شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

عمران خان نے اپنے ہی وزراء سے ’ٹکر‘ لے لی۔۔۔!!! اچانک ایسا فیصلہ کر لیا کہ پوری کابینہ سر پکڑ کر بیٹھ گئی


اسلام آباد (نیوز ڈیسک )وفاقی کابینہ نے سابق وزیراعظم نوازشریف سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں سابق وزیراعظم نوازشریف کی بیرون ملک روانگی سے متعلق مشاورت ہوئی۔ اس دوران کابینہ کے اراکیننے

لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج نہ کرنے کا مشورہ دیا۔ذرائع نے بتایا کہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں یہ متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ حکومت لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج نہیں کریگی۔ذرائع کے مطابق کابینہ ارکانسے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ عدالتوں کا
احترام کیا اور پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ عدالتوں کے فیصلے کو من و عن قبول کریں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ نوازشریف کی بیرون ملک روانگی پر انڈیمنٹی بانڈ کی شرط ان کی واپسی کو یقینی بنانے کیلئے رکھی تھی کیونکہ اب عدالت نے ضمانت لے لی ہے تو ہم پر امید ہیں کہ نوازشریف عدالتی فیصلے کو مانیں گے اور علاج مکمل کرنے کے بعد مقررہ وقت میں واپس آئیں گے۔عمران خان نے کہا کہ نوازشریف کو جانے کی اجازت اس لیے دی ہے کہ وہ اپنی مرضی کی جگہ اور ڈاکٹر سے علاج کرائیں تاکہ بروقت صحت یاب ہوں اور وطن واپس آکر اپنے خلاف مقدمات کا سامنا کریں۔دوسری جانب وفاقی کابینہ نے 8 نکات پر غور کیا اور تمام نکات کی منظوری بھی دی۔ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ نے نیشنل ٹیرف پالیسی

اور قابل تجدید توانائی پالیسی کی مںظوری دے دی ہے جبکہ اجلاس میں کابینہ کووزارتوں، ڈویڑن میں چیف ایگزیکٹو اور ایم ڈیز کی خالی آسامیوں کی رپورٹ پیش کی گئی۔وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا۔ جس میں 13 نکاتی ایجنڈے کا جائزہ لیا گیا۔اس موقع پر اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے اپوزیشن پر بھی کھل کرتنقید کی۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اپوزیشن کے آزادی مارچ کو عوام نے مسترد کردیا، اپوزیشن اب 4 سال مزید انتظار کرے۔ اپوزیشن کو عوامی حمایت حاصل نہیں، آزادی مارچ کو عوامی حمایت حاصل ہوتی تو 13 دن میں واپس نہ جاتے۔ وزیراعظم عمران خان نے وزراء کو عوامی رابطوں کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ معیشت آئی سی یو سے نکل کردرست سمت کی طرف چل پڑی ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کو توانائی منصوبوں اور توانائی پالیسی سے متعلق بھی بریفنگ دی گئی۔ وزیراعظم نے متبادل توانائی پالیسی لانے پر توانائی ٹیم کی تعریف کی۔ پہلے توانائی کے نام پر لوٹ مار کی جارہی تھی۔ پرانی توانائی پالیسی کے تحت 17روپے فی یونٹ بجلی تیار کی جارہی تھی۔ اب نئے معاہدے میں 6 روپے

35 پیسے کیے گئے ہیں۔ قدرتی ذرائع ، سولر، ونڈ اور ہائیڈل توانائی کو فروغ ملے گا۔انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کو خود مانیٹر اور کنٹرول کروں گا۔ ایسے اقدامات اٹھا رہے ہیں کہ اشیاء سستی ہوں اور کسانوں کو بھی فائدہ ہو۔ مصنوعی مہنگائی کی جڑ تک پہنچ گئے ہیں،سدباب کیلئے اقدامات اٹھا رہے ہیں۔ واضح رہے ملک میں مہنگائی دن بدن بڑھتی جارہی ہے۔ حکومتی معاشی ٹیم تاحال مہنگائی کا جن بوتل میں بند کرنے میں ناکام ہے۔ سبزیوں اور اشیائے ضروریہ عوام کی دسترس سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔ ایسے میں وزیراعظم عمران خان مہنگائی کنٹرول کرنے کا بیان حوصلہ افزا ہے۔





اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ ترین خبریں

دلچسپ و عجیب

بزنس