شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

خان صاحب : تبدیلی کی ہنڈیا خراب ہو چکی ہے ، لیکن اب بھی اگر یہ ایک مصالحہ ڈال کر دیکھو تو بگڑا کام سنور سکتا ہے ۔۔۔۔۔ نامور صحافی کا عمران خان کے لیے خصوصی مشورہ


لاہور (ویب ڈیسک) امریکہ روانگی سے ایک دن قبل لاہور میں تحریک انصاف کے ایک بڑے عہدیدار سے فون پر بات ہوئی۔ تحریک انصاف کا یہ پرانا رہنما اور تنظیمی عہدیدار میرا بہت پرانا دوست ہے۔ تحریک انصاف کی پیدائش سے بھی کہیں پہلے کا۔ فون پر بات ہوئی تو میں نے چھوٹتے ہی پوچھا کہ کل

نامور کالم نگار خالد مسعود خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔آپ لوگوں کی پنجاب کی انتظامی صورتحال پر اعلیٰ سطحی میٹنگ میں سنا ہے عثمان بزدار کی انتظامی خوبیوں اور صلاحیتوں کے بارے میں جو گفتگو ہوئی‘ اس کے بعد عمران خان کا پنجاب میں انتظامی تبدیلیوں کے بارے میں بیان کا کیا مطلب ہے؟ میرا دوست پوچھنے لگا کہ اس بیان کے بارے میں کیا پوچھنا چاہتے ہو؟ میں نے کہا: میرا مطلب ہے کہ پنجاب میں انتظامی تبدیلیوں کے بارے میں بیان سے ہم کیا مفہوم نکالیں؟ کیا عمران خان پرکاش کور کو کرپان ماریں گے یا صوفہ بیچیں گے؟ میرا دوست ہنسا اور کہنے لگا: میں نے تمہارا دو ماہ پہلے والا کالم پڑھا تھا۔ اس حوالے سے ہم تو چاہتے ہیں کہ کرپان ہی استعمال ہو لیکن لگتا یہ ہے کہ فی الحال صوفہ ہی بیچا جائے گا۔ میں نے کہا: سنا ہے کہ اس میٹنگ میں ڈیرہ غازی خان میں ترقیاتی کاموں کے نام پر ہونے والے لمبے چوڑے خرچوں اور پنجاب کے دیگر علاقوں کے ترقیاتی فنڈز میں کٹوتیوں کے بارے میں کافی سخت قسم کے سوالات ہوئے ہیں؟ میرے اس دوست نے اس اطلاع کی بات پر پہلے تھوڑی سی خاموشی اختیار کی‘ پھر کہنے لگا کہ کم از کم ڈیرہ غازی خان کے حوالے سے تو ایسی کوئی بات نہیں ہوئی۔ میں نے کہا : اور جنوبی پنجاب کے حوالے سے؟ وہ کہنے لگا: اس بارے تھوڑی سی بات ہوئی تھی‘ مگر ایسی نہیں کہ اس پر کوئی خاص تلخی یا بدمزگی ہوئی ہو۔ آخر میں میں نے پھر ایک بار تصدیق کرنے کی

غرض سے پوچھا کہ آپ کا خیال ہے کہ فی الحال صرف صوفہ بیچنے سے کام چلایا جائے گا؟ وہ کہنے لگا: لگتا تو ایسے ہی ہے۔ میں نے پوچھا: یہ صوفے کب تک بیچے جائیں گے اور کتنے بیچے جائیں گے؟ میرا وہ دوست خوش دلی سے ہنسا اور کہنے لگا: لگتا ہے یہ آخری صوفہ ہے جس کے مقدر میں بکنا لکھا ہے۔ اس کے بعد امید ہے کہ پرکاش کور کو کرپان ماری جائے گی۔سو میرے اس دوست کی صوفہ بیچنے کی پیشین گوئی درست ثابت ہوئی ہے۔ اس بار بھی عثمان بزدار کی انتظامی ناکامی اور نا اہلی کا ملبہ چیف سیکرٹری پنجاب اور انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب کے کندھوں پر ڈال کر جناب عثمان بزدار کو ان کی انتظامی بلکہ بد انتظامی کے مکھن میں سے بال کی طرح نکال لیا گیا ہے۔ محترم عثمان بزدار اور چیف سیکرٹری پنجاب (فارغ شدہ) یوسف نسیم کھوکھر کی صلاحیتوں اور خوبیوں میں موازنہ کرنا بھی نہایت ہی نا معقول اور فضول قسم کی حرکت ہوگی۔ ایک بار میں نے اپنے ایک اور دوست سے جو بطور سرکاری افسر ای سی سی یعنی اکنامک کوآرڈی نیشن کمیٹی میں شرکت کرتا رہا تھا‘ پوچھا کہ اس کا اس کمیٹی کے حوالے سے بھی اور فنانس کے دیگر معاملات میں میاں نواز شریف سے بھی واسطہ پڑتا رہا ہے اور شاہد خاقان عباسی سے بھی۔ وہ ان دونوں کا موازنہ کریں تو کس کو کتنے نمبر دیں گے۔ میرا وہ دوست ہنسا اور کہنے لگا: ان دونوں میں کوئی موازنہ نہیں بنتا۔ موازنہ ملتی جلتی چیزوں کے درمیان ہوتا ہے۔ میں نے پوچھا : پھر بھی؟ میرا وہ دوست کہنے لگا:

آپ اب ایف سولہ اور گدھا گاڑی میں کیا موازنہ کر سکتے ہیں؟ یہ کہہ کر وہ ہنسا اور کہنے لگا: آپ سمجھدار ہیں۔ سمجھ تو گئے ہوں گے کہ ایف سولہ کون ہے اور گدھا گاڑی کون ہے؟ گزشتہ سے پیوستہ روز بھی یہی ہوا ہے کہ ایف سولہ کو واپس یارڈ میں بھجوا دیا گیا ہے کہ یہ ایف سولہ اڑ ہی نہیں پا رہا۔ حالانکہ اس میں ایف سولہ کا کوئی قصور نہیں تھا۔ وہ کیسے اڑتا؟ اگر آپ ایف سولہ کو اڑانے کی ذمہ داری کسی پائلٹ کے بجائے کوچوان کے سپرد کر دیں اور جہاز نہ اڑے تو جہاز بدلنے کے بجائے پائلٹ بدلنا چاہئے ‘مگر یہاں گزشتہ پندرہ ماہ سے کبھی جہاز بدلا جا رہا ہے اور کبھی گرائونڈ سٹاف۔ چوہدری بھکن کا کہنا ہے کہ اگر یہ پائلٹ اس جہاز کو اگلے سو سال میں بھی ٹیک آف دینے میں کامیاب ہو جائے تو اس کا نام بدل دیا جائے۔ گمان غالب ہے کہ چوہدری کو نام بدلنے کی نوبت نہیں آئے گی۔ہمارے ہاں سرکاری افسر کے ساتھ ایک بڑا المیہ ہے کہ اگر کوئی سرکاری افسر کسی ایک حکومت کے ساتھ بہت اچھا کام کر لے تو اس کی یہ خوبی اس کے لیے مصیبت بن جاتی ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ اس اچھا کام کرنے والے سرکاری افسر سے آئندہ آنے والی حکومتیں بھی کام لیں اور اس کی صلاحیتوں کو کماحقہ استعمال کریں‘ لیکن ہوتا اس کے بالکل برعکس ہے۔ اس افسر پر ٹھپہ لگ جاتا ہے کہ یہ فلاں سیاستدان یا فلاں سیاسی پارٹی کے ساتھ وابستہ ہے۔

میرا ذاتی تجربہ یہ ہے کہ بہت سے ایسے شاندار اور پیشہ ورانہ طور پر بڑے تجربہ کار افسر جو اپنے کام کو کسی حکومت کا نہیں بلکہ ”حکومت پاکستان‘‘ کا کام سمجھ کر بڑے پروفیشنل انداز میں کرتے تھے‘ آنے والی حکومتوں نے انہیں سابقہ حکومت کا افسر قرار دے کر کھڈے لائن لگا دیا۔ حالانکہ وہ افسر کسی سیاسی پارٹی یا سابقہ حکمران کا نہیں‘ حکومت پاکستان کا افسر تھا اور اسی کے لیے کام کرتا تھا۔ اگر آنے والی حکومت بھی اس سے اور اس کی صلاحیتوں سے کام لیتی تو وہ ان کے ساتھ بھی اسی دلجمعی اور خلوص کے ساتھ کام کرتے‘ جیسے وہ گزشتہ حکومت کے لیے کرتے رہے تھے۔ یہ افسروں کی ایسی قبیل ہے جو کسی خاص حکومت کے ساتھ نہیں بلکہ حکومت پاکستان کے ساتھ مخلص اور وفادار ہے‘ لیکن ہمارے ہاں ان پر ٹھپہ لگ جاتا ہے اور پھر وہ اس ٹھپے سے تا عمر چھٹکارا نہیں پا سکتے۔میرے ایک دوست شعیب بن عزیز اس کی بڑی عمدہ مثال ہیں۔ شعیب بن عزیز سے ہماری دوستی کی بنیادی وجہ تو ان کا شاعر ہونا ہے۔ کیا شاندار اور عمدہ شاعر ہیں۔ فی الوقت صرف دو شعر ؎اب اداس پھرتے ہو‘ سردیوں کی شاموں میں۔۔اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں۔۔لکھا رکھا ہے عہدِ ترکِ اُلفت۔۔مگر دل دستخط کرتا نہیں ہے۔۔ایک بہت عمدہ شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ حیرت اس بات کی ہے کہ وہ اپنے کام میں بھی بڑی ہی مہارت کے حامل ہیں۔ محکمہ اطلاعات میں دو بڑے انتظامی عہدے ہیں‘ ڈائیریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز اور سیکرٹری ا طلاعات۔

شعیب بن عزیز ان دونوں عہدوں پر رہے اور ایسے رہے کہ دوست ‘ دشمن سبھی ان کے کام کے معترف رہے۔ میاں شہباز شریف کے ساتھ کام کیا تو ایسے کہ میاں شہباز شریف کے سب سے اعتباری افسروں میں سے ایک ٹھہرے۔ پھر چوہدری پرویز الٰہی کے ساتھ کام کیا تو بھی اسی محنت‘ لگن اور خلوص کے ساتھ کیا جیسا کہ میاں شہباز شریف کے ساتھ کام کیا تھا۔ چوہدری پرویز الٰہی کی حکومت ختم ہوئی اور دوبارہ میاں شہباز شریف پنجاب کے وزیراعلیٰ بنے تو شروع شروع میں اسی مغالطے کا شکار ہو کر کہ یہ بندہ تو چوہدری پرویز الٰہی کا ہو گیا ہے‘ کنارہ کر لیا اور ایک عرصے تک کسی اہم جگہ نہ لگایا۔ پھر کسی سمجھدار نے مشورہ دیا کہ شعیب بن عزیز حکومت پاکستان کا وفادار ملازم ہے ‘اسے ضائع نہ کریں۔ پھر میاں شہباز شریف نے دوبارہ کام لینا شروع کیا تو بھی اسی محنت‘ خلوص‘ دلجمعی اور لگن سے کیا جو اِن کا خاصہ تھا۔ یہی حال یوسف نسیم کھوکھر کے ساتھ ہوا۔ پنجاب کے سب سے کامیاب وزیراعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی کے ساتھ بطور سیکرٹری کام کیا۔ تب چوہدری پرویز الٰہی کا پرنسپل سیکرٹری ایک اور شاندار بیورو کریٹ جی ایم سکندر تھا۔جی ایم سکندر کی ریٹائرمنٹ کے بعد یوسف نسیم کھوکھر نے پرنسپل سیکرٹری کے طور پر کام کیا اور چوہدری پرویز الٰہی کی کامیاب حکومت میں اپنا حصہ ڈالا۔ جب میاں صاحبان برسر اقتدار آئے تو اپنی منتقم المزاج طبیعت کے طفیل یوسف نسیم کھوکھر کو کھڈے لائن لگا دیا۔ کافی عرصے کے بعد کسی نے سمجھایا تو عقل آئی اور پھر پہلے سیکرٹری پانی و بجلی جیسی اہم پوسٹ پر لگایا اور بعد ازاں سیکرٹری داخلہ جیسی حساس اور اہم پوسٹ پر لگا دیا۔ چار روز قبل چیف سیکرٹری پنجاب کے عہدے سے فارغ کیا گیا تو الزام یہ بھی سننے میں آیا کہ یوسف نسیم کھوکھر کا تعلق چوہدری پرویز الٰہی سے رہا ہے۔ خود چوہدری پرویز الٰہی اس حکومت کے اتحادی اور سپیکر پنجاب ہیں اور ان کے ساتھ بارہ سال سال قبل بطور سیکرٹری وزیراعلیٰ پنجاب کام کرنے والے سرکاری افسر پر الزام ہے کہ وہ چوہدری پرویز الٰہی کا بندہ ہے۔ ایک نہایت شاندار افسر کو برصغیر پاک و ہند کے سب سے … چلیں جانے دیں فقرہ ادھورا ہی رہنے دیں تو اچھا ہے۔بس ایک بات لکھ لیں۔ اگلے پونے چار سالوں میں (اگر حکومت رہ گئی تو) دس آئی جی اور گیارہ چیف سیکرٹری بدل لیں تو بھی پنجاب حکومت کی کارکردگی بہتر نہیں ہو سکتی۔ ویسے عمران خان نے ماننا تو نہیں ہے لیکن ایک بار ایک بندہ تبدیل کر کے دیکھ لیں‘ نتائج نہ نکلیں تو چوہدری بھکن کا نام تبدیل کر دیں گے۔(ش س م)





اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ ترین خبریں

دلچسپ و عجیب

بزنس