Tag Archives: ایران

ایران نے گائیڈڈ راکٹ اور میزائل فائر کرنے کی صلاحیت رکھنے والا ڈرون تیار کر لیا


تہران ۔ (نیوزڈیسک) ایران نے ایک نیا ڈرون ظیارہ تیار کر لیا ہے جس کا نام فطرس ہے۔ اسے ایران کی دفاعی صنعت کے انجینئروں نے ڈیزائن اور تیار کیا ہے۔یہ ڈرون 25 ہزار فٹ کی اونچائی تک با آسانی اڑ سکتا ہے اور اسی2 ہزار کلومیٹر کی رینج میں بغیر کسی دقت کے کنٹرول کیا جا سکتا ہی اس ڈرون کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ یہ 16 سے 30 گھنٹے تک

لگاتار پرواز کر سکتا ہے۔یہ ڈرون مختلف قسم کے گائیڈڈ راکٹ اور میزائل لے جانے اور انہیں فائر کرنے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے۔۔ایران میں بننے والا اب تک کا یہ سب سے بڑا ڈرون ہے۔

ایران کا یورینیم کی افزودگی کی صلاحیت بڑھانے کا فیصلہ


تہران: ایران کا یورینیم کی افزودگی کی صلاحیت بڑھانے کا فیصلہایران نے ایک مرتبہ پھر یورینیم کی افزودگی کی صلاحیت بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق ایران کے جوہری ادارے نے اعلان کیا ہے کہ وہ زیادہ مقدار میں افزودگی کا سب سے اہم جُز یورینیم ہیگزا فلورائیڈ بنائے گا اور اس حوالے سے آئی اے ای اے کو جلد

مطلع کر دیا جائے گا۔واضح رہے کہ ایران کی جانب سے یہ اعلان ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب امریکی صدر نے ایران اور 6عالمی طاقتوں کے مابین طے پانے والے معاہدے سے نکلنے کا اعلان کیا تھا۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے معاہدہ توڑنے کے بعد یورپی ممالک نے بہت کوشش کی کہ اس معاہدے کو بچایا جا سکے۔ایران کا یورینیم کی افزودگی کی صلاحیت بڑھانے کا فیصلہ

ایران کے مختلف شہروں میں حکومت کے خلاف دوبارہ مظاہرے شروع


تہران(نیوزڈیسک) ایران کے مختلف شہروں میں چند روز کے وقفے کے بعد حکومت کے خلاف دوبارہ احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے ۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق انٹرنیٹ کے ذریعے منظرعام پر آنے والی فوٹیج کے مطابق ایران کے جنوبی شہر بندر عباس ، وسطی صوبے اصفہان کے شہر نجف آباد ، جنوب مشرقی شہر کرمان اور صوبہ فارس کے وسطی

 

شہر شیراز میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں۔بندر عباس میں احتجاجی مظاہرے کے دوران مظاہرین نے دوسرے شہریوں سے احتجاجی تحریک میں شامل ہونے پر زور دیا۔شیراز میں مظاہرین نے مرگ بر آمر کے نعرے لگائے ۔واضح رہے کہ ایران کے شہروں میں حالیہ احتجاجی مظاہروں کے دوران میں یہی نعرہ سب سے زیادہ بلند کیا جاتا رہا ہے اور آمر سے ان کی مراد ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ہیں۔نجف آباد میں احتجاجی مظاہرے کے شرکا نے رجیم کے خلاف نعرے بازی کی۔کرمان میں مظاہرین نے سکیورٹی فورسز پر زور دیا کہ وہ تشدد کے ذریعے ان کی تحریک کو دبانے کی کوشش نہ کریں بلکہ وہ پرامن مظاہروں کی حمایت کریں۔

ایران کا کہنا ہے کہ امریکہ نے ایرانی عدلیہ کے سربراہ کے خلاف پابندیاں عائد کر کے حد پار کر دی ہے


تہران، واشنگٹن (نیو زڈیسک)ایران کا کہنا ہے کہ امریکہ نے ایرانی عدلیہ کے سربراہ کے خلاف پابندیاں عائد کر کے حد پار کر دی ہے۔ایرانی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ اس پر ردِعمل دیں گے تاہم انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ ردِعمل کس نوعیت کا ہوگا۔آیت اللہ صادق امولی لاریجانی ان 14 افراد اور اداروں میں شامل ہیں جنھیں مبینہ طور پر

ایرانی شہریوں کے حقوق کی پامالی کے الزام کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ادھر دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ کے مطابق وہ آخری بار ایرانی جوہری معاہدے کی توثیق کر رہے ہیں تاکہ یورپ اور امریکہ اس معاہدے میں پائے جانے والے سنگین نقائص کو دور کر سکیں۔امریکی صدر کی جانب سے ایران پر پابندیوں میں نرمی کی توثیق ہونے پر نرمی میں مزید 120 دن کا اضافہ ہو جائے گا۔جمعے کو امریکی صدر کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں ایران سے معاہدے پر نظرثانی کے حوالے سے کہا گیا کہ’ یہ آخری موقع ہے، اس طرح کا معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں امریکہ معاہدے( موجودہ) میں رہنے پر دوبارہ پابندیوں میں نرمی نہیں کرے گا۔‘بیان میں مزید کہا گیا کہ’ اگر کسی بھی وقت انھیں اندازہ ہوا کہ اس طرح کا معاہدہ نہیں ہو سکتا تو وہ معاہدے( موجودہ) سے فوری طور پر دستبردار ہو جائیں گے۔‘دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف کا کہنا ہے کہ’ یہ ایک ٹھوس معاہدے کو خراب کرنی کی مایوس کن کوشش ہے۔‘امریکہ چاہتا ہے کہ معاہدے میں موجود یورپی ممالک ایران پر یورینیئم کی افزدوگی پر مستقل پابندی عائد کریں جبکہ موجودہ معاہدے کے تحت یہ پابندی 2025 تک ہے۔وائٹ ہاؤس کے سینیئر اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اگر نیا معاہدہ نہیں کرتے تو یہ آخری موقع ہے جو صدر نے پابندیوں میں نرمی کی توثیق کی۔

یورپی طاقتوں کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ عالمی سلامتی کے لیے اہم ہے۔ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان طے پانے والے اس معاہدے سے ایران پر امریکہ اور عالمی طاقتوں کی جانب سے عائد پابندیوں کو معطل کیا گیا تھا جبکہ ایران نے اپنا جوہری پروگرام محدود کرنے

کی حامی بھری تھی۔تاہم امریکہ کی جانب سے دہشت گردی، انسانی حقوق اور بیلسٹک میزائل کی تیاری کے حوالے سے الگ سے پابندیاں تاحال قائم ہیں۔ امریکہ کی جانب سے ایران کی 14 شخصیات اور اداروں حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں، سینسر شپ اور ہتھیاروں کے

پھیلاؤ کا الزام عائد کرتے ہوئے مزید پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔امریکی کانگریس میں اس معاہدے کے ناقدین نے بھی ایسی قانون سازی کی تجویز پیش کی ہے جس سے ایران کی جانب سے مخصوص عمل کرنے کی صورت میں پابندیاں عائد کی جا سکیں۔دوسری جانب برطانیہ،

فرانس، جرمنی اور یورپی یونین کے وزرا خارجہ نے اپنے ایرانی ہم منصب محمد جواد ظریف سے جمعرات کو برسلز میں ملاقات کی ہے اور اس معاہدے پر قائم رہنے کی تائید کی ہے، جس کو چین اور روس کی حمایت بھی حاصل ہے۔ملاقات کے بعد نیوز کانفرنس میں یورپی یونین، فرانس اور جرمنی نے اس جوہری معاہدے کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔

’’ایران پر نئی پابندیاں‘‘امریکا کیا کرنے والاہے؟ افسوسناک انکشاف


واشنگٹن(نیو زڈیسک ) امریکی وزیر خزانہ سٹیو منچن نے کہا ہے کہ انھ توقع ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر نئی پابندیاں عائد کر گے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی وزیر خزانہ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھ توقع ہے کہ

ایران پر نئی پابندیوں کا اعلان کیا جائے گا. ماضی م سامنے آنے والی رپورٹس م ان پابندیوں کے تحت ایران کی انفرادی شخصیات اور کاروبار کو ہدف بنایا جائے گا۔ ہماری ان پر نظر رہے گی اور میرے خیال م آپ توقع رکھ کہ مزید پابندیاں لگائی جا رہی ہ ۔ اس سے پہلے برطانیہ کے وزیرِ خارجہ بورس جانسن نے امریکہ کو چیلنج کیا ہے کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے موجودہ معاہدے سے بہتر متبادل لا کر دکھائے۔برسلز م ایران اور یورپی اتحاد کے اپنے ہم عصروں کے ساتھ مذاکرات کے بعد انھوں نے کہا کہ 2015 م ہونے والا معاہدہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے ایک بڑی کامیابی تھی اور ایران اس پر مکمل طور پر عمل کر رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق وہ ایران سے جوہری معاہدے م ترمیم کرنا چاہتے ہ یا اس سے مکمل طور پر دستبردار ہونا چاہتے ۔

پرائمری سکولوں میں انگریزی پڑھانے پر پابندی عائد


تہران (نیو زڈیسک )ایران میں حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ملک کے پرائمری سکولوں میں انگریزی زبان پڑھانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔اس بیان کو ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی انگریزی زبان پر تنقید کے حوالے سے دیکھا جا رہا ہے۔ انھوں نے ایک بیان میں کہا تھا کہ تعلیم کے آغاز کے دور میں ہی انگریزی پڑھانے سے

مغربی ثقافت کے غلبے کے لیے دروازے کھل جاتے ہیں۔ایران کے قومی ادارے ہائی ایجوکیشن کونسل کے سربراہ مہدی نوید ادھام نے ریاستی ٹی وی پر بتایا تھا کہ سرکاری اور غیر سرکاری سکولوں کے نصاب میں انگریزی پڑھانا قاعدے اور قانون کی خلاف ورزی ہے۔ مہدی نوید ادھام کا کہنا ہے کہ ’یہ اس لیے کیا گیا ہے کیونکہ ایسا مانا جاتا ہے کہ پرائمری سکولوں کے طالب علموں میں ایرانی ثقافت کی بنیاد نہیں پڑتی۔‘ان کا مزید کہنا تھا کہ غیر نصابی انگریزی کی کلاسز پر بھی پابندی لگائی جا سکتی ہے۔ایران میں انگریزی پڑھائی کا سلسلہ عام طور پر 12 سے 14 سال کی عمر میں مڈل سکول میں شروع ہوتا ہے لیکن بعض پرائمری سکولوں میں اس عمر سے کم کے بچوں کے لیے بھی انگریزی کی کلاسز ہوتی ہیں۔اسی طرح بعض بچے سکول کے بعد نجی اداروں میں انگریزی کی تعلیم حاصل کرتے ہیں اور بہت سے امیر گھرانوں کے بچے غیر سرکاری سکولوں سے انگریزی کی ٹیوشن لیتے ہیں۔ایران کے تمام سرکاری معاملات کا آخری فیصلہ رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای ہی کرتے ہیں جنھوں نے اساتذہ سے خطاب کے دوران کہا کہ ’اس کا مطلب غیر ملکی زبانوں کو سیکھنے کی مخالفت کرنا نہیں بلکہ غیرملکی ثقافت کو ملک کے بچوں،

نوجوانوں اور نوجوان نسل میں فروغ دینے کی مخالفت کرنا ہے۔‘انگریزی پر پابندی کے اعلان کی وجہ ایران میں گذشتہ دنوں ایک ہفتے تک جاری رہنے والے مظاہروں اور احتجاج کو تو نہیں بتایا گیا تاہم ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے کہا تھا کہ یہ حکومت مخالف مظاہرے غیر ملکی دشمنوں نے ہی کروائے۔

یمن سے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض پر داغے جانے والے میزائل پر کے فراہم کردہ ہتھیاروں کا نشان تھا


نیو یا رک(نیو زڈیسک)اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر نے کہا ہے کہ یمن سے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض پر داغے جانے والے میزائل پر ایران کے فراہم کردہ ہتھیاروں کا نشان تھا۔ ایران کے اقدامات سے دنیا کو وسیع علاقائی تنازعے میں گھسیٹنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔نیو یارک میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے امریکی سفیر نیکی ہیلی نے کہا کہ ریاض پر داغے جانے والے میزائل پر ’ایران کے فراہم کردہ ہتھیاروں کا نشان تھا جو گذشتہ حملوں میں بھی استعمال ہوا۔ ‘انھوں نے کہا کہ’ہم سب کو لازمی طور پر تہران کی حکومت کے جرائم کو بے نقاب کرنے کے لیے کام کرنا چاہیے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ اسے ہمارا پیغام ملے۔ اگر ہم ایسا نہیں کریں گے تو ایران دنیا کو وسیع پیمانے پر علاقائی تنازعات میں گھسیٹے گا۔

انھوں نے کہا ‘عالمی امن اور سلامتی اس بات پر منحصر ہے کہ ہم ایران کے جارحانہ رویے کے خلاف مل کر کام کریں۔’واضح رہے کہ ریاض پر داغے جانے والے میزائل کو سعودی عرب کی فوج نے گرا دیا تھا تاہم اس سے ہونے والے نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔ایران نے حوثی باغیوں کو ہتھیار فراہم کرنے سے انکار کیا ہے۔ حوثی باغی سنہ 2015 سے سعودی عرب کی قیادت میں یمنی حکومت کی حامی فوجوں سے برسرِ پیکار ہیں۔حوثی باغیوں کے کنٹرول میں ٹی وی چینل المسیرہ چینل کی ویب سائٹ پر حوثی میزائل فورسز سے منسوب ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ منگل کی شام برکان ٹو میزائل فائر کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ میزائل حملہ یمنی عوام کے خلاف سعودی اتحاد کی جارحیت کے ردعمل میں کیا گیا۔المسیرہ نے کہا ہے کہ میزائل کا نشانہ یماما محل میں شہزادہ سلمان کی سربراہی میں ہونے والی میٹنگ تھی۔سعودی عرب کی سرکاری نیوز ایجنسی نے سعودی اتحاد کے حکام کے حوالے سے کہا کہ میزائل ریاض کے رہائشی علاقے پر فائر کیا گیا تھا جسے پیٹریاٹ میزائل سے نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا۔سعودی عرب کی سربراہی میں عرب اتحاد کی جانب سے یمن کے خلاف جاری فوجی کارروائی میں اب تک آٹھ ہزار سے زیادہ افراد ہلاک اور قریباً 50 ہزار زخمی ہو چکے ہیں۔ ‎واضح رہے کہ اس سے قبل سعودی عرب نے یمن سے ریاض پر کیے گئے حوثی باغیوں کے میزائل حملے کو ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے جس کا نشانہ شاہ سلمان کی رہائش گاہ تھی۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب حکام کا کہنا تھا کہ انہوں نے گزشتہ روز یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے داغے گئے بیلسٹک میزائل کو گرا دیا تھا،جبکہ حوثیوں نے اعلان کیا کہ انہوں نے شاہ سلمان کی سرکاری رہائش گاہ کو نشانہ بنایا تھا۔واضح رہے کہ سعودی عرب اور امریکا کی جانب سے ایران پر باغیوں کو ہتھیار فراہم کرنے کا الزام لگایا جاتا ہے اور ریاض نے حالیہ میزائل کو بھی ایرانی حوثیوں کے طور پر بیان کیا ہے۔ریاض میں گزشتہ روز 10 بج کر 50 منٹ پر اس وقت زور دار دھماکا سنا گیا، جب سعودی بجٹ کے پیش کیا جانے والا تھا، جس کا اعلان عام طور پر سعودی فرماں روا کی جانب سے سرکاری رہائش گاہ یمامہ محل میں کیا جاتا ہے۔گزشتہ روز ہونے والے حملے کے حوالے سے مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ انہوں نے ریاض میں دھماکے کی آواز سنی اور دھویں کے بادل دیکھے۔ریاض میں کام کرنے والے غیر ملکی باشندوں میں سے ایک تھومس کمپیکان نے کہا کہ میں دفتر میں تھا جب میں نے دھماکا سنا اور اس کے کچھ 30 سے 45 سیکنڈ کے بعد اگلی آواز سنی اور ہم نے سفید دھواں دیکھا۔سعودی عرب کے سرکاری خبر رساں ادارے نے حوثی باغیوں کے خلاف بنائے گئے سعودی اتحاد کے ترجمان ترکی المکیلی کا بیان نقل کرتے ہوئے کہا کہ میزائل کا مقصد ریاض کے رہائشی علاقوں کو نشانہ بنانا تھا اور خدا کا شکر ہے کہ ہم نے اسے ریاض کے جنوبی حصے میں تباہ کیا گیا اور اس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

انہوں نے مزید کہا کہ یمن کی ملیشیا سمیت دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے ایرانی ساختہ بیلسٹک میزائل کا استعمال خطے اور بین الاقوامی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔خیال رہے کہ یہ حوثی باغیوں کی جانب سے دو ماہ میں ریاض پر دوسرا میزائل حملہ تھا۔دوسری جانب باغیوں کے سرکاری خبر رساں اداے المثیراہ نے ٹوئٹ میں کہا کہ میزائل فورس نے ریاض کے یمامہ محل کے خلاف برکن( والکانو) ایچ 2 میزائل کے آغاز کا اعلان کیا ہے۔یاد رہے کہ حوثیوں کی جانب سے 4 نومبر کو پہلے حملے میں ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا گیا تھا۔یہ بھی یاد رہے کہ گزشتہ ماہ حوثی باغیوں نے خبردار کیا تھا کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ ساتھ اس کے اتحادی متحدہ عرب امارات میں ہوائی اڈوں، بندرگاہوں، سرحدی علاقوں اور کسی بھی خاص مقام کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

چین دو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے پانچ ہسپتال تعمیر کرے گا


بیجنگ ( نیو زڈیسک ) چین اور ایران نے ایک فریم ورک معاہدے پر دستخط کئے ہیں جس کے تحت چین دو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے ایران میں پانچ ہسپتال تعمیر کرے گا ، یہ رقم مختلف چینی بینکوں کی طرف سے فراہم کی جائے گی ، دستخطوں کی یہ تقریب ایران کے وزیر صحت اور طبی تعلیم سید حسن قاضی زادہ ہاشمی کے دورہ

بیجنگ کے دوران منعقد ہوئی ، معاہدے پر ایران کی وزارت صحت کے مشیر اقتصادی امور اور چینی کمپنیوں کے ارکان نے دستخط کئے۔ایران کی خبررساں ایجنسی کے مطابق چائنا ڈویلپمنٹ بینک اور چائنا ایگزم بینک ایران میں ان ہسپتالوں کی تعمیر کیلئے فنڈز فراہم کریں گے ، معاہدے کے مطابق ایک ہزار بستروں پر مشتمل دوہسپتال شاہدبہشتی یونیورسٹی اور ایک ہزار بستروں پر مشتمل ایک ہسپتال یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز ،330بستروں اور 540بستروں کے ہسپتال تہران یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز میں تعمیر کئے جائیں گے۔ایرانی وزیر گذشتہ روز اپنے وفد کے ہمراہ تین روزہ دورے پر بیجنگ پہنچے تھے۔

ایران کے پاس مختلف نوعیت کے میزائل موجود ہونے کا انکشاف ہوا ہے


تہران(نیو زڈیسک)ایران کے پاس مختلف نوعیت کے میزائل موجود ہونے کا انکشاف ہوا ہے جو 3000 ہزار کلومیٹر سے زیادہ فاصلے تک اہداف کو نشانہ بنا سکتے ہیں ۔وہ براعظم یورپ اور ایشیا کے ستر فی صد دور دراز علاقوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔اس سے اس امر کی بھی تصدیق ہوتی ہے کہ ایرانی میزائل سے صرف مشرق وسطیٰ کے خطے میں

واقع ممالک ہی کو خطرہ لاحق نہیں ہے بلکہ دور دراز دوسرے براعظموں میں واقع ممالک بھی ان کی زد میں ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کی ایک رپورٹ میں کہاکہ امریکا کے پاس ایران کی جانب سے یمنی حوثیوں کو میزائلوں اور ہتھیاروں سے مدد مہیا کرنے کے شواہد موجود ہیں۔ حوثیوں سے ضبط کیے گئے ہتھیاروں کی امریکا کے دارالحکومت واشنگٹن میں ایک فوجی اڈے پر نمائش کی گئی ہے اور یہ ہتھیار ایران کی اقوام متحدہ کی قراردادوں کی واضح خلاف ورزیوں کے مظہر ہیں۔

پاکستان میں تعینات ایران کے سفیر مہدی ہنردوست نے کہا ہے کہ ایران ، پاکستان کے ساتھ تعلقات کو اہمیت دیتا ہے


اسلام آباد ( نیو زڈیسک) پاکستان میں تعینات ایران کے سفیر مہدی ہنردوست نے کہا ہے کہ ایران ، پاکستان کے ساتھ تعلقات کو اہمیت دیتا ہے ، امریکہ اور دیگر مغربی ممالک اسلامی ممالک کو تقسیم کرکے مشرقی وسطی پر حکومت کرنا چاہتے ہیں، افغانستان میں امریکی افواج کے آنے کے بعد خطے میں منشیات اور انسانی سمگلنگ کا کام زیادہ تیز ہوا ہے

جس سے خطے کی صورتحال خراب ہورہی ہے، فلسطین کی آزادی کیلئے ایران اسلامی ممالک کے ساتھ ملکر اپنا کردار ادا کرے گا، پاکستان کے ساتھ باہمی تجارت کا حجم ڈیڑھ ارب ڈالر سے زیادہ ہے، ٹاپی گیس پائپ لائن منصوبہ کی تکمیل سے پاکستان کی قسمت بدل سکتی ہے۔ ایران نے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو بہتر کرنے کیلئے ہمیشہ کوشش کی ہے البتہ اس معاملے میں سعودی عرب کی جانب سے کبھی مثبت جواب نہیں ملا۔آن لائن دئیے گئے خصوصی انٹرویو کے دوران ایرانی سفیر مہدی ہنردوست نے کہا ہے کہ امریکہ اور بعض مغربی ممالک مسلمان ملکوں کو تقسیم کرکے ان پر حکومت کرنا چاہتے ہیں،مسلمان ممالک کے آپس کے باہمی تعلقات کی خرابی کی وجہ سے فلسطین ، جموں کشمیر اور دیگر ممالک میں مسلمانوں پر مظالم کا سلسلہ جاری ہے، انہوںنے کہا کہ افسوس ناک امرہے بعض اسلامی ممالک اسرائیل اور امریکہ کے آلہ کار کے طور پر کام کررہے ہیں، فلسطین کی موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے ایرانی سفیر نے کہا کہ اسلامی ممالک کی تنظیم کے رواں اجلاس کے دوران ایران کے صدر حسن روحانی شرکت کرینگے اور مسئلہ فلسطین کے مثبت حل کیلئے اپنا کردار ادا کرینگے۔ انہوںنے کہا کہ تمام اسلامی ممالک کے

سربراہان نے مقبوضہ بین المقدس کے بارے میں امریکی صدر کے حالیہ بیان پر مذمتی بیان جاری کئے ہیں البتہ موجود ہ صورتحا ل میں بیان بازی کے بڑھکر کام کرنے کی ضرورت ہے ، ہنردوست نے کہا کہ اس سلسلے میں ایران اپنا لائحہ عمل تیار کررہا ہے اور ایران کمزور مسلمان ممالک کی حفاظت کیلئے اپنا کردار ادا کرے گا،

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ایران خود مختار اور قدررتی وسائل سے مالا مال ایک مضبوط ملک ہے لہذا ایران کسی بھی ملک سے ہدایات نہیںلیتا ، پاکستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے بارے میں بات کرتے ہوئے ایرانی سفیر نے کہا کہ پاکستان نہ صرف برادر اسلامی ملک ہے بلکہ ہمسایہ ملک ہے اور ہمسایہ تبدیل نہیں کیا جاسکتا ہے،

پاکستان کے ساتھ باہمی تجارت حجم ڈیڑھ ارب ڈالر سے زیاد ہ ہے ، گزشتہ سال دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارتی حجم 500ملین ڈالر تھا جبکہ رواں سال 800ملین تک ہوگیا ہے ، ترکمانستا ن ، افغانستان ، پاکستان اور انڈیا( ٹاپی)گیس پائپ لائن منصوبہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے ایرانی سفیر مہدی ہنردوست نے کہا کہ ٹاپی گیس پائپ

لائن منصوبہ پاکستان کی قسمت بدل سکتا ہے ، انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ بارہ سال پہلے ٹاپی گیس پائپ لائن منصوبہ پر دستخط کئے گئے البتہ پاکستان اس معاملے میں سریس نظر نہیں آتاحالانکہ ان سالوں کے دوران پاکستان نے ایل ، این ، جی کیلئے قطر کے ساتھ معاہد ہ طے کیا۔ انہوںنے کہا کہ ٹاپی گیس پائپ لائن منصوبہ خطے کے ممالک کیلئے

گیم چینجر ثابت ہوسکتا ہے ، انہوںنے کہا کہ اس منصوبے کی تکمیل کیلئے حکومت کے ساتھ بہت مرتبہ بات کی گئی ہے البتہ پاکستان کی طرف سے سردمہر ی پر افسوس ہے۔ ایرانی سفیر نے کہا کہ ایران پر بین الاقوامی پابندیوں کی وجہ سے پاکستان سمیت دیگر ممالک کے ساتھ باہمی تجارت میں بہت سی مشکلات کا سامنا کرناپڑا ، البتہ ایران نے کسی کے قسم کی زیادتی

کا تسلیم نہیںکیا، ایرانی سفیر نے خطے کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں امریکی افواج کی موجود گی کی وجہ سے خطے کی صورتحال خراب ہورہی ہے ، امریکی افواج کی آمد کے بعد افغانستان سے منشیات اور انسانی سمگلنگ زیادہ تیز ہوئی ہے جس نے نہ صرف مشرق وسطی بلکہ دیگر ممالک بھی متاثر ہوئے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ ایران

اور پاکستان کو دہشتگردی کے خلاف جنگ کا تجربہ موجودہے، دونوں ممالک ملکر خطے میں کام کرسکتے ہیں۔مہدی ہنر دوست نے کہا کہ خطے میں پائیدار امن اور دہشتگردی پر قابو پانے کیلئے ایران ، پاکستان ساتھ ملکر کام کرنا چاہتا ہے انہوںنے کہا کہ افغانستان میں امن وامان قائم کرنے کیلئے ایران ، پاکستان کے ساتھ ملکر کام کرنے کو تیار ہے ۔

سعودی عرب کے ساتھ ایران کے تعلقات کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں ایرانی سفیر نے کہا کہ ایران نے سعودی عرب کے ساتھ خواشگوار تعلقات کے لیے ہمیشہ قدم بڑھایا ہے البتہ سعودیہ کی سردمہری کی وجہ سے معاملات آگے نہیں بڑھ سکے، انہوںنے کہا کہ ایران سعودی عرب کے ساتھ بہتر تعلقات کا خواہاں ہے ،

ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہا کہ یمن کی غریب عوام پر سعودی عرب ظلم کررہا ہے جس کے بارے میں ایران کو گہری تشویش ہے ، ایران مسلمان ملک کی حیثیت سے مکہ مکرمہ اور مدینہ کی حفاظت کرنے کیلئے ہردم تیار ہے ، سعودی عرب اور یمن کی جنگ کے حوالے سے انہوںنے کہا کہ ایران چاہتا ہے کہ مظلوم کی داد رسی کی جائے

البتہ بین الاقوامی قوتیں ا س معاملے میںاپنے مفادات کی وجہ سے طول دینا چاہتی ہیں۔ اسلامی ممالک کو ملکر بین الاقوامی طاقتوںکا سامنا کرنا چاہیے اور بڑے مسلمان ممالک کو چھوٹے ممالک کی مدد کے لیے تیار رہنا چاہیے