شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

بریکنگ نیوز: امریکہ نے اہم ترین اسلامی ملک میں ہزاروں کلو گرام وزنی بم گرا دیے ۔۔۔بڑی تباہی اور جانی نقصان کی اطلاعات


بغداد (ویب ڈیسک) امریکی جنگی جہازوں نے عراق میں داعش کے زیر قبضہ جزیرے پر 40 ٹن وزنی بم گرا دیئے، ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔ امریکی جنگی جہازوں نے دریائے دجلہ میں جزیرہ کونس کو نشانہ بنایا۔ ٹوئٹر پر جاری فوٹیج میں کہا گیا ہے کہ امریکی اتحادیوں کے ایف 15 اور ایف 35 جنگی جہازوں نے داعش کے زیر قبضہ جزیرے پر 36 ہزار کلو گرام بم

گرائے، بمباری میں متعدد افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے۔ اس سے پہلے امریکی اتحادی افواج نے 2017 میں شمالی عراق کو داعش سے آزاد کرایا تھا۔ امریکی اتحادی فوج نے عراقی جزیرے پر واقع داعش کے ٹھکانے پر80 ہزار پاونڈ وزنی بارود اور بموں سے شدید حملہ کیا ہےغیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی اتحاد نے عراقی صوبے صلادین میں واقع جزیرے قانوس پر قائم داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کی۔ امریکی اتحاد کے اس آپریشن میں 80 ہزار پاونڈ ( 36 ہزار کلو) بارود استعمال کیا گیا۔ داعش کے خلاف کئے جانے والے اس آپریشن میں امریکی ایئر فورس کے ایف 15 اسٹرائیک ایگل اور ایف 35 لائٹننگ طیاروں نے حصہ لیا۔ آپریشن میں داعش کے کئی ٹھکانے تباہ ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ذرائع ابلاغ کے مطابق قانوس جزیرہ بظاہر داعش شدت پسندوں کا مضبوط اور محفوظ گڑھ بن چکا تھا۔ جزیرے پر بڑی تعداد میں سبزہ اور درخت ہونے کی بنا پر جنگجو وہاں چھپے ہوئے تھے۔اس موقع پر اسپیشل آپریشنز جوائنٹ ٹاسک فورس کے سربراہ میجر جرنل ایرک ٹی ہِل نے بتایا کہ گزشتہ ایک ماہ سے داعش کے خلاف نئی معلومات ملی تھیں جس کے بعد مختلف مقامات

پر ان کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔تاہم تصاویر اور ویڈیو سے دیکھا جاسکتا ہے کہ اس غیرمعمولی بمباری سے جزیرے پر بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ایک اور خبر کے مطابق افغانستان کے دارالحکومت کابل میں امریکی سفارت خانے کے قریب راکٹ سے حملہ کیا گیا، حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق افغان دارالحکومت کابل میں امریکی سفارت خانے کے قریب راکٹ سے حملہ کیا گیا جو افغان وزارت دفاع کے دفتر کی دیوار پر گرا تاہم حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ذرائع کے مطابق 9/11 حملوں کی 18 ویں برسی کے موقع پر ایسے حملوں کی توقع تھی۔امریکی سفارت خانے کے قریب راکٹ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکا اور افغان طالبان کے درمیان 18 سال سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والی بات چیت مکمل طور پر ختم ہوچکی ہے۔





اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ ترین خبریں

دلچسپ و عجیب

بزنس