شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

کیا مردہ لوگ سننے کی صلاحیت رکھتے ہیں؟ اس پر حضور پاک ﷺکا کیا فرمان ہے ؟


لاہور(ویب ڈیسک)فتح مبین غزوہ بدر میں قریش کے قتل و غارت ہونے والے نامی گرامی سرداروں اور انکے حواریوں کو ایک گڑھا یا کنواں کھود کر اس میں پھینک دیا گیا تھا تاکہ ان کو اجتماعی دفن کردیا جائے۔ صحابہ کرامؓ فرماتے ہیں ” ہم نے آدھی رات کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سنی۔ آپﷺ فرما رہے تھے” او گڑھے والو، تم نبی کا کتنا ہی بُرا

کنبہ تھے، تم نےمجھے جھٹلایا جب اور لوگوں نے میری تصدیق کی،تم نے مجھے گھر سے نکال دیا جب دوسروں نے مجھے پناہ دی، تم نے مجھ سے جنگ کی، جبکہ لوگوں نے میری نصرت کی“پھر سرکار دوجہاں ﷺ نے سرداران قریش جو نعشوں تلے دبے اس گڑھے میں پڑے تھے،انہیں اور انکے دیگر ساتھیوں کومخاطب کیا” او عتبہ بن ربیعہ، او شیبہ بن ربیعہ، او امیہ بن خلف، او ابوجہل بن ہشام، کیاتم نے اپنے ربّ کا وعدہ سچا ہوتے ہوئے دیکھ لیاہے؟ میں نے تواپنے ربّ کا وعدہ پورا ہوتے دیکھ لیا ہے“ صحابہ کرامؓ نے پوچھا” یارسول اللہ، آپ ان لوگوں کو خطاب کر رہے ہیں جو مر چکے ہیں؟“ آپﷺ نے جواب میں فرمایا” میں جو باتیں ان سے کر رہا ہوں،تمھاری سننے کی صلاحیت ان سے زیادہ نہیں ہے، تاہم یہ جواب دینے کی قدرت نہیں رکھتے“۔ دوسری جانب مردے سنتے ہیں یا نہیں، اس بارے میں مسلمانوں کے ہاں متضاد آراء پائی جاتی ہیں۔ یہی اختلاف عقیدے کے لحاظ سے مسلمانوں کی تقسیم کا ایک بڑا سبب بھی ہے۔ یہ مسئلہ ”سماع موتیٰ“ کے نام سے معروف ہے۔ ہم فہم سلف کی روشنی میں قرآن و سنت سے اس مسئلے کا حل پیش کریں گے۔ قارئین کرام سے گزارش ہے کہ وہ غیر

جانبدار رہتے ہوئے تلاش حق کی غرض سے ہماری ان معروضات کو ملاحظہ فرمائیں اور کوئی بھی فیصلہ کرتے وقت تعصب کو آڑے نہ آنے دیں۔ ہمیں امید واثق، بلکہ یقین ہے کہ وہ ضرور حق کی منزل کو پا لیں گے، کیونکہ قرآن و سنت کو اگر صحابہ و تابعین اور ائمہ دین کے طریقے اور منہج کے مطابق سمجھا جائے تو حق تک پہنچنا سو فی صد یقینی ہو جاتا ہے۔





اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ ترین خبریں

دلچسپ و عجیب

بزنس