مذاکرات کے آخری مرحلے پر امریکی صدر کا متنازعہ بیان، طالبان نے بھی امریکہ کو 440 وولٹ کا جھٹکا دے ڈالا


دوحہ (ویب ڈیسک ) امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کے حتمی مرحلے پر امریکی صدر کی جانب سے متنازعہ بیان پر طالبان نے ناگواری کا اظہار کیا ہے ۔دوحہ میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک افغانستان سے قبضہ ختم نہیں ہوتا۔ وہاں امن نہیں

آسکتا۔سہیل شاہین کے مطابق امریکی وفد کے ارکان بھی اسی لیے ان کے ساتھ مذاکرات کے لیے بیٹھے ہیں تاکہ افغانستان سے بین الاقوامی افواج کا قبضہ ختم ہو۔اٹھارہ سال ہم نے اسی لیے قربانی دی ہے کہ افغانستان سے امریکی اور بین الاقوامی افواج کا قبضہ ختم ہو، اب اس پر کسی کے ساتھ بھی کوئی معاملہ نہیں کرسکتے۔دوحہ سے ٹیلی فون پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ ان کی بات چیت کا اہم پہلو یہی ہے کہ امریکی اور بین الاقوامی افواج افغانستان سے نکل جائیں۔ اس سوال کے جواب میں کہ کیا مذاکرات میں امریکی وفد کے ساتھ صدر ٹرمپ کے بیان پر بات چیت ہوگی؟۔سہیل شاہین نے کہا ہماری بات چیت اپنے فریم میں جاری ہیں، جس میں انخلا بھی ہے۔ تو جب اس پر بات چیت ہو گی تو اس میں پھر یہ سب کچھ آئے گا۔سہیل شاہین کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ان کے درمیان مذاکرات اب آخری مراحل میں ہیں اور بقول ان کے کچھ دنوں میں تمام نکات پر اتفاق ہو جائے گا۔انھوں نے کہا اب ہفتوں کی بات نہیں ہے، انشااللہ دنوں کی بات ہے اور مجھے امید ہے کہ یہ دور آخری دور ہوگا۔ لیکن اب تک مکمل طور پر تمام ایشوز پر اتفاق نہیں ہوا ہے۔واضح رہے کہ جمعرات

کو فاکس نیوز ریڈیو کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امریکی افواج کی سطح کو کم کر کے 8, 600 کیا جا رہا ہے۔ امریکی صدر نے مزید کہا تھا کہ ‘ہم وہاں اپنی موجودگی برقرار رکھنے جا رہے ہیں۔ ہم اس موجودگی کو بہت حد تک کم کر رہے ہیں اور ہمیشہ وہاں اپنی موجودگی رکھیں گے۔امریکی صدر کا یہ بیان ایک ایسے وقت آیا ہے جب دوحہ میں امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات آخری مراحل میں داخل ہو چکے ہیں۔اس سے پہلے بدھ کو سہیل شاہین نے اپنے ٹوئٹر اکائونٹ پر بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں اور بہت جلد اپنے مسلمان اور آزادی طلب عوام کو خوشخبری دیں گے۔ امریکہ اور طالبان دوحہ میں پچھلے دس ماہ سے مذاکرات کر رہے ہیں جس میں افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کے انخلا کی ٹائم فریم کے ساتھ طالبان کو یہ باور کرانا ہوگا کہ افغان سرزمین امریکہ اور ان کے اتحادیوں کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔ دوحہ میں جاری ان مذاکرات کی کامیابی کے فورا بعد بین الافغان مذاکرات شروع ہوں گے۔طالبان ابھی تک اپنے اس موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں کہ وہ بین الافغان مذاکرات میں افغان

حکومت کے ساتھ حکومت کی حیثیت سے بات نہیں کریں گے اور ان مذاکرات میں باقی گروپس کی طرح افغان حکومت کے نمائندے بھی ایک گروپ کی حیثیت سے شریک ہو سکتے ہیں۔ لیکن افغان صدر کے ترجمان صدیق صدیقی کے مطابق طالبان کے پاس افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے اور طالبان افغان حکومت کے ساتھ ہی بیٹھیں گے۔بدھ کو کابل میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدیق صدیقی کا کہنا تھا حکومت امن معاہدے کے لیے تیار ہیں اور طالبان جیسی ایک تخریبی گروپ کے ساتھ بھی بات چیت کرے گی۔ طالبان کے پاس بھی افغان حکومت کے ساتھ بات چیت کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے۔ افغان صدر کے ترجمان کے مطابق افغان حکومت طالبان کی فرمائشیں قبول کرنے کے لیے نہیں ہے اور طالبان کو یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ افغانستان اب بدل چکا ہے۔افغانستان کے لیے امریکہ کے خصوصی نمائندے زلمی خلیل زاد بدھ کو کابل گئے اور بعد میں انھیں اسلام آباد بھی آنا تھا۔امریکی اور طالبان ذرائع کے مطابق دوحہ میں جاری مذاکرات کی کامیابی کے بعد امن معاہدے کے لیے الگ

تقریب ہو گی جس میں افغانستان کے تمام ہمسایہ ممالک کے نمائندے شریک ہوں گے اور وہاں یہ معاہدہ منظر عام پر لایا جائے گا۔ اس سے قبل گذشتہ منگل کو بعض ذرائع نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ امریکی وفد کے سربراہ اور افغانستان کے لیے امریکہ کے خصوصی نمائندے زلمی خلیل زاد بدھ کو کابل کے لیے روانہ ہوں گے اور بعد میں اسلام آباد بھی جائیں گے لیکن زلمی خلیل جمعرات کی رات تک دوحہ میں ہی ان مذاکرات میں موجود رہے۔امریکہ اور طالبان ایسے وقت میں دوحہ کے ان مذاکرات میں آخری مراحل میں پہنچ چکے ہیں، جب افغانستان میں 28 ستمبر کو صدارتی انتخابات منعقد ہو رہے ہیں۔ کابل میں افغان حکومت کے بعض ذرائع کہتے ہیں کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدہ صدارتی انتخابات کے بعد ہوگا۔اس سے پہلے امریکی اور طالبان ذرائع مذاکرات کے آٹھویں دور کو نتیجہ خیز قرار دے رہے تھے۔ اس دور کے تیسرے دن کے اختتام پر وفود کی سطح پر مذاکرات بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوئے لیکن ٹیکنیکل ٹیموں کے درمیان پھر یہ مذاکرات کئی دن اور بھی چلتے رہے۔

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے بھارت کو مذاکرات کی مشروط پیشکش کردی


لاہور(نیوزڈیسک) وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے بھارت کو مذاکرات کی مشروط پیشکش کردی ہے، انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو ہٹایا جائے اور کشمیری قیادت کو رہا کیا جائے تومذاکرات ہوسکتے ہیں، کسی تیسرے فریق کی معاونت یا ثالثی کو خوش آمدید کہا جائے گا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے بیان میں کہا کہ

بھارت کو مذاکرات کی مشروط پیشکش کردی ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان نے دوطرفہ مذاکرات سے کبھی بھی اعتراض نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ کسی تیسرے فریق کی معاونت یا ثالثی کو خوش آمدید کہا جائے گا۔ لیکن بھارتی قیادت کی جانب سے مذاکرات کا ماحول دکھائی نہیں دیا جا رہا۔وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت کے ساتھ اس شرط پر مذاکرات ہوسکتے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیوہٹایا جائے اور کشمیری قیادت کو رہا کیا جائے تومذاکرات ہوسکتے ہیں۔ مزید برآں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے آج عمر کوٹ میں عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کا جلسہ سیاسی نوعیت کا نہیں ہے، آج کا جلسہ مودی کیلئے پیغام ہے، آج کے جلسے میں سیاسی بات نہیں ہوگی بلکہ آج کا جلسہ صرف کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے ہے۔انہوں نے شرکاء سے کہا کہ میں عمرکوٹ والوں کیلئے وزیراعظم عمران خان کا پیغام لے کرآیا ہوں۔ عمران خان بھی آنا چاہ رہے تھے لیکن اسلام آباد میں ذمہ داریوں کے باعث نہیں آسکے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مودی نے اپنی اپوزیشن کے لوگوں کو بھی سرینگر میں گھسنے نہیں دیا۔ تم لوگ سرینگر میں

مسلمانوں کے ساتھ کھڑے نہیں ہوسکتے لیکن ہم عمر کوٹ میں ہندوبرادری کے ساتھ تمہارے خلاف کھڑے ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آج انسانیت کا پیغام دینے کیلئے شیو مندر میں حاضر ہوا ہوں۔ عالمی میڈیا دنیا کو دکھائے پاکستان میں تمام مندرآباد ہیں۔لیکن مودی نے عید پر لوگوں کو قربانی نہیں کرنے دی، اور لوگوں کیلئے عید گاہوں کے دروازے بند کیے گئے۔ مقبوضہ کشمیرمیں مسجدیں سنسان کردی گئیں۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آج کا بھارت نہرواور گاندھی کا نہیں بلکہ آر ایس ایس کا ہے۔آج کے ہندوستان میں آرا یس ایس کی سوچ غالب ہے اور گاندھی کے ہندوستان کی نفی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا دیکھ رہی ہے کشمیری نہتے ضرور ہیں لیکن کمزور نہیں ہیں۔

عالمی منظر نامے سے بڑی خبر: ایران کے حوالے سے امریکہ نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دینے والا اعلان کر دیا


واشنگٹن(ویب ڈیسک ) امریکا نے جبرالٹر سے چھوڑے گئے ایرانی آئل ٹینکر کو بلیک لسٹ کردیا۔برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق امریکی وزارت خزانہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہےکہ آئل ٹینکر کو ملک شام میں تیل پہنچانے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔امریکی وزارت خزانہ کا مزید کہنا تھا کہ آئل ٹینکر کے ذریعے ایرانی پاسداران

انقلاب کو فائدہ پہنچانے کے لیے 2.1 ملین بیرل ایرانی کروڈ آئل بھیجا جارہا تھا جسے امریکا نے دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہےامریکی وزارت خزانہ کے حکام کا مؤقف ہےکہ آئل ٹینکر کو ممنوعہ تیل کی فروخت کے لیے استعمال کیا جارہا تھا جس کا مقصد ایران کی دہشت گردی کو فروغ دینے والی بدنام سرگرمیوں کو فنڈنگ کرنا تھا۔اس حوالے سے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا کہ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے یقین دہانی کرائی تھی کہ یہ آئل ٹینکر شام کی طرف نہیں بھیجا جائے گا تاہم امریکا کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ آئل ٹینکر شام کے شہر طرطوس کی طرف جارہا ہے، جواد ظریف پر اعتماد بہت بڑی غلطی تھی۔امریکی وزیر خارجہ نے کسی بھی ملک کی جانب سے آئل ٹینکر کی مدد کرنے کی صورت میں اس ملک پر پابندیاں عائد کرنے کی بھی دھمکی دی۔امریکا کی جانب سے بلیک لسٹ میں شامل کیے گئے اس آئل ٹینکر کو برطانیہ نے گزشتہ ماہ میں شام کے لیے تیل لے کر جانے پر یورپی یونین کی طرف سے عائد پابندیوں کی خلاف ورزی پر جبرالٹر سے قبضے میں لیا تھا تاہم بعد میں آئل ٹینکر کو ایرانی کی جانب سے شام نہ بھیجے

جانے کی یقین دہانی پر چھوڑا گیا۔ خلاف ورزی پر جبرالٹر سے قبضے میں لیا تھا تاہم بعد میں آئل ٹینکر کو ایرانی کی جانب سے شام نہ بھیجے جانے کی یقین دہانی پر چھوڑا گیا۔

مشکل ترین حالات میں پاکستانی روپیہ چھا گیا ۔۔۔ ایک ہی دن میں ڈالر کتنا سستا ہو گیا؟ جانیے


کراچی(ویب ڈیسک)انٹر بینک میں گذشتہ ایک ہفتے کے دوران ڈالر کی قدر 157روپے سے گھٹ کر156روپے کی سطح پر آگئی جبکہ مقامی اوپن کرنسی مارکیٹ میں بھی ڈالر کی قدر میں کمی کا رجحان رہا۔فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ ہفتے کے دوران انٹر بینک میں روپے کے مقابلے ڈالر کی قدر63پیسے کم ہو گئی جس سے ڈالر

کی قیمت خرید 157.53روپے سے کم ہو کر156.85روپے اور قیمت فروخت157.58روپے سے کم ہو کر156.95روپے ہو گئی اسی طرح مقامی اوپن کرنسی مارکیٹ میں زیر تبصرہ مدت میں ڈالر کی قدر میں 60پیسے کی کمی واقع ہوئی جس سے ڈالر کی قیمت خرید157.10روپے سے کم ہو کر156.50روپے اور قیمت فروخت157.60روپے سے کم ہو کر157روپے ہو گئی۔فاریکس رپورٹ کے مطابق یورو کی قدر میں 2روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی جس سے یورو کی قیمت خرید 173.30روپے سے کم ہو کر171روپے اور قیمت فروخت175روپے سے کم ہو کر173روپے ہو گئی اسی طرح1روپے کی کمی سے برطانوی پونڈ کی قیمت خرید191روپے سے کم ہو کر190روپے اور قیمت فروخت193روپے سے کم ہو کر192روپے پر آ گئی۔فاریکس رپورٹ کے مطابق ہفتہ کو اوپن مارکیٹ میں روپے کے مقابلے ڈالر کی قدر مستحکم رہی تاہم یورو کی قدر میں 1.80روپے اور برطانوی پاونڈ کی قدر میں 50پیسے کی کمی واقع ہوئی۔ہفتہ کو عالمی صرافہ مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت میں کمی کے بعد ملکی صرافہ مارکیٹوں میں

بھی سونا سستا ہو گیا۔آل پاکستان سپریم کونسل جیولرز ایسوسی ایشن کی رپورٹ کے مطابق ہفتہ کو عالمی صرافہ مارکیٹ میں 6ڈالرکی کمی سے فی اونس سونے کی قیمت1520ڈالر ہو گئی جس کے بعد ملکی صرافہ مارکیٹوں میں ایک تولہ سونا700روپے گھٹ کر88ہزار800روپے کا ہو گیا اسی طرح600روپے کی کمی سے دس گرام سونے کی قیمت76ہزار132روپے ہو گئی۔ رپورٹ کے مطابق گذشتہ ایک ہفتے کے دوران عالمی صرافہ مارکیٹ میں فی اون سونا11ڈالر سستا ہو ا تاہم ملکی صرافہ مارکیٹوں میں اسی مدت کے دوران ایک تولہ سونے کی قیمت میں 200 روپے اور دس گرام سونے کی قیمت میں 171روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

بریکنگ نیوز: طالبان کا ہیبت ناک حملہ ۔۔۔۔ بڑی تعداد میں شہادتوں کی اطلاعات موصول


کابل (ویب ڈیسک ) افغانستان کے شہر قندوز پر طالبان کے حملے میں 8افراد کو ہلاک اور 59زخمی ہوگئے ، افغان حکام نے جوائی کارروائی میں 35طالبان مارنے کا دعویٰ کیاہے ۔افغان میڈیا کے مطابق طالبان نے افغانستان کے شہر قندوز پر حملہ کرکے 8افراد کوہلاک کردیاہے جبکہ طالبان کے حملے میں 59افراد زخمی بھی ہوئے ۔ افغان حکام کاکہنا ہے کہ

جوابی کارروائی میں 35طالبان مارے گئے ہیں ۔ افغان حکام کے مطابق قندوز پر افغان حکومت کے مکمل کنٹرول میں ہے ۔دوسری جانب ایک خبر کے مطابق امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کے حتمی مرحلے پر امریکی صدر کی جانب سے متنازعہ بیان پر طالبان نے ناگواری کا اظہار کیا ہے ۔دوحہ میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک افغانستان سے قبضہ ختم نہیں ہوتا۔ وہاں امن نہیں آسکتا۔سہیل شاہین کے مطابق امریکی وفد کے ارکان بھی اسی لیے ان کے ساتھ مذاکرات کے لیے بیٹھے ہیں تاکہ افغانستان سے بین الاقوامی افواج کا قبضہ ختم ہو۔اٹھارہ سال ہم نے اسی لیے قربانی دی ہے کہ افغانستان سے امریکی اور بین الاقوامی افواج کا قبضہ ختم ہو، اب اس پر کسی کے ساتھ بھی کوئی معاملہ نہیں کرسکتے۔دوحہ سے ٹیلی فون پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ ان کی بات چیت کا اہم پہلو یہی ہے کہ امریکی اور بین الاقوامی افواج افغانستان سے نکل جائیں۔ اس سوال کے جواب میں کہ کیا مذاکرات میں امریکی وفد کے ساتھ صدر ٹرمپ کے

بیان پر بات چیت ہوگی؟۔سہیل شاہین نے کہا ہماری بات چیت اپنے فریم میں جاری ہیں، جس میں انخلا بھی ہے۔ تو جب اس پر بات چیت ہو گی تو اس میں پھر یہ سب کچھ آئے گا۔سہیل شاہین کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ان کے درمیان مذاکرات اب آخری مراحل میں ہیں اور بقول ان کے کچھ دنوں میں تمام نکات پر اتفاق ہو جائے گا۔انھوں نے کہا اب ہفتوں کی بات نہیں ہے، انشااللہ دنوں کی بات ہے اور مجھے امید ہے کہ یہ دور آخری دور ہوگا۔ لیکن اب تک مکمل طور پر تمام ایشوز پر اتفاق نہیں ہوا ہے۔واضح رہے کہ جمعرات کو فاکس نیوز ریڈیو کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امریکی افواج کی سطح کو کم کر کے 8, 600 کیا جا رہا ہے۔ امریکی صدر نے مزید کہا تھا کہ ‘ہم وہاں اپنی موجودگی برقرار رکھنے جا رہے ہیں۔ ہم اس موجودگی کو بہت حد تک کم کر رہے ہیں اور ہمیشہ وہاں اپنی موجودگی رکھیں گے۔امریکی صدر کا یہ بیان ایک ایسے وقت آیا ہے جب دوحہ میں امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات آخری مراحل میں داخل ہو چکے ہیں۔اس سے پہلے بدھ کو سہیل شاہین نے اپنے ٹوئٹر اکائونٹ پر بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ معاہدے

کے قریب پہنچ گئے ہیں اور بہت جلد اپنے مسلمان اور آزادی طلب عوام کو خوشخبری دیں گے۔ امریکہ اور طالبان دوحہ میں پچھلے دس ماہ سے مذاکرات کر رہے ہیں جس میں افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کے انخلا کی ٹائم فریم کے ساتھ طالبان کو یہ باور کرانا ہوگا کہ افغان سرزمین امریکہ اور ان کے اتحادیوں کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔ دوحہ میں جاری ان مذاکرات کی کامیابی کے فورا بعد بین الافغان مذاکرات شروع ہوں گے۔طالبان ابھی تک اپنے اس موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں کہ وہ بین الافغان مذاکرات میں افغان حکومت کے ساتھ حکومت کی حیثیت سے بات نہیں کریں گے اور ان مذاکرات میں باقی گروپس کی طرح افغان حکومت کے نمائندے بھی ایک گروپ کی حیثیت سے شریک ہو سکتے ہیں۔ لیکن افغان صدر کے ترجمان صدیق صدیقی کے مطابق طالبان کے پاس افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے اور طالبان افغان حکومت کے ساتھ ہی بیٹھیں گے۔بدھ کو کابل میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدیق صدیقی کا کہنا تھا حکومت امن معاہدے کے لیے تیار ہیں اور طالبان جیسی ایک تخریبی گروپ کے ساتھ بھی

بات چیت کرے گی۔ طالبان کے پاس بھی افغان حکومت کے ساتھ بات چیت کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے۔ افغان صدر کے ترجمان کے مطابق افغان حکومت طالبان کی فرمائشیں قبول کرنے کے لیے نہیں ہے اور طالبان کو یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ افغانستان اب بدل چکا ہے۔افغانستان کے لیے امریکہ کے خصوصی نمائندے زلمی خلیل زاد بدھ کو کابل گئے اور بعد میں انھیں اسلام آباد بھی آنا تھا۔امریکی اور طالبان ذرائع کے مطابق دوحہ میں جاری مذاکرات کی کامیابی کے بعد امن معاہدے کے لیے الگ تقریب ہو گی جس میں افغانستان کے تمام ہمسایہ ممالک کے نمائندے شریک ہوں گے اور وہاں یہ معاہدہ منظر عام پر لایا جائے گا۔ اس سے قبل گذشتہ منگل کو بعض ذرائع نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ امریکی وفد کے سربراہ اور افغانستان کے لیے امریکہ کے خصوصی نمائندے زلمی خلیل زاد بدھ کو کابل کے لیے روانہ ہوں گے اور بعد میں اسلام آباد بھی جائیں گے لیکن زلمی خلیل جمعرات کی رات تک دوحہ میں ہی ان مذاکرات میں موجود رہے۔امریکہ اور طالبان ایسے وقت میں دوحہ کے ان مذاکرات میں آخری مراحل میں پہنچ چکے ہیں، جب افغانستان میں 28 ستمبر کو صدارتی انتخابات منعقد ہو رہے ہیں۔ کابل میں افغان حکومت کے بعض ذرائع کہتے ہیں کہ امریکہ اور

طالبان کے درمیان امن معاہدہ صدارتی انتخابات کے بعد ہوگا۔اس سے پہلے امریکی اور طالبان ذرائع مذاکرات کے آٹھویں دور کو نتیجہ خیز قرار دے رہے تھے۔ اس دور کے تیسرے دن کے اختتام پر وفود کی سطح پر مذاکرات بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوئے لیکن ٹیکنیکل ٹیموں کے درمیان پھر یہ مذاکرات کئی دن اور بھی چلتے رہے۔

مسلم لیگ (ن) کی تنظیم سازی ،تمام ونگرز کو فعال کرنے کا فیصلہ ،


لاہور(نیوزڈیسک) پاکستان مسلم لیگ (ن) کی تنظیم سازی اور تمام ونگرز کو فعال کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے متحرک رہنمائوں سے رابطے اور اجلاس منعقد کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ۔ مسلم لیگ (ن) کے سیکرٹریٹ ماڈل ٹائون میں سیکرٹری جنرل احسن اقبال کی زیر صدارت اہم مشاورتی اجلاس ہوا جس میں پرویز ملک، خواجہ عمران نذیر، رانا مشہود، سعدیہ

تیمور، کرنل (ر)مبشر جاوید ، عطااللہ تارڑ، سمیع اللہ خان سمیت دیگر نے شرکت کی ۔ اجلاس میں لیبر ونگ کے صدرچودھری شہباز، کلچرنگ ونگ کی صدرمسز ملک، یوتھ ونگ لاہورکے صدر خرم روحیل اصغر، پروفیشنل ونگ کی صدر سعدیہ تیمور ،تاجر ونگ سے چوہدری عامر صدیق اور میاں عثمان سمیت دیگر ونگز کے رہنمائوں نے شرکت کی ۔رہنمائوںنے .. ۔۔۔۔ خبر کی مزید تفصیل کچھ دیر بعد دستیاب ہوگی

قومی کرکٹ ٹیم کیلئے نئے کوچز کا انتخاب کر لیے جانے کی اطلاعات


لاہور(نیوزڈیسک) قومی کرکٹ ٹیم کیلئے نئے کوچز کا انتخاب کر لیے جانے کی اطلاعات، پاکستان کرکٹ ٹیم کی جانب سے ہیڈ کوچ، باولنگ کوچ اور بیٹنگ کوچ کے ناموں کا باقاعدہ اعلان آئندہ چند روز میں کیا جائے گا۔ تفصیلات کے مطابق سابق فاسٹ بالر وقار یونس ایک مرتبہ پھر ٹیم مینجمنٹ میں اہم عہدہ سنبھالنے کیلئے مضبوط امیدوار بن گئے ہیں۔ ذرائع کے

مطابق پی سی بی کے پانچ رکنی پینل نے پہلے اجلاس میں ہیڈ کوچ اور بالنگ کوچ کیلئے انٹرویوز مکمل کرلئے۔ ذرائع کے مطابق سابق کپتان مصباح الحق ہیڈ کوچ جبکہ سابق ہیڈ کوچ وقار یونس باﺅلنگ کوچ کیلئے مضبوط امیدوار ہیں۔ واضح رہے کہ پانچ رکنی پینل میں شامل چیف ایگزیکٹو پی سی بی وسیم خان، ڈائریکٹر انٹرنیشنل کرکٹ ذاکر خان، گورننگ بورڈ کے رکن اسد علی خان، سابق کپتان انتخاب عالم اور بازید خان نے امیدواروں کے انٹر ویوز کئے۔ ڈین جونز سمیت غیر ملکی امیدواروں کے انٹرویوز ویڈیو لنک کے ذریعے ہوئے۔مقامی امیدواروں میں سب سے پہلے وقار یونس انٹرویو کیلئے قذافی اسٹیڈیم پہنچے۔ کنڈیشننگ کیمپ کے ابتدائی سیشن کے بعد مصباح الحق انٹرویو کیلئے آئے جبکہ سابق ٹیسٹ اوپنر محسن حسن خان کراچی سے انٹرویو دینے پہنچے تھے۔سابق فاسٹ بالر محمد اکرم بالنگ کوچ کی دوڑ سے باہر ہو گئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ محمد اکرم امیدواروں میں سینئرز اور خاص طور پر وقار یونس کی موجودگی کی وجہ سے اپنی درخواست سے دستبردار ہو ئے۔ انہوں نے اس بارے میں بدھ کی شب بورڈ کو آگاہ کردیا تھا۔بیٹنگ کوچ اور اسٹرینتھ اینڈ کنڈیشننگ کوچ کا

فیصلہ بعد میں ہوگا۔ ذرائع کے مطابق مصباح الحق ہیڈ کوچ کیلئے مضبوط ترین امیدوار ہیں جبکہ وقار یونس کے بالنگ کوچ بننے کے قوی امکانات ہیں۔ ذرائع کے مطابق وقار یونس کے ساتھ صرف معاوضے کے حوالے سے کوئی رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے ورنہ وہ مصباح الحق کے ساتھ کام کرنے میں کوئی دشواری محسوس نہیں کر رہے۔واضح رہے کہ جب وقار یونس قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ تھے تو اس وقت شاہد آفریدی سمیت سینئر کرکٹرز سے ان کے شدید اختلافات تھے۔ ذرائع کے مطابق بالنگ کوچ کے طور پر انہیں زیادہ مشکل نہیں ہو گی کیونکہ قومی ٹیم اس وقت نوجوان بالرز پر مشتمل ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مصباح الحق کے ہیڈ کوچ بننے کی صورت میں ہائی پروفائل بیٹنگ کوچ کی خدمات حاصل نہیں کی جائیں گی بلکہ بورڈ اپنے کوچز میں سے کسی کو ذمہ داری سونپ سکتا ہے۔

فخر زمان پری سیزن ٹریننگ کیمپ سے باہر ہو گئے


لاہور(نیوزڈیسک) فخر زمان پری سیزن ٹریننگ کیمپ سے باہر ہو گئے ہیں۔ فخر زمان کے دائیں گھٹنے کی انجری کی رہورٹ آ گئی ہے جس کے بعد انہیں ایک ہفتے کا آرام کرنے کو کہا گیا ہے۔ قومی کرکٹرز کا پری سیزن کیمپ ان دنوں لاہور میں جاری ہے۔ فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی ڈینگی بخار کی وجہ سے پہلے ہی پری سیزن کیمپ سے باہر ہو گئے ہیں اور اب

فخر زمان بھی پری سیزن ٹریننگ کیمپ سے باہر ہو گئے ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ فخر زمان پری سیزن کیمپ سے باہر ہو گئے ہیں۔ میڈیکل ایڈوائزری کمیٹی نے فخر زمان کیلئے بحالی کا پروگرام تیار کیا ہے۔ دائیں گھٹنے کی انجری سے نجات کیلئے فخر زمان کو ایک ہفتے کا آرام تجویز کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا ہے کہ 10 روز بعد فخر زمان کی انجری کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔ پری سیزن کیمپ میں شامل دیگر کھلاڑی کرکٹ ٹریننگ میں مصروف ہیں۔ خیال رہے کہ اس سے قبل پاکستان کو چیمپئنز ٹرافی جتوانے والے فخر زمان کی سینٹرل کانٹریکٹ میں تنزلی ہوئی تھی، جس کے بعد جارح مزاج اوپننگ بلے باز کو بی کیٹیگری سے نکال کر سی کیٹیگری میں ڈال دیا گیا۔ یاد رہے کہ دو روز قبل نوجوان کرکٹر شاہین شاہ آفریدی جان لیوا مرض کا شکار ہوگئے، فاسٹ باولر ڈینگی کا شکار ہوگئے، بیماری کے باعث قومی کرکٹ ٹیم کے پری سیزن کیمپ کو جوائن نہیں کر پائیں گے۔ تفصیلات کے مطابق قومی ٹیم کے ابھرتے ہوئے فاسٹ باؤلر شاہین آفریدیڈینگی بخار میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق شاہین شاہ آفریدی کی طبیعت کافی ناساز ہے۔

ڈینگی بخار کی تشخیص ہونے کے بعد فاسٹ باؤلر شاہین آفریدی گزشتہ روز سے مقامی ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ شاہین آفریدی ڈینگی بخار میں مبتلا ہونے کے باعث قومی کرکٹ ٹیم کے کیمپ سے بھی باہر ہوگئے اور اب فخر زمان بھی پری سیزن ٹریننگ کیمپ سے باہر ہو گئے ہیں۔

بریکنگ نیوز : نئی حکومتی پالیسی تیار ۔۔۔۔۔ مکمل بارڈر کھول کر تجارت کا اعلان کر دیا


پشاور(ویب ڈیسک )وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے طورخم بارڈر 24 گھنٹے کھولنے کیلئے تمام تر انتظامات مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ پہلی بار طورخم بارڈر کو 24 گھنٹوں کیلئے کھولا جارہا ہے۔اسلئے تمام متعلقہ ادارے بھر پور انتظامات یقینی بنائیں۔ اُنہوں نے آئندہ پیر سے بارڈر پر آزمائشی بنیادوں پر نائٹ آپریشن شروع کرکے رپورٹ

پیش کرنے کی ہدایت کی تاکہ انتظامات کا عملی طور پر جائزہ لیا جا سکے۔ 24 گھنٹوں کیلئے سروس کا باضابطہ اجراء وزیراعظم پاکستان خود کریں گے۔ وہ وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں طورخم بارڈر کو 24 گھنٹوں کیلئے کھولنے کے حوالےسے انتظامات پر جائزہ اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ وزیرا طلاعات شوکت علی یوسفزئی، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری شہاب علی شاہ، ڈپٹی کمشنر، کسٹم حکام، این ایل سی کے نمائندگان اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں پاک افغان طورخم بارڈر کو 24 گھنٹے کھولنے کے حوالے سے حکومتی فیصلے پر عمل درآمد کیلئے انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعلیٰ کو آگاہ کیا گیا کہ کسٹم اہلکاروں کی تعیناتی سمیت تمام تر انتظامات مکمل کرلئے گئے ہیں تاحال دو شفٹوں میں آپریشن جاری ہے۔وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ رات کے اوقات میں بھی بارڈر کھلا رکھنے اور آپریشن یقینی بنانے کیلئے مناسب لائٹس کا بندوبست ہونا چاہیئے۔ اُنہوں نے کہاکہ حکومت نے ہر حال میں بارڈر کو 24 گھنٹے کھولنا ہے۔ تمام ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔ اُنہوں نے آزمائشی طور پر آئندہ پیر سے بارڈر پر نائٹ آپریشن شروع کرنے اور

اُنہیں رپورٹ کرنے کی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ نے عندیہ دیا کہ وہ پیر کے بعد کسی بھی رات کو بارڈر کا دورہ کریں گے اور انتظامات کا بذات خود جائزہ لیں گے۔ اُنہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت نے اس مقصد کیلئے وسائل فراہم کردیئے ہیں اب انتظامات میں کوئی کمی نہیں ہونی چاہیئے۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ طور خم بارڈر کے 24 گھنٹے کھلا رہنے سے تجارتی سرگرمیوں میں سرعت اور تیز ی آئے گی اور بارڈر پر تاجروں کو درپیش مسائل کا کل وقتی حل ممکن ہو گا۔

لاہورہائیکورٹ نے سرسبز پاکستان کیلئے بڑا فیصلہ جاری کردیا


لاہور(نیوزڈیسک) لاہور ہائیکورٹ نے سرسبز پاکستان کیلئے بڑا فیصلہ جاری کردیا، عدالت نے حکم دیا کہ نئے گھر کی تعمیر پر دو درخت لگانا لازمی ہوگا، درخت کاٹنے والوں کو بھاری جرمانے کیے جائیں،تعلیمی اداروں، ہسپتالوں اور دفاترمیں درخت لگائے جائیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور ہائیکورٹ نے سرسبز پاکستان کے حوالے دائر درخواست پرفیصلہ

جاری کردیا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس جواد حسن نے 78 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کردیا ہے۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ نئے گھر کی تعمیر پر دو درخت لگانا لازمی ہوگا۔ درخت نہ لگانے والی ہاؤسنگ سوسائیٹیز کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے، ایسی ہاؤسنگ سوسائٹیز جو عدالتی فیصلے پر عمل نہ کریں ان کے نقشے منظور نہ کیے جائیں۔ عدالتی فیصلے میں حکم دیا گیا کہ درخت لگانے اور کاٹنے کیلئے متعلقہ اتھارٹی سے رجوع لازمی ہوگا۔ درخت کاٹنے والوں کو بھاری جرمانے کیے جائیں۔ تعلیمی اداروں، ہسپتالوں اور دفاترمیں درخت لگائے جائیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ حکومت پنجاب کو درخت لگانے کیلئے باقاعدہ مہم شروع کرنی چاہیے۔ واضح رہے ایکنک نے اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دے دی ہے۔ مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے بتایا کہ زراعت کیلئے 250ارب، جبکہ 3ارب درخت لگانے کی منظوری بھی دے دی گئی ہے۔ دوسری جانب محکمہ خوراک نے گندم کو کیڑے مکوڑوں سے بچانے کیلئے صوبہ بھرمیں موجود اپنے تمام گوداموں کے احاطوں میں نیم کے درخت لگانے کا فیصلہ کیا ہے اور کہا ہے کہ چونکہ

نیم کا درخت گندم کو کیڑے مکوڑوں سے محفوظ رکھنے کیلئے مناسب ماحول فراہم کرتاہے لہٰذا آئندہ چند روز میں فیصل آباد سمیت صوبہ بھرکے تمام اضلاع میں نیم کے درخت لگائے جائیں گے اور گوداموں کے احاطوں میں ان درختوں کی آبیاری کیلئے بھی بھر پور توجہ دی جائے گی۔