شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

سرفراز احمد کو ہٹانے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا، وسیم خان


لندن (نیوزڈیسک) ایم ڈی پی سی بی وسیم خان نے لندن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرفراز احمد کپتانی سے کو ہٹانے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ سرفراز احمد کو ٹیسٹ اور ون ڈے فارمیٹ کی کپتانی سے ہٹانے کی تجویز زیرِ غور نہیں ہے۔ وسیم خان نے بتایا کہ کپتان کو ہٹانے یا تعینات کرنے کا استحقاق چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ

احسان مانی کو ہے اور وہی اس حوالے سے فیصلہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ آئی سی سی سے میٹنگ کے بعد لاہور جا کر اس حوالے سے مزید بات چیت ہو گی البتہ ابھی تک سرفراز احمد کو ہٹانے کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔ اس سے پہلے بتایا گیا تھا پاکستان کرکٹ بورڈنے سرفراز احمد کو ٹی ٹوئنٹی ٹیم کی قیادت تک محدود کرکے اگلے برس آسٹریلیا میں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ تک ذمہ داریاں دیے جانے کا امکان ظاہر کیا ہے۔پی سی بیحکام نے ایک سیریز سے دوسری سیریز تک کپتان کی تقرری کے بجائے لمبے عرصے کے لیے کپتان کا انتخاب کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ذرائع نے بتایا تھا کہ سرفراز احمد کے مستقبل کے حوالے سے ابھی تک مختلف تجاویز زیرِ غورہیں جن میں انہیں صرف ٹی ٹوئنٹی ٹیم کی قیادت تک محدود کرکے اگلے برس آسٹریلیا میں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ تک ذمہ داریاں دیے جانے کا امکان ہے۔ ون ڈے اور ٹیسٹ میچز کے لیے کسی اور کھلاڑی کو بطور کپتان چار سال تک لے لیے منتخب کیے جانے کا امکان ہے اوراس کپتان کی تقرری بھی کارکردگی سے مشروط ہوگی۔پاکستان کرکٹ بورڈ حکام چارسال بعد بھارت میں شیڈول ورلڈکپ کو سامنے

رکھ کر کپتان سمیت تمام ٹیم انتظامیہ کی تقرری چاہتے ہیں۔ نئے ڈھانچہ میں طویل المدت کپتان کے نام کے اعلان سمیت تمام کوچنگ سٹاف کو بھی ذمہ داریاں اسی منصوبے کے ذریعے سونپے جانے کی تجویز دی گئی ہے۔ قومی ٹیم کے تمام کوچنگ اسٹاف کا معاہدہ ورلڈکپ تک کا تھا، اب نئے سرے سے تقرریاں کی جائیں گی جس کے لیے ہیڈ کوچ، بولنگ کوچ، بیٹنگ کوچ اور دوسرے عہدوں کے لیے اگلے چند روز میں اشتہار جاری کردیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق ٹیم کے ساتھ مزید کام کرنے کی خواہش کا اظہارکرنے والے مکی آرتھر کو بھی ازسرنو اپلائی کرنا ہوگا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے قوانین کے مطابق ایک لاکھ روپے سے زیادہ تنخواہ پانے والوں کے تقرر سے پہلے اشتہار دینا لازمی ہے جس کے بعد انٹرویو ز کے ذریعے تقرر کیا جاتا ہے۔ماضی میں اس طریقہ کارکی مکمل پاسداری نہیں کی گئی تاہم موجودہ انتظامیہ نے اس بار تمام تقرریاں اسی قانون پر عمل کرتے ہوئے کرنے کا فیصلہ کیاہے۔





اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ ترین خبریں

دلچسپ و عجیب

بزنس