شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

بریکنگ نیوز : حکومت ہار گئی مولانا جیت گئے ، اہم ترین وفاقی وزیر مستعفی ہونے کر تیار


اسلام آباد (ویب ڈیسک) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے بیٹے مولانا اسعد محمود نے وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر و گلگت بلتستان علی امین گنڈاپور کا الیکشن لڑنے کا چیلنج قبول کر لیا ہے۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں آج حکومت اور اپوزیشن کے اراکین کے درمیان آزادی مارچ کے باعث تلخ کلامی ہوتی رہی۔ اسی دوران مولانا اسعد

محمود اور وفاقی وزیر علی امین گنڈاپور کے درمیان جملہ بازی اور تلخ کلامی بھی ہوئی، مولانا اسعد نے علی امین گنڈاپور کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہمیں بھی استعفیٰ دیتا ہوں، آپ بھی دیں،اب پیچھے نہیں ہٹنا،اعلان کریں استعفے کا اور کل الیکشن لڑتے ہیں۔ اس کے جواب میں علی امین گنڈاپور نے کہا کہ وہ آج بھی اپنے بیان پر قائم ہیں اور یہ کہ مولانا فضل الرحمان دھرنا ختم کریں، وہ کیمرے لگا کر الیکشن لڑیں گے۔ حکومت نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین کے حلقے سے الیکشن لڑنے کی پیشکش کر دی۔ یہ پیشکش سینیٹر شبلی فراز نے سینیٹ اجلاس کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو میں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان علی امین کے حلقے سے الیکشن لڑنا چاہیں تو ہم تیار ہیں، وہ استعفی دے دیں گے۔ مولانا فضل الرحمان مقابلہ کر کے دیکھ لیں۔ شبلی فراز نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے پیدا کیے گئے بحران کو حکومت حل کرنے کے لئے کوشاں ہے، ان کے پاس کوئی حکمت عملی نہیں ہے، وہ ضدی بچے کی طرح دوبارہ انتخابات کا مطالبہ

کر رہے ہیں۔ تحریک انصاف کے رہنما نے کہا کہ انتخابات بار بار کرانا کوئی مذاق نہیں، مولانا فضل الرحمان اگر اپنی پسند اور نتائج کا الیکشن چاہتے ہیں تو یہ بڑا مشکل ہے۔ خیال رہے کہ مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں آزادی مارچ 31 اکتوبر کو وفاقی دارالحکومت پہنچا جس کے بعد سے اس کے شرکا نے اسلام آباد میں دھرنا دیا ہوا ہے۔





اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ ترین خبریں

دلچسپ و عجیب

بزنس