شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

پہلے 27 اکتوبر، پھر 31 اکتوبر اور اب۔۔۔ جمعیت علمائے اسلام نے ایسا اعلان کر دیا کہ پورا ملک حیران رہ گیا


اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی رہنماء مولانا غفور حیدری نے واضح کیا ہے کہ 27 اکتوبر سے احتجاج کا سلسلہ شروع کر دیا جائے گا، اسلام آباد میں یہ احتجاجی جلوس 1 نومبر یا پھر 2 نومبر تک پہنچے گے اور وہاں پڑاؤ ڈالیں گے۔ غفور حیدری کی باتپر نامور خاتون اینکر غریدہ فاروقی بھی میدان میں آگئی اور ناقابلِ یقین رد

عمل دے ڈالا ۔ تفصیلات کے مطابق سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں غریدہ فاروقی کا کہنا تھا کہ ’’ پہلے 27 اکتوبر پھر 31 اکتوبر اب یکم یا دو نومبر ۔۔۔ مارچ کی اسلام آباد پہنچنے کی رفتار ابھی سے سست کیوں ہو رہی ۔۔۔؟‘‘دوسری جانب گزشتہ روز جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اچانک اعلان کیا کہ تمام کارکنان 27 اکتوبر کو نہیں بلکہ 31 اکتوبر کو ایک ساتھ اسلام آباد میں داخل ہونگے، اس کے علاوہ 27 اکتوبر کو جو جلوس ہونگے وہ کشمیر کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر ہی منایا جائے گا، لیکن مولانا فضل الرحمان نے اچانک دھرنے کی تاریخ تبدیل کیوں کی اس کو لے کر کافی سوالات اُٹھائے جارہے ہیں، یہ سوال بھی گردش کر رہا ہے کہ آزادی مارچ اور دھرنے کی تاریخ کو تبدیلی کو لے کر مولانا فضل الرحمان نے شاہ محمود قریشی کی بات مان لی ہے یا پھر اسکے پیچھے کوئی اور وجہ ہے؟ کیونکہ جیسے ہی مولانا کی جانب سے جب یہ اعلان کیا گیا تو شاہ محمود قریشی کی جانب سے مولانا سے یہ درخواست کی گئی کہ مولانا اپنے اس فیصلے پر نظر ثانی کریں ، کیونکہ 27 اکتوبر ہی وہ تاریخ ہے جس تاریخ کو بھارت نے

مقبوضۃ کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کیا تھا اور اگر مولانا اس تاریخ کو احتجاج یا دھرنا دیتے ہیں تو پوری دنیا کو کیا پیغام جائے گا؟ اس دن تو کشمیری یوم سیاہ مناتے ہیں اور ہمیں چاہیے کہ ہم کشمیریوں کی آواز بنے نہ کہ اپنے الگ الگ دھرنے دے کر بیٹھ جائیں ، مولانا فضل الرحمان کی حب الوطنی اور کشمیر کے ساتھ محبت پر ششک نہیں کیا جاسکتا لیکن اگر مولونا نے اپنے دھرنے کی تاریخ نہ بدلی تو پھر کشمیر کاز کو بہت برے طریقے سے نقصان پہنچے گا۔ تو جیسے ہی مولانا فضل الرحمان کی جانب سے دھرنے اور احتجاج کی تاریخوں کی تبدیلی کا اعلان کیا گیا تو ملک میں نئی بحث شروع ہوگئی کہ کیا مولانا نے شاہ محمود قریشی کی بات کو مانتے ہوئے یہ قدم اُٹھایا ہے، کیونکہ اس سے پہلے یہ خبریں بھی گردش میں تھیں کہ شاہ محمود قریشی حکومت میں لابنگ کر رہے ہیں۔





اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ ترین خبریں

دلچسپ و عجیب

بزنس