شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

بڑے اور اعلیٰ پیمانے پر تقرریاں اور تبادلے ۔۔۔پنجاب میں آخر کیا چل رہا ہے ؟ بی بی سی کی خصوصی رپورٹ


لاہور (ویب ڈیسک) گذشتہ ہفتے وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی جانب سے یہ اشارہ دیا گیا کہ صوبہ پنجاب میں حکومتی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے انتظامی سطح پر افسران کی تقرریاں اور تبادلے کیے جائیں گے جس کے بعد رواں ہفتے آئی جی پنجاب اور چیف سیکرٹری پنجاب کو تبدیل کر دیا گیا۔

نامور صحافی ترہب اصغر بی بی سی کے لیے اپنی خصوصی رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو تحریک انصاف کی ڈیڑھ سالہ دور حکومت میں شدید تنقید کا سامنا رہا ہے جبکہ وزیراعظم عمران خان ہمیشہ ان کا دفاع کرتے دکھائی دیے اور وزیر اعلیٰ عثمان بزدار پر اعتماد کا اظہار کیا۔پنجاب حکومت کی کارکردگی پر اپوزیشن کی طرف سے تنقید کی جاتی ہے تاہم ہر مرتبہ حکومتی نمائندوں کی جانب سے یہ وضاحت سامنے آتی ہے کہ بیوروکریسی ہمارے ساتھ تعاون نہیں کر رہی جس کے باعث پنجاب میں پرفارم نہیں کر پا رہے۔اس بات کے پیشں نظر ڈیڑھ سال کے اس عرصے میں وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے پانچ آئی جی اور تین چیف سیکرٹری بدل ڈالے۔بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے حکومتی ترجمان فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھا: ’انتظامی سطح پر تقرری اور تبادلے ہونا معمول کی بات ہے اور پچھلے دور حکومت میں شہباز شریف یہی کرتے رہے ہیں۔’یہ وزیر اعلیٰ کا اختیار ہے کہ وہ جسے بھی چاہیں تبدیل کر سکتے ہیں۔‘ان کا کہنا تھا ’یہ تقرریاں اور تبادلے بزدار حکومت کو مزید مضبوط بنائیں گے اس لیے آئی جی اور چیف سیکرٹری کو تبدیل کیا گیا۔‘انھوں یہ بھی بتایا کہ بیوروکریسی میں 5 فیصد ایسے افسران موجود ہیں جو ہماری حکومت کو ناکام بنانا چاہتے ہیں اور حکومت کے لیے مسائل کھڑے کرتے ہیں۔انھوں نے مزید کہا ’پہلے ایسے افسران کی تعداد 95 فیصد تھی جن کی سیاسی وابستگیاں مسلم لیگ ن کے ساتھ تھیں اور انھیں شاید یہ غلط فہمی تھی کہ شہباز شریف کی حکومت واپس آئے گی۔

’بیوروکریسی کے ایسے تمام لوگوں کو سیدھا کرنے کے لیے یہ سب کچھ کیا جا رہا ہے۔‘ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں پہلی مرتبہ حکومت ملی ہے اس لیے ہمیں اتنے مسائل درپیش ہیں۔ ہم امید کر رہے ہیں کہ ان تبدیلیوں کے بعد بہتری آئے گی۔بیوروکریسی پر تنقید کرتے ہوئے انھوں نے کہا ’بیوروکریسی کے مخصوص افسران نے ’گو سلو‘ یعنی فائیلز کو آگے بروقت نا بھیجنا یا حکومتی پالیسوں پر عمل درآمد نہ کرنے کی پالیسی کے تحت کام کیا جس نے ہمیں بہت نقصان پہنچایا۔‘سابق سیکرٹری داخلہ تسنیم نورانی نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں حکومت کی ناقص گارکردگی میں کئی وجوہات شامل ہیں جس کی وجہ سے ان کو مسائل کا سامنا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ موجودہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی شخصیت سابق وزیراعلیٰ شہبازشریف سے بالکل مختلف ہے اور ان کی حکومت بہت کم مارجن سے اقتدار میں آئی ہے اور یہی سوچ لے کر وزیر اعلیٰ عثمان بزدار حکومت میں آئے ہیں۔انھوں نے کہا کہ جب آپ کمزور سوچ کے ساتھ کام شروع کریں تو انتظامیہ نہیں چل سکتی۔’اچھی انتظامیہ چلانے کے لیے میرٹ کا ہونا بہت ضروری ہے جبکہ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے اپنی سیٹ مستحکم رکھنے کے لیے ہر ایم پی اے اور ایم این اے کی سفارشات ماننا شروع کر دیں۔ جس کی وجہ سے ہر ادارے کی کارکردگی خراب ہونا شروع ہو گئی۔’اس کے علاوہ بیوروکریسی بھی نیب کے خوف سے ڈری ہوئی ہے اور وہ کوئی بڑے فیصلے کرنے کو تیار

نہیں۔‘جب بھی ان مسائل کا حل نکالنے کے لیے بیٹھتے ہیں تو ہمیشہ نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ حکومت کہتی ہے کہ ہم میں کوئی کمی یا خرابی نہیں ہے اور بیوروکریسی کام نہیں کر رہی اس لیے ان کو بدل دیتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ جتنے بھی افسر ابھی تک تبدیل ہوئے ان سب کا شمار قابل افسران میں ہوتا ہے مگر ہر دو تین ماہ بعد کسی نہ کسی بات پر حکومت اور ان کے درمیان تنازع کھڑا ہو جاتا ہے اور جو افسر اپنی بات پر ڈٹ جاتا یے اس افسر کو بدل دیا جاتا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کی انتظامی بد عملی کے باعث یہ تمام تبادلے کیے جا رہے ہیں۔سیاسی وابستگیوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا ’یہ تاثر انتہائی غلط ہے کہ تمام افسران مسلم لیگ ن کے نزدیک ہیں۔ بیوروکریسی کے لوگ سرکاری ملازم ہوتے ہیں اور وہ کسی سیاسی جماعت کے ساتھ قربت نہیں رکھ سکتے ہیں۔ سرکاری ملازم اپنے محکمے میں ہمیشہ ترقی چاہتا ہے۔‘اختیار سے متعلق بات کرتے ہوئے تسنیم نورانی کا کہنا تھا کہ حکومت کو پتا ہونا چاہیے کہ آئی جی پنجاب اور چیف سیکرٹری پنجاب کو تبدیل کرنے سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا کیونکہ جو طاقت اور اختیارات چیف سیکرٹری کے پاس ہوتے تھے اب ویسا نہیں رہا۔’اب تو تقرری اور تبادلہ ان کے اختیار میں نہیں ہے کیونکہ وہ بھی وزیر اعلیٰ آفس کرتا ہے اور ہمارے افسر اس کام کے لیے سیاستدانوں کی طرف دیکھتے ہیں۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ چیف سیکرٹری کے بدلنے سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ اس سیاسی مداخلت اور مسلسل تبدیلی کے باعث صرف نقصان ہو گا۔‘تاہم انھوں نے کہا کہ انتظامی معاملات کو صرف

اس صورت میں بہتر کیا جا سکتا ہے کہ اگر افسران کی تقرری میرٹ پر ہو، حکومت کی جانب سے سفارشات ختم کی جائیں، سیاسی مداخلت نہ ہو اور وزیر اعلیٰ خصوصی طور پر انتظامی معاملات پر توجہ دیں۔اگر کسی افسر کے بارے میں کوئی سنگین شکایت ہے تو لازمی اس کے خلاف ایکشن لیں۔بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے سابق آئی جی پنجاب شوکت کا کہنا ہے کہ تھا کہ یہ صرف بیڈ گورنس کے نتائج ہیں۔’اگر حکومت یہی فیصلہ ہی نہیں کر پا رہی کہ کس افسر کو تعینات کرنا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ فیصلہ سازوں کے ساتھ مسئلہ ہے۔‘سابق آئی جی نے کہا کہ حکومت کے خیال میں شاید یہ بات ہے کہ افسران حکومت نہیں بلکہ اپوزیشن پارٹیوں کے ساتھ زیادہ مخلص ہیں۔انھوں نے کہا کہ جتنے بھی آئی جی لگائے گئے وہ سب قابل افسر ہیں۔ جب بھی تعیناتی کی جاتی ہے تو سوچ سمجھ کر کی جاتی ہیں لیکن پنجاب میں ہر دو تین ماہ کے بعد انتظامی تبدیلی کر دی جاتی ہے۔انھوں نے کہا کہ پولیس کے حوالے سے جو مسئلے سامنے آئے تھے اس کی نشاندہی بھی کی گئی تھی جس کے بعد پولیس ریفارمز لانے کی تجویز تھی۔ اس معاملے کو بھی حکومت نے حل کرنے کے بجائے آئی پنجاب کو ایک مرتبہ پھر بدل دیا۔انھوں نے امید ظاہر کی کہ نئے آئی جی شعیب دستگیر کی تعیناتی کے فیصلے پر حکومت زیادہ وقت کے لیے قائم رہے گی۔تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے اس معاملے پر بی بی سے بات کرتے ہوئے کہا ’میرے خیال میں اصل مسلہ گورننس کا ہے۔ بیشتر مرتبہ آئی جی اور چیف سیکرٹری بدلے گئے لیکن یہ نہیں سوچا جاتا کہ کس کو بدلنے کی ضروت ہے۔‘’بیوروکریسی کو

بدلنے کے بجائے چیف ایگزیکٹیو کو بدلنا چاہیے جو یہ فیصلے کرتے ہیں یعنی بزدار صاحب۔ جب آپ جڑ کے بجائے پتوں کو کاٹتے رہیں گے تو اس سے معاملات کبھی ٹھیک نہیں ہوں گے۔‘انھوں نے مزید کہا کہ وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کا ابھی فہم اور ادراک زیادہ نہیں اور نا ہی تجربہ ہے۔سہیل وڑائچ نے کہا کہ ڈیڑھ سال گزرنے اور کوشش کے باوجود بھی وہ صوبے کو چلانے کے اہل نہیں ہو پائے ہیں۔ جس کی وجہ سے ان سے حالات سنبھل نہیں رہے۔’یہ جو بار بار حکومت کی جانب سے کہا جاتا ہے کہ بیوروکریسی ہمیں ناکام کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس بات کو کیسے مانا جا سکتا ہے کیونکہ ہر آنے والا افسر تو خراب نہیں ہو سکتا۔ اگر پھر بھی یہ سمجھتے ہیں کہ افسران کی سیاسی وابستگیاں ہیں اور یہ پھر بھی ایسے افسران کو تعینات کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان میں صحیح بندہ چننے کی اہلیت ہی موجود نہیں۔‘انھوں نے یہ بھی کہا کہ اس بات کا تعین کرنا انتہائی ضروری ہے کہ فیصلے کون کر رہا ہے اور وہ کہاں ہو رہے ہے۔’جب تک وزیراعظم عمران خان او ر وزیراعلی اس بات کو نہیں مانتے کہ مسئلہ کہاں ہے اور کس کا ہے تب تک کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔‘سہیل وڑائچ نے یہ بھی کہا کہ ’اس مرتبہ جس چیف سیکرٹری کو بزدار حکومت نے پنجاب میں تعینات کیا ہے وہ ایک مضبوط افسر ہے اور کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ وزیراعلیٰ سے زیادہ مضبوط ہو جائے۔‘(بشکریہ : بی بی سی)





اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ ترین خبریں

دلچسپ و عجیب

بزنس