شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

بریکنگ نیوز: شہزادہ محمد بن سلمان کی وزیراعظم عمران خان سے ناراضگی اور طیارہ واپس لینے کی اصل کہانی سامنے آگئی


اسلام آباد (ویب ڈیسک) عمران خان کے دورہ امریکہ کے بعد یہ افواہ نما خبریں آئی تھیں کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان پاکستانی وزیر اعظم عمران خان سے ناراض ہو گئے ہیں ۔ خاص طور پر نامور پاکستانی تجزیہ کار نجم سیٹھی نے تجزیہ پیش کیا تھا کہ محمد بن سلمان عمران خان سے ناراض ہیں اس خبر کو سوشل میڈیا پر ہزاروں افراد نے شیئر کیا اور اس پر

خوب تبصرے بھی ہوئے۔ بھارتی اخبارات نے بھی اس خبر کو نمایاں جگہ دی۔ نجم سیٹھی نے اپنے اداریے میں لکھا کہ ایم بی ایس پاکستان، ترکی اور ملائیشیا کے مشترکہ چینل کھولنے کے اعلان پر سخت نا خوش ہیں جب کہ ان کی ناراضگی ایران سے مصالحت کے مسئلے پر بھی تھی۔ لاہور سے ایک مشہور تجزیہ نگار احسن رضا کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کا ناراض ہونا منطقی لگتا ہے۔ “سعودی عرب کے بادشاہ اپنے آپ کو مسلم دنیا کا رہنما سمجھتے ہیں اور اگر پاکستان ترکی کے ساتھ مل کر کوئی چینل بناتا ہے یا پھر تہران سے معاملات ٹھیک کرنے کی بات کرتا ہے تو سعودی ناراض تو ہوں گے۔اس خبر کو گزرے ہوئے تین دن ہو چکے ہیں اور ابھی تک با ضابطہ طور پر ریاض سے کوئی تردید نہیں آئی۔ تو منطقی طور پر یہ ممکن ہے کہ سعودی عرب ہمارے ان سفارتی اقدامات پر ناراض ہو۔” دوسری جانب نیشنل پارٹی کے رہنما سینیٹر محمد اکرم بلوچ کے خیال میں بھی سعودی ناراضگی ممکن ہے۔ “سعودی عرب ایران سے شاید جنگ نہ چاہتا ہو لیکن وہ مصحالت بھی نہیں چاہتا اور ترکی سے بھی اس کے تعلقات خوشگوار نہیں ہیں۔ تو میرے خیال میں ناراضگی ہوئی ہے۔” جبکہ

معروف صحافی اور تجزیہ نگار ضیاء الدین نے اس مسئلے پر اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں ایسا ممکن نہیں ہے۔ اگر محمد بن سلمان نے اپنا طیارہ واپس بھی منگوا لیا تھا تو پھر عمران خان سعودی کمرشل فلائٹ میں کیوں آتے۔ دوسرا ترکی اور سعودی عرب دونوں ہی امریکا کے قریب ہیں۔ اس لیے نارضگی والی بات منطقی نہیں ہے۔ تیسرا ایران سے اب ریاض خود صلح صفائی چاہتا ہے اور آج کے امریکی اخبارات میں ایسی خبریں ہیں۔ تو اگر عمران خان نے اس صلح کی بات کی تو ریاض کیوں ناراض ہوگا۔ تو میرے خیال میں تو سعودی عرب ناراض نہیں ہے۔”دفاعی تجزیہ نگار جنرل امجد شیعب کے مطابق، “کچھ عناصر اس طرح کے بے بنیاد خبریں پھیلا رہے ہیں۔ ایسے عناصر آرمی سے بغض رکھتے ہیں اور ایک سیاسی جماعت کے قریب ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر محمد بن سلمان نے اس طرح اپنا طیارہ واپس منگوایا ہوتا توسعودی آرمی چیف جنرل اسمبلی کے اجلاس کے بعد پاکستان کیوں آتا اور سعودی فوجوں کی عسکری تربیت سمیت کئی امور پر بات چیت کیوں کرتا۔” ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب پاکستان پر عرب ممالک سے بھی زیادہ انحصار اور

بھروسہ کرتا ہے۔ “تو ایسے میں وہ پاکستان کو کیوں ناراض کرے گا۔ ہمارے اور ایران کے تعلقات ہمارا مسئلہ ہے جب کہ ریاض کے کسی اور ملک سے تعلقات ان کا مسئلہ ہے۔ اور دونوں ممالک سے اس بات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔”





اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ ترین خبریں

دلچسپ و عجیب

بزنس