شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی مظالم کے خلاف احتجاج میں شرکت کے بہانے لندن جانے والے شیخ رشید شاپنگ کرتے رہے


لندن (نیوزڈیسک) : مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف گذشتہ روز لندن میں بھارتی ہائی کمیشن کے سامنے کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کے لیے بھرپور احتجاج کیا گیا تھا جس میں شرکت کے لیے کئی حکومتی نمائندے بھی لندن پہنچے۔ ان میں وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانی ذلفی بخاری اور وفاقی وزیر ریلوے شیخ

رشید بھی شامل تھے ۔ ذلفی بخاری کو تو لندن میں ہونے والے احتجاج کی تصاویر اور ویڈیوز میں بھی دیکھا گیا لیکن شیخ رشید کی لندن کے ایک شاپنگ مال میں خریداری کرنے کی تصاویر سامنے آ گئیں جس پر انہیں سخت تنقید کا سامنا ہے۔ ان تصاویر میں شیخ رشید کے ساتھ وزیراعظم عمران خان کے دیرینہ اور قریبی دوست انیل مسرت کو بھی دیکھا گیا جبکہ شیخ رشید کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف احتجاج کو نظر انداز کر کے شاپنگ مال میں خریداری میں مصروف رہے۔ سوشل میڈیا صارفین نے شیخ رشید کو اس معاملے پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی کشیدہ صورتحال پر بیانات دینے والے شیخ رشید نے عملی طور پر کچھ نہیں کیا۔اس حوالے سے اطلاعات موصول ہوئیں کہ وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کو لندن میں منعقدہ مظاہرے میں شرکت کرنا تھی لیکن تھکن کے باعث وہ سفر نہیں کرسکے اورمانچسٹر میں منعقدہ ایک نسبتاً چھوٹے مظاہرے میں شریک ہوئے۔ اس پر بھی عوام نے انہیں سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ تھکن کے باعث وہ مرکزی مظاہرے میں شریک نہیں ہو سکے لیکن شاپنگ مال میں خریداری کے لیے گھومتے

ہوئے ان کو کوئی تھکن محسوس نہیں ہوئی۔کچھ سوشل میڈیا صارفین نے تو شیخ رشید احمد کو غیر سنجیدہ بھی قرار دیا اور کہا کہ مودی کے نام بڑے بڑے پیغامات جاری کرنے والے شیخ رشید احمد نے مقبوضہ کشمیر پر اپنی خریداری کو ترجیح دی۔ جب مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف احتجاج میں شرکت کرنے کی باری آئی تو شیخ رشید لندن کے مال میں شاپنگ میں مصروف ہو گئے جو کہ قابل افسوس ہے۔





اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ ترین خبریں

دلچسپ و عجیب

بزنس