شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

یہ مولانا اپنے موبائل پر مہر بخاری کو کیا دکھا رہے ہیں؟ نیا پنڈورا باکس کھل گیا، ناقابلِ یقین انکشافات


اسلام آباد (نیوز ڈیسک) 9 روز سے اسلام آباد میں بیٹھے جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان آزادی مارچ کی ناکامی پر حواس باختہ ہو گئے ہیں جس کی وجہ سے انہوں نے حکومت کے خلاف سخت زبان استعمال کرتے ہوئے حکومت کو دھمکیاں بھی دینا شروع کر دی ہیں۔ گذشتہ رات خاتون اینکر مہر بخاری سے بات کرتے ہوئے مولانا فضل

الرحمان نے حکومت کے خلاف کافی سخت زبان استعمال کی اور ایک مرتبہ پھر سے وزیراعظم عمران خان کے استعفے اور ملک میں نئے انتخابات کروانے کا مطالبہ کیا۔گذشتہ رات مولانا فضل الرحمان کے اس انٹرویو کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہو رہی ہے۔ اس تصویر میں مولانا فضل الرحمان مہر بخاری کو اپنے موبائل فون پر کچھ دکھا رہے تھے۔اس تصویر میں دونوں کے چہرے کے تاثرات کو دیکھ کر سوشل میڈیا صارفین نے ایک نئی بحث کا آغاز کر دیا ہے اور اب اس حوالے سے قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ آخر مولانا فضل الرحمان مہر بخاری کو اپنے موبائل فون پر کیا دکھا رہے تھے ؟ تصویر میں دیکھا گیا کہ مولانا فضل الرحمان قدرے اطمینان سے مہر بخاری کو اپنے موبائل فون پر جب کھچ دکھا رہے تھے تو ایسے میں مہر بخاری کے چہرے کے تاثرات ایسے ہیں جیسے وہ حیران ہو رہی ہوں یا پھر انہیں اپنی آنکھوں پر یقین نہ آ رہا ہو۔اب مولانا فضل الرحمان مہر بخاری کو موبائل فون پر کیا دکھا رہے تھے یہ تو وہی بتا سکتے ہیں لیکن اس تصویر کی صورت میں سوشل میڈیا صارفین کو تبصروں کے لیے ایک نیا موضوع مل گیا ہے جس پر ہر سوشل میڈیا صارف

اپنی اپنی سیاسی بصیرت کے حساب سے تبصرے اور قیاس آرائیاں کر رہا ہے۔ یاد رہے کہ جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حکومت کو دھمکی دی تھی اورکہا تھا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ کسی مذاکرات کی ضرورت نہیں ہے، ہمارے پاس آنے کی بھی کوئی ضرورت نہیں، بے معنی آنا جانا نہیں ہونا چاہیے، آؤ تواستعفیٰ ساتھ لے کر آؤ اور اقتدار کے ایوان کو چھوڑنے کا اعلان کرکےآؤ، ہم نے بڑی جرات اور ہمت کے ساتھ یہ سفر شروع کیا ہے اور اپنی منزل سے کم پر ہم راضی ہونے والے نہیں۔انہوں نے کہا تھا کہ اگر مطالبات نہ مانے گئے تو پورے ملک کی شاہراہوں کو بند کر دیں گے ، ہم گولیاں کھا کر شہید ہو جائیں گے اور نعشیں اُٹھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس استعفے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں، اب آپ بند گلی میں ہو، یہ آپ کا فیصلہ ہے کہ بند گلی میں سانس لینا ہے یا باہر آنا ہے۔





اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ ترین خبریں

دلچسپ و عجیب

بزنس