Tag Archives: آصف زرداری

آصف زرداری کے لیے خصوصی کمرہ تیار کر لیا گیا


راولپنڈی(نیو زڈیسک)سنٹرل جیل اڈیالہ میں پیپلز پارٹی کے گرفتار قائد و سابق صدر آصف زرداری کے لیے خصوصی کمرہ تیار کر لیا گیا ہے۔آصف زرداری نے سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں بھی اسی خصوصی کمرے میں طویل قید کاٹی تھی۔ اس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف بھی قید کاٹ چکے ہیں۔ اس کمرے میں ایئرکنڈیشنر لگانے کے ساتھ فریج کی بھی سہولت ہوگی اور جیل کی طرف سے ان کیلیے 2 خصوصی خدمت گار بھی مہیا ہوں گے۔ ایک خدمت گار دن کو ایک رات کے وقت دستیاب ہوگا۔اس کمرہ کی راہداریوں میں کلوز سرکٹ کیمرے بھی لگا دیئے گئے ہیں،
بجلی جانے کی صورت میں جنریٹر کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔ عدالت کی طرف سے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے سے قبل دوبارہ ان کا مکمل میڈیکل بورڈ چیک اپ کرایا جائے گا۔ جیل کے اس مخصوص وی وی آئی پی کمرہ کی صفائی ستھرائی مکمل کر لی گئی ہے۔ ان کے کمرہ کی طرف جیل کے دیگر قیدیوں کی آمد و رفت مکمل ممنوع ہوگی۔

”آصف زرداری نے وزیراعظم کو حیران کن مشورہ دیدیا


اسلام آباد (نیوزڈیسک )وزیراعظم عمران خان کی حکومت نے اپنا پہلا بجٹ پیش کر دیاہے جس میں نئے ٹیکسز عائد کیے گئے ہیں جس پر اپوزیشن کی جانب سے انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہاہے جبکہ اس نہایت اہم موقع پر سابق صدر آصف علی زرداری اور پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہبازشریف کرپشن الزامات کے تحت نیب کی حراست میں ہیں ۔

سابق صدر آصف علی زرداری نے احتساب عدالت میںصحافیوں سے گفتگو کی جس میں انہوں نے عمران خان کو مشورہ دیتے ہوئے کہاہے کہ ” عمران خان میرا مشور مانیں تو استعفیٰ دیں اور گھر جائیں “۔آصف زرداری نے کہا کہ کل نیب نے میرا روٹین کا چیک اپ کرایا، جب ہم اپنی دنیا میں ہوتے ہیں تواپنا خیال نہیں رکھتے۔کمیشن سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ عمران خان اگر 1947 سے کمیشن نہیں بنانا چاہتے تو پچھلے 20 سال کا تو بنائیں، وہ اگر بہت پرانوں کی پگڑیاں نہیں اچھالنا چاہتے تو مشرف کے دور سے تو کریں۔

صحافی کے سوال پر جواب دیتے ہوئے آصف زرداری نے کہا کہ بجٹ کی منظوری کا انحصار اب اختر مینگل پر ہے کہ وہ کس جانب بیٹھتے ہیں ۔سابق صدر کا کہنا تھا کہ عمران خان نے کیسے کہا ملک مستحکم ہوگیا؟ کیا لوگوں کی تنخواہیں بڑھ گئی ہیں؟ میرے دور میں تو سب کی تنخواہیں بڑھتی تھیں۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کچھ بھی کہتے رہتے ہیں، انہوں نے تو پہلے کہا تھا کہ خود کو گولی مارلوں گا لیکن سیاست میں نہیں جاو¿ں گا، پھر کہا خودکشی کرلوں گا مگر آئی ایم ایف کے پاس نہیں جاو¿ں گا۔

اپنے ہی گراتے ہیں نشیمن پر بجلیاں ، مراد علی شاہ آصف زرداری کے خلاف وعدہ معاف گواہ بن گئے


اسلام آباد (نیوزڈیسک) : نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے معروف صحافی و تجزیہ کار ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا کہ سندھ میں جو بھی ہنگامہ آرائی ہو رہی ہے ، اس کے پیچھے کافی لوگ ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ وعدہ معاف گواہ بن چکے ہیں بلکہ آصف علی زرداری کے کئی قریبی لوگ وعدہ معاف گواہ بن چکے

ہیں۔ یاد رہے کہ گذشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ نے آصف علی زرداری اور فریال تالپور کی درخواست ضمانت کو مسترد کردی تھی۔ جس کے بعد نیب کی ٹیم ان کی گرفتاری کے لیے روانہ ہوئی اور زرداری ہاؤس سے سابق صدر کو گرفتار کر لیا۔ آصف علی زرداری نے اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا بھی فیصلہ کیا تھا جس کے تحت اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست آج دائر کیے جانے کا امکان ہے۔ آصف علی زرداری کو نیب راولپنڈی کے خصوصی سیل میں منتقل کیا گیا تھا۔ سیل کے باہر ایک بائیومیٹرک سسٹم بھی نصب کیا گیا جبکہ نیب افسران سمیت آصف علی زرداری سے ملاقات کرنے والوں کے فنگر پرنٹس کی ویری فکیشن بھی کی گئی ۔ صرف ویری فکیشن والے افراد کو ہی سیل کے اندر جانے کی اجازت ہو گی۔ دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی گرفتاری کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے جس کے پیش نظر پیپلز پارٹی نے متبادل وزیراعلیٰ سندھ کے لیے پارٹی میں مشاورت شروع کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق آصف علی زرداری کے قریبی شخص ناصر حسین کو سندھ کی وزارت

اعلیٰ دینے پر غور کیا جا رہا ہے جبکہ دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ گرفتاری اور مقدمات سے بچنے کے لیے اپنے تمام وسائل استعمال کرنے میں لگے ہیں۔ ایسے میں ڈاکٹر شاہد مسعود کا یہ انکشاف نہایت اہمیت کا حامل ہے۔

آصف زرداری کی آج اسلام آباد کی احتساب عدالت پیشی، سیکیورٹی سخت


اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) نیب سابق صدر آصف علی زرداری کو آج احتساب عدالت میں پیش کر کے جسمانی ریمانڈ حاصل کرے گا، ضلعی انتظامیہ نے سیکیورٹی پلان جاری کر دیا۔300 اہلکار نیب پنڈی کے دفتر کی سیکیورٹی پر تعینات ہونگے۔ ٹریفک پولیس کے 200 اہلکار نیب پنڈی دفتر سے نیب عدالت تک تعینات رہیں گے۔ نیب پنڈی کے دونوں اطراف کی سٹرکیں مکمل بند رہیں گی۔
نیب عدالت کے جی الیون روڈ بھی سیکیورٹی کی وجہ سے بند رہے گی۔ نیب عدالت اور نیب پنڈی کے باہر رینجرز اہلکار گشت پر تعینات ہوں گے۔اگر کارکنان آئے تو آبپارہ چوک سے آگے جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ نیب عدالت اگر کارکنان پہنچے تو ان کو پراجیکٹ موڑ پر روک لیا جائے گا۔ فیض آباد اور داخلی راستوں پر بھی انٹی رائٹس فورس تعینات ہوگی۔دوسری جانب پولی کلینک کی 3 رکنی میڈیکل ٹیم کی نیب راولپنڈی پہنچ گئی، میڈیکل ٹیم آصف زرداری کا طبی معائنہ کرے گی، سابق صدر کے خون کے نمونے لیے جائیں گے۔ آصف زرداری کا بلڈ پریشر، ہارٹ بیٹ چیک کی جائے گی، ان کو طبی معائنے کے بعد عدالت پیش کیا جائے گا۔ ادھر سابق صدر آصف زرداری نے ڈی جی نیب راولپنڈی کو خط لکھا ہے کہ دوران حراست مجھے 2 خدمت گار دیئے جائیں۔ مجھے دن رات خدمت گار کی ضرورت ہوتی ہے، ایک دن اور دوسرا رات کو صحت کی نگرانی کرتا اور ادویات دیتا ہے۔میں مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوں، اگر سہولت نہ دی گئی تو میری زندگی کو خطرہ ہوسکتا ہے، نہال چند اور لیاقت علی کو میرے ساتھ رہنے کی اجازت دی جائے۔

آصف زرداری کی گرفتاری کے بعد ملک کے کئی شہروں میں صورتحال بگڑ گئی


کراچی (نیوزڈیسک) آصف زرداری کی گرفتاری کے بعد ملک کے کئی شہروں میں صورتحال بگڑ گئی، پیپلز پارٹی کے مشتعل کارکنوں کی جانب سے سندھ کے کئی شہروں میں فائرنگ و توڑ پھوڑ، زبردستی دکانیں بند کروانے کی کوشش، لاہور میں بھی کئی مقامات پر احتجاج۔ تفصیلات کے مطابق پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر مملکت

آصف زرداری کی گرفتاری کے بعد ملک کے کئی شہروں میں صورتحال بگڑ گئی ہے۔ خاص کر سندھ کے بیشتر شہروں میں امن و امان کی صورتحال خراب ہوگئی ہے۔ پیپلز پارٹی کے مشتعل کارکنوں کی جانب سے سندھ کے کئی شہروں میں فائرنگ و توڑ پھوڑ کی جا رہی ہے۔ جبکہ مارکیٹوں کو بھی زبردستی بند کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ لاہور میں بھی پیپلز پارٹی کے مشتعل کارکنوں نے کئی مقامات پر پرتشدد مظاہرے کرنے کی کوشش کی ہے۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی سندھ نے آصف زرداری کی گرفتاری پر کل یوم سیاہ منانے کا اعلان کردیا ہے، سینئررہنماء پیپلزپارٹی سندھ نثار کھوڑو نے کہا کہ کل 11 جون کو سندھ بھر میں احتجاج کیا جائے گا، احتجاج مکمل طور پر پرامن ہوگا، متنازع عدالتی فیصلوں کے ذریعے پیپلزپارٹی کو جھکایا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے آصف زرداری اورفریال تالپور کی ضمانت مسترد ہونے پر کل یوم سیاہ منانے کا اعلان کیا اور کہا کہ کل 11 جون کو سندھ بھر میں احتجاج کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ بھر کے ضلعی ہیڈکوارٹرز میں کارکنان کل احتجاج کرینگے۔ احتجاج مکمل طور پر پرامن ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ متنازع عدالتی فیصلوں

کے ذریعے پیپلزپارٹی کو جھکایا نہیں جا سکتا۔ متنازع فیصلوں کے باجود عدالتوں میں ہی بے گناہی ثابت کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ نثار کھوڑو نے کہا کہ عدالتوں کا احترام کرتے ہیں مگر متنازع فیصلوں پرپرامن احتجاج کا بھی حق رکھتے ہیں وفاقی حکومت اپوزیشن کے قائدین کیخلاف کاروائیاں کروا کر اپنی نااہلی نہیں چھپا سکتی۔ واضح رہے پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کو آج نیب نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے نتیجے میں گرفتار کرلیا ہے۔ جس پر پیپلزپارٹی اور اپوزیشن جماعتوں قومی اسمبلی میں شدید احتجاج کیا۔ بلاول بھٹو اجلاس میں پہنچے تو اسپیکر نے وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید کو تقریر کرنے کی اجازت دے دی۔ جس پر اپوزیشن جماعتوں نے اسپیکر ڈائس کا گھیراؤ کرلیا۔ پی پی رہنماؤں نے شیخ رشید سے قبل بلاول بھٹو کو تقریر کرنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا۔ لیکن اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ اب شیخ رشید کو اجازت دے چکا ہوں اس لیے ان کو بات کرنے دیں پھر بلاول بھٹو کو بات کرنے کی اجازت دے دوں گا۔ لیکن اپوزیشن نے اسپیکر ڈائس پر خوب ہلہ گلہ کیا۔ جس پر اسپیکر نے کہا کہ آپ ایوان کوچلنے نہیں دے رہے۔ ماحول

کوخراب کررہے ہیں۔ مجھے اجلاس ملتوی کرنے کے لیے مجبورنہ کریں۔ تاہم اسپیکر نے کل تک کیلئے ملتوی کردیا ہے۔ اس موقع پر شیخ رشید نے کہا کہ ذاتی صفائی کے لیےایک منٹ گزارش کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے بولنے نہیں دیا گیا توکسی کوبولنے نہیں دوں گا۔ مجھے تقریرکرنے نہیں دی گئی تودیکھتا ہوں پھرایوان میں کون تقریرکرتا ہے۔ اس سے قبل قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میاں شہبازشریف نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آصف زرداری نے نیب سے بھرپور تعاون کیا،آصف زرداری نے کسی بھی طرح کوئی ہتھکنڈا استعمال نہیں کیا بلکہ نیب سے بھرپور تعاون کیا۔زرداری ہرموقع پر نیب میں پیش ہوتے رہے،آصف زرداری کی گرفتاری کی نوبت نہیں آنی چاہیے تھی۔ شہباز شریف نے آصف زرداری اور خواجہ سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں رہنماؤں کے آج ہی پروڈکشن آرڈر جاری کیے جائیں۔

حکومت مارتی ہے اور رونے بھی نہیں دیتی ، بلاول کا آصف زرداری کی گرفتاری پر ردعمل


اسلام آباد (نیوزڈیسک) چیئر مین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہاہے کہ حکومت کا رویہ یہ ہے کہ مارتے ہیں اور رونے بھی نہیں دیتے ، آپ اس بچے کو کیسے ڈرائیں گے ؟ جس نے اپنے باپ کو گیارہ سال جیل میں دیکھا، جس کی والدہ پرجب وہ حاملہ تھیں ، آنسو گیس پھینکی گئی ، موت سے مجھے کیسے ڈرایا جائے گا جس کے نانا کو پھانسی پر چڑھادیا

، والدہ کو شہید کروادیا ،ماموں کوزہردلوادیا، مجھے یہ کیسے ڈرائیں گے ، بزدل جب قانون سے مقابلہ نہیں کرسکتے تو ججوں کو ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں، یہ بزدل ہے گھبرا رہاہے ، یہ تنقید برداشت نہیں کرسکتا ، یہ ڈرے ہوئے اور خوفزدہ ہیں ، وہ اس لئے کہ جانتے ہیں ان سے حکومت نہیں چل رہی ۔انہوں نے کہا کہ نیب بغیر آرڈر آصف زرداری کی گرفتاری کیلئے پہنچی، آصف زرداری نے بطور احتجاج گرفتاری دی ہے ۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں آصف زرداری کی گرفتاری پرردعمل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بدقسمتی سے قومی اسمبلی میں یہ دوسرا دن ہے جب مجھے بولنے کیلئے وقت نہیں دیا گیا ، پچھلے سیشن میں بھی سپیکر نے وعدہ کیا تھا کہ مجھے بولنے دیں گے لیکن نہیں بولنے دیا گیا ، آج بھی وعدہ کیا گیا کہ مجھے بولنے دیں گے لیکن تحریک انصاف کے تین وزراءنے تقریر نے تقریر کی اور ان کو بولنے کا موقع ملا لیکن مجھے نیشنل اسمبلی کے فلور پر بولنے کا موقع نہیں دیا گیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ میں قومی اسمبلی میں سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کی رویے کی مذمت کرتا ہوں، ڈپٹی سپیکر کا رویہ قابل مذمت ہے ، ان سے

مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتا ہوں، ہم دیکھا ہے کہ جب کو اشارا کیا جاتاہے تو سپیکر اٹھ جاتا ہے اوربیٹھ جاتا ہے ، جب سابق وزیر داخلہ کوئی چٹ پیش کرتاہے تو ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی اٹھ جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے سپیکر سے کہا تھا کہ دو تین ،خواتین ارکان اسمبلی جو سندھ سے تعلق رکھتی ہیں ، ان پر اسلام آباد پولیس نے تشدد کیا ، میں سمجھ رہا تھا کہ یہ صرف پولیس کا قصور ہوگا لیکن اس میں ساری کی ساری حکومت شامل ہے ، میں سمجھتا ہوں کہ یہ بات پاکستان کے عوام کے آگے رکھنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ جو دورکن قومی اسمبلی شمالی وزیرستان سے تعلق رکھتے ہیںجس پر میں نے سپیکر کوخط لکھا تھا کہ یہ ارکان ہمارے ہاؤس سے تعلق رکھتے ہیں ، اس کے بارے میں ایوان کوبتایا جائے لیکن بدقسمتی سے آج تک ان دونوں ارکان اسمبلی کے پروڈکشن آرڈر جاری نہیں ہوئے ، جتنے بھی سنگین الزامات ہوں لیکن پاکستان کے ہر شہری کاحق ہے کہ اس کا شفاف ٹرائل ہو۔ انہوں نے کہا کہ جو رویہ موجودہ اسمبلی میں اپنایا جارہاہے ، یہ رویہ ہم نے مجلس شوریٰ ضیاءالحق اور مشرف کی اسمبلی میں بھی نہیں دیکھا تھا لیکن آج نیا پاکستان کی قومی اسمبلی

میں دیکھا جارہاہے ۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح اپوزیشن رہنماؤں کو گرفتار کیا جارہاہے ، حکومت کا یہ رویہ ہے کہ مارتے ہیں اور رونے بھی نہیں دیتے ، ہمارے سندھ اسمبلی کے سپیکر کو اسلام آباد سے گرفتار کیاگیا ، اس وقت بھی چادر اورچاردیواری کے تقدس کا خیال نہیں رکھا گیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک سازش کے تحت عدلیہ پر حملہ کیا گیا ہے ، اگر کوئی ریفرنس آئین کے تحت بھیجنا ہے تو ہر پاکستانی کو ایک شفاف ٹرائل کاحق ہے کہ اس کو پتہ چلے کے اس پر کیا الزامات ہیں؟ آزاد اور جمہوری ملک میں عدلیہ پر حملے نہیں ہوتے ،ہمارا نیشنل اسمبلی کا اجلاس چل رہا تھا اور بجٹ کا اجلاس شروع ہوگیا ہے لیکن یہ حکومت سلیکٹڈ میڈیا ، سلیکٹڈ عدلیہ اور سلیکٹڈ اپوزیشن چاہتی ہے ، حکومت آزادی اظہار رائے پر پابندی لگا رہی ہے ، اس نئے پاکستان ، مشرف کے پاکستان اور ضیاءکے پاکستان میں کیا فرق ہے ؟ پہلے بھی بولنے کی اجازت نہیں تھی ، آج بھی نہیں ہے ، پہلے بھی عدالتیں آزادی سے فیصلے نہیں دے سکتی تھیں اور آج بھی یہ کچھ کیا جارہاہے ۔

ایک ہی دن میں آصف زرداری کے بعد ایک اور بڑی گرفتاری


لاہور(نیوزڈیسک) ایک ہی دن میں آصف زرداری کے بعد ایک اور بڑی گرفتاری، نیب نے سابق ڈی جی نیپرا سیّد انصاف احمد کو گرفتار کر لیا، ملزم پر حکومتی خزانے کو 8 ارب روپے کا نقصان پہنچانے کا الزام۔ تفصیلات کے مطابق اربوں روپے مبینہ کرپشن کے الزام میں سابق ڈی جی نیپرا ملزم سیّد انصاف احمد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ملزم پر

حکومتی خزانے کو 8 ارب روپے کا نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔ چونیاں پاور لمیٹڈ کی جانب سے 2010ء میں 200 میگا واٹ پر مشتمل پاور پلانٹ کی تنصیب کی گئی تھی۔ نیب کے مطابق اربوں روپے کی رقم صرف مخصوص کمپنی کو غیرقانونی طور پر منتقل کی گئی۔ آئی پی پیز کو غیر قانونی ادائیگیوں کا براہ راست اثر بجلی کے نرخ اور ملکی معاشی حالات پر ہوا۔ نیب حکام کے مطابق ملزم کو جسمانی ریمانڈ کے حصول کیلئے کل احتساب عدالت لاہور پیش کرینگے۔ دوران ریمانڈ ملزم سے شریک ملزمان کے حوالے سے اہم انکشافات اور مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔ جبکہ دوسری جانب اس گرفتاری سے قبل نیب کی جانب سے سابق صدر مملکت اور پیپلز پارٹی کے شریک چئیرمین آصف زرداری کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔ آصف زرداری کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں ضمانت میں توسیع کی درخواست مسترد ہونے کے بعد نیب کی ٹیم کی جانب سے گرفتار کیا گیا۔ آصف زرداری کو گرفتاری کے بعد نیب اسلام آباد کے دفتر میں واقع حوالات میں بند کر دیا گیا۔ پیپلز پارٹی نے شریک چئیرمین آصف زرداری کی گرفتاری پر شدید احتجاج اور مذمت کی ہے۔

نیب کی ٹیم آصف زرداری کی گرفتاری کے لیے پارلیمنٹ روانہ


اسلام آباد (نیوزڈیسک) اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق صدر آصف علی زرداری کی عبوری ضمانت سے متعلق جعلی اکاؤنٹس کیس کا فیصلہ سنا دیا ہے۔عدالت نے آصف رزداری اور فریال تالپور کی درخواست ضمانت خارج کر دی جب کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق صدر آصف علی زرداری کو گرفتار کرنے کی اجازت دے دی جس کے بعد نیب کی ٹیم آصف

زرداری کی گرفتاری کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس روانہ ہو گئی ہے۔ سابق صدر آصف علی زرداری عدالت کا فیصلہ آںے سے قبل ہائیکورٹ سے روانہ ہو گئے تھے تاہم پھر بھی عدالت میں پولیس کی بھاری نفری موجود تھیت۔نیب ذرائع کے مطابق آصف زرداری کو آج ہی گرفتار کیا جائے گا۔خیال رہے کہ آج سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چئیرمین آصف علی زرداری اپنی ہمشیرہ فریال تالپور کے ہمراہ آج اسلام آباد ہائیکورٹ کے سامنے پیش ہوئے تھے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل ڈویژن بینچ نے جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں سابق صدر آصف زرداری اور فریال تالپور کی عبوری ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کی۔ ڈپٹی پراسیکیوٹرنیب سردارمظفر اور اسپشل پراسیکیوٹرجہانزیب بروانا پیش ہوئے جبکہ آصف زرداری کی جانب سے فاروق ایچ نائیک عدالت میں پیش ہوئے۔ نیب کی جانب سےاسپیشل پراسیکیوٹر جہانزیب بروانا نے دلائل دئے۔ جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ نیب نے مکمل طور پر دلائل دئے، کوئی چیز رہ گئی ہے توعدالت کو بتایا جائے جبکہ نیب کے تفتیشی افسر مکمل ریکارڈ کے ساتھ عدالت میں

پیش ہوئے۔ نیب کے وکیل کی جانب سے دلائل مکمل ہونے پر آصف زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے جوابی دلائل دئے جس میں اُن کا کہنا تھا کہ آصف زرداری کا براہ راست اکاؤنٹس کھلوانے کا تعلق نہیں ہے۔ نیب کا روزانہ کی بنیاد پر آصف زرداری کے خلاف آپریشن جاری ہے، پہلے جواب الجواب کے ساتھ دستاویزات دیئے ہیں، جعلی اکاؤنٹ کھولنے کی حد تک آصف زرداری ملزم نہیں ہیں۔ وکیل فاروق ایچ نائیک نے چئیرمین نیب کی آئینی اختیارات پڑھ کر سناتے ہوئے کہا چئیرمین نیب آرڈیننس 26 کے تحت وارنٹ گرفتاری جاری نہیں کرسکتا، چئیرمین نیب کے پاس سپلیمنٹری ریفرنس کا اختیار نہیں ، آصف زرداری کو اس موقع پرگرفتار نہ انکوائری کی جاسکتی ہے

آصف زرداری کی عبوری ضمانت میں توسیع کی درخواست مسترد


اسلام آباد (نیوزڈیسک) اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق صدر آصف علی زرداری کی عبوری ضمانت سے متعلق جعلی اؤنٹس کیس کا فیصلہ سنا دیا ہے،میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل ڈویژن بینچ نے جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں سابق صدر آصف زرداری اور فریال تالپور کی عبوری

ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کی۔ ۔ آج سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چئیرمین آصف علی زرداری اپنی ہمشیرہ فریال تالپور کے ہمراہ آج اسلام آباد ہائیکورٹ کے سامنے پیش ہوئے تھے۔ ڈپٹی پراسیکیوٹرنیب سردارمظفر اور اسپشل پراسیکیوٹرجہانزیب برو پیش ہوئے جبکہ آصف زرداری کی جانب سے فاروق ایچ نائیک عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے نیب کے بیان پر درخواست نمٹا دی۔عدالت نے آصف علی زرداری کی عبوری ضمانت میں توسیع کی درخواست مسترد کر دی ہے اور نیب کی استدعا منظور کر لی ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق صدر آصف علی زرداری کو گرفتار کرنے کی اجازت دے دی ہے۔آصف علی زرداری فیصلہ آنے سے قبل ہی اسلام آباد ہائیکورٹ سے روانہ ہو گئے تھے ۔ نیب کی جانب سےاسپیشل پراسیکیوٹر جہانزیب بروانا نے دلائل دئے۔ جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ نیب نے مکمل طور پر دلائل دئے، کوئی چیز رہ گئی ہے توعدالت کو بتایا جائے جبکہ نیب کے تفتیشی افسر مکمل ریکارڈ کے ساتھ عدالت میں پیش ہوئے۔ نیب کے وکیل کی جانب سے دلائل مکمل ہونے پر آصف زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے جوابی دلائل دئے جس

میں اُن کا کہنا تھا کہ آصف زرداری کا براہ راست اکاؤنٹس کھلوانے کا تعلق نہیں ہے۔ نیب کا روزانہ کی بنیاد پر آصف زرداری کے خلاف آپریشن جاری ہے، پہلے جواب الجواب کے ساتھ دستاویزات دیئے ہیں، جعلی اکاؤنٹ کھولنے کی حد تک آصف زرداری ملزم نہیں ہیں۔ وکیل فاروق ایچ نائیک نے چئیرمین نیب کی آئینی اختیارات پڑھ کر سناتے ہوئے کہا چئیرمین نیب آرڈیننس 26 کے تحت وارنٹ گرفتاری جاری نہیں کرسکتا، چئیرمین نیب کے پاس سپلیمنٹری ریفرنس کا اختیار نہیں ، آصف زرداری کو اس موقع پرگرفتار نہ انکوائری کی جاسکتی ہے۔ جوابی دلائل کے بعد عدالت نےآصف علی زرداری اور فریال تالپور کی ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا جو کچھ دیر میں سنائے جانے کا امکان ہے۔

آصف زرداری کے خلاف درخواستِ ضمانت کی سماعت سے قبل بکتر بند گاڑی اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئی


اسلام آباد (نیوزڈیسک) آج پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چئیرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری کی عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت ہو گی۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ایک بکتر بند گاڑی اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئی ہے۔میڈیا رپورٹس میں آصف علی زرداری کا آج سے 20 جون کے درمیان میں گرفتاری کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ خیال رہے

سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں ضمانت میں توسیع کیلئے آج اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش ہوں گے. سابق صدر آصف زرداری اپنی ہمشیرہ فریال تالپور کے ہمراہ کل اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپنی ضمانت میں توسیع کیلئے پیش ہوں گے. اس سے قبل اسلام آباد ہائیکورٹ نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں آصف علی زرداری اور فریال تالپور کی ضمانت میں 10 جون تک توسیع کر رکھی ہے،اس موقع پر سیکورٹی کے فول پروف انتظامات ہوں گے. دوسری جانب سابق صدر اور فریال تالپور کی جعلی اکاؤنٹس کیس میں احتساب عدالت میں پیشی 14جون کو ہو گی‘جج ارشد ملک کی چھٹی کے باعث ڈیوٹی جج نے ملزمان کی حاضری لگا کر کیس کی سماعت بغیر کارروائی کے 14 جون تک ملتوی کر دی تھی. ادھر نجی ٹی وی کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آصف زرداری کو آج سے 20 جون تک8 عبوری ضمانت کی درخواستوں میں کنفرم ضمانت کرانا ضروری ہے وگرنا ایک کے بعد ایک کیس میں ضمانت مسترد ہونے پر گرفتاری کے امکانات موجود ہیں.آج (10جون) سے 20 جون تک پرمیگا منی لانڈرنگ کیس

اور پارک لین کیس میں ضمانت مسترد ہوئی تو کنفرم گرفتاری ہوگی کیوںکہ ان دونوں کیسز میں نیب نے آصف زرداری کے وارنٹ گرفتاری جاری کررکھے ہیں جبکہ باقی چھ کیسز میں بھی ضمانت مسترد ہونے پر گرفتاری کا امکان موجود ہے،یوں آصف زرداریکو گرفتاری سے بچنے کے لیے ہر کیس میں ضمانت کنفرم کرانی پڑے گی، آج میگا منی لانڈرنگ کیس میں آصف زرداری اور فریال تالپور کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت ہوگی جس پر آج ہی فیصلے کا امکان بھی موجود ہے. ہریش اینڈ کمپنی کیس میں بھی آصف زرداری کی ضمانت میں آج تک توسیع کی گئی تھی جس پر ابھی دلائل شروع نہیں ہو سکے، جعلی بنک اکاؤنٹس سے متعلقہ ایک اور انکوائری میں آصف زرداری اور فریال تالپور کی عبوری ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کل11جون کو ہو گی.