لاہوریوں کا انتظار ختم۔۔۔!!! کتنے دنوں بعد لاہور میں ’ اورنج لائن میٹرو ٹرین‘ کے افتتاح کا اعلان کر دیا


لاہور (نیوز ڈیسک ) وزیراعظم نے خود اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبے کے افتتاح کی حتمی تاریخ کا اعلان کردیا، عمران خان کا کہنا ہے کہ لاہور میں زیر تعمیر منصوبہ 10 دسمبر کو چلا دیا جائے گا، اس منصوبے کی وجہ سے پنجاب حکومت کو سالانہ اربوں روپے کا خسارا ہوگا، منصوبے کے خسارے کو کم کرنے کیلئے منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔تفصیلات کے

مطابق انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئی ہیں اور بالآخر پنجاب کے دارالحکومت لاہور کی تاریخ کے سب سے بڑے اور مہنگے منصوبے اورنج لائن میٹرو ٹرین کے افتتاح کی تاریخ کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ اورنج لائن میٹرو ٹرین اب سے چند روز بعد چل پڑے گی۔ اس بات کا باقاعدہ اعلان خود وزیراعظم عمران خان نے کیا ہے۔ لاہور کے مختصر دورے کے موقع پر وزیراعظم نے اعلان کیا ہے کہ اورنج لائن میٹر ٹرین منصوبہ 10 دسمبر کو شروع ہو جائے گا۔10 دسمبر کو اورنج لائن میٹرو ٹرین چل پڑے گی۔ وزیراعظم کا کہنا ہے کہ اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبہ مہنگا ترین منصوبہ ہے جس پر پنجاب حکومت کو اربوں روپے کے سالانہ خسارے کا سامنا کرنا ہوگا۔ تاہم ہم منصوبہ بندی کر رہے ہیں کہ کیسے اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبے کا خسارا کس طرح کم کیا جائے۔ واضح رہے کہ اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبہ سابق وزیراعلی پنجاب شہباز شریف کی جانب سے 2015 میں شروع کیا گیا تھا۔یہ منصوبہ سی پیک کے تحت شروع کیا گیا تھا جو 1 ارب 60 کروڑ ڈالرز کی لاگت سے تعمیر کیا جانا تھا۔ تاہم بعد ازاں مختلف وجوہات کی بنا پر منصوبے میں تاخیر ہوئی اور اس باعث اس

کی کل لاگت میں اربوں روپے کا اضافہ بھی ہوا۔ تاہم اب تحریک انصاف کی حکومت نے اس منصوبے کا 10 دسمبر کو افتتاح کرنے کا اعلان کیا ہے۔

قیام بڑھ گیا۔۔۔!!! 4 ہفتوں کے لیے جانے والے نواز شریف اب لندن میں کتنا عرصہ رُکیں گے؟ فیصلہ ہوگیا


لاہور(نیوز ڈیسک) طبی وجوہات پرنواز شریف نے بیرون ملک قیام میں توسیع کا فیصلہ کرلیا ۔نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق نواز شریف نے طبی وجوہات پر بیرون ملک قیام میں توسیع کا فیصلہ کیا ہے، نوازشریف چار ہفتوں کی مدت مکمل ہونے کے بعد بھی ملک واپس نہیں آئیں گے۔برطانوی ڈاکٹرز نے کے مطابق نوازشریف کے طبی معائنے اور ٹیسٹ

مکمل ہونے میں کئی مہینے لگ سکتے ہیں۔اپوزیشن لیڈر شہبازشریف نے طبی بنیادوں پر کیس کی تیاری کیلئے اپنے وکلاء کو ہدایت کردی ہے۔طبی صورتحال کی دستاویزات حکومت کیساتھ ہائیکورٹ میں بھی جمع کرائی جائیں گی۔ یاد رہے کہ سابق وزیراعظم نوازشریف کو طبی بنیادوں پر علاج کیلئے چار ہفتوں کی مدت دی گئی تھی جو 17 دسمبر کو ختم ہو رہی ہے۔یادرہے لاہور ہائیکورٹ کے دو رکنی بنچ نے پاکستان مسلم لیگ (ن)کے قائد ، سابق وزیر اعظم نواز شریف کو علاج کے لیے غیر مشروط طور پر چار ہفتوں کیلئے بیرون ملک جانے کی اجازت دی تھی۔فاضل عدالت نے وفاقی حکومت کی ساڑھے 7 ارب روپے کے انڈیمنٹی بانڈز کی شرط کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جب ہائیکورٹ نے ضمانت دی تھی تو اس شرط کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ لاہور ہائیکورٹ نے حکم میں کہا تھا کہ نواز شریف علاج کی خاطر چار ہفتوں کیلئے ملک سے باہر جاسکتے ہیں اور علاج کے لیے مزید وقت درکا ہوا تو درخواست گزار عدالت سے دوبارہ رجوع کرسکتا ہے اور میڈیکل رپورٹس کی روشنی میں توسیع دی جاسکتی ہے۔تاہم اب برطانوی ڈاکٹرز کی ہدایت پر سابق وزیراعظم نوازشریف نے

لندن قیام میں توسیع کا فیصلہ کیا ہے۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے طبی معائنے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔

آصف زرداری کی ’بارگین‘ کا نتیجہ کب تک سامنے آنے والا ہے اور حکومت کو کتنا پیسہ ملنے والا ہے؟ پیشگوئی کر دی گئی


لاہور( نیوز ڈیسک) وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے پنجاب حکومت کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ لوگوں نے بھی اس معاملے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے ،آرمی چیف کی مدت میں توسیع چھ مہینے نہیں بلکہ چھ ہفتوں میں ہو جائے گی۔ایک رائے ہے کہ یہ کام ایکٹ کے ذریعے سادہ اکثریت سے ہو سکتا ہے لیکن اگر آئین میں

ترمیم کی بھی ضرورت ہوئی تو یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار واضح اکثریت سے پاس ہو گی ،آرمی چیف کو تین سال مل گئے ہیں اور ہمارےبھی تین سال باقی ہیں ،آصف زرداری کی بارگین کا مارچ تک نتیجہ نکل آئے گا ، اس کے بعد تازہ کیس آ جائیں گے اور پرانے اپنی موت آپ مر جائیں گے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ریلوے ہیڈ کوارٹر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔ شیخ رشید احمد نے کہا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کرتار پور راہداری کے ذریعے بھارت کو ایسا زخم لگایا ہے جسے وہ ساری زندگی یاد رکھے گا ۔ اس اقدام سے سکھوں کے دلوں میں پاکستان کے لئے جذبات اور خوش دلی کی فضاء پیدا ہوئی ہے ۔ افغانستان میںامن کوبہتر بنایا گیا جس کا کریڈٹ بھی جنرل قمر جاوید باجوہ کو جاتا ہے ، افغان کسی قیمت پر باڑ لگانے کی اجازت دینے کیلئے تیار نہیں تھے لیکن پھر انہوں نے باڑ لگانے کی اجازت دی ، چین سے تاریخی تعلقات بنائے اور آئندہ چند روز تک ایم ایل ون کا آغاز ہونے جارہا ہے ، سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات ااور ایران سے نئے تعلقات کا سگ بنیا د رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ جمہوریت کی کامیابی کے لئے وزیر

اعظم عمران خان اور حکومت کے شانہ بشانہ ہیں ۔آرمی چیف کی مدت میں توسیع کے لئے چھ ماہ کی مدت دی گئی ہے لیکن اس کا چھ ہفتوں میں فیصلہ ہوگا اور اس حوالے سے پیدا کیا گیا ہیجان دم توڑ گیا ہے ۔ انہوں نے شہباز شریف کی جانب سے وزیر اعظم عمران خان کو چیف الیکشن کمشنر کے تقرر کے حوالے سے لکھے گئے خط کے سوال کے جواب میں کہا کہ چلیں شہباز شریف کو بھی عمران خان کو خط لکھنے کی عادت پڑنا شروع ہو گئی ہے ، بیمار نواز شریف ہیں اور لندن میں چھٹیاں شہباز شریف منا رہے ہیں۔جب شہباز شریف ہیٹ کے ساتھ لندن جائے تو مجھے ڈر لگتا ہے کہ یہ کوئی نہ کوئی کارروائی ڈالے گا اور تھوڑے عرصے بعد یہ سامنے آ جائے گا ۔ انہوںنے کہا کہ لندن میں چاقو بردار کا معاملہ کہیں ہوا اور اسے کہاں جوڑ دیا گیا کیا خبروں کی اتنی اداسی او رقحط پڑ گیا ہے ۔ میں نے تو کئی ماہ پہلے کہا تھاکہ نواز شریف کو جانے دیں اور ہمارا وقت سکھ سے گزرے گا۔ انہوں نے کہا کہ آصف زرداری کی پلی بارگین کا بھی مارچ تک نتیجہ نکل آئے گا ۔پھر تازہ کیس آ جائیں گے او رپرانی اپنی موت آپ مر جائیں گے ۔ آرمی چیف کو تین سال مل گئے ہیں اور ہمارے بھی تین

سال باقی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کو کھلی چھوٹ دیدی ہے اور وہ جمعہ جمعہ کھیلتے رہیں ، وہ جس دن بھی جلسہ کریں سمجھیں اس دن جمعہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ فروغ نسیم اہل قانون دان ہیں اور غلطی ان کی طرف سے نہیں ہوئی اور یہ تاثر غلط ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو کے بعد عمران خان نے بڑی تبدیلیاں کی ہیں ۔ذوالفقار بھٹو نے اپنے دور میں جوڈو کراٹے اور بنکاک کے شعلے چلائے لیکن عمران خان نے تو بغداد کی راتیں بھی چلا دی ہیں ۔ انہوں نے پنجاب میں بیورو کریسی اور پولیس افسران کی تبدیلی کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ لوگوں نے پنجاب حکومت کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار نہیں کیا ، میرے بھی تحفظات ہیں ۔ یہاں امن و امان او رمہنگائی کا مسئلہ ہے ، عثمان بزدار نے سیکھ لیا ہے او راب وہ مسائل حل کریں گے ۔پنجاب میں ٹیم عثمان بزدار کے انڈر ہی کھیلے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ساری قو م چین اور سی پیک کے ساتھ ہے او راس حوالے سے حالیہ دنوں میں جو باتیں سامنے آئیں وہ بین الاقوامی سازش تھی لیکن اسے ناکام بنایا گیا ہے ۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ چین کی دوستی کو پس پشت ڈالا جا سکتا ہے تو وہ

عقل کا اندھا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ یونینز کی مکمل حمایت کرتا ہوں کیونکہ پابندی کی و جہ سے میرے جیسے لولے لنگڑے سیاستدان رہ گئے ہیں ، طلبہ یونینز کی سر گرمیوں سے نئے لیڈر سامنے آئیں گے ۔ انہوں نے آرمی چیف کی مدت میں توسیع کے حوالے سے کہا کہ 18ویں ترمیم موجود ہے ، ایک رائے ہے کہ یہ معاملہ ایکٹ کے ذریعے سادہ اکثریت سے حل ہو جائے گا لیکن اگر آئین میں ترمیم بھی لانا پڑی تو یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار واضح اکثریت سے پاس ہو گی ۔

لیکن اب بھی اگر یہ ایک مصالحہ ڈال کر دیکھو تو بگڑا کام سنور سکتا ہے ۔۔۔۔۔ نامور صحافی کا عمران خان کے لیے خصوصی مشورہ


لاہور (ویب ڈیسک) امریکہ روانگی سے ایک دن قبل لاہور میں تحریک انصاف کے ایک بڑے عہدیدار سے فون پر بات ہوئی۔ تحریک انصاف کا یہ پرانا رہنما اور تنظیمی عہدیدار میرا بہت پرانا دوست ہے۔ تحریک انصاف کی پیدائش سے بھی کہیں پہلے کا۔ فون پر بات ہوئی تو میں نے چھوٹتے ہی پوچھا کہ کل

نامور کالم نگار خالد مسعود خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔آپ لوگوں کی پنجاب کی انتظامی صورتحال پر اعلیٰ سطحی میٹنگ میں سنا ہے عثمان بزدار کی انتظامی خوبیوں اور صلاحیتوں کے بارے میں جو گفتگو ہوئی‘ اس کے بعد عمران خان کا پنجاب میں انتظامی تبدیلیوں کے بارے میں بیان کا کیا مطلب ہے؟ میرا دوست پوچھنے لگا کہ اس بیان کے بارے میں کیا پوچھنا چاہتے ہو؟ میں نے کہا: میرا مطلب ہے کہ پنجاب میں انتظامی تبدیلیوں کے بارے میں بیان سے ہم کیا مفہوم نکالیں؟ کیا عمران خان پرکاش کور کو کرپان ماریں گے یا صوفہ بیچیں گے؟ میرا دوست ہنسا اور کہنے لگا: میں نے تمہارا دو ماہ پہلے والا کالم پڑھا تھا۔ اس حوالے سے ہم تو چاہتے ہیں کہ کرپان ہی استعمال ہو لیکن لگتا یہ ہے کہ فی الحال صوفہ ہی بیچا جائے گا۔ میں نے کہا: سنا ہے کہ اس میٹنگ میں ڈیرہ غازی خان میں ترقیاتی کاموں کے نام پر ہونے والے لمبے چوڑے خرچوں اور پنجاب کے دیگر علاقوں کے ترقیاتی فنڈز میں کٹوتیوں کے بارے میں کافی سخت قسم کے سوالات ہوئے ہیں؟ میرے اس دوست نے اس اطلاع کی بات پر پہلے تھوڑی سی خاموشی اختیار کی‘ پھر کہنے لگا کہ کم از کم ڈیرہ غازی خان کے حوالے سے تو ایسی کوئی بات نہیں ہوئی۔ میں نے کہا : اور جنوبی پنجاب کے حوالے سے؟ وہ کہنے لگا: اس بارے تھوڑی سی بات ہوئی تھی‘ مگر ایسی نہیں کہ اس پر کوئی خاص تلخی یا بدمزگی ہوئی ہو۔ آخر میں میں نے پھر ایک بار تصدیق کرنے کی

غرض سے پوچھا کہ آپ کا خیال ہے کہ فی الحال صرف صوفہ بیچنے سے کام چلایا جائے گا؟ وہ کہنے لگا: لگتا تو ایسے ہی ہے۔ میں نے پوچھا: یہ صوفے کب تک بیچے جائیں گے اور کتنے بیچے جائیں گے؟ میرا وہ دوست خوش دلی سے ہنسا اور کہنے لگا: لگتا ہے یہ آخری صوفہ ہے جس کے مقدر میں بکنا لکھا ہے۔ اس کے بعد امید ہے کہ پرکاش کور کو کرپان ماری جائے گی۔سو میرے اس دوست کی صوفہ بیچنے کی پیشین گوئی درست ثابت ہوئی ہے۔ اس بار بھی عثمان بزدار کی انتظامی ناکامی اور نا اہلی کا ملبہ چیف سیکرٹری پنجاب اور انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب کے کندھوں پر ڈال کر جناب عثمان بزدار کو ان کی انتظامی بلکہ بد انتظامی کے مکھن میں سے بال کی طرح نکال لیا گیا ہے۔ محترم عثمان بزدار اور چیف سیکرٹری پنجاب (فارغ شدہ) یوسف نسیم کھوکھر کی صلاحیتوں اور خوبیوں میں موازنہ کرنا بھی نہایت ہی نا معقول اور فضول قسم کی حرکت ہوگی۔ ایک بار میں نے اپنے ایک اور دوست سے جو بطور سرکاری افسر ای سی سی یعنی اکنامک کوآرڈی نیشن کمیٹی میں شرکت کرتا رہا تھا‘ پوچھا کہ اس کا اس کمیٹی کے حوالے سے بھی اور فنانس کے دیگر معاملات میں میاں نواز شریف سے بھی واسطہ پڑتا رہا ہے اور شاہد خاقان عباسی سے بھی۔ وہ ان دونوں کا موازنہ کریں تو کس کو کتنے نمبر دیں گے۔ میرا وہ دوست ہنسا اور کہنے لگا: ان دونوں میں کوئی موازنہ نہیں بنتا۔ موازنہ ملتی جلتی چیزوں کے درمیان ہوتا ہے۔ میں نے پوچھا : پھر بھی؟ میرا وہ دوست کہنے لگا:

آپ اب ایف سولہ اور گدھا گاڑی میں کیا موازنہ کر سکتے ہیں؟ یہ کہہ کر وہ ہنسا اور کہنے لگا: آپ سمجھدار ہیں۔ سمجھ تو گئے ہوں گے کہ ایف سولہ کون ہے اور گدھا گاڑی کون ہے؟ گزشتہ سے پیوستہ روز بھی یہی ہوا ہے کہ ایف سولہ کو واپس یارڈ میں بھجوا دیا گیا ہے کہ یہ ایف سولہ اڑ ہی نہیں پا رہا۔ حالانکہ اس میں ایف سولہ کا کوئی قصور نہیں تھا۔ وہ کیسے اڑتا؟ اگر آپ ایف سولہ کو اڑانے کی ذمہ داری کسی پائلٹ کے بجائے کوچوان کے سپرد کر دیں اور جہاز نہ اڑے تو جہاز بدلنے کے بجائے پائلٹ بدلنا چاہئے ‘مگر یہاں گزشتہ پندرہ ماہ سے کبھی جہاز بدلا جا رہا ہے اور کبھی گرائونڈ سٹاف۔ چوہدری بھکن کا کہنا ہے کہ اگر یہ پائلٹ اس جہاز کو اگلے سو سال میں بھی ٹیک آف دینے میں کامیاب ہو جائے تو اس کا نام بدل دیا جائے۔ گمان غالب ہے کہ چوہدری کو نام بدلنے کی نوبت نہیں آئے گی۔ہمارے ہاں سرکاری افسر کے ساتھ ایک بڑا المیہ ہے کہ اگر کوئی سرکاری افسر کسی ایک حکومت کے ساتھ بہت اچھا کام کر لے تو اس کی یہ خوبی اس کے لیے مصیبت بن جاتی ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ اس اچھا کام کرنے والے سرکاری افسر سے آئندہ آنے والی حکومتیں بھی کام لیں اور اس کی صلاحیتوں کو کماحقہ استعمال کریں‘ لیکن ہوتا اس کے بالکل برعکس ہے۔ اس افسر پر ٹھپہ لگ جاتا ہے کہ یہ فلاں سیاستدان یا فلاں سیاسی پارٹی کے ساتھ وابستہ ہے۔

میرا ذاتی تجربہ یہ ہے کہ بہت سے ایسے شاندار اور پیشہ ورانہ طور پر بڑے تجربہ کار افسر جو اپنے کام کو کسی حکومت کا نہیں بلکہ ”حکومت پاکستان‘‘ کا کام سمجھ کر بڑے پروفیشنل انداز میں کرتے تھے‘ آنے والی حکومتوں نے انہیں سابقہ حکومت کا افسر قرار دے کر کھڈے لائن لگا دیا۔ حالانکہ وہ افسر کسی سیاسی پارٹی یا سابقہ حکمران کا نہیں‘ حکومت پاکستان کا افسر تھا اور اسی کے لیے کام کرتا تھا۔ اگر آنے والی حکومت بھی اس سے اور اس کی صلاحیتوں سے کام لیتی تو وہ ان کے ساتھ بھی اسی دلجمعی اور خلوص کے ساتھ کام کرتے‘ جیسے وہ گزشتہ حکومت کے لیے کرتے رہے تھے۔ یہ افسروں کی ایسی قبیل ہے جو کسی خاص حکومت کے ساتھ نہیں بلکہ حکومت پاکستان کے ساتھ مخلص اور وفادار ہے‘ لیکن ہمارے ہاں ان پر ٹھپہ لگ جاتا ہے اور پھر وہ اس ٹھپے سے تا عمر چھٹکارا نہیں پا سکتے۔میرے ایک دوست شعیب بن عزیز اس کی بڑی عمدہ مثال ہیں۔ شعیب بن عزیز سے ہماری دوستی کی بنیادی وجہ تو ان کا شاعر ہونا ہے۔ کیا شاندار اور عمدہ شاعر ہیں۔ فی الوقت صرف دو شعر ؎اب اداس پھرتے ہو‘ سردیوں کی شاموں میں۔۔اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں۔۔لکھا رکھا ہے عہدِ ترکِ اُلفت۔۔مگر دل دستخط کرتا نہیں ہے۔۔ایک بہت عمدہ شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ حیرت اس بات کی ہے کہ وہ اپنے کام میں بھی بڑی ہی مہارت کے حامل ہیں۔ محکمہ اطلاعات میں دو بڑے انتظامی عہدے ہیں‘ ڈائیریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز اور سیکرٹری ا طلاعات۔

شعیب بن عزیز ان دونوں عہدوں پر رہے اور ایسے رہے کہ دوست ‘ دشمن سبھی ان کے کام کے معترف رہے۔ میاں شہباز شریف کے ساتھ کام کیا تو ایسے کہ میاں شہباز شریف کے سب سے اعتباری افسروں میں سے ایک ٹھہرے۔ پھر چوہدری پرویز الٰہی کے ساتھ کام کیا تو بھی اسی محنت‘ لگن اور خلوص کے ساتھ کیا جیسا کہ میاں شہباز شریف کے ساتھ کام کیا تھا۔ چوہدری پرویز الٰہی کی حکومت ختم ہوئی اور دوبارہ میاں شہباز شریف پنجاب کے وزیراعلیٰ بنے تو شروع شروع میں اسی مغالطے کا شکار ہو کر کہ یہ بندہ تو چوہدری پرویز الٰہی کا ہو گیا ہے‘ کنارہ کر لیا اور ایک عرصے تک کسی اہم جگہ نہ لگایا۔ پھر کسی سمجھدار نے مشورہ دیا کہ شعیب بن عزیز حکومت پاکستان کا وفادار ملازم ہے ‘اسے ضائع نہ کریں۔ پھر میاں شہباز شریف نے دوبارہ کام لینا شروع کیا تو بھی اسی محنت‘ خلوص‘ دلجمعی اور لگن سے کیا جو اِن کا خاصہ تھا۔ یہی حال یوسف نسیم کھوکھر کے ساتھ ہوا۔ پنجاب کے سب سے کامیاب وزیراعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی کے ساتھ بطور سیکرٹری کام کیا۔ تب چوہدری پرویز الٰہی کا پرنسپل سیکرٹری ایک اور شاندار بیورو کریٹ جی ایم سکندر تھا۔جی ایم سکندر کی ریٹائرمنٹ کے بعد یوسف نسیم کھوکھر نے پرنسپل سیکرٹری کے طور پر کام کیا اور چوہدری پرویز الٰہی کی کامیاب حکومت میں اپنا حصہ ڈالا۔ جب میاں صاحبان برسر اقتدار آئے تو اپنی منتقم المزاج طبیعت کے طفیل یوسف نسیم کھوکھر کو کھڈے لائن لگا دیا۔ کافی عرصے کے بعد کسی نے سمجھایا تو عقل آئی اور پھر پہلے سیکرٹری پانی و بجلی جیسی اہم پوسٹ پر لگایا اور بعد ازاں سیکرٹری داخلہ جیسی حساس اور اہم پوسٹ پر لگا دیا۔ چار روز قبل چیف سیکرٹری پنجاب کے عہدے سے فارغ کیا گیا تو الزام یہ بھی سننے میں آیا کہ یوسف نسیم کھوکھر کا تعلق چوہدری پرویز الٰہی سے رہا ہے۔ خود چوہدری پرویز الٰہی اس حکومت کے اتحادی اور سپیکر پنجاب ہیں اور ان کے ساتھ بارہ سال سال قبل بطور سیکرٹری وزیراعلیٰ پنجاب کام کرنے والے سرکاری افسر پر الزام ہے کہ وہ چوہدری پرویز الٰہی کا بندہ ہے۔ ایک نہایت شاندار افسر کو برصغیر پاک و ہند کے سب سے … چلیں جانے دیں فقرہ ادھورا ہی رہنے دیں تو اچھا ہے۔بس ایک بات لکھ لیں۔ اگلے پونے چار سالوں میں (اگر حکومت رہ گئی تو) دس آئی جی اور گیارہ چیف سیکرٹری بدل لیں تو بھی پنجاب حکومت کی کارکردگی بہتر نہیں ہو سکتی۔ ویسے عمران خان نے ماننا تو نہیں ہے لیکن ایک بار ایک بندہ تبدیل کر کے دیکھ لیں‘ نتائج نہ نکلیں تو چوہدری بھکن کا نام تبدیل کر دیں گے۔(ش س م)

خان صاحب : تبدیلی کی ہنڈیا خراب ہو چکی ہے ، لیکن اب بھی اگر یہ ایک مصالحہ ڈال کر دیکھو تو بگڑا کام سنور سکتا ہے ۔۔۔۔۔ نامور صحافی کا عمران خان کے لیے خصوصی مشورہ


لاہور (ویب ڈیسک) امریکہ روانگی سے ایک دن قبل لاہور میں تحریک انصاف کے ایک بڑے عہدیدار سے فون پر بات ہوئی۔ تحریک انصاف کا یہ پرانا رہنما اور تنظیمی عہدیدار میرا بہت پرانا دوست ہے۔ تحریک انصاف کی پیدائش سے بھی کہیں پہلے کا۔ فون پر بات ہوئی تو میں نے چھوٹتے ہی پوچھا کہ کل

نامور کالم نگار خالد مسعود خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔آپ لوگوں کی پنجاب کی انتظامی صورتحال پر اعلیٰ سطحی میٹنگ میں سنا ہے عثمان بزدار کی انتظامی خوبیوں اور صلاحیتوں کے بارے میں جو گفتگو ہوئی‘ اس کے بعد عمران خان کا پنجاب میں انتظامی تبدیلیوں کے بارے میں بیان کا کیا مطلب ہے؟ میرا دوست پوچھنے لگا کہ اس بیان کے بارے میں کیا پوچھنا چاہتے ہو؟ میں نے کہا: میرا مطلب ہے کہ پنجاب میں انتظامی تبدیلیوں کے بارے میں بیان سے ہم کیا مفہوم نکالیں؟ کیا عمران خان پرکاش کور کو کرپان ماریں گے یا صوفہ بیچیں گے؟ میرا دوست ہنسا اور کہنے لگا: میں نے تمہارا دو ماہ پہلے والا کالم پڑھا تھا۔ اس حوالے سے ہم تو چاہتے ہیں کہ کرپان ہی استعمال ہو لیکن لگتا یہ ہے کہ فی الحال صوفہ ہی بیچا جائے گا۔ میں نے کہا: سنا ہے کہ اس میٹنگ میں ڈیرہ غازی خان میں ترقیاتی کاموں کے نام پر ہونے والے لمبے چوڑے خرچوں اور پنجاب کے دیگر علاقوں کے ترقیاتی فنڈز میں کٹوتیوں کے بارے میں کافی سخت قسم کے سوالات ہوئے ہیں؟ میرے اس دوست نے اس اطلاع کی بات پر پہلے تھوڑی سی خاموشی اختیار کی‘ پھر کہنے لگا کہ کم از کم ڈیرہ غازی خان کے حوالے سے تو ایسی کوئی بات نہیں ہوئی۔ میں نے کہا : اور جنوبی پنجاب کے حوالے سے؟ وہ کہنے لگا: اس بارے تھوڑی سی بات ہوئی تھی‘ مگر ایسی نہیں کہ اس پر کوئی خاص تلخی یا بدمزگی ہوئی ہو۔ آخر میں میں نے پھر ایک بار تصدیق کرنے کی

غرض سے پوچھا کہ آپ کا خیال ہے کہ فی الحال صرف صوفہ بیچنے سے کام چلایا جائے گا؟ وہ کہنے لگا: لگتا تو ایسے ہی ہے۔ میں نے پوچھا: یہ صوفے کب تک بیچے جائیں گے اور کتنے بیچے جائیں گے؟ میرا وہ دوست خوش دلی سے ہنسا اور کہنے لگا: لگتا ہے یہ آخری صوفہ ہے جس کے مقدر میں بکنا لکھا ہے۔ اس کے بعد امید ہے کہ پرکاش کور کو کرپان ماری جائے گی۔سو میرے اس دوست کی صوفہ بیچنے کی پیشین گوئی درست ثابت ہوئی ہے۔ اس بار بھی عثمان بزدار کی انتظامی ناکامی اور نا اہلی کا ملبہ چیف سیکرٹری پنجاب اور انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب کے کندھوں پر ڈال کر جناب عثمان بزدار کو ان کی انتظامی بلکہ بد انتظامی کے مکھن میں سے بال کی طرح نکال لیا گیا ہے۔ محترم عثمان بزدار اور چیف سیکرٹری پنجاب (فارغ شدہ) یوسف نسیم کھوکھر کی صلاحیتوں اور خوبیوں میں موازنہ کرنا بھی نہایت ہی نا معقول اور فضول قسم کی حرکت ہوگی۔ ایک بار میں نے اپنے ایک اور دوست سے جو بطور سرکاری افسر ای سی سی یعنی اکنامک کوآرڈی نیشن کمیٹی میں شرکت کرتا رہا تھا‘ پوچھا کہ اس کا اس کمیٹی کے حوالے سے بھی اور فنانس کے دیگر معاملات میں میاں نواز شریف سے بھی واسطہ پڑتا رہا ہے اور شاہد خاقان عباسی سے بھی۔ وہ ان دونوں کا موازنہ کریں تو کس کو کتنے نمبر دیں گے۔ میرا وہ دوست ہنسا اور کہنے لگا: ان دونوں میں کوئی موازنہ نہیں بنتا۔ موازنہ ملتی جلتی چیزوں کے درمیان ہوتا ہے۔ میں نے پوچھا : پھر بھی؟ میرا وہ دوست کہنے لگا:

آپ اب ایف سولہ اور گدھا گاڑی میں کیا موازنہ کر سکتے ہیں؟ یہ کہہ کر وہ ہنسا اور کہنے لگا: آپ سمجھدار ہیں۔ سمجھ تو گئے ہوں گے کہ ایف سولہ کون ہے اور گدھا گاڑی کون ہے؟ گزشتہ سے پیوستہ روز بھی یہی ہوا ہے کہ ایف سولہ کو واپس یارڈ میں بھجوا دیا گیا ہے کہ یہ ایف سولہ اڑ ہی نہیں پا رہا۔ حالانکہ اس میں ایف سولہ کا کوئی قصور نہیں تھا۔ وہ کیسے اڑتا؟ اگر آپ ایف سولہ کو اڑانے کی ذمہ داری کسی پائلٹ کے بجائے کوچوان کے سپرد کر دیں اور جہاز نہ اڑے تو جہاز بدلنے کے بجائے پائلٹ بدلنا چاہئے ‘مگر یہاں گزشتہ پندرہ ماہ سے کبھی جہاز بدلا جا رہا ہے اور کبھی گرائونڈ سٹاف۔ چوہدری بھکن کا کہنا ہے کہ اگر یہ پائلٹ اس جہاز کو اگلے سو سال میں بھی ٹیک آف دینے میں کامیاب ہو جائے تو اس کا نام بدل دیا جائے۔ گمان غالب ہے کہ چوہدری کو نام بدلنے کی نوبت نہیں آئے گی۔ہمارے ہاں سرکاری افسر کے ساتھ ایک بڑا المیہ ہے کہ اگر کوئی سرکاری افسر کسی ایک حکومت کے ساتھ بہت اچھا کام کر لے تو اس کی یہ خوبی اس کے لیے مصیبت بن جاتی ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ اس اچھا کام کرنے والے سرکاری افسر سے آئندہ آنے والی حکومتیں بھی کام لیں اور اس کی صلاحیتوں کو کماحقہ استعمال کریں‘ لیکن ہوتا اس کے بالکل برعکس ہے۔ اس افسر پر ٹھپہ لگ جاتا ہے کہ یہ فلاں سیاستدان یا فلاں سیاسی پارٹی کے ساتھ وابستہ ہے۔

میرا ذاتی تجربہ یہ ہے کہ بہت سے ایسے شاندار اور پیشہ ورانہ طور پر بڑے تجربہ کار افسر جو اپنے کام کو کسی حکومت کا نہیں بلکہ ”حکومت پاکستان‘‘ کا کام سمجھ کر بڑے پروفیشنل انداز میں کرتے تھے‘ آنے والی حکومتوں نے انہیں سابقہ حکومت کا افسر قرار دے کر کھڈے لائن لگا دیا۔ حالانکہ وہ افسر کسی سیاسی پارٹی یا سابقہ حکمران کا نہیں‘ حکومت پاکستان کا افسر تھا اور اسی کے لیے کام کرتا تھا۔ اگر آنے والی حکومت بھی اس سے اور اس کی صلاحیتوں سے کام لیتی تو وہ ان کے ساتھ بھی اسی دلجمعی اور خلوص کے ساتھ کام کرتے‘ جیسے وہ گزشتہ حکومت کے لیے کرتے رہے تھے۔ یہ افسروں کی ایسی قبیل ہے جو کسی خاص حکومت کے ساتھ نہیں بلکہ حکومت پاکستان کے ساتھ مخلص اور وفادار ہے‘ لیکن ہمارے ہاں ان پر ٹھپہ لگ جاتا ہے اور پھر وہ اس ٹھپے سے تا عمر چھٹکارا نہیں پا سکتے۔میرے ایک دوست شعیب بن عزیز اس کی بڑی عمدہ مثال ہیں۔ شعیب بن عزیز سے ہماری دوستی کی بنیادی وجہ تو ان کا شاعر ہونا ہے۔ کیا شاندار اور عمدہ شاعر ہیں۔ فی الوقت صرف دو شعر ؎اب اداس پھرتے ہو‘ سردیوں کی شاموں میں۔۔اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں۔۔لکھا رکھا ہے عہدِ ترکِ اُلفت۔۔مگر دل دستخط کرتا نہیں ہے۔۔ایک بہت عمدہ شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ حیرت اس بات کی ہے کہ وہ اپنے کام میں بھی بڑی ہی مہارت کے حامل ہیں۔ محکمہ اطلاعات میں دو بڑے انتظامی عہدے ہیں‘ ڈائیریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز اور سیکرٹری ا طلاعات۔

شعیب بن عزیز ان دونوں عہدوں پر رہے اور ایسے رہے کہ دوست ‘ دشمن سبھی ان کے کام کے معترف رہے۔ میاں شہباز شریف کے ساتھ کام کیا تو ایسے کہ میاں شہباز شریف کے سب سے اعتباری افسروں میں سے ایک ٹھہرے۔ پھر چوہدری پرویز الٰہی کے ساتھ کام کیا تو بھی اسی محنت‘ لگن اور خلوص کے ساتھ کیا جیسا کہ میاں شہباز شریف کے ساتھ کام کیا تھا۔ چوہدری پرویز الٰہی کی حکومت ختم ہوئی اور دوبارہ میاں شہباز شریف پنجاب کے وزیراعلیٰ بنے تو شروع شروع میں اسی مغالطے کا شکار ہو کر کہ یہ بندہ تو چوہدری پرویز الٰہی کا ہو گیا ہے‘ کنارہ کر لیا اور ایک عرصے تک کسی اہم جگہ نہ لگایا۔ پھر کسی سمجھدار نے مشورہ دیا کہ شعیب بن عزیز حکومت پاکستان کا وفادار ملازم ہے ‘اسے ضائع نہ کریں۔ پھر میاں شہباز شریف نے دوبارہ کام لینا شروع کیا تو بھی اسی محنت‘ خلوص‘ دلجمعی اور لگن سے کیا جو اِن کا خاصہ تھا۔ یہی حال یوسف نسیم کھوکھر کے ساتھ ہوا۔ پنجاب کے سب سے کامیاب وزیراعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی کے ساتھ بطور سیکرٹری کام کیا۔ تب چوہدری پرویز الٰہی کا پرنسپل سیکرٹری ایک اور شاندار بیورو کریٹ جی ایم سکندر تھا۔جی ایم سکندر کی ریٹائرمنٹ کے بعد یوسف نسیم کھوکھر نے پرنسپل سیکرٹری کے طور پر کام کیا اور چوہدری پرویز الٰہی کی کامیاب حکومت میں اپنا حصہ ڈالا۔ جب میاں صاحبان برسر اقتدار آئے تو اپنی منتقم المزاج طبیعت کے طفیل یوسف نسیم کھوکھر کو کھڈے لائن لگا دیا۔ کافی عرصے کے بعد کسی نے سمجھایا تو عقل آئی اور پھر پہلے سیکرٹری پانی و بجلی جیسی اہم پوسٹ پر لگایا اور بعد ازاں سیکرٹری داخلہ جیسی حساس اور اہم پوسٹ پر لگا دیا۔ چار روز قبل چیف سیکرٹری پنجاب کے عہدے سے فارغ کیا گیا تو الزام یہ بھی سننے میں آیا کہ یوسف نسیم کھوکھر کا تعلق چوہدری پرویز الٰہی سے رہا ہے۔ خود چوہدری پرویز الٰہی اس حکومت کے اتحادی اور سپیکر پنجاب ہیں اور ان کے ساتھ بارہ سال سال قبل بطور سیکرٹری وزیراعلیٰ پنجاب کام کرنے والے سرکاری افسر پر الزام ہے کہ وہ چوہدری پرویز الٰہی کا بندہ ہے۔ ایک نہایت شاندار افسر کو برصغیر پاک و ہند کے سب سے … چلیں جانے دیں فقرہ ادھورا ہی رہنے دیں تو اچھا ہے۔بس ایک بات لکھ لیں۔ اگلے پونے چار سالوں میں (اگر حکومت رہ گئی تو) دس آئی جی اور گیارہ چیف سیکرٹری بدل لیں تو بھی پنجاب حکومت کی کارکردگی بہتر نہیں ہو سکتی۔ ویسے عمران خان نے ماننا تو نہیں ہے لیکن ایک بار ایک بندہ تبدیل کر کے دیکھ لیں‘ نتائج نہ نکلیں تو چوہدری بھکن کا نام تبدیل کر دیں گے۔(ش س م)

ڈاکٹر یاسمین راشد کی چھٹی۔۔۔!!! پنجاب کی وزارتِ صحت ابھی کسے سونپی جارہی ہے؟ دبنگ خاتون کا نام سامنے آگیا


لاہور( نیوز ڈیسک) وزیراعظم عمران خان کے دورہ لاہور کے دوران پنجاب کابینہ کی 10 وزارتوں میں ردوبدل کا امکان ہے۔ذرائع کا کہنا ہے صوبائی کابینہ میں تین خواتین کی شمولیت کا بھی امکان ہے اور ناقص کارگردگی کا مظاہرہ کرنے والے وزراء سے قلمدان واپس لیے جا سکتے ہیں۔صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان کو بھی اہم ذمہ داری مل سکتی

ہے۔ڈاکٹر یاسمین راشد سے سیکنڈری ہیلتھ کی وزارت واپس لی جا سکتی ہے۔انفرامیشن اینڈ کلچر کی وزارتوں کو بھی الگ الاگ کیقا جا سکتا ہے۔کھیل اور سیاحت پر بھی دو الگ الگ وزراء تعینات ہو سکتے ہیں۔وزیر جیل خانہ جات سے بھی قلمدان واپس لیا جا سکتا ہے۔پنجاب کابینہ میں اکھاڑ پچھاڑ کی حتمی منظوری وزیراعظم دیں گے اور وزارتی ٹیم میں ردوبدل کے ساتھ بیوروکریسی کو بھی مزید اختیارات دئیے جائیں گے۔خیال رہے کہ وزیراعظم کے آج کے دورے میں اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں بھی طے ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار صوبے کی صورتحال کو اعتماد میں لیں گے۔ وزیراعظم پارلیمانی پارٹی کے رہنماؤں کے اجلاس سے خطاب کریں گے۔وزیراعظم پارلیمانی رہنماؤں کو سیاسی صورتحال پر بھی اعتماد میں لیں گے جب کہ وزیراعظم کی صوبائی وزراء سے بھی ان کی ملاقاتیں طے ہیں۔لاہور میں اسموگ سے متعلق اجلاس کی صدارت بھی عمران خان کریں گے۔اجلاس میں وزیراعظم کو سموگ کی وجوہات ، تدراک اور تحفظ کے لیے اٹھائے جانے والے اقدمات سے آگاہ کیا۔ وزیراعظم ایوان وزیر اعلیٰ میں اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کریں گے عثمان

بزدار کے ساتھ خصوصی ملاقات بھی ہو گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ دورہ لاہور میں وزیراعظم کی جانب سے پنجاب کابینہ میں اعلیٰ عہدوں پر تبدیلیاں بھی متوقع ہیں۔گذشتہ شب بھی پنجاب میں بڑی تبدیلیاں کی گئی تھیں۔صوبائی انتظامیہ اور پولیس محکمے میں اعلیٰ عہدوں پر بڑے پیمانے پر تبادلے و تقرریوں کے ساتھ ساتھ چار سنئیر افسران کی خدمات وفاق کے سپرد کر دی گئی ہے۔

بریکنگ نیوز: افواہوں کا ڈراپ سین ۔۔۔۔ وزیراعظم عمران خان نے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی تعریف کرتے ہوئے شاندار بات کہہ ڈالی


لاہور (ویب ڈیسک) وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ پنجاب کا مستقبل بہت اچھا نظرآرہا ہے۔ وزیراعلی پنجاب نے ہرشعبے میں جامع اقدامات اٹھائے ہیں۔ صوبے میں امن وامان اور گورننس کے نظام میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔کسانوں کو زرعی قرضوں کی فراہمی کے حوالے سے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہماری معیشت

تسلسل کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں، پہلے اکانومی کومستحکم اوراب گروتھ ریٹ کی طرف زورلگائیں گے، چیف منسٹرکے اقدام پرانہیں داد دیتا ہوں، اچھے کاموں میں وزیراعلیٰ اپنا نام استعمال نہیں کرتے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہماری ترجیح معیشت کو بہترکرنا تھا، قرضوں کی قسطیں واپس کرنے کے لیے روپے کی قدر پر اثر پڑا، 3 سے 4 ماہ کے دوران اب روپے کی قدرمستحکم ہورہی ہے۔ پہلے جن ڈیٹا پر قرضے دیئے جاتے تھے وہ ٹھیک نہیں تھے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ نوجوانوں کو سود کے بغیرقرضہ ملے گا۔ احساس پروگرام کے تحت ڈیٹا اکٹھا کر رہے ہیں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چھوٹے کسانوں کے لیے قرضہ انقلاب ہے،معاہدے سے زرعی شعبے کوفائدہ پہنچے گا، احساس پروگرام پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا پروگرام ہے۔ چین نے اپنے کسانوں کی بہت مدد کی۔ دنیا کی ابھرتی ہوئی معیشت کے حامل ملک نے 70 کروڑ سے زائد لوگوں کو غربت سے نکالا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ مدینہ کی ریاست نے نچلے طبقے کی ذمہ داری لی۔ مہذب معاشروں میں امیراورغریب میں فرق نہیں ہوتا۔اس سے قبل وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان

بزدار کیساتھ ملاقات کے دوران وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ملک ایک نازک دور سے گزر رہا ہے، نئے پاکستان میں پرانے مائنڈ سیٹ کو تبدیل کرنا ہے، عوامی خدمت کو فوکس کیا جائے گا، پنجاب میں امن وامان اور گورننس کے نظام میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ غریب آدمی کی زندگی میں بہتری لانے کے لیے کوشش کر رہے ہیں، اپنے دور حکومت میں افسران کو ہر قسم کے سیاسی دباؤ سے آزاد کیا ہے، غریب کو طاقتور کے خلاف تحفظ فراہم کریں گے۔

پاکستان میں اگلے عام انتخابات کب ہونگے ۔۔۔۔؟ پکے شواہد کے ساتھ دھماکہ خیز پیشگوئی کر دی گئی


اہور (ویب ڈیسک) مولانا فضل الرحمٰن جب سے پلان بی، سی کے نام سے دھرنا سمیٹ کر رخصت ہوئے ہیں وزیراعظم کے استعفے کے بجائے ملک میں نئے انتخابات کے مطالبے کو دہرائے جا رہے ہیں اور تو اور الیکشن کمیشن کے سربراہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔ نامور کالم نگار ارشد وحید چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں

۔۔۔۔۔۔ مولانا جس یقین دہانی کی بنیاد پہ اسلام آباد سے واپس گئے، اس کی تفصیلات سے انہوں نے آل پارٹیز کانفرنس کے شرکا کو باضابطہ آگاہ بھی کر دیا ہے جس کے مطابق انہیں اپریل تک ملک میں نئے الیکشن کرانے کی ضمانت دی گئی ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن کی طرف سے منعقد کی گئی حالیہ اے پی سی میں ان ہاؤس تبدیلی کے آپشن کو ترک کر کے اب صرف ملک میں فوری طور پہ نئے اور شفاف الیکشن منعقد کرانے کے مطالبے پہ سختی سے کاربند رہنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔بلاول بھٹو سمیت اے پی سی میں شریک اپوزیشن رہنما بخوبی جانتے ہیں کہ اس وقت ملک میں الیکشن کمیشن نامکمل ہے جس کے سندھ اور بلوچستان سے دو ارکان کی مہینوں گزر جانے کے باوجود تقرری ممکن نہیں ہو سکی، اس ناکامی کی وجہ وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان تعلقات میں کشیدگی ہے، معاملہ عدالت سے ہو کر واپس انہی سیاستدانوں کے پاس پہنچ چکا ہے جبکہ اب چیف الیکشن کمشنر بھی چند دنوں میں ریٹائرڈ ہونے والے ہیں تو جو قانون ساز نو ماہ میں الیکشن کمیشن کے دو ارکان کا تقرر نہیں کرسکے وہ اس کے سربراہ کی تعیناتی پہ کیسے جلد متفق ہوسکتے ہیں۔ دوسری طرف

انتخابی اصلاحات پہ رتی برابر بھی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے، اس ضمن میں جو انتخابی کمیٹی قائم کی گئی تھی وہ بھی دس ماہ سے ٹی او آرز پہ اتفاق نہ ہونے کے باعث غیر فعال ہے۔ اب ہم آئین پاکستان کا جائزہ لیتے ہیں کہ ملک میں نئے انتخابات کیسے ممکن ہو سکتے ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 95 کے تحت اپوزیشن بیس فیصد ارکان کے دستخطوں سے وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد پیش کر سکتی ہے اور ذیلی شق سات کے تحت اگر قومی اسمبلی کے ارکان کی اکثریت اس قرارداد کو منظور کر لے تو وزیراعظم اپنے عہدے پہ قائم نہیں رہیں گے۔ اتحادی جماعتوں کی عددی اکثریت کو مدِنظر رکھا جائے تو فی الحال یہ کسی طور ممکن نہیں ہے تاہم خوش فہمی کی حد تک ایسا تصور بھی کر لیا جائے تو اس صورت میں تحریک انصاف نئے قائدِ ایوان کا انتخاب کرنے کا استحقاق رکھتی ہے۔ یہ بھی فرض کر لیا جائے کہ تحریک انصاف اپنی جماعت میں سے کسی دوسرے امیدوار کو بھی اعتماد کا ووٹ دلانے میں کامیاب نہ ہو سکے تو پھر صدرِ مملکت آئین کے آرٹیکل 48کے تحت اپنی صوابدید پہ قومی اسمبلی کو تحلیل کر سکتے ہیں، اس صورت میں ملک میں نئے انتخابات

ممکن ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح وزیراعظم صدرِ مملکت کی خوشنودی تک اپنے عہدے پہ برقرار رہ سکتا ہے اور اگر صدرِ مملکت تصور کریں کہ وزیراعظم ایوان کی اکثریت کا اعتماد کھو چکا ہے تو وہ اسے آئین کے آرٹیکل 91 کے تحت اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کا کہیں گے اور ایسا کرنے میں ناکامی کی صورت میں وزیراعظم فارغ ہو سکتا ہے لیکن صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی ایسا سوچ سکتے ہیں یہ تصور بھی محال ہے۔ آئین کے اسی آرٹیکل کی شق آٹھ کے تحت وزیراعظم اپنے ہاتھ سے خود استعفیٰ تحریر کر کے صدر کو بھیج سکتا ہے جس سے وزارتِ عظمیٰ کا منصب خالی ہو جائے گا اور پھر اس پہ انتخاب اور اس میں ناکامی کی صورت میں نئے انتخابات کا انعقاد ممکن ہو سکتا ہے تو یہ توقع رکھنا کہ وزیراعظم عمران خان خود استعفیٰ دیں، دن میں خواب دیکھنے کے مترادف ہے۔ آئین کے آرٹیکل 63کی شق الف کی 16ذیلی دفعات ایسی ہیں جن پر پورا نہ اترنے کی صورت میں وزیراعظم کی قومی اسمبلی کی رکنیت ختم ہو سکتی ہے جبکہ شق 2 کے تحت اسپیکر کے سامنے ان کی اہلیت کا سوال اٹھے تو وہ 30دن میں فیصلہ کر کے الیکشن کمیشن کو آگاہ کرے

گا اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں معاملہ از خود الیکشن کمیشن کو ارسال کردہ تصور کیا جائے گا۔ ایک آئینی طریقہ یہ بھی ہے کہ صدر مملکت آرٹیکل 58کے تحت قومی اسمبلی کو تحلیل کردیں لیکن یہ بھی ممکن نہیں رہا کیونکہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد صدر کا قومی اسمبلی تحلیل کرنے کا صوابدیدی اختیار ختم ہو چکا۔ اجتماعی استعفوں کے آپشن پہ اپوزیشن کو خوف ہے کہ دوبارہ انہی نشستوں پہ الیکشن کرا دئیے جائیں گے۔ اپوزیشن کے نئے انتخابات کے مطالبے کی ایک وجہ الیکشن کمیشن میں زیرِ سماعت تحریک انصاف کا فارن فنڈنگ کیس بھی ہے لیکن اگر اپوزیشن کی توقعات کے عین مطابق فیصلہ پی ٹی آئی کے خلاف بھی ہو جائے تو بھی بطور سیاسی جماعت اسے تحلیل کرنے کا اختیار وفاقی حکومت کا ہی ہے۔ وفاقی حکومت غیر ملکی فنڈنگ ثابت ہونے کی صورت میں کسی سیاسی جماعت کے خلاف ڈیکلیریشن کو آفیشل گزٹ میں شائع کرے گی اور پندرہ دن کے اندر ریفرنس سپریم کورٹ کو بھیجے گی، سپریم کورٹ سے اس ریفرنس کو درست قرار دیے جانے پر وہ سیاسی جماعت تحلیل ہو جائے گی لیکن الیکشن کمیشن سے فارن فنڈنگ کے کیس میں خلاف فیصلہ آنے پر

بھی کیا تحریک انصاف کی حکومت اپنی ہی جماعت کو تحلیل کرنے کے لیے سپریم کورٹ کو ریفرنس بھیجے گی، یہ سوچنا بھی پاگل پن ہے۔ اس لیے آئین میں درج تمام طریقہ ہائے کار اور موجودہ زمینی حقائق کی روشنی میں اپوزیشن کا ملک میں فوری طور پہ نئے انتخابات کا مطالبہ غیرحقیقی ہے جس کے حقیقت کا روپ ڈھالنے کی ایک ہی صورت ہے کہ حکومت کی اتحادی جماعتوں کی اکثریت اس کا ساتھ چھوڑ جائے۔ اور یہ اتحادی کیا ان کے اشارے پہ حکومت کا ساتھ چھوڑیں گے جنہوں نے مولانا کو اپریل میں نئے الیکشن کے انعقاد کی ضمانت دی ہے؟(ش س م)

پاکستان میں اگلے عام انتخابات کب ہونگے ۔۔۔۔؟ پکے شواہد کے ساتھ دھماکہ خیز پیشگوئی کر دی گئی


لاہور (ویب ڈیسک) مولانا فضل الرحمٰن جب سے پلان بی، سی کے نام سے دھرنا سمیٹ کر رخصت ہوئے ہیں وزیراعظم کے استعفے کے بجائے ملک میں نئے انتخابات کے مطالبے کو دہرائے جا رہے ہیں اور تو اور الیکشن کمیشن کے سربراہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔ نامور کالم نگار ارشد وحید چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں

۔۔۔۔۔۔ مولانا جس یقین دہانی کی بنیاد پہ اسلام آباد سے واپس گئے، اس کی تفصیلات سے انہوں نے آل پارٹیز کانفرنس کے شرکا کو باضابطہ آگاہ بھی کر دیا ہے جس کے مطابق انہیں اپریل تک ملک میں نئے الیکشن کرانے کی ضمانت دی گئی ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن کی طرف سے منعقد کی گئی حالیہ اے پی سی میں ان ہاؤس تبدیلی کے آپشن کو ترک کر کے اب صرف ملک میں فوری طور پہ نئے اور شفاف الیکشن منعقد کرانے کے مطالبے پہ سختی سے کاربند رہنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔بلاول بھٹو سمیت اے پی سی میں شریک اپوزیشن رہنما بخوبی جانتے ہیں کہ اس وقت ملک میں الیکشن کمیشن نامکمل ہے جس کے سندھ اور بلوچستان سے دو ارکان کی مہینوں گزر جانے کے باوجود تقرری ممکن نہیں ہو سکی، اس ناکامی کی وجہ وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان تعلقات میں کشیدگی ہے، معاملہ عدالت سے ہو کر واپس انہی سیاستدانوں کے پاس پہنچ چکا ہے جبکہ اب چیف الیکشن کمشنر بھی چند دنوں میں ریٹائرڈ ہونے والے ہیں تو جو قانون ساز نو ماہ میں الیکشن کمیشن کے دو ارکان کا تقرر نہیں کرسکے وہ اس کے سربراہ کی تعیناتی پہ کیسے جلد متفق ہوسکتے ہیں۔ دوسری طرف

انتخابی اصلاحات پہ رتی برابر بھی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے، اس ضمن میں جو انتخابی کمیٹی قائم کی گئی تھی وہ بھی دس ماہ سے ٹی او آرز پہ اتفاق نہ ہونے کے باعث غیر فعال ہے۔ اب ہم آئین پاکستان کا جائزہ لیتے ہیں کہ ملک میں نئے انتخابات کیسے ممکن ہو سکتے ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 95 کے تحت اپوزیشن بیس فیصد ارکان کے دستخطوں سے وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد پیش کر سکتی ہے اور ذیلی شق سات کے تحت اگر قومی اسمبلی کے ارکان کی اکثریت اس قرارداد کو منظور کر لے تو وزیراعظم اپنے عہدے پہ قائم نہیں رہیں گے۔ اتحادی جماعتوں کی عددی اکثریت کو مدِنظر رکھا جائے تو فی الحال یہ کسی طور ممکن نہیں ہے تاہم خوش فہمی کی حد تک ایسا تصور بھی کر لیا جائے تو اس صورت میں تحریک انصاف نئے قائدِ ایوان کا انتخاب کرنے کا استحقاق رکھتی ہے۔ یہ بھی فرض کر لیا جائے کہ تحریک انصاف اپنی جماعت میں سے کسی دوسرے امیدوار کو بھی اعتماد کا ووٹ دلانے میں کامیاب نہ ہو سکے تو پھر صدرِ مملکت آئین کے آرٹیکل 48کے تحت اپنی صوابدید پہ قومی اسمبلی کو تحلیل کر سکتے ہیں، اس صورت میں ملک میں نئے انتخابات

ممکن ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح وزیراعظم صدرِ مملکت کی خوشنودی تک اپنے عہدے پہ برقرار رہ سکتا ہے اور اگر صدرِ مملکت تصور کریں کہ وزیراعظم ایوان کی اکثریت کا اعتماد کھو چکا ہے تو وہ اسے آئین کے آرٹیکل 91 کے تحت اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کا کہیں گے اور ایسا کرنے میں ناکامی کی صورت میں وزیراعظم فارغ ہو سکتا ہے لیکن صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی ایسا سوچ سکتے ہیں یہ تصور بھی محال ہے۔ آئین کے اسی آرٹیکل کی شق آٹھ کے تحت وزیراعظم اپنے ہاتھ سے خود استعفیٰ تحریر کر کے صدر کو بھیج سکتا ہے جس سے وزارتِ عظمیٰ کا منصب خالی ہو جائے گا اور پھر اس پہ انتخاب اور اس میں ناکامی کی صورت میں نئے انتخابات کا انعقاد ممکن ہو سکتا ہے تو یہ توقع رکھنا کہ وزیراعظم عمران خان خود استعفیٰ دیں، دن میں خواب دیکھنے کے مترادف ہے۔ آئین کے آرٹیکل 63کی شق الف کی 16ذیلی دفعات ایسی ہیں جن پر پورا نہ اترنے کی صورت میں وزیراعظم کی قومی اسمبلی کی رکنیت ختم ہو سکتی ہے جبکہ شق 2 کے تحت اسپیکر کے سامنے ان کی اہلیت کا سوال اٹھے تو وہ 30دن میں فیصلہ کر کے الیکشن کمیشن کو آگاہ کرے

گا اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں معاملہ از خود الیکشن کمیشن کو ارسال کردہ تصور کیا جائے گا۔ ایک آئینی طریقہ یہ بھی ہے کہ صدر مملکت آرٹیکل 58کے تحت قومی اسمبلی کو تحلیل کردیں لیکن یہ بھی ممکن نہیں رہا کیونکہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد صدر کا قومی اسمبلی تحلیل کرنے کا صوابدیدی اختیار ختم ہو چکا۔ اجتماعی استعفوں کے آپشن پہ اپوزیشن کو خوف ہے کہ دوبارہ انہی نشستوں پہ الیکشن کرا دئیے جائیں گے۔ اپوزیشن کے نئے انتخابات کے مطالبے کی ایک وجہ الیکشن کمیشن میں زیرِ سماعت تحریک انصاف کا فارن فنڈنگ کیس بھی ہے لیکن اگر اپوزیشن کی توقعات کے عین مطابق فیصلہ پی ٹی آئی کے خلاف بھی ہو جائے تو بھی بطور سیاسی جماعت اسے تحلیل کرنے کا اختیار وفاقی حکومت کا ہی ہے۔ وفاقی حکومت غیر ملکی فنڈنگ ثابت ہونے کی صورت میں کسی سیاسی جماعت کے خلاف ڈیکلیریشن کو آفیشل گزٹ میں شائع کرے گی اور پندرہ دن کے اندر ریفرنس سپریم کورٹ کو بھیجے گی، سپریم کورٹ سے اس ریفرنس کو درست قرار دیے جانے پر وہ سیاسی جماعت تحلیل ہو جائے گی لیکن الیکشن کمیشن سے فارن فنڈنگ کے کیس میں خلاف فیصلہ آنے پر

بھی کیا تحریک انصاف کی حکومت اپنی ہی جماعت کو تحلیل کرنے کے لیے سپریم کورٹ کو ریفرنس بھیجے گی، یہ سوچنا بھی پاگل پن ہے۔ اس لیے آئین میں درج تمام طریقہ ہائے کار اور موجودہ زمینی حقائق کی روشنی میں اپوزیشن کا ملک میں فوری طور پہ نئے انتخابات کا مطالبہ غیرحقیقی ہے جس کے حقیقت کا روپ ڈھالنے کی ایک ہی صورت ہے کہ حکومت کی اتحادی جماعتوں کی اکثریت اس کا ساتھ چھوڑ جائے۔ اور یہ اتحادی کیا ان کے اشارے پہ حکومت کا ساتھ چھوڑیں گے جنہوں نے مولانا کو اپریل میں نئے الیکشن کے انعقاد کی ضمانت دی ہے؟(ش س م)

سی پیک کے حوالے سے قوم کو اب تک کی سب سے بڑی خوشخبری سنا دی ، نئے پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر ہونے کا وقت آگیا


اسلام آباد (ویب ڈیسک)کے پی کے حکومت کی سست روی کے باعث رشکئی اقتصادی زون کا افتتاح تاخیر کا شکار ہو گیا ہے ،منصوبے کے نومبر میں افتتاح کی تیاری کی جاری تھی تاہم عین وقت پر علم میں آیا کہ کے پی کے حکومت منصوبے کے ترقاتی کنٹریکٹ کوحتمی شکل نہیں دے سکی ہے ، جس کے بعد خاموشی سے تقریب کو ملتوی کر دیا گیا ہے، اور

منصوبہ بندی اور ترقی کے وزیر اسد عمر نے ٹوئٹ جاری کر دیا کہ حکومت آئندہ ماہ کے اختتام تک چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت پہلے خصوصی اقتصادی زون کا سنگ بنیاد رکھنے کی منصوبہ بندی کررہی ہے۔ دریں اثنامیڈیا سے گفتگو میں اسد عمر نے کہا کہ جب تک عمران خان وزیراعظم ہیں اور تحریک انصاف کی حکومت ہے،عوام کی زندگی میں بہتری لانے کی جدوجہد جاری رہے گی۔انہوں نے کہاکہ جلد ہی عوام کی زندگی میں بہتری نظر آنا بھی شروع ہوجائے گی۔وفاقی وزیر نے کہ ہمارے ہاں روایت یہ ہے کہ میں اقتدار میں ہوں تو جمہوریت ، اور اقتدار سے نکل گیا تو جمہوریت ختم ہوگئی۔ کچھ وزیر شکایت بھی کرتے ہیں کہ وہ ہر ہفتے کہاں سے عوامی زندگی میں بہتری کی رپورٹ لاکر پیش کریں ؟