شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

آج پاکستان کے کن شہروں میں شدید بارش کا امکان ہے ؟ محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کر دی


کراچی(ویب ڈیسک) کراچی سمیت ملک کے بیشتر شہروں میں آج اور کل گرج چمک کےساتھ تیز بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق مون سون کے نئے اسپیل کے نتیجے میں ملک کے مختلف شہروں میں پھر سے تیز بارش ہو سکتی ہے۔محکمہ موسمیات کے حکام کا بتانا ہے کہ کراچی سمیت سندھ کے بیشتر شہروں میں پھر سے گرج

چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔کراچی میں حالیہ طوفانی بارش کے اثرات اور قربانی کے جانوروں کی آلائشیں تاحال صاف نہ ہونےکےسبب شہری اذیت سے دوچار ہیں۔اس کے علاوہ مالاکنڈ، ہزارہ،کوہاٹ، پشاور، لاہور، گوجرانوالہ، راولپنڈی، فیصل آباد، ساہیوال، بہاولپور، قلات، گلگت بلتستان اور کشمیر میں کہیں کہیں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔اسلام آباد اور راولپنڈی میں صبح صبح ہلکی بارش ہونے کے باعث موسم سہانا ہو گیا جس سے شہری لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے ہونے والی بارش کے بعدلیاری ندی پر تین ہٹی پل کے مقام پر سینکڑوں گھرانے اس وقت لیاری ایکسپریس وے کی نیچے چارپایاں، چادریں اور ریڑھے لگا کر بیٹھے ہوئے ہیں۔ان لوگوں کے گھر ندی کے کنارے کے ساتھ واقع بستی میں تھے جو شہر میں گذشتہ دو دنوں کے دوران ہونے والی بارشوں کے بعد مکمل طور پر زیر آب ہے۔نندا کماری کا کہنا تھا کہ جب بھی ندی میں بہاؤ آتا ہے ان کا سارا سامان ڈوب جاتا ہے، جھگیاں تک چلی جاتی ہیں اور انھیں کسی قسم کا کوئی معاوضہ نہیں ملتا۔ ’بارش ہمیں بے گھر کردیتی ہے۔ جوان بیٹیاں سڑک پر بیٹھی ہیں

کوئی بھی داد فریاد نہیں سنتا۔‘ سکڑتی ہوئی لیاری ندی کراچی کے وسط میں موجود لیاری ندی پہلے صرف برساتی پانی کی نکاسی کا ذریعہ تھی لیکن اب کئی کچی بستیاں اس کی گود میں پل رہی ہیں۔ یہ غریب لوگ ہیں جو محنت مزدوری سے اپنا پیٹ پالتے ہیں۔ لیاری ندی کھیرتھر کے پہاڑی سلسلے سے نکلتی ہے اور اس کا اختتام سمندر میں ہوتا ہے۔تیہاتی کے مقامی رہائشی عبدالرشید بلوچ نے بی بی سی کو بتایا کہ لیاری ندی کا پانی پہلے صاف تھا جس پر کاشت ہوتی تھی اور اس میں کئی ماہ تک پانی بھی موجود رہتا تھا۔ان کا یہ بھی کہنا تھا بعد میں اس میں سیوریج کا پانی شامل کر دیا گیا اور لوگوں نے گھر بنانا شروع کر دیے جس سے ندی کے بہاؤ میں رکاوٹ آتی گئی۔ کراچی شہر میں اورنگی نالے، شیر شاہ نالے، گجر نالے اور نہر خیام سمیت 41 بڑے نالے ہیں جن کی نکاسی لیاری ندی اور ملیر ندی سمیت سمندر میں ہوتی ہے۔ایک طرف پہاڑوں سے آنے والا بارش کا پانی دوسری طرف آبادی اور شہری برساتی پانی دونوں ندیوں میں طغیانی کا سبب بنتا ہے۔عدالتی کمیشن کے حکم پر شہر میں سیوریج اور برساتی نالوں سے تجاویزات ہٹائی گئی ہیں اور صرف گجر نالے سے ہی 14

ہزار تجاوزات منہدم کی گئی ہیں۔بارش کے دوران بھی موسیٰ کالونی میں دو مشینوں کی مدد سے گجر نالے سے کچرا نکالا جا رہا ہے۔ یہ کچرا کئی میلوں تک پھیلا ہوا ہے جس نے پانی کے بہاؤ کو روک رکھا ہے۔ شہری منصوبہ بندی کی ماہر یاسمین لاری کا کہنا ہے کہ شہر بہت پھیل گیا ہے، اس کے لیے جو انفراسٹرکچر چاہیے تھا اس کو توسیع نہیں دی گئی۔ان کا کہنا تھا کہ برساتی نالے بند کر دیے گئے اور ان پر تجاوزات آ گئیں، اب وہ صاف نہیں ہو رہے جس سے پانی کا بہاؤ متاثر ہوتا ہے۔





اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ ترین خبریں

دلچسپ و عجیب

بزنس