شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

نیب کی اب تک کی بڑی کارروائی ۔۔۔!!! اہم ترین شخصیت کو گرفتار کرلیا، پورا ملک حیرا ن


لاہور( نیوز ڈیسک ) نیب لاہور نے لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی سکینڈل میں سابق مینیجنگ ڈائریکٹر وسیم اجمل کو گرفتار کر لیا ،ڈی ایم جی گروپ کے گریڈ 20کے افسر پر ایک ارب سے زائد کی کرپشن کاالزام عائد کیا گیا ہے ۔ نیب ترجمان کے مطابق وسیم اجمل نے غیرقانونی طور پر 2014 میں میسرز البیراک نامی کمپنی کو ویسٹ مینجمنٹ کا انتہائی

مہنگے داموں ٹھیکہ دیا،آپس کی ملی بھگت سے لیبر کاسٹ کی مد میں ہی 1 ارب مالیت کی رقم کی کنٹریکٹرز کو ادا ئیگی کرائی گئی جبکہ کنٹریکٹ کی مطابق لیبر کی مکمل رقم کنٹریکٹر کوعلیحدہ سے واپس کی جانی تھی اور وسیم اجمل کنٹریکٹر کو لیبر کی مد میں ایک ارب کی دہری ادائیگی میں ملوث پائے گئے ۔ نیب ترجمان کے مطابق ملزم کی جانب سے جعلی ایگزیمپشن کے طور پر 96 ہزار امریکی ڈالرز کی چھوٹ بھی نوازی گئی۔وسیم اجمل نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے کمپنی سیکرٹری کی پوسٹ پر غیرقانونی بھرتی میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔دوسری جانب چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈجاوید اقبال نےکہا ہے کہ خواتین کو ڈھال کے طور پراستعمال کیا جاتا ہے، اب کسی خاتون کو دفتر نہیں بلایاجائے گا۔ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ یہ تاثر غلط ہے کہ نیب کا جھکاوکسی ایک طرف ہے۔ ہواوں کا رخ بدل رہاہے ۔تنقید کرنے والے زیادہ تر وہ لوگ ہیں جنہوں نے کبھی نیب سے متعلق قوانین تک نہیں پڑھے۔نیب نے سب سے پہلے بیس سے پچیس سال پہلے والے وہ کیسز نمٹائے جنہیں سب لوگ جانتے تھے۔ جنہیں بظاہراحتساب

کمیشن جانبدار نظرآرہا ہے ان کی شکایات کا ازالہ کیا جائے گا۔انہوں نے کہاکہ یہ توقع نہ رکھی جائے کہ صاحب اقتدار کے حوالے سے ہم اپنی آنکھیں بند رکھیں گے۔کوئی نہ سمجھے کہ وہ حکومت میں ہے تو بری الذمہ ہے۔ہماری طرف سے نہ ڈیل ہوگی نہ ڈھیل اور نہ ہی کوئی این آر او دیا جائے گا۔ نیب افسران بہترین کارکردگی دکھا رہے ہیں، دوہزار سترہ کے بعد سے کوئی بڑا کیس سامنے نہیں آیا۔ ناقدین کی غلط تنقید سے کسی کا قد کم نہیں ہوگا،لیکن تنقید برائے تنقید نہیں کرنی چاہئے۔انہوں نے کہا مجھ پر الزام تراشی، دھمکیوں یا لالچوں سے کام نہیں چلے گا۔انہوں نے کہا ان کی نہ کسی سے دوستی ہے نہ ہی دشمنی۔ہم نے قانون کے مطابق فیصلہ کرنا ہے۔ حکومتیں آنی جانی ہیں پاکستان نے ہمیشہ رہنا ہے۔بی آرٹی کیس کی بات کرتے ہوئے چیئرمین نیب نے بتایا کہ اس کیس میں سپریم کورٹ نے حکم امتناع دیاہواہے۔ انہوں نے کہا نیب پر سیاسی حملوں کاالزام لگانے والوں سے میراکوئی ذاتی جھگڑا نہیں ہے۔ہماری کسی سے دوستی یا دشمنی نہیں ہے۔ نیب پر تنقید کی کوئی شکایت نہیں ،ہر وہ شخص جو نیب کے ریڈار پر ہے وہ نیب کو اچھا نہیں کہے گاتاہم قوم سے اپیل ہے کہ وہ ان لوگوں کی باتوں پر دھیان نہ دیں جو لوگ خود ریڈار پرآنے کے بعد نیب پر تنقید کرنا شروع

کردی۔ نوے دن میں میگا کرپشن کی تحقیقات ممکن نہیں ہیں۔ حکومتوں کو کروڑوں روپے فنڈز دیئے گئے لیکن وہاں بجٹ خرچ نہیں ہوا بلکہ معصوم بچے کتوں کا شکاربن کر لقمہ اجل بن گئے۔ تو کیا ایسی چیزوں کی تحقیقات نہیں ہونی چاہئیں؟ چاہے وہ کسی بھی صوبے سے تعلق رکھتے ہوں۔ صوبے کا کارڈ نہیں کھیلنا چاہئے۔ ایک طرف ہسپتال کے ایک بستر پر چار چار لوگ ہیںتو دوسری جانب زکام پر بھی لوگ لندن جارہے ہیںتو ظاہرہے تحقیقات تو ہوں گی۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ انہوں نے اپنی منزل کا تعین کرلیا ہے اوران کی منزل بلاتفریق احتساب اور کرپشن فری پاکستان ہے۔ چیئرمین نیب نے عدلیہ سے اپیل کی کہ نیب کے مقدمات کو کم سے کم دوسال تک کی مدت میں مکمل کرنے کی کوئی ترتیب بنائی جائے۔ انہوں نے کہاججز کی تعداد کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔ چیئرمین نیب نے کہا عدالت میں ریفرنس دائر ہونے کے بعد نیب کا کام ختم ہوجاتا ہے اس کے بعد تمام تر مہ داری عدالت پر ہے، انہوں نے کہا مقدمات میں تاخیر کی ذمہ داری کسی بھی صورت میں نیب پر نہیں ڈالی جاسکتی۔ انہوں نے کہا لوگ اپنی خواتین کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔اب نیب کسی کے گھر جائے

گی تو خاتون افسر کو ساتھ لے کرجائے گی۔انہوں نے کہا اب نیب دفتر میں کسی خاتون کو نہیں بلایا جائے گا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پلی بارگین کاآپشن اب بھی موجود ہے اگر کسی سے کچھ ہوگیا ہے تو وہ آکر پلی بارگین کرلے۔





اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ ترین خبریں

دلچسپ و عجیب

بزنس