شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

”نئے پاکستان “ میں ہزاروں ڈومیسٹک کرکٹرز کے بیروزگار ہونیکا خدشہ


لاہور(نیوزڈیسک) ”نئے پاکستان “ میں ڈومیسٹک کرکٹرز پر بیروزگاری کی تلوار لٹکنے لگی،1000 سے زائد ڈیپارٹمنٹل کھلاڑی غیر یقینی صورتحال سے پریشان ہیں، معاون عملے کا مستقبل بھی ڈانواں ڈول ہوگیا ہے ۔وزیر اعظم اور پی سی بی کے پیٹرن انچیف عمران خان ہمیشہ سے ڈپارٹمنٹل کرکٹ کے مخالف رہے ہیں،پی سی بی ان کے ویژن کو پیش نظر رکھتے

ہوئے 16کے بجائے 6ریجنز پر مشتمل ڈومیسٹک فرسٹ کلاس سسٹم لانے کیلئے سرگرم ہے،پنجاب سے 2، خیبر پختونخوا، سندھ ، بلوچستان اور ناردرن ایریاز سے ایک ایک ٹیم سامنے آئےگی،وزیر اعظم نے نئے مجوزہ سسٹم کی منظوری بھی دیدی ہے۔ ایک گورننگ بورڈ اجلاس میں بتایا گیا تھا کہ ادارے اپنی ٹیمیں بنانے کے بجائے ریجنز کو سپانسر کرینگے،خیبر پختونخوا کی ذمہ داری واپڈا کو سونپے جانے کا امکان ہے، دیگر ریجنز بھی کسی نہ کسی ڈپارٹمنٹ کے سپرد ہونگے تاہم سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اگر کسی ڈپارٹمنٹ کو ریجن کے انتظامی امور کی کمان ہی نہیں سونپی جاتی تو وہ ٹیموں پر خطیر رقم خرچ کرنے کو کیوں تیار ہوگا؟۔ دوسری جانب اگر ریجنز نمائندے طریقہ کار کے تحت الیکشن سے منتخب ہوکر آتے ہیں تو وہ سلیکشن اور کوچنگ سٹاف کے تقرر سمیت مختلف امور میں مداخلت کس طرح قبول کرینگے، ڈومیسٹک سیزن کا آغاز ستمبر میں ہونا ہے، صوبائی سطح کی 6 ٹیموں پر مشتمل ڈومیسٹک سٹرکچر کا حتمی فیصلہ کیے جانے کے بعد بھی کئی امور پر مزید کام کرنےکی ضرورت ہوگی،سلیکشن کا نیا فارمولا،ڈراز اور کھلاڑیوں کی آمدورفت

ونقل و حمل سمیت انتظامات کم وقت میں مکمل کرنا کسی چیلنج سے کم نہیں ہوگا۔ وزیر اعظم سیکریٹریٹ کی جانب سے اداروں کو لکھے گئے خط میں نئے ڈومیسٹک سٹرکچر کو سپورٹ کرنےکی ہدایت کی گئی ہے اور 11 ڈپارٹمنٹس کی ایک میٹنگ رواں ماہ کے آخری ہفتے میں بلائی گئی ہے تاہم بیشتر اداروںکے سپورٹس حکام متذبذب اور مختلف تجاویز پیش کرنے پر غور کررہے ہیں، اس میں سے ایک تجویز یہ ہے کہ فرسٹ کلاس کرکٹ سے الگ ون ڈے اور ٹی ٹونٹی ٹورنامنٹس کا سلسلہ جاری رہنے دیا جائے تاکہ میدانوں کی رونقیں بحال رہیں اور کھلاڑیوں کا روزگار بھی چلتا رہے۔ اس غیر یقینی صورتحال میں کرکٹرز سخت پریشان ہیں، واپڈا کی 9 ریجنل ٹیمیں مقابلوں میں شریک ہوتی ہیں اور ہر سکواڈ میں 20کے قریب کھلاڑی شامل ہیں، 2کوچز، ٹرینر اور منیجر سمیت معاون سٹاف بھی ہوتا ہے،واپڈا کی ٹیم ختم ہونے سے 200سے زائد کھلاڑی اور آفیشلز متاثر ہونگے،صرف مستقل ملازمت رکھنے والے ہی عام ڈیوٹی کیلئے بھجوائے جاسکتے ہیں لیکن کنٹریکٹ شدہ کرکٹرز کو گھر جانا ہوگا،دیگر ڈپارٹمنٹس کے بھی1000سے زائد کھلاڑیوں پر بے روزگاری کی تلوار لٹک رہی

ہے۔ ڈپارٹمنٹل ٹیموں کے حکام کا کہنا ہے کہ اگر سپانسرشپ کے بدلے ریجنل ٹیموں میں ادارے کے چند کھلاڑیوں کو رکھنے کی اجازت مل جائے تو نچلی سطح پر سرگرمیاں جاری رکھنے کا بھی جواز بن جائےگا ورنہ پورے سسٹم کا ہی بوریا بستر گول ہونےکا خدشہ ہے۔





اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ ترین خبریں

دلچسپ و عجیب

بزنس