شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

بھارتی حکومت نے پاکستان کے دباؤ کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے ، 2 ماہ سے عائد پابندیاں ختم ، پورے کشمیر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی


لاہور (ویب ڈیسک) آزادی ایک بیش قیمت خزانہ ہے اس پر ہر شخص کا بنیادی حق ہے مگرمقبوضہ کشمیر میں معصوم لوگوں سے ان کی آزادی غصب کی جا چکی ہے مگر گزشتہ 72برس کے عرصے سے نہتے کشمیری بھارتی فورسز کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہیں۔ دو ماہ قبل بھارت نے اپنی ہٹ دھرمی اور دراندازی کرتے ہوئے لاکھوں کی تعداد میں فوجی

مقبوضہ کشمیر میں بھیجے اور وہاں کرفیو نافذ کر دیا۔ پاکستان کے عظیم قائد عمران خان نے ہر فورم پر بھارت کے اس اقدام کے خلاف آواز اٹھائی اور اب دو ماہ کے بعد بالآخر بھارت نے کشمیر میں سفری پابندیاں ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ بھارت نے اعلان کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر پر 2 ماہ سے عائد سفری پابندیاں 10 اکتوبر سے ہٹا دی جائیں گی۔ بھارتی اخبار انڈیا ٹودے کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ جموں اور کشمیر کے گورنر ستیا پال ملک نے محکمہ داخلہ کو وہ ہدایت نامہ ختم کرنے کا حکم دے دیا جس کے تحت وادی میں موجود سیاحوں کو علاقہ چھوڑنے کا حکم دیا گیا تھا۔ 5 اگست کے اقدامات سے قبل ہی بھارت نے مقبوضہ وادی میں غیر معمولی اقدامات اٹھانے شروع کردیے تھے جس کے تحت 2 اگست کو مقبوضہ کشمیر کے سفر پر پابندی عائد کر کے وادی میں پہلے سے موجود سیاحوں کو نکل جانے کا حکم دیا گیا تھا۔یہاں یہ بات مدِ نظر رہے کہ بھارتی حکام کی جانب سے مقبوضہ وادی میں دو ماہ قبل لاک ڈاؤن کی شروعات کی گئی تھیں جو تاحال جاری ہیں۔ بھارتی حکام کے اس اعلان کے باوجود برطانیہ اور دیگر ممالک نے اپنے شہریوں پر مقبوضہ کشمیر کا سفر نہ

کرنے کی ہدایت برقرار رکھی ہے۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں ہزاروں کی تعداد میں اضافی فوج بھیج کر لاک ڈاؤن اور کرفیو نافذ کرنے کے علاوہ خطے کی اہم سیاسی شخصیات کو قید کرنے کے بعد 5 اگست کو وادی کی خصوصی حیثیت ختم کرکے اسے 2 اکائیوں میں تقسیم کردیا تھا۔زمینی حقائق کے مطابق عوام بھارتی حکومت کے اس اقدام سے برہم ہیں جس کے باعث روزانہ احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تاجر اپنے کاروبار کھولنے سے گریزاں جبکہ بچے اسکول جانے سے محروم ہیں۔ 5 اگست کے بعد سے 4 ہزار افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے جس میں 144 کم عمر لڑکے بھی شامل ہیں۔اس کے علاوہ بھارتی سیکیورٹی فورسز فائرنگ کے واقعات میں متعدد کشمیریوں کو شہید کرچکی ہیں اور پولیس نے ہتھیاروں کی برآمدگی کا بھی دعویٰ کیا۔ موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس ابھی تک معطل ہے جبکہ بھارت کا اصرار ہے کہ صورتحال ’معمول کے مطابق‘ چل رہی ہے۔ بھارتی حکومت کی جانب سے مقبوضہ وادی میں سخت اقدامات کرنے کے 2 ماہ بعد وہاں کے ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے مواصلات اور انٹرنیٹ کی بندش کی وجہ سے کئی جانیں ضائع ہو

چکی ہیں۔





اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ ترین خبریں

دلچسپ و عجیب

بزنس