شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

وادی اردن پر قبضہ ۔۔۔۔ اسرائیلی وزیراعظم کے اعلان نے امت مسلمہ میں تشویش کی لہر دوڑا دی


یروشلم(ویب ڈیسک) اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے منگل کے روز مغربی کنارے میں واقع وادی اردن پر قبضہ کرنے کے اپنے ارادے ظاہر کردیے۔اسرائیلی ٹی وی چینلز پر چلنے والی اپنی تقریر میں انہوں نے علاقے کو اسرائیل کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر عوام نے انہیں بھاری مینڈیٹ کے ساتھ انتخابات میں کامیاب کرایا تو وہ وادی اردن اور بحیرہ مردار پر

اسرائیل کی حکومت قائم ہوگی۔نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ یہ قدم وہ فوری طور پر اٹھا سکتے ہیں تاہم اس کے لیے انہیں واضح مینڈیٹ کے ساتھ جتوانا ضروری ہے۔انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک اسرائیلی تنظیم کے مطابق جس علاقے کی نیتن یاہو بات کررہے ہیں وہاں 65 ہزار فلسطینی آباد ہیں جبکہ 11 ہزار اسرائیلیوں کو آباد کی گیا ہے۔ یہاں کا مرکزی شہر جیریکو ہے اور یہاں 28 دیہات واقعے ہیں۔تقریر کے دوران انہوں نے امریکہ کے ساتھ اپنی دوستی پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ امریکہ کے اسرائیل-فلسطین تنازع سے متعلق منصوبے کا انتظار کررہے ہیں جو ان کے مطابق جلد ہی پیش کردیا جائے گا۔مغربی کنارے کا دورہ: اسرائیل کی طرف سے امریکی کانگریسی ممبران کو اجازت نہ دینے کا امکان دوسری جانب عرب لیگ کے وزرائے خارجہ نے اسرائیلی وزیراعظم کے بیان کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے امن کی جانب بڑھنے والے تمام راستے ختم ہوجائیں گے۔فلسطینی صدر محمود عباس نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اگر نیتن یاہو نے ایسا کوئی قدم اٹھایا تو دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے تمام امن معاہدے ختم ہوجائیں

گے۔ماہرین نے اسے تیتن یاہو کی جانب سے کچھ عرصے بعد ہونے والے انتخابات جیتنے کے لیے ایک حکمت عملی قرار دیا ہے۔ فلسطینی چاہتے ہیں کہ غرب اردن کا تمام علاقہ ایک دن ان کی ریاست کا حصہ ہوگا۔ انھوں نے اسرائیلی وزیر اعظم کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے اسے امن کے ہر امکان کو تباہ کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ اسرائیل نے سنہ 1967 کی جنگ کے وقت سے غرب اردن پر قبضہ کر رکھا ہے لیکن اسے اسرائیل میں شامل نہیں کیا ہے۔ منگل کو اسرائیل میں انتخابات ہونے جا رہے ہیں جن میں نتن یاہو کا مقابلہ دائیں بازو کی ایسی جماعتوں سے ہے جو غربِ اردن کو اسرائیل میں ضم کرنے کی حمایت کرتی ہیں۔ نیتن یاہو جو دائیں بازو کی جماعت لیکود پارٹی کے سربراہ ہیں، اپنی انتخابی مہم میں مصروف ہیں۔ انتخابی جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ لیکود پارٹی کا دائیں بازور کی بلو اینڈ وائٹ سیاسی جماعت سے کانٹے کا مقابلہ ہے۔





اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ ترین خبریں

دلچسپ و عجیب

بزنس