شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

دھرنے میں دن بدن شرکاء کی تعداد کم، فضل الرحمان نے اپنے ساتھیوں کو کیا حکم جاری کر دیا؟


اسلام آباد (نیوز ڈیسک) جمیعت علمائے اسلام (ف) کے آزادی مارچ کے شرکا اسلام آباد میں کشمیر ہائی وے پر دھرنا دے کر بیٹھے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان کے پاس دھرنے کا کوئی قابل قبول جواز نہیں ہے۔ جبکہ حکومت کی مذاکراتی کمیٹی اور رہبر کمیٹی کے مابین بھی بدستور ڈیڈ لاک جاری ہے اور مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔تاہم اب یہ خبر سامنے

آئی ہے کہ حکومت سے زیادہ مولانا فضل الرحمان کو دھرنا ختم کروانے کی جلدی ہے اور وہ خواہشمند ہیں کہ دھرنا جلد از جلد ختم کر دیا جائے۔ اس حوالے سے قومی اخبار میں شائع رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ مصدقہ ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے اپنے قریبی ساتھیوں کو اسلام آ باد میں جاری دھرنا جلد ختم کرنے کے حوالے سے محفوظ راستہ تلاش کرنے کا عندیہ دے دیا ہے ۔دھرنے میں مظاہرین کی تعداد روز بروز کم ہونے کی بنا پر فضل الرحمان اور ان کے قریبی ساتھیوں نے تیزی سے کام شروع کر دیا ہے تاکہ دھرنا ختم کنر کے لیے جلد از جلد ان کو کوئی محفوظ راستہ ملے۔ فضل الرحمان اور قریبی ساتھیوں کے ایک مشترکہ اجلاس میں کہا گیا کہ رائیونڈ اجتماع کا پہلا مرحلہ ختم ہونے پر اُمید تھی کہ 20 سے 25 ہزار لوگ وہاں سے فارغ ہو کر دھرنے میں آ ئیں گے اور اس کیلئے فضل الرحمان نے ویڈیو پیغام بھی جاری کیا تھا اور لوگوں کو آزادی مارچ میں لانے کے لیے رابطے بھی کئے گئے تھے ۔لیکن جب آزادی مارچ کراچی سے آزادی مارچ لاہور پہنچا تھا تو اس میں سے ایک بہت بڑی تعداد اسلام آ باد ساتھ جانے کے بجائے رائیونڈ اجتماع میں چلی گئی تھی۔ مولانا

فضل الرحمان اور ان کے ساتھیوں کو یہ اعتماد تھا کہ یہ لوگ اجتماع ختم ہوتے ہی دھرنے میں شمولیت اختیار کر لیں گے اور دھرنے میں تعداد بڑھنے سے حکومت پر دباؤ بھی آئے گا اور سیاسی پوزیشن بھی بہتر ہو گی۔لیکن جب رائیونڈ اجتماع کے بعد وہاں سے کوئی قافلہ اسلام آ باد نہیں پہنچا اور اے این پی کے کارکن بھی واپس چلے گئے، مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی بھی دھرنے میں نہ بیٹھی اور خود فضل الرحمان کے ساتھ آ ئے بہت سے افراد بھی واپس چلے گئے جبکہ رائیونڈ اجتماع کا آ خری مرحلہ 7 سے 10نومبر تک ہو رہا ہے تو اب یہ خدشہ بڑھ گیا ہے کہ دھرنے میں بیٹھے افراد کی بہت بڑی تعداد جو پہلے مرحلے میں نہیں جا سکی اب وہ رائیونڈ اجتماع میں چلی جائے گی ۔دھرنے کی تعداد میں اچھی خاصی کمی سے سیاسی ماحول اور حکومت مخالی تحریک مزید خراب ہو گی ۔ فضل الرحمان کے قریبی ساتھیوں نے میٹنگ میں یہ بھی کہا کہ اگر تعداد کم ہو جاتی ہے تو پھر ایک ہی صورت میں ہماری سیاسی پوزیشن اور عزت رہ سکتی ہے کہ کوئی ٹکراؤ کی صورتحال پیداہو جائے ، تو پھر ہمیں ہمدردیاں مل سکتی ہیں۔ مگر حکومت اور حکومتی ادارے ہمارے یہاں بیٹھنے سے

پریشان ہیں نہ وہ ہمیں تنگ کر رہے ہیں، ایسے لگتا ہے جیسے حکومت ہم سے زیادہ ان معاملات سے بخوبی واقف ہے ۔کچھ ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان موجودہ صورتحال سے خود بھی پریشان ہیں اور اب فیس سیونگ ڈھونڈ رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے حکومت کی اتحادی جماعت مسلم لیگ ق کے رہنماؤں چودھری شجاعت حسین اور چوھری پرویز الٰہی سے ملاقات کی حامی بھری تھی ۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ چودھری برادران مولانا فضل الرحمان کو دھرنا ختم کرنے پر آمادہ کرنے پر راضی ہو جائیں گے کیونکہ اس وقت شرکا کی تعداد کم ہونے کے خدشے کے پیش نظر خود مولانا فضل الرحمان بھی کسی فیس سیونگ کی ہی تلاش میں ہے کہ ان کو کوئی موقع ملے اور وہ دھرنا ختم کرنے کا اعلان کر دیں۔





اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ ترین خبریں

دلچسپ و عجیب

بزنس