شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

سپریم کورٹ میں اہم ترین کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس کے ناقابل یقین ریمارکس


اسلام آباد(ویب ڈٰیسک) پولیس کو عام طور پر معلوم ہوتا ہے کہ علاقے میں ڈکیتیاں کون کرتا ہےسپریم کورٹ میں قتل اور ڈکیتی کے 7 ملزمان کی سزائے موت کے خلاف اپیل کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے عدم شواہد کی بنیاد پر ساتوں ملزمان کو بری کردیا۔چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ عام طور پر پولیس کو معلوم ہوتا ہے کہ علاقے میں

ڈکیتیاں کون کرتا ہے، بعض اوقات پولیس کے کہنے پر بھی مقدمات میں ملزمان کے نام شامل کرلیے جاتے ہیں، شاید اس کیس میں بھی ملزمان کے نام اسی طرح شامل کیے گئے۔عدالت نے فیصلے میں کہا کہ مقتول کا پوسٹ مارٹم 14 گھنٹے تاخیر سے کیا گیا اور کیس کو ثابت کرنے کے لیے استغاثہ نے ٹھوس شواہد پیش نہیں کیے۔ملزمان میں امجد علی، محمد خالد، ظفر اقبال، عبدالقیوم، منظور عرف جوری، محمد طارق اور اکرم عرف ڈاکو شامل تھے۔ ان پر قصور کے علاقے پکا روڈ پر ڈکیتی و قتل کا الزام تھا۔ اس ڈکیتی کے دوران محمد شریف نامی شخص بھی قتل ہوا تھا۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا ہے کہ سوموٹو کا اختیار قومی اہمیت کے معاملے پر استعمال کیا جائے گا اور جب ضروری ہوا تب عدالت ازخود نوٹس لے گی۔اسلام آباد میں نئے عدالتی سال کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آصف کھوسہ کا کہنا تھا کہ میں نے تقاضا کیا تھا کہ انتظامیہ اور قانون سازعدالتی نظام کی تنظیم نو کے لیے نیا تین تہی نظام متعارف کروائیں لیکن حکومت اور پارلیمنٹ نے عدالتی نظام کی تنظیم نو کی میری تجویز پر غور نہیں کیا، سپریم کورٹ جوڈیشل ایکٹوازم کی بجائے عملی

فعل جوڈیشل ازم کو فروغ دے رہی ہے، لیکن سوسائٹی کا ایک طبقہ جوڈیشل ایکٹوازم میں عدم دلچسپی پرناخوش ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ تقریر میں کہہ چکا ہوں کہ سوموٹو کا اختیار قومی اہمیت کے معاملے پر استعمال کیا جائے گا اور جب ضروری ہوا یہ عدالت سوموٹو نوٹس لے گی، آئندہ فل کورٹ میٹنگ تک از خود نوٹس کے استعمال سے متعلق مسودہ تیار کر لیا جائے گا، ہم آئین اور قانون کے مطابق اپنا کردارادا کرنے کے لیے پرعزم ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ سوموٹوسےعدالتی گریززیادہ محفوظ اور کم نقصان دہ ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ اختلافی آواز کو دبانے کے حوالے سے بھی آوازیں اٹھ رہی ہیں، اختلاف کو برداشت نہ کرنے سے اختیاری نظام جنم لیتا ہے، کسی کی آواز یا رائے کو دبانا بداعتمادی کو جنم دیتا ہے، بد اعتمادی سے پیدا ہونے والی بے چینی جمہوری نظام کے لیے خطرہ ہے۔چیف جسٹس نے سپریم جوڈیشل کونسل کے بارے میں کہا کہ قانون کے مطابق انصاف کی فراہمی کے علاوہ کونسل سے کوئی بھی توقع نہ رکھی جائے اور کونسل کسی بھی قسم کے خوف، بدنیتی یا دباؤ کے بغیر اپنا کام جاری رکھے گی، سپریم جوڈیشل کونسل کے تمام ممبران اور چیئرمین

اپنے حلف پرقائم ہیں، کونسل اپنی کارروائی میں آزاد اور بااختیار ہے۔صدر مملکت کی کسی جج کے خلاف شکایت سپریم جوڈیشل کونسل کی رائے پراثر اندازنہیں ہوتی چیف جسٹس نے سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کو مشکل ترین عمل قراردیتے ہوئے کہا کہ اس وقت سپریم جوڈیشل کونسل میں 9 شکایات زیرالتواء ہیں، صدر مملکت کی جانب سے دائر دوریفرنس شامل ہیں، صدر مملکت کی جانب سے بھجوائے گئے دونوں ریفرنسز پر کونسل کارروائی کررہی ہے، صدر مملکت کی کسی جج کے خلاف شکایت سپریم جوڈیشل کونسل کی رائے پراثر اندازنہیں ہوتی، سپریم جوڈیشل کونسل اس طرز کی آئینی ہدایات سے صرف نظر نہیں کرسکتی، آئین صدرمملکت کو اختیار دیتا ہے کہ وہ کونسل کو کسی جج کے کنڈکٹ کی تحقیقات کی ہدایت کرے۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اپنے گھر کو درست کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، دنیا بھر میں پہلی بار سپریم کورٹ پاکستان نے ای کورٹ سسٹم متعارف کروایا، لاء اینڈ جسٹس کمیشن کے مطابق زیر التواء مقدمات کی تعداد کم ہوکر 1.78 ملین ہوگئی ہے، گزشتہ عدالتی سال کے آغاز پرعدالتوں میں زیرالتواء مقدمات کی تعداد 1.81 ملین تھی۔واضح

رہے کہ حکومت نے سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس محمد کریم خان آغا کیخلاف حلف کی خلاف ورزی اور مس کنڈکٹ کی شکایات کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کیا ہے۔





اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ ترین خبریں

دلچسپ و عجیب

بزنس