شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

لڑائی براہِ راست مولانا فضل الرحمان اور اداروں کے درمیان شفٹ، اب پاکستانی سیاست میں کیا ہونے والا ہے؟


اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) معروف صحافی جاوید چوہدری کا کہنا ہے کہ میں مولانا کی ایک خوبی کا اعتراف کرنا چاہوں گا کہ ہم مولویوں کو غیر تہذیب یافتہ اور ان پڑھ سمجھتے ہیں لیکن ہم نے آزادی مارچ میں علماء کرام، مدارس کے طلباء اور مذہبی طبقے کا ایک نیا روپ دیکھا۔مولانا فضل الرحمن کا مارچ کراچی سے شروع ہوا اور یہ ساڑھے چودہ سو کلومیٹر کا

فاصلہ طے کر کے اسلام آباد پہنچا۔مولانا کے آزادی مارچ نے واقعی راستے میں کوئی پتا توڑا اور نہ ہی کوئی گملا ٹوٹا۔پوری قوم نے دیکھا کہ لاہور میں میٹرو کے ٹریکس پر بھی لوگ موجود تھے اور پلوں پر بھی ،تقریریں بھی چل رہی تھیں اور میٹرو بھی رواں دواں تھی۔جاوید چوہدری مزید لکھتے ہیں2014ء کا دھرنا یاد ہوگا،ملک کی مہذب ترین جماعتوں کے لیڈروں اور کارکنوں نے اس میں کیا کیا تھا؟۔طاہر القادری اور عمران خان دونوں نے ریڈزون کی مت مار کر رکھ دی تھی،خندقیں کھودی گئی تھیں،قبریں بھی اور درخت اور پودے بھی برباد کیے گئے تھے۔سرکاری املاک کو بھی نقصان پہنچایا گیا تھا۔پانی کی مین لائن تک توڑ دی گئی تھی۔2014ء کے دھرنے کو قوم نے برداشت کیا جب کہ مولانا کے ضبط نے لوگوں کو حیران کر دیا۔کاش پاکستان کی تمام تحریکیں،تمام مارچز اور تمام دھرنوں میں یہی اسپرٹ ہو،ہم سب اتنے مہذب ہو جائیں گے۔مولانا کرنا کیا چاہتے ہیں؟۔ہم اب اس طرف آتے ہیں،میرا خیال ہے مولانا ریڈزون جائیں گے، اور وفاقی وزیراعظم سکریٹریٹ ، وزیراعظم ہاؤس اور ایوان صدر کا گھیراؤ بھی کریں گے۔اور اگر حکومت نے ان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی تو یہ

ملک جام کر دیں گے،حکومت کی کوشش ہے یہ خود درمیان سے نکل جائے اور یہ لڑائی مولانا اور اداروں کے درمیان شفٹ ہو جائے۔اگر یہ ہو گیا تھا ملک کی بہت بڑی بدقسمتی ہو گی پھر مولانا ایک استعفے تک محدود نہیں کریں گے۔یہ مزید استعفوں کا مطالبہ کریں گے۔یہ نام لے کر خوفناک تقریریں کریں گے اور ٹیلی ویژن چینلز یہ تقریریں دکھانے پر مجبور ہو جائیں گے اللہ ہمیں اس وقت دے بچائے۔





اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ ترین خبریں

دلچسپ و عجیب

بزنس