شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

بریکنگ نیوز: عمران خان دورہ چین مکمل ، اس کے بعد وہ کہاں جانے والے ہیں؟ تفصیلات جاری کر دی گئیں


بیجنگ (ویب ڈیسک) وزیر اعظم عمران خان دو روزہ دورہ چین مکمل کر کے وطن واپس روانہ ہو چکے ہیں ، واپسی سے قبل چین کے وزرائے خارجہ اور چین کی تینوں مسلح افواج نے عمران خان کو سلامی پیش کی ، تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان چین کا دورہ مکمل کرکے وطن واپسی کیلئے روانہ ہوگئے ہیں۔ وزیر اعظم کو چین کے نائب وزیر

خارجہ سمیت اعلیٰ حکام نے رخصت کیا اور چین کی تینو ں مسلح افواج کی دستے نے سلامی دی ۔وطن روانگی کے قبلوزیر اعظم عمران خان کی چیئر مین نیشنل پیپلز پاٹی کانگریس سے ملاقات گریٹ ہال میں ہوئی ۔ وزیراعظم عمران خان کی چیئرمین کوچین کی 70 ویں سالگرہ پرمبارکباد دی ۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین آئرن برادرز ہیں، گزشتہ چند دہائیوں میں چین کی معاشی ترقی قابل تحسین ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان چین کے تجربات سے مستفیدہوکرغربت کاخاتمہ چاہتاہے۔ اقتصادی راہداری کی تکمیل حکومت کی اولین ترجیح ہے۔انہوں نے کہا سی پیک کادوسرامرحلہ معاشی واقتصادی ترقی کا باعث بنے گا۔مقبوضہ کشمیرمیں کرفیو فوری اٹھانے کی ضرورت ہے۔دوسری جانب ورلڈ اکنامک فورم (ڈبلیو ای ایف) کی جانب سے جاری عالمی مسابقتی انڈیکس 4.0 کی درجہ بندی میں پاکستان 3 درجے کم ہوگئی اور یہ 141 ممالک میں سے 110 ویں نمبر پر آگیا۔عالمی مسابقتی رپورٹ، 1979 سے جاری ہونے والی سالانہ مسابقتی رپورٹ ہے جو اس بات کا اندازہ لگاتی ہے کہ کونسی معیشت پیداواری اور طویل مدتی ترقی کے لحاظ سے بہتر نظر آئی۔اگر اس

فورم کی گزشتہ سال کی رپورٹ دیکھیں تو 2018 میں پاکستان 140 ممالک میں سے 107 ویں نمبر پر تھاتاہم 2019 کی رپورٹ کو دیکھیں تو 110 کی مجموعی درجہ بندی میں پاکستان کی اداروں کی کارکردی میں بہتری آئی اور یہ 109 سے 107 رہی، اس کے علاوہ انفرااسکٹچر کے لحافظ سے پاکستان کی درجہ بندی 93 سے گر کر 105 پر آگئی، آئی سی ٹی آڈوپشن ایک سال قبل کی 127 کی درجہ بندی سے بڑھ کر ہوکر 131 ہوگئی۔اسی طرح معاشی استحکام کے حوالے سے پاکستان کی غیرمعمولی تنزلی ہوئی اور یہ 103 سے گرکر 116 تک پہنچ گیا جبکہ صحت کے لیے یہ درجہ بندی 115، اسکلز کے لیے 125 اور پروڈکٹ مارکیٹ کے لیے 126 رہی۔رپورٹ کے مطابق مزدور مارکیٹ ایک درجہ بہتری کے بعد 120 ہوگئی جبکہ مالیاتی نظام کی درجہ بندی گراوٹ کا شکار رہی اور یہ 89 سے گر کر 99 ہوگئی جبکہ مارکیٹ حجم کی یہ درجہ بندی 29 پر رہی اور سازگار کاروباری ماحول کے لحاظ سے پاکستان کی درجہ بندی میں بہتری ہوئی اور یہ 52 درجے پر رہی، اس کے علاوہ تخلیقی صلاحیت میں درجہ بندی گری اور یہ 75 سے 79 پر آگئی۔اس حوالے سے

مشعال پاکستان جو فیوچر آف اکنامک پروگریس سسٹم انیشی ایٹو، ڈبلیو ای ایف کا کنٹری پارٹنر انسٹی ٹیوٹ کے اعلامیے کے مطابق رپورٹ میں مسابقتی پیمانے 4.0 کے لیے ایک نیا طریقہ کار اپنایا گیا جس میں ایسے طریقے بھی شامل ہیں جو زیادہ علم اور ڈیجیٹل ایکوسسٹم کو ظاہر کرتے ہیں۔





اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ ترین خبریں

دلچسپ و عجیب

بزنس