار کے دکھایا جارہا ہے یہ واقعی قابل دید اور قابل تعریف ہے۔چانکو کو سوشل میڈیا پر متعارف کرانے کا فیصلہ بچی کی ماں نے تب کیا جب بچی صرف چار ماہ کی تھی، بچی کی ماہ نے ’ہیئر ڈائری‘ کے نام سے ایک اکاؤنٹ بنایا جہاں بچی کی انتہائی خوبصورت بالوں کے اسٹائل کے ساتھ بنائی گئی تصاویر پوسٹ کی جاتی ہیں۔ بچی کا یہ سوشل اکاؤنٹ اس وقت اتنا مقبول ہوچکا ہے کہ اس وقت 80 ہزار سے زائد لوگ بچی کے فالوورز بن گئے ہیں جوکہ کسی بھی پوسٹ پر اپنی موجودگی کا اظہار بچی کی تعریف کے ذریعے کرتے ہیں۔حیران کن بات یہ ہے کہ بے بی چانکو قدرتی بالوں کے تحفے کے ساتھ ساتھ بہترین قسمت بھی ساتھ لے کر دنیا میں آئی جس کے در پر ابھی سے دولت کا ڈھیر لگ گیا ہے کیوں کہ اس

کی مقبولیت کا گراف اس اعلیٰ سطح پر پہنچ چکا ہے کہ بڑی بڑی کمپنیاں اس کی تصاویر کو اسپانسر کررہی ہیں۔بے بی چانکو کے بڑھتے ہوئے بالوں کا سلسلہ اگر اسی طرح چلتا رہا تو بچی حقیقی زندگی میں بھی ’مشہور ڈزنی کردار کی شہزادی رپونزیل‘ کے بڑے بالوں والی شہزادی بن جائے گی۔قدرتی گھنے بالوں اور معصومیت کی وجہ سے شہرت پانے والی سات سالہ جاپانی بچی

گرتے بالوں کو روکنے اور دوبارہ اگانے کا انتہائی آسان ترین نسخہ


‮اسلام آباد(نیوز ڈیسک)ماہرین نے پیاز کے کھانے کے علاوہ بہت فوائد بتائے ہیں ،ان میں بالوں کی نشوونما کے لیے اہم قرار دیا ہے ۔ پیاز کے رس میں سلفر پایا جاتا ہے جو بالوں کی پرورش کے لئے اہم ہے۔ 3،4 پیازوں کا رس نکال کر آدھے گھنٹے کے لئے بالوں میں لگائیں اور پھر شیمپو اور سادہ پانی سے دھولیں ۔پیاز کے رس سے بالوں کو خوبصورت اور لمبا

کریں پیاز کے ساتھ آلو کے رس کو ملاکر بالوں پر لگانے سے بھی بال جلد لمبے ہو جاتے ہیں۔ آلو وٹامن اے ، بی اور سی سے بھرپور ہوتا ہے ۔ 3 آلوو¿ں کے رس میں ایک انڈے کی زردی اور ایک چمچ شہد ملا کر بالوں پر استعمال کریں ۔ یہ نہ صرف بالوں کو بڑھاتا ہے بلکہ کسی بھی وجہ سے متاثر ہونے والے بالوں کا قدرتی علاج بھی ہے۔ انڈے میں موجود پروٹین بالوں کی نشو نما کے لیے لازم قرار دیا جاتا ہے۔ دو انڈوں کی سفیدی میں ایک چمچ زیتون کا تیل اور ایک چمچ شہد ملا کر بالوں کی مالش کریں ۔ یہ بالوں کو صحت مند اور چمکدار بناتا ہے۔ سیب کا سرکہ اپنے اندر بالوں کے لئے بے شمار فوائد لیے ہوئے ہیں ۔ یہ بالوں کے غدود میں تحریک پیدا کرکے بالوں کی بڑھوتری کی رفتار کو بڑھا دیتا ہے۔ برصغیر پاک و ہند میں بالوں کی بہترین نشوونما کے لیے آملہ کا استعمال کئی دہائیوں سے جاری ہے۔ آملہ میں شامل وٹامن سی اور اینٹی آکسیڈنٹ بالوں کی نشونما کے ساتھ ساتھ انہیں خراب ہونے سے بھی بچاتے ہیں۔

سبحان اللہ، جسم کے پوشیدہ حصوں کو بالوں سے پاک رکھنے کا سائنسدانوں نے ایک خوبصورت فائدہ بتادیا کہ جان کر آپ بھی عش عش کر اٹھیں گے


اسلام کو ایک مکمل نظام حیات کہا جاتا ہے، اور اگر ہم غور کریں تو معلوم ہوگا کہ یہ محض کہنے کی بات نہیں بلکہ واقعی بہت بڑی حقیقت ہے. یہ دین فطرت جہاں ہمیں فکر و عرفان سے روشناس کرواتا ہے وہیں زندگی کے روزمرہ اعمال کی تربیت بھی دیتا ہے.صفائی کو نصف ایمان قرار دیا گیا ہے اور مسلمانوں کے لئے جسم کی دیگر صفائی کے علاوہ زیر ناف

بالوں کی صفائی کو بھی لازمی قرار دیا گیا ہے .ان بالوں کی صفائی سے غفلت برتنا مغربی معاشرے میں اس قدر عام پایا جاتا ہے کہ گویا اس کا کوئی تصور ہی موجود نہیں.آسٹریلیا میں کی گئی ایک تحقیق میں اب اس ضمن میں کچھ ایسےانکشافات کردئیے گئے ہیں کہ اہل مغرب کو بھی زیر ناف بالوں کی صفائی کے متعلق مذہبی احکامات کی خوب سمجھ آنے لگی ہے.اخبار ”ڈیلی میل“کے مطابق یونیورسٹی آف سڈنی کے سائنسدان ڈاکٹر کیمرون ویب کا کہنا ہے کہ حالیہ تحقیقات میں پتہ چلا کہ مغربی ممالک میں بے شمار ایسے لوگ ہیں کہ جو زیر ناف بالوں میں جوؤں اور پسوؤں کے مرض میں مبتلاءہیں. سوشل میڈیا ویب سائٹ پر کئے گئے ایک سروے کے مطابق اس ایک ویب سائٹ کے ساڑھے سات لاکھ صارفین اس بیماری کے شکار ہیں. ڈاکٹر کیمرون کا کہنا ہے کہ یہ جوئیں اور پسو عام جوؤں کی نسبت بہت چھوٹے ہوتے ہیںاور عموماً اس بیماری میں مبتلا شخص کو ان کی موجودگی کا مکمل طور پر ادراک بھی نہیں ہوتا. بیماری کی صورت میں متاثرہ جگہ پر خارش محسوس ہوتی ہے، جبکہ اگر جلد کو بغور دیکھا جائے تو اس پر نیلے رنگ کے دھبے نظر آتے ہیں. اگر زیر جامے کو

بغور دیکھا جائے تو اس پر خون کے ننھے نشانات نظر آسکتے ہیں، جبکہ زیر جامے میں سیاہ پاؤڈر جیسی چیز بھی محسوس ہوسکتی ہے.ڈاکٹر کیمرون نے مزید بتایا کہ زیر ناف بالوں میں پائی جانے والی ان جوؤں کی جسامت محض ڈیڑھ ملی میٹر ہوتی ہے، اور ایک جوں ایک ماہ میں تقریباً 30 انڈے دیتی ہے. چونکہ متاثرہ حصوں کا درجہ حرارت قدرے زیادہ ہوتا ہے اور نم ماحول بھی دستیاب ہوتا ہے لہٰذا ان جوؤں کی خوب پھیلاؤ ہوتا ہے. ڈاکٹر کیمرون نے بتایا کہ اس مسئلے کا حل بہت سادہ ہے، اور وہ یہ کہ زیر ناف بالوں کی باقاعدگی سے صفائی کی جائے. انہوں نے خبردار کیا کہ جن لوگوں کے زیر ناف بالوں میں یہ جوئیں پیدا ہو جائیں، ان کی بغلوں، سینے اور حتیٰ کہ چہرے کے بال بھی ان سے محفوظ نہیں رہتے.