شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

اگر پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ ہوئی تو ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال میں پہل کون کرے گا


لاہور (ویب ڈیسک) پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال میں پہل نہ کرنے کی پالیسی نہیں ۔ ہمارے ہتھیار دشمن کو باز رکھنے کے لیے ہیں جو ہوگا ریاستی پالیسی کے مطابق ہوگا۔ حالیہ دنوں میں جب بھارت کے ساتھ

نامور کالم نگار ساجد حسین ملک اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ کشیدگی انتہا کو پہنچی ہوئی ہے اور مختلف حلقوں میں یہ بات زیرِ بحث رہتی ہے کہ کسی ممکنہ جنگ کی صورت میں پاکستان کو بھارت کے خلاف ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے میں پہل کرنی چاہیے یا نہیں۔ جنرل آصف غفور کا یہ بیان بڑا واضح ہے اور اس کے ذریعے لگی لپٹی رکھے بغیر بھارت کو ہی نہیں دنیا کو بھی بتا دیا گیا ہے کہ بھارت اگر جارحیت سے باز نہیں آتا اور حالات خدا نخواستہ اس نہج پر پہنچ جاتے ہیں کہ جنگ کے سوا اور کوئی چارہ کار نہیں رہتا تو پھر پاکستان ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال میں پہل سے گریز نہیں کرے گا۔ کہا جا سکتا ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال میں پہل کرنا کوئی دانائی کی بات نہیں اس طرح گویا خطے کو ہی نہیں پوری دنیا کو ایٹمی جنگ کی تباہ کاریوں کا نشانہ بنانے کی راہ ہموار کرنا ہے۔ یہ بات اپنی جگہ یقینا اہم ہے لیکن اس سے زیادہ اہم بات ملکی سلامتی اور دفاع کا معاملہ ہے۔ جب ملکی سلامتی اور دفاع کو شدید خطرات لاحق ہوں تو ایٹمی ہتھیار جو بڑی جان جوھکوں سے تیار کیے گئے ہیں اور ان کا مقصد محض دشمن کے وار سے اپنے آپ کو بچانا ہے تو پھر ان کو کیوں نہ استعمال کیا جائے۔ کون نہیں جانتا کہ پاکستان نے اپنا ایٹمی پروگرام اس وقت شروع کیا جب بھارت نے1975 میں پوکھران (راجستھان) میں ایٹمی دھماکے کیے ۔ پاکستان کو اس بات کا احساس ہو گیا کہ

اگر دشمن کے مقابلے میں ملک کی سلامتی اور دفاع کا معقول اور موثر انتظام کرنا ہے تو پھر اس کے لیے ایٹمی صلاحیت حاصل کرنا ضروری ہے۔ کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز کا قیام اسی سوچ اور نظریئے کو بروئے کار لانے کے لیے عمل میں لایا گیا۔ کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز میں ایٹمی ہتھیاروں میں استعمال ہونے والی یورینم کو افزودہ کرنے کے لیے سینٹری فیوج مشینوں کی تیاری ، تنصیب اور دوسری اہم ضروریات اور لوازمات کی فراہمی یقینا ایک مشکل ، صبر آزما اور جان لیوا مرحلہ تھا جس کو پورا کرنے کے لیے ہر حربہ، طریقہ اور راستہ اپنایا گیا۔ اگر یہ کہاجائے کہ دنیا کی نظروں بالخصوص مخالفین کی نظروں سے بچتے ہوئے ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کے ضروری لوازمات کو چرا کر ، چھین کر ، مانگ کر یا کسی اور طریقے سے پورا کیا گیا تو کچھ ایسا غلط نہیں ہوگا۔ مقصد صرف یہ تھا کہ پاکستان کو ایٹمی صلاحیت یا ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کی صورت میں وہ ڈیٹرنس (مدافعت اور مقابلے کا ہتھیار )مل جائے جس سے اس کے ازلی، ابدی اور مکار دشمن بھارت کو اس کے خلاف جارحیت کرنے کی جرات نہ ہو سکے۔پاکستان کے ایٹمی ہتھیار بلاشبہ سہ جارحیت کے ہتھیار ہی ہیں اور ڈیٹرنس صرف پیٹیوں یا خفیہ ذخیرہ گاہوں میں ہی محفوظ کر کے نہیں رکھے جاتے بلکہ ضرورت پڑنے کے موقع پر ان کے استعمال کو بھی یقینی بنانا ہوتا ہے۔ پاکستان اگر آج تک بھارت کی طرف سے ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کی صورت میں نشانہ بننے سے بچا ہوا ہے

تو اس کی وجہ محض یہ ہے کہ بھارت کو اندازہ ہے کہ اس نے اگر کوئی شرارت کی یا ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کی راہ اپنانے کی کوشش کی تو اسے پاکستان کی طرف سے ایسی شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا جس سے اس کی تباہی و بربادی یقینی ہے۔ یہاں کئی ایسے مواقعے کی مثالیں دی جاسکتی ہیں کہ بھارت اپنی طاقت کے گھمنڈ میں پاکستان کے خلاف جارحیت پر آمادہ تھا لیکن پاکستان کے پاس ایٹمی ہتھیاروں کی موجودگی کا خوف اسے جارحیت سے باز رکھنے کا سبب بنا ۔ ماضی قریب کی تاریخ کے کچھ سربستہ راز ہیں جن میں سے بعض آشکار ہو چکے ہیں۔ یہ غالباً 1984 (یا 1985) کی بات ہے بھارت کے سینئر اخبار نویس آنجہانی کلدیپ نئیر پاکستان کے دورے پر اسلام آباد آئے تو اس وقت کے اسلام آباد سے شائع ہونے والے انگریزی اخبار “The Muslim” کے ایڈیٹر سید مشاہد حسین، (موجودہ سینٹر اور سابقہ وفاقی وزیر) کی وساطت سے ان کی ملاقات پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی روح رواں شخصیت ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے کروائی گئی۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے حکومتی پالیسی کے عین مطابق باتوں باتوں میں کلدیپ نئیر کو باور کرا دیا کہ پاکستان ایٹمی صلاحیت حاصل کر چکا ہے۔ اس کا بالواسطہ مقصد یہی تھا کہ بھارتی حکمرانوں کو پاکستان کے ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کا علم ہو جائے اور وہ پاکستان کے خلاف کسی طرح کی جارحیت سے بازرہیں۔ اسی طرح گزشتہ صدی کی اسی کی دہائی کے سن 1987ء کے اوائل کی بات ہے

کہ بھارت کا وزیرِ اعظم آنجہانی راجیو گاندھی جو بوجوہ پاکستان سے شدید نفرت کرتا تھا اس نے کم و بیش اپنی دو لاکھ فوج “براس ٹیکـ” فوجی مشقوں کے نام پر پاکستان کی مشرقی سرحد کے قریب پہنچا دی۔ انہی دنوں پاکستان کی کرکٹ ٹیم عمران خان کی قیادت میں بھارت کے خلاف پانچ ٹیسٹ میچ کھیلنے کے بعد ون ڈے سیریز کے میچ کھیل رہی تھی۔ سیریز کا آخری ون ڈے میچ جے پور میں کھیلا جانا تھا ۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کا عالم تھا کہ پاکستان کے اس وقت کے صدرِ مملکت جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم نے اعلان کر دیا کہ وہ جے پور کا پاک بھارت میچ دیکھنے کے لیے بھارت جائیں گے۔ پاکستانی قوم حیران تھی کہ آخر ہمارے صدرِ مملکت کو کیا ہو گیا ہے کہ بھارت نے اپنی فوجیں ہماری سرحد پر لگا رکھی ہیں اور ہمارے صدرِ مملکت میچ دیکھنے کی تفریح پر بھارت جا رہے ہیں۔ بھارت کے وزیرِ اعظم کے سیکرٹری نے کچھ عرصہ قبل چھپنے والی کتاب میں جنرل ضیاء الحق کے دہلی کے ہوائی اڈے پر پہنچنے اور راجیو گاندھی کا سردمہری سے ان کا استقبال کرنے اور ضیاء الحق کے میچ کو دیکھ کر واپس پاکستان روانگی کے موقع پر راجیو گاندھی سے ہونے والی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ضیاء الحق نے اسلام آباد کے لیے ہوائی جہاز پر سوار ہونے سے قبل راجیو گاندھی کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور اُسے ایک طرف لے گئے اور کہا کہ مسٹر راجیو آپ

پاکستان پر حملہ کرنا چاہتے ہیں۔ ضرور کریں لیکن اس صورت میں پاکستان اور بھارت میں اتنی تباہی پھیلے گی کہ اس کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ بھارت کے طول وعرض میں شاید ایک بھی ہندو نہیں بچے گا۔ پاکستان میں مسلمان ختم بھی ہو گئے تب بھی دنیا میں مسلمان موجود رہیں گے کہ مسلمان دوسرے ملکوں میں بھی بستے ہیں۔ آپ نے فوجیں پاکستان کی سرحد سے واپس نہ بلائیں تو میں اسلام آباد جا کر فائیر کا آرڈر دوں گا پھر جو کچھ ہوگا آپ اسے دیکھ لیں گے۔ کتاب کے مصنف سابقہ اعلیٰ بھارتی عہددار کے مطابق ضیاء الحق جب راجیو سے یہ سب کچھ کہ رہے تھے تو ان کی آنکھوں سے شعلے لپک رکھے تھے اور راجیو کے ماتھے پر پسینے کے قطرے چمک رہے تھے۔ پھر یہ ہوا کہ ضیاء الحق کے پاکستان پہنچنے سے قبل راجیو نے اپنی فوجوں کو پاکستان کی سرحد سے پیچھے ہٹانے کے احکامات جاری کر دیئے۔ ایک اور واقعے کا حوالہ دینا بھی شائد کچھ ایسا غلط نہیں ہوگا ۔ 9/11 کے بعد جب امریکہ افغانستان میں برسرپیکار تھا اور پاکستان امریکی دباؤ کا نشانہ بنا ہوا تھا تو بھارت موقع غنیمت سمجھتے ہوئے اپنی افواج پاکستان کی سرحدوں پر لے آیا۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی انتہا کو پہنچ گئی تو پاکستان کے فوجی صدر جنرل پرویز مشرف نے ٹی وی اور ریڈیو پر قوم سے خطاب کیا اور ساری صورت حال قوم کے سامنے رکھی آخر میں چند جملے عالمی برادری اور بھارت کو مخاطب کرتے ہوئے انگریزی

زبان میں ادا کیے جن میں بھارت کو واضح لفظوں میں انتباہ کیا گیا کہ اس نے پاکستان کے خلاف اگر کوئی شرارت کی تو اسے اس کا سخت خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ بھارت جان گیا کہ پاکستان کا فوجی صدر جو کچھ کہ رہا ہے اس پر عمل بھی کر سکتا ہے چنانچہ بھارتی حکومت نے فی الفور اپنی فوجوں کو پاکستانی سرحد سے واپس بلا لیا۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اگر بھارتی جارہیت سے بچا ہوا ہے تو اس کی بڑی وجہ پاکستان کے پاس ایٹمی ہتھیاروں کا ہونا اور ضرورت پڑنے پر ان کو استعمال کرنے کے لیے تیار رہنا ہے۔ 26 فروری کو بھارت نے بالاکوٹ میں اپنے طیاروں سے بمباری کی اور اگلے دن پاکستان نے بھارت کے دو طیارے مار گرائے اور ایک پائلٹ کو زندہ گرفتار کر لیا تو بھارت نے اپنی خفت مٹانے کے لیے کراچی کو میزائلوں سے نشانا بنانے کا منصوبہ بنایا۔ پاکستان کو اس کی خبر ہو گئی اور پاکستان نے بھارت کے کراچی پر چار میزائل داغنے کے منصوبے کے مقابلے میں بھارتی شہروں پر آٹھ میزائل داغنے کا فیصلہ کر لیا اور ساتھ ہی امریکہ جیسی عالمی طاقتوں کو بھی خبردار کر دیا ۔ بھارت کو پاکستان کے منصوبے کا پتہ چلا تو اس نے کراچی کو نشانا بنانے کا پروگرام منسوخ کر دیا۔ ان واقعات کا حوالہ دینے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ بھارت اگر کسی طرح کی جارحیت کا فیصلہ کرتا ہے تو پاکستان کو اپنے ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال میں پہل کرنے سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔(ش س م)





اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ ترین خبریں

دلچسپ و عجیب

بزنس