شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

آرمی چیف کی مولانا فضل الرحمان سے درخواست، مولانا نے کیا جواب دے دیا؟


لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) حامد میر نے دعویٰ کیا ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی یہ خواہش ہے کہ مولانا فضل الرحمان دھرنے کے پروگرام کو مترد کر دیں اور یہ دھرنا نہ دیں، آرمی چیف نےپوری کوشش بھی کر لی ہے لیکن مولانا فضل الرحمان نہیں مان رہے، ماضی میں جتنی بھی تحریکیں چلاائی گئیں ہیں ان سے جو یو آئی کا موازنہ نہیں کیا جاسکتا ، یہ تحریک

عمران خان کی تحریک سے مختلف ہے کیونکہ اسکے پیچھے جنرل راحیل شریف تھے۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی حامد میر کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کے دھرنے کو لے کر پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن دونوں ہی مشکلات کا شکار ہیں، حکومت مولانا کے دھرنے کا ہلکا سمجھتی رہی لیکن آرمی چیف کی یہ خواہش ہے کہ مولانا یہ دھرنا نہ دیں، جنرل قمر جاوید باجودہ نے کوشش بھی کی لیکن اب مولانا نہیں مان رہے، حکومتی وزراء بڑے یقین کے ساتھ یہ دعویٰ کرتے رہے کہ مولانا فضل الرحمان اسلام آباد کا رُخ نہیں کریں گے ۔دوسری جانب گزشتہ روز جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اچانک اعلان کیا کہ تمام کارکنان 27 اکتوبر کو نہیں بلکہ 31 اکتوبر کو ایک ساتھ اسلام آباد میں داخل ہونگے، اس کے علاوہ 27 اکتوبر کو جو جلوس ہونگے وہ کشمیر کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر ہی منایا جائے گا، لیکن مولانا فضل الرحمان نے اچانک دھرنے کی تاریخ تبدیل کیوں کی اس کو لے کر کافی سوالات اُٹھائے جارہے ہیں، یہ سوال بھی گردش کر رہا ہے کہ آزادی مارچ اور

دھرنے کی تاریخ کو تبدیلی کو لے کر مولانا فضل الرحمان نے شاہ محمود قریشی کی بات مان لی ہے یا پھر اسکے پیچھے کوئی اور وجہ ہے؟ کیونکہ جیسے ہی مولانا کی جانب سے جب یہ اعلان کیا گیا تو شاہ محمود قریشی کی جانب سے مولانا سے یہ درخواست کی گئی کہ مولانا اپنے اس فیصلے پر نظر ثانی کریں ، کیونکہ 27 اکتوبر ہی وہ تاریخ ہے جس تاریخ کو بھارت نے مقبوضۃ کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کیا تھا اور اگر مولانا اس تاریخ کو احتجاج یا دھرنا دیتے ہیں تو پوری دنیا کو کیا پیغام جائے گا؟ اس دن تو کشمیری یوم سیاہ مناتے ہیں اور ہمیں چاہیے کہ ہم کشمیریوں کی آواز بنے نہ کہ اپنے الگ الگ دھرنے دے کر بیٹھ جائیں ، مولانا فضل الرحمان کی حب الوطنی اور کشمیر کے ساتھ محبت پر ششک نہیں کیا جاسکتا لیکن اگر مولونا نے اپنے دھرنے کی تاریخ نہ بدلی تو پھر کشمیر کاز کو بہت برے طریقے سے نقصان پہنچے گا۔ تو جیسے ہی مولانا فضل الرحمان کی جانب سے دھرنے اور احتجاج کی تاریخوں کی تبدیلی کا اعلان کیا گیا تو ملک میں نئی بحث شروع ہوگئی کہ کیا مولانا نے شاہ محمود قریشی کی بات کو مانتے ہوئے یہ قدم اُٹھایا ہے، کیونکہ اس سے پہلے یہ خبریں بھی گردش

میں تھیں کہ شاہ محمود قریشی حکومت میں لابنگ کر رہے ہیں۔





اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ ترین خبریں

دلچسپ و عجیب

بزنس