Tag Archives: امریکہ

امریکہ نے ٹیکس لگائے تو اس سے تجارت معاہدے ختم کر دیں گے، چین کاانتباہ


بیجنگ (نیوزڈیسک) چین امریکہ کو انتباہ کر رہا ہے کہ اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی دھمکیوں پر عمل کرتے ہوئے محصولات بڑھانے اور دوسرے تجارتی اقدامات کیے تو دونوں ملکوں کے درمیان تجارت اور کاروباروں کے معاہدے منسوخ ہوجائیں گے۔میڈیارپورٹس کے مطابق چینی نائب وزیر اعظم لیو کی نے گزشتہ روز میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی دھمکیوں پر عمل کرتے ہوئے محصولات

بڑھانے اور دوسرے تجارتی اقدامات کیے تو دونوں ملکوں کے درمیان تجارت اور کاروباروں کے معاہدے منسوخ ہوجائیں گے۔ واضح رہے کہ صدر ٹرمپ اس سے پہلے یہ دھمکی دے چکے ہیں کہ وہ چینی مصنوعات پر 150 ارب ڈالر کے ٹیکس لگا دیں گے۔ جب کہ چین نے اپنے ردعمل میں کہا تھا کہ وہ بھی جواباً ایسے ہی اقدامات کرے گا۔۔

امریکہ نے پاکستان کے خلاف بڑا ایکشن لے لیا


واشنگٹن(نیوزڈیسک) ::امریکہ نے پاکستان کے خلاف بڑا ایکشن لے لیا۔ امریکہ نے پاکستان کو مذہبی آزادی کی واچ لسٹ میں ڈال دیا۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ کافی عرصے سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات اتار چڑھاو کا شکار ہے ۔دونوں ممالک کی جانب سے کی جانے والی بیان بازی اکثر سامنے آتی رہتی ہے ۔اب تازہ ترین اطلاعات کے مطابق امریکہ

نے پاکستان کے خلاف بڑا ایکشن لے لیا۔ امریکہ نے پاکستان کو مذہبی آزادی کی واچ لسٹ میں ڈال دیا۔تفصیلات کے مطابق عالمی مذہبی آزادی رپورٹ 2017 جاری کردی گئی۔مذہبی آزاد ی پر امریکہ کے خصوصی سفیر سیموئیل برون بیک نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا بھارت میں بھی مختلف مذاہب کو آزادی حاصل نہیں ہے ۔۔امریکہ بھارت کو واچ لسٹ میں نہیں ڈال رہا۔وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا یہ رپورٹ دنیا بھر میں مذہبی آزادی کی حمایت میں امریکی تاریخی کردار کا ایک بیان ہے ۔ مذہبی آزادی کا امریکہ کے آغاز میں کردار تھا اور یہ ہماری مستقبل کیلئے بھی اہم ہے ۔ یہ دنیا بھر کے ہر شہری کا حق ہے ، صدر ٹرمپ اور نائب صدر مذہبی آزادی کے خواہاں افراد کے ساتھ ہیں۔ ہم دنیا بھر میں حال اور مستقبل میں مذہبی آزادی کی حمایت کرنے کیلئے پر عزم ہیں۔ یہ رپورٹ امریکی اور عالمی اقدار کے تحفظ کیلئے امریکی سفارتکاروں کی محنت کو آشکار کرتی ہے ، یہ رپورٹ 200 ملکوں میں حکومتوں، دہشت گرد گروپوں اور انفرادی شخصیات کی جانب سے مذہبی آزادی کو پامال کرنے اور اس مسئلے کے حل کا احاطہ کرتی ہے ۔ اس سال 25 اور 26 جولائی کو امریکہ

میں مذہبی آزادی پر پہلی مرتبہ وزرا کی سطح کی کانفرنس ہوگئی۔ کانفرنس میں ہم خیال حکومتوں، عالمی تنظیموں، مذہبی طبقات، سول سوسائٹی کے افراد کو دعوت دی جائے گی۔

دہشتگردی پر اٴْکسانے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے،امریکہ کا پاکستان سے پھر ڈومورکامطالبہ


واشنگٹن(نیوزڈیسک) امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان میں سفارتخانے اور قونصل خانوں میں کام کرنے والے امریکی اہلکاروں کیساتھ برا سلوک کیا جا رہا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکا کی خارجہ امور کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے مائیک پومپیو نے کہا کہ سفارت کاروں سے سلوک حقیقی مسئلہ ہے،

امریکا کو اس حقیقی مسئلے سے بھی نمٹنا ہوگا، جس کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے، بریفنگ کے دوران امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے بھی ڈو مور کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پناہ گاہوں اور دہشت گردی پر اٴْکسانے والوں کے خلاف کارروائی کرے۔ ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امن کا انحصار دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے خاتمے کے لیے پاکستان کی آمادگی پر ہے۔ایک سوال کے جواب میں مائیک پومپیو نے کہا کہ 2018کے دوران پاکستان کو بہت کم فنڈز جاری کیے گئے، باقی فنڈز کا جائزہ لیا جارہا ہے اور یہ فنڈز بھی کم ہی ہوں گے۔خارجہ امور کمیٹی کو بریفنگ میں مائیک پومپیو نے مزید کہا کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی کا معاملہ ان کے دل کے قریب ہے اور وہ یہ مقصد حاصل کریں گے۔ واضح رہے کہ امریکا میں پاکستانی سفارت کاروں پر سفری پابندی کے جواب میں حال ہی میں پاکستان نے بھی امریکی سفارت کاروں پر پابندیاں عائد کی ہیں، جن میں نقل و حرکت سے پہلے پاکستانی دفتر خارجہ سے اجازت، ایک سے زائد پاسپورٹ پر پابندی، سفارتخانے کی آفیشل گاڑیوں پر نان ڈپلومیٹک نمبر پلیٹ کی عدم اجازت اور بائیو میٹرک تصدیق کے بغیر

فون سمز جاری نہ کرنے جیسی پابندیاں شامل ہیں۔ دوسری جانب امریکا کی جانب سے پاکستانی سفارت کاروں پر لگائی جانے والی سفری پابندی کے مطابق سفارت کار بغیر اجازت نامے کے 25 میل سے باہر نہیں جاسکیں گے اور اس سے زائد نقل و حرکت کے لیے انہیں اجازت نامہ سفر سے 5 روز قبل لینا ہوگا۔۔امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے پاکستانی

سفارتکاروں پر پابندی کا اطلاق ان کے اہلخانہ تک بڑھا دیا گیا ہے۔یہ بھی واضح رہے کہ رواں برس یکم جنوری کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان مخالف ٹوئیٹ کے بعد سے دونوں ملکوں کے تعلقات تناؤ کا شکار ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے یکم جنوری کو ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں پاکستان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ ہم نے گزشتہ 15 سالوں کے دوران پاکستان کو 33 ملین ڈالر امداد دے کر حماقت کی جبکہ بدلے میں پاکستان نے ہمیں دھوکے اور جھوٹ کے سوا کچھ نہیں دیا۔بعدازاں اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے بھی پاکستان کی سیکیورٹی معاونت معطل کرنے کا اعلان کردیا جبکہ پاکستان کو مذہبی آزادی کی مبینہ سنگین خلاف ورزی کرنے والے ممالک سے متعلق خصوصی واچ لسٹ میں بھی شامل کردیا گیا۔ امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ہیدر نوئرٹ کا کہنا تھا کہ حقانی نیٹ اور دیگر افغان طالبان کے خلاف کارروائی تک معاونت معطل رہے گی۔دوسری جانب پاکستان نے امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں، لیکن امریکا اپنی ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈال رہا ہے۔

امریکہ نے پاکستان کومطلوب سب سے بڑے دہشتگردکے سرکی قیمت مقررکردی ،جوبھی اس کاپتہ بتائے گااس کوکتنی رقم ملے گی ،جان کرآپ کےہوش اڑ جائیں گے


واشنگٹن (ویب ڈیسک) امریکی حکومت نے کالعدم ٹی ٹی پی کے سربراہ ملافضل اللہ، دہشت گرد عبدالولی اورمنگل باغ کے سروں کی قیمت مقرر کردی ہے۔تفصیلات کے مطابق امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ ملافضل اللہ، منگل باغ اور جماعت الحرار کے سربراہ عبدالولی کی اطلاع دینے والوں کے لیے انعامات کا اعلان کردیا۔

امریکہ نے ملافضل اللہ کے حوالے سے اطلاع دینے والے کے لیے 50 لاکھ ڈالر جبکہ لشکراسلام کے سرغنہ منگل باغ اور کالعدم تنظیم جماعت الاحرار کے سربراہ عبدالولی کا پتا بتانے پر30 لاکھ ڈالر انعام کا اعلان کیا ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے ملا فضل اللہ نے آرمی پبلک اسکول پرحملے کا اعتراف کیا تھا جس میں معصوم بچوں سمیت 148افراد شہید ہوئے تھے، اس کے علاوہ کالعدم ٹی ٹی پی کے سربراہ نے 2010 میں ٹائمزاسکوائر نیویارک میں حملے کی کوشش کی تھی۔امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب پاکستان کی سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجنوعہ امریکہ سے بات چیت کے لیے واشنگٹن گئی ہیں۔خیال رہے کہ کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے سابق سربراہ حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد نومبر 2013 میں ملا فضل اللہ کو ٹی ٹی پی کا سربراہ منتخب کیا گیا تھا۔یاد رہے کہ 13 جنوری 2015 کو امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ ملا فضل اللہ کو عالمی دہشت گرد قرار دیا تھا۔

چین نے اچانک ہی دنیا کا خطرناک ترین ہتھیار آپریشنل کر دیا ساتھ ہی امریکہ کو پیغام دیتے ہوئے کیا اعلان کر دیا، بھارت کی بھی سٹی گم ہو گئی


بیجنگ (نیوزڈ یسک) چینی فضائیہ نے اعلان کیا ہے کہ اس کا نیا اسٹیلتھ لڑاکا طیارہ جے 20 اب جنگی مقاصد کے لیے تیار ہے اور فضائیہ کے حوالے کردیا گیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق چین کے صدر ملکی مسلح افواج کو جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس کرنے کے منصوبے کی نگرانی کررہے ہیں، جس میں اینٹی سیٹلائیٹ میزائل، آبدوزیں وغیرہ بھی شامل

 

ہیں۔ایک مختصر بیان میں چینی فضائیہ کا کہنا تھا کہ جے 20 کو لڑاکا یونٹس کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔بیان کے مطابق اس طیارے کی بدولت فضائیہ کی جنگی صلاحیت میں مزیداضافہ ہوگا جبکہ وہ ملکی خودمختاری، سیکیورٹی اور خطے کے دفاع کے لیے مقدس مشن مکمل کرسکے گی۔اس طیارے کو پہلی بار 2016 کے آخر میں ایک ائیر شو کے دوران پیش کیا گیا تھا جبکہ اس کی پہلی جھلک 2010 میں سامنے آئی تھی۔تاہم یہ طیارہ امریکا کے ایف 22 جیسی راڈار کو دھوکا دینے کی کتنی صلاحیت رکھتا ہے، وہ ابھی کہنا مشکل ہے۔چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق چین اس کے علاوہ ایک اور اسٹیلتھ لڑاکا طیارے جے 31 کو بھی تیار کررہا ہے جو کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں امریکی ایف 35 کو ٹکر دے گا۔

پاکستان کے دفاعی ،سفارتی اور معاشی ماہرین نے کہا ہے کہ بھارت امریکہ گٹھ جوڑ افغان امن میں رکاوٹ ہے


اسلام آ باد (نیو زڈیسک)پاکستان کے دفاعی ،سفارتی اور معاشی ماہرین نے کہا ہے کہ بھارت امریکہ گٹھ جوڑ افغان امن میں رکاوٹ ہے،امریکہ کی جانب سے افغانستان میں بھارتی کردار علاقائی سلامتی کیلئے خطرناک ہے،بھارت امریکہ گٹھ جوڑ پاکستان اور چین اور سی پیک کے خلاف ہے،امریکا کے سی پیک سے متعلق خدشات درست نہیں،افغانستان میں طالبان کو

نظر انداز نہیں کیا جا سکتا،افغانستان کے مسئلہ کا حل مذاکرات میں ہے،افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانا پڑے گا،واشنگٹن نے پاکستان کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کیا،پاک امریکہ طویل تعلقات کبھی اسٹرٹیجک مراسم میں تبدیل نہیں ہوئے ،جوہری پاکستان درست مگر روایتی عسکری قوت بھی ناگزیر ہے،امریکا اور بھارتی جارحیت کا جواب دینا ہوگا ،افغان مہاجرین کی واپسی کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے،کسی پاکستانی رہنما نے دہشت گردی کی جنگ میں اپنے نقصانات سے عالمی براداری کو آگاہ نہیں کیا، عالمی بینک اور آئی ایم ایف پر امریکہ اثر انداز ہوتا ہے ،پاکستان کو آئی ایم ایف سے مزید قرضوں کیلئے رجوع نہیں کرنا چاہئے،امریکہ پر انحصار ختم کرنا ہوگا۔جمعرات کو ان خیالات کا اظہارلیفٹینٹ جنرل ر ظہیر الاسلام ،امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر جہانگیر اشرف قاضی،سابق سیکریٹری دفاع لیفیٹننٹ جنرل ریٹائرڈ نعیم خالد لودھی اورسابق سیکرٹری خزانہ ڈاکٹر اشفاق حسن خان نے اسلام آ باد میں- —امریکہ کی جنوبی ایشیا پالیسی اور پاکستان کا جواب کے عنوان پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ لیفٹینٹ جنرل ر ظہیر الاسلام نے کہا کہ بھارت امریکہ گٹھ جوڑ افغان امن میں رکاوٹ ہے۔امریکہ کی جانب سے افغانستان میں بھارتی

کردار علاقائی سلامتی کیلئے خطرناک ہے۔بھارت امریکہ گٹھ جوڑ پاکستان اور چین کے خلاف ہے۔بھارت امریکہ گٹھ جوڑ سی پیک کیلئے بھی خطرناک ہے۔افغانستان میں طالبان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔افغانستان کے مسئلہ کا حل مذاکرات میں ہے۔افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانا ہی پڑے گا۔افغانستان میں امن جنگ سے نہیں لایا جا سکتا۔امریکہ میں

پاکستان کے سابق سفیر جہانگیر اشرف قاضی نے کہاکہ واشنگٹن نے پاکستان کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کیا۔پاک امریکہ طویل تعلقات کبھی اسٹرٹیجک مراسم میں تبدیل نہیں ہوئے۔پاکستان اور چین کے تعلقات پاک امریکہ تعلقات پر اثر انداز نہیں ہونا چاہئے۔امریکہ کے ساتھ تعلقات بہتر بنانا ہونگے۔خطے میں جنگ کے خطرات کم کرنا ہونگے۔بھارت کے ساتھ تعلقات

کو بہتر بنانا جنگ کو ٹالنے کے مترادف ہے۔جوہری پاکستان درست مگر روایتی عسکری قوت بھی ناگزیر ہے۔بھارت امریکہ کی گٹھ جوڑ نہیں اس میں افغانستان بھی شامل ہے۔پاکستان کی خارجہ پالیسی میں بھارت افغانستان اور امریکہ کے ساتھ بہتر تعلقات میں متقاضی ہے۔سابق سیکریٹری دفاع لیفیٹننٹ جنرل ریٹائرڈ نعیم خالد لودھی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ کشمیر ایک اہم مسئلہ ہے،کشمیریوں کی معاونت امریکا کے کہنے پر نہیں روک جاسکتی ۔

سی پیک پر پاکستان کو امریکا پر واضح کرنا ہوگا کہ یہ اقتصادی روٹ ہے ۔امریکا کے سی پیک سے متعلق خدشات درست نہیں۔امریکا اور بھارتی جارحیت کا جواب دینا ہوگا ۔بھارت کے ساتھ بات چیت کے لیے دروازہ کھولنا سفارت کاری کے لیے اہم ہے ۔افغان مہاجرین کی واپسی کے لیے اقدامات اٹھانے ہوں گے ۔اشرف غنی کی حکومت نمائندہ افغان حکومت نہیں۔

غیرملکی افواج کی موجودگی میں افغان امن عمل خواب ہی ہوگا ۔مذاکرات ہی امن کا باعث بن سکتے ہیں۔سابق سیکرٹری خزانہ ڈاکٹر اشفاق حسن خان نے کہاکہ پاکستان کو دہشت گردی سے 103 ارب ڈالرسے زائد کا نقصان ہوا۔امریکہ سے کولیشن اسپورٹ فنڈ کی مد میں ساڑھے 14 ارب ڈالر ملے۔کسی پاکستانی رہنما نے دہشت گردی کی جنگ میں اپنے نقصانات

سے عالمی براداری کو آگاہ نہیں کیا۔عالمی بینک اور آئی ایم ایف پر امریکی اثر انداز ہوتے ہیں ۔پاکستان کو آئی ایم ایف سے مزید قرضے کیلئے عالمی بینک رجوع نہیں کرنا چاہئے۔امریکی پالیسی پاکستان کیلئے 2005 سے تبدیل ہورہی تھی۔امریکی معاونت کے نعم البدل موجود ہیں۔امریکہ پر انحصار ختم کرنا ہوگا۔

امریکہ کے مشہور تھنک ٹینک سینٹر فار امریکن پراگریس میں امیگریشن پالیسی کے ڈائریکٹر جنرل فلپ وولجن نے کہاہے کہ


واشنگٹن(نیو زڈیسک ) امریکہ کے مشہور تھنک ٹینک سینٹر فار امریکن پراگریس میں امیگریشن پالیسی کے ڈائریکٹر جنرل فلپ وولجن نے کہاہے کہ صدرٹرمپ کے اسٹیٹ آف دی یونین سے خطاب میں جاری امیگریشن پالیسی قانون کا درجہ حاصل کر لیتی ہے تو اس سے امریکہ میں امیگریشن انتہائی محدود ہو جائے گی امریکی ٹی وی سے بات چیت کرتے

ہوئے انہوں نے کہاکہ اس پالیسی کی وجہ والدین کیلئے امریکہ میں اپنے بچوں کے پاس آنا ممکن نہیں رہے گا اور نہ ہی بہن بھائیوں کا یہاں آنا ممکن ہو سکے گا۔فلپ وولجن کا خیال ہے کہ اس پالیسی کے نتیجے میں امیگریشن کے ذریعے امریکہ آنے والوں کی تعداد میں ایک تہائی سے نصف حد تک کمی واقع ہو گی۔ یوں ان پابندیوں کے باعث سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں میں سیام فام، لاطینو اور ایشیائی امیگرنٹ شامل ہیں۔دوسری بات یہ ہے کہ ان پابندیوں کے نتیجے میں ٹرمپ انتظامیہ کو جنوب میں میکسیکو کے ساتھ سرحد پر دیوار تعمیر کرنے کیلئے مطلوبہ 25 ارب ڈالر کے مالی وسائل دستیاب ہو جائیں گے جس سے دیوار تعمیر کرنے کے علاو ہ اس کی نگرانی کیلئے مزید بارڈر پیٹرول اہلکاروں کو بھرتی کیا جا سکے گا۔

کشمیر اور خالصتان آزاد ، بھارت کے کئی ٹکڑے امریکہ سے آنیوالی خبر نے بھارت میں صف ماتم بچھا دی


اسلام آباد(نیوز ڈیسک)فری کشمیر اور فری خالصتان مہم یورپ کے بعد امریکہ پہنچ گئی، مودی سرکار کی نیندیں حرام، ’’را‘‘اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئی۔ تفصیلات کے مطابق یورپ کے بعد فری کشمیر اور فری خالصتان مہم امریکہ پہنچ گئی، واشنگٹن کی سڑکوں پر بینرز والی گاڑیوں نے بھارتی حکام کی نیندیں حرام کر دیں۔ کشمیری عوام اور لارڈ نذیر تن تنہا

 

بھارتی قوتوں کے سامنے سینہ سپر ہیں۔ بھارتی ظلم کے خلاف دنیا بھر میں آوازیں اٹھنے لگیں، فری کشمیر مہم کی حمایت میں بولنے اور عالمی برادری کی توجہ دلانے کیلئے لارڈ نذیر کی آواز دبانے کی بھی تمام کوششیں ناکام ہو گئیں۔ یورپ کے بعد امریکہ میں بھی بھارت کا مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے نے نقاب کرنے کیلئے مہم شروع ہو گئی ہے۔ واشنگٹن میں چلنے والی ٹیکسیوں پر فری کشمیر اور فری خالصتان کے بینرز آویزاں کر دئیے گئے۔ فری کشمیر کے نعروں سے سچی گاڑیاں امریکی شہریوں کی توجہ کا مرکز بن گئیں۔ واشنگٹن میں بھارتی سفارتخانے کے باہر پاکستانی و کشمیری کمیونٹی نے مظاہرہ بھی کیا۔ اس موقع پر مظاہرین نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و ستم کے خلاف نعرے بازی کی۔ بھارتی حکومت اور ’’را‘‘لندن میں فری کشمیر اور فری خالصتان مہم سے بوکھلائے ہوئے ہیں۔ انڈین ہائی کمیشن کے باہر احتجاج دبانے کیلئے مودی رکار کے حمایت یافتہ چیلوں نے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرنا شروع کر دئیے ہیں۔واضح رہے کہ کچھ دن قبل لارڈ نذیر کے گھر میں چوری کی واردات بھی ہوئی تھی جس میں چور اہم دستاویزات لیکر غائب ہو گئے تھے۔ لارڈ نذیر نے اس موقع پر واردات کا ذمہ دار’’را‘‘کو قرار دیا تھا۔ کشمیر اور خالصتان کی آزادی

 

کے حوالے دے دنیا بھر مین بھڑتے ہوئے رجحان پر اس وقت بھارتی سرکاری اور اس کی بدنامہ زمانہ خفیہ ایجنسی ’’را‘‘میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے اور قیاس ہے کہ اس طرح کی کارروائیاں بوکھلاہٹ میں کی جا رہی ہیں۔

فوج کا لڑاکا ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، دو اہلکار ہلاک


واشنگٹن (نیو زڈیسک )امریکہ کی فوج کا ایک لڑاکا ہیلی کاپٹر کیلیفورنیا کے علاقے میں گر کر تباہ ہو گیا جس کے نتیجے میں اس پر سوار دو فوجی اہلکار ہلاک ہو گئے۔فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل جیسن برآؤن نے ایک بیان میں کہا کہ جنوبی کیلیفورنیا میں فورٹ ارون میں واقع قومی تربیتی مرکز میں اے ایچ 64 اپاچی ہیلی کاپٹر کے گر کر تباہ ہونے کے

معاملے کی تحقیقات جاری ہے۔فوج کی ایک دوسرے ترجمان نے خبررساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ہیلی کاپٹر کا پائلٹ اور معاون پائلٹ ہلاک ہو گئے ہیں تاہم انہوں نے کہا کہ ان کے خاندانوں کو اطلاع دینے سے پہلے ان کے نام ظاہر نہیں کیے جا سکتے۔فورٹ کارسن میں فوج کی ترجمان برینڈی گل نے کہا کہ اس ہیلی کاپٹرکا عملہ فورٹ کارسن کولوراڈو میں تعینات تھا اور وہ تربیتی امور میں شرکت کے لیے موآوی صحرا میں مقیم تھے۔گل نے مزید کہا کہ کہ ہیلی کاپٹر مقامی وقت کے مطابق صبح ایک بجے گر کر تباہ ہوا۔

ایران کا کہنا ہے کہ امریکہ نے ایرانی عدلیہ کے سربراہ کے خلاف پابندیاں عائد کر کے حد پار کر دی ہے


تہران، واشنگٹن (نیو زڈیسک)ایران کا کہنا ہے کہ امریکہ نے ایرانی عدلیہ کے سربراہ کے خلاف پابندیاں عائد کر کے حد پار کر دی ہے۔ایرانی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ اس پر ردِعمل دیں گے تاہم انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ ردِعمل کس نوعیت کا ہوگا۔آیت اللہ صادق امولی لاریجانی ان 14 افراد اور اداروں میں شامل ہیں جنھیں مبینہ طور پر

ایرانی شہریوں کے حقوق کی پامالی کے الزام کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ادھر دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ کے مطابق وہ آخری بار ایرانی جوہری معاہدے کی توثیق کر رہے ہیں تاکہ یورپ اور امریکہ اس معاہدے میں پائے جانے والے سنگین نقائص کو دور کر سکیں۔امریکی صدر کی جانب سے ایران پر پابندیوں میں نرمی کی توثیق ہونے پر نرمی میں مزید 120 دن کا اضافہ ہو جائے گا۔جمعے کو امریکی صدر کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں ایران سے معاہدے پر نظرثانی کے حوالے سے کہا گیا کہ’ یہ آخری موقع ہے، اس طرح کا معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں امریکہ معاہدے( موجودہ) میں رہنے پر دوبارہ پابندیوں میں نرمی نہیں کرے گا۔‘بیان میں مزید کہا گیا کہ’ اگر کسی بھی وقت انھیں اندازہ ہوا کہ اس طرح کا معاہدہ نہیں ہو سکتا تو وہ معاہدے( موجودہ) سے فوری طور پر دستبردار ہو جائیں گے۔‘دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف کا کہنا ہے کہ’ یہ ایک ٹھوس معاہدے کو خراب کرنی کی مایوس کن کوشش ہے۔‘امریکہ چاہتا ہے کہ معاہدے میں موجود یورپی ممالک ایران پر یورینیئم کی افزدوگی پر مستقل پابندی عائد کریں جبکہ موجودہ معاہدے کے تحت یہ پابندی 2025 تک ہے۔وائٹ ہاؤس کے سینیئر اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اگر نیا معاہدہ نہیں کرتے تو یہ آخری موقع ہے جو صدر نے پابندیوں میں نرمی کی توثیق کی۔

یورپی طاقتوں کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ عالمی سلامتی کے لیے اہم ہے۔ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان طے پانے والے اس معاہدے سے ایران پر امریکہ اور عالمی طاقتوں کی جانب سے عائد پابندیوں کو معطل کیا گیا تھا جبکہ ایران نے اپنا جوہری پروگرام محدود کرنے

کی حامی بھری تھی۔تاہم امریکہ کی جانب سے دہشت گردی، انسانی حقوق اور بیلسٹک میزائل کی تیاری کے حوالے سے الگ سے پابندیاں تاحال قائم ہیں۔ امریکہ کی جانب سے ایران کی 14 شخصیات اور اداروں حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں، سینسر شپ اور ہتھیاروں کے

پھیلاؤ کا الزام عائد کرتے ہوئے مزید پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔امریکی کانگریس میں اس معاہدے کے ناقدین نے بھی ایسی قانون سازی کی تجویز پیش کی ہے جس سے ایران کی جانب سے مخصوص عمل کرنے کی صورت میں پابندیاں عائد کی جا سکیں۔دوسری جانب برطانیہ،

فرانس، جرمنی اور یورپی یونین کے وزرا خارجہ نے اپنے ایرانی ہم منصب محمد جواد ظریف سے جمعرات کو برسلز میں ملاقات کی ہے اور اس معاہدے پر قائم رہنے کی تائید کی ہے، جس کو چین اور روس کی حمایت بھی حاصل ہے۔ملاقات کے بعد نیوز کانفرنس میں یورپی یونین، فرانس اور جرمنی نے اس جوہری معاہدے کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔