شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

مہاتیر محمد واقعی زبان کے پکے نکلے ۔۔۔ فلسطین کے متعلق ایسا اعلان کر دیا کہ پوری اُمت مسلمہ کے دل خوش ہو گئے


باکو (ویب ڈیسک) باکو سربراہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ملائیشیا کے وزیر اعظم مہاتیرمحمد نے کہا ہے کہ ملائیشیا فلسطین میں ایک منظور شدہ سفارت خانہ کھولے گا تاکہ اس سے فلسطینیوں کو آسانی سے امداد فراہم کی جا سکے۔ فلسطینی اب ابھی ایک ظالمانہ حکومت کے زیر قبضہ زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ مہاتیر نے آذربائیجان کے

دارالحکومت باکو میں 18ویں غیر وابستہ تحریک سربراہ کانفرنس کے موقع پر 120 ممالک کے رہ نماؤں اور نمائندوں سے خطاب میں کہا کہ یہ سفارتخانہ اردن میں ہوگا۔اْنھوں نے نشاندہی کی کہ منظور شدہ سفارت خانے کے افتتاح سے ملائیشیا کو فلسطینیوں کو زیادہ آسانی سے مدد فراہم ہو سکے گی۔ انھوں نے اعتراف کیا کہ’’اسرائیل‘‘ کوئی راستہ تلاش کرے گا کہ فلسطین تک یہ امداد نہ پہنچے۔انھوں نے کہا کہ اس موقع پر بھی یہ باور کرنا چاہتا ہوں کہ ہم فلسطینی بھائیوں کے منتظر ہیں۔ فلسطین اب بھی ایک ظالمانہ حکومت کے زیر قبضہ زندگی بس کرنے پرمجبور ہیں۔ قابض اسرائیل نے فلسطینی سرزمین پر غیر قانونی بستیوں کو پھیلانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے جبکہ حقیقی معنوں میں یہ صرف فلسطینیوں کی سرزمین ہے۔ ملائشیا کے وزیراعظم اور بزرگ سیاست دان مہاتیر محمد نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر ایک الگ ملک ہے، اقوام متحدہ کی قراردادوں کے باوجود جموں و کشمیر پر حملہ کر کے اس پر قبضہ کیا گیا،ہو سکتا ہے اِس ایکشن کی وجوہ ہوں،مگر یہ پھر بھی غلط اقدام ہے،اس مسئلے کو پُرامن طریقے سے حل کرنا چاہئے اور بھارت،پاکستان کے ساتھ مل کر یہ

مسئلہ حل کرے۔اقوام متحدہ کو نظر انداز کرنے کی صورت میں اس ادارے اور قانون کی حکمرانی کے لئے رسوائی کا پہلو نکل سکتا ہے،فلسطین کے حوالے سے مہاتیر محمد نے کہا کہ اقوام متحدہ کا پہلا کام اسرائیل کا قیام تھا اور اس کے لئے عرب ممالک کی زمین چھینی گئی اور وہاں سے نوے فیصد آبادی کو بے دخل کر دیا گیا، نتیجہ دہشت گردی کی صورت میں نکلا،حالانکہ اس وقت دہشت گردی تھی ہی نہیں۔





اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ ترین خبریں

دلچسپ و عجیب

بزنس