شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

ہم سرد ی میں مر رہے ہیں اور مولانا کنٹینر میں حلوہ انجوائے کر رہے ہیں۔۔۔!!!


اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) جمعیت علمائے اسلام کے دھرنے میں حیرت انگزی صورتحال پیدا، شرکاء مولانا کے رویے سے دلبرداشتہ ہونا شروع، شرکاء نے واپسی کا سفر شروع کر دیا ۔ تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی رانا عظیم نے اس حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ آزادی مارچ میں اس وقت حیرت انگیز صورتحال پیدا ہوچکی ہے کیونکہ آزادی مارچ میں شریک

شرکاء کا ایک بہت بڑا مجمہ واپس جاچکا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ رائیونڈ مارچ کے دوسرے مرحلے کا آغاز ہوچکا ہے یہ تبلیغی اجتماع کا آخری مرحلہ ہے اس میں لوگوں نے کثیر تعداد میں شرکت کرنی ہے، اب اگر کوئی میڈیا کا نمائندہ یا میرا کمیرہ مین وہاں جا کر کوریج کرے تو حقائق کا اندازہ ہو کہ کس طرح لوگ آزادی مارچ سے واپس آرہے ہیں، محکمہ موسمیات کی جانب سے آنے والے دنوں میں اسلام آباد اور گرد و نواح میں مزید بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے جسکی وجہہ سے آزادی مارچک مزید مشکلات کا شکار ہوگا۔ رانا عظیم کا کہنا تھا کہ آزادی مارچ میں شریک بہت سے لوگ تو اس وقت سے مایوس ہیں کہ ہم یہاں سردی میں ٹھٹھر رہے ہیں اور مولانا خود کنٹینر میں بیٹھے حلوے کھا رہے ہیں، یہاں ےتک بتایا جا رہا ہے کہ آزادی مارچ میں جمعیت کا کوئی بھی سینئر رہنماء موجود نہیں ہے، یہی وجہ تھی کہ مولانا کے صاحبزادے جب آزادی مارچ میں شرکت کے لیے پہنچے تو جہاں لوگ پہلے انکے ہاتھ چومتے تھے اب انہیں ایسا نہیں ملا جسکی وجہ سے انہیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑا، قصہ مختصر یہ ہی ہے کہ دھرنا 9 نومبر سے پہلے پہلے ختم

ہو کر رہے گا۔ خیال رہے کہ رانا عظیم کی جانب سے اس قبل بھی دعویٰ کیا گیا تھا کہ جب مولانا فضل الرحمان لاہور میں داخل ہوئے تھے انکے ساتھ 30 ہزار سے زائد کا مجمع تھا لیکن جیسے ہی وہ لاہور سے باہر نکلے تو تعداد کم ہو کر 6 سے ساتھ ہزار لوگوں تک رہ گئی تھی۔





اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ ترین خبریں

دلچسپ و عجیب

بزنس