ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لینے پر پی سی بی کا محمد عامر کو سزا دینے کا فیصلہ


لاہور(نیوزڈیسک) ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لینے پر پی سی بی کا محمد عامر کو سزا دینے کا فیصلہ، فاسٹ باولر کی سینٹرل کانٹریکٹ سے چھٹی کا امکان، جو کھلاڑی ٹیسٹ کرکٹ نہیں کھیلیں گے انہیں سینٹرل کنٹریکٹ میں تنزلی کا سامنا کرنا ہوگا۔ تفصیلات کے مطابق میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لینے پر پی سی بی محمد

عامر سے نالاں ہے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ پی سی بی محمد عامر کو سینٹرل کانٹریکٹ سے نکالنے پر غور کر رہا ہے۔ اس حوالے سے حتمی فیصلہ جلد کر لیا جائے گا۔ دوسری جانب ذرائع کے مطابق ورلڈ کپ میں قابل تعریف کارکردگی نہ دکھانے پر قومی ٹیم میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں تاہم اب دعویٰ سامنے آیا ہے کہ شعیب ملک اور محمد حفیظ سمیت چار سے پانچ کھلاڑیوں کو سینٹرل کنٹریکٹ سے باہر کیے جانے کا امکان ہے۔ نجی ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے کہاہے کہ سینٹرل کنٹریکٹ کے حوالے سے پاکستان کرکٹ بورڈ کی میٹنگ جمعرات کے روز ہو گی جس میں آل راﺅنڈرمحمد حفیظ ، شعیب ملک اور فاسٹ باﺅلر محمد عامر سمیت پانچ کھلاڑیوں کو سینٹرل کنٹریکٹ سے ڈراپ کیے جانے کے فیصلے کا امکان ہے تاہم ابھی اس حوالے سے کوئی تصدیق یا تردید سامنے نہیں آ سکی ہے۔ذرائع کے مطابق کھلاڑیوں کی تنخواہوں اور میچ فیس میں 20 فیصد اضافہ کرنے پر اتفاق ہوچکا ہے، صرف ٹیسٹ ٹیم میں ملک کی نمائندگی کرنے والوں کی میچ فیس میں زیادہ اضافے پر بھی تبادلہ خیال ہوگا۔ سال19۔2018ءکے لیے 33 کھلاڑی اے، بی،

سی، ڈی اور ای کیٹگری میں ماہانہ تنخواہ لیتے رہے ہیں۔ گزشتہ برس تنخواہ پانے والے بہت ایسے کھلاڑی بھی تھے جو ٹیم کی بہت کم نمائندگی کر پائے یا بالکل ہی نہیں کھیلے۔پی سی بی نے اب سینٹرل کنٹریکٹ پلیئرز تعداد 33 سے کم کرکے 17 کرنے کا فیصلہ کیاہے، ناقص کارکردگی والوں کی آمدن کم کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے ،اجلاس میں اس بات کا تعین بھی کیا جائے گا کہ کتنے اور کن کھلاڑیوں کو اس لسٹ میں شامل کیاجائے،ابتدائی اجلاس میں ایم ڈی وسیم خان،مدثرنذر،ذاکرخان،ہارون رشید شریک ہونگے۔

مولانا فضل الرحمان نے آرمی چیف سے ملاقات کی خبروں کی تردید کردی


اسلام آباد (نیوزڈیسک) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ آرمی چیف سے ملاقات کی خبریں درست نہیں ہیں، ایسا لگ رہا ہے ملک میں آمریت ہے، اخلاقی اقدار کا جنازہ نکل گیا ہے، پوری اپوزیشن ایک پیج پر ہے۔ بدھ کو عرفان صدیقی کے ساتھ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمن

نے کہا کہ عرفان صدیقی صاحب کے پاس اظہار یکجہتی کے لیا آیا ہوں ،چند روز قبل ان کے ساتھ افسوسناک واقعہ رونما ہوا ،ایک شریف شہری کے ساتھ یہ رویہ اپنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سپیکر قومی اسمبلی اس پر گرفت کرتا ہے ریمارکس دیتا ہے ،یہ کیوں پیش آیا اس کے پیچھے کون سا منصوبہ تھا اور کس نے ترتیب دیا۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی اور فکری وابستگی کیا پاکستان میں جرم ہے،ایسا لگ رہا ہے ملک میں آمریت ہے اخلاقی اقدار کا جنازہ نکل گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی کے پیچھے چرس ڈال کر مقدمہ بنائے جا رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ میں یہاں اس واقعہ پر احتجاج اور اظہار یکجہتی کرنے آیا ہوں،عرفان صدیقی کی میڈیا کی سپورٹ پر میڈیا کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ،عرفان صدیقی کے تنقید کے کالم سے بھی سیکھتا رہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ عرفان صدیقی شائستہ صحافت کی ایک نشانی ہیں،حکومت کے لوگ شاید ہمیں جانتے نہیں ہیں،ناجائز جعلی اور کٹھ پتلی حکومت کے ساتھ عوامی احتجاج ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم غیر مسلح لوگ ہیں جو متاثرین میں شامل ہیں، ہماری مذہبی شناخت پر حملہ ہورہا ہے، تاجر سراپا احتجاج ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کیا آپ تاجروں کو

کہیں گے کہ معیشت کا کارڈ سیاست کے لیے استعمال ہو رہا ہے،یہ جاہلوں والی بات ہے، ہم آئین کی بات کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ توہین رسالتؐ کے انسداد کا قانون آئین میں ہے،اگر آئین سے وابستہ کوئی بھی بات اٹھائی جاتی ہے تو وہ سب کا آئینی حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ساتھ تمام مکاتب فکر کے لوگوں کی آواز شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوری اپوزیشن ایک پیج پر ہے، ہمارے ساتھ سب کی تائید شامل ہے،آرمی چیف سے ملاقات کے حوالے سے خبریں بے بنیاد ہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے آرمی چیف سے ملاقات کی خبروں کی تردید کردی


اسلام آباد (نیوزڈیسک) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ آرمی چیف سے ملاقات کی خبریں درست نہیں ہیں، ایسا لگ رہا ہے ملک میں آمریت ہے، اخلاقی اقدار کا جنازہ نکل گیا ہے، پوری اپوزیشن ایک پیج پر ہے۔ بدھ کو عرفان صدیقی کے ساتھ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمن

نے کہا کہ عرفان صدیقی صاحب کے پاس اظہار یکجہتی کے لیا آیا ہوں ،چند روز قبل ان کے ساتھ افسوسناک واقعہ رونما ہوا ،ایک شریف شہری کے ساتھ یہ رویہ اپنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سپیکر قومی اسمبلی اس پر گرفت کرتا ہے ریمارکس دیتا ہے ،یہ کیوں پیش آیا اس کے پیچھے کون سا منصوبہ تھا اور کس نے ترتیب دیا۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی اور فکری وابستگی کیا پاکستان میں جرم ہے،ایسا لگ رہا ہے ملک میں آمریت ہے اخلاقی اقدار کا جنازہ نکل گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی کے پیچھے چرس ڈال کر مقدمہ بنائے جا رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ میں یہاں اس واقعہ پر احتجاج اور اظہار یکجہتی کرنے آیا ہوں،عرفان صدیقی کی میڈیا کی سپورٹ پر میڈیا کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ،عرفان صدیقی کے تنقید کے کالم سے بھی سیکھتا رہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ عرفان صدیقی شائستہ صحافت کی ایک نشانی ہیں،حکومت کے لوگ شاید ہمیں جانتے نہیں ہیں،ناجائز جعلی اور کٹھ پتلی حکومت کے ساتھ عوامی احتجاج ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم غیر مسلح لوگ ہیں جو متاثرین میں شامل ہیں، ہماری مذہبی شناخت پر حملہ ہورہا ہے، تاجر سراپا احتجاج ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کیا آپ تاجروں کو

کہیں گے کہ معیشت کا کارڈ سیاست کے لیے استعمال ہو رہا ہے،یہ جاہلوں والی بات ہے، ہم آئین کی بات کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ توہین رسالتؐ کے انسداد کا قانون آئین میں ہے،اگر آئین سے وابستہ کوئی بھی بات اٹھائی جاتی ہے تو وہ سب کا آئینی حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ساتھ تمام مکاتب فکر کے لوگوں کی آواز شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوری اپوزیشن ایک پیج پر ہے، ہمارے ساتھ سب کی تائید شامل ہے،آرمی چیف سے ملاقات کے حوالے سے خبریں بے بنیاد ہیں۔

کالا باغ ڈیم کو مردہ قرار دیا جا چکا ہے: فیصل واوڈا


اسلام آباد (نیوزڈیسک) وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واواڈا نے کہا ہے کہ کالا باغ ڈیم کو مردہ قرار دیا جا چکا ہے لیکن وہ اس معاملے کا دوبارہ معائنہ کریں گے۔ کراچی میں بارش سے جان ومال کی جو تباہی ہوئی اس کا مداوا کھربوں روپے سے بھی ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ شریف خاندان جدی پشتی بے ایمان ہے

اور شہباز شریف کے داماد علی عمران کی ایک خالی پڑی بلڈنگ نیشنل بینک کو 35 لاکھ 65 ہزار روپے میں کرائے پر دیدی گئی تھی اور اب ہم یہ دستاویز نیب کو بھجوا رہے ہیں۔ کالا باغ ڈیم کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ مردہ قرار دیا جا چکا ہے لیکن وہ اس معاملے کا دوبارہ معائنہ کریں گے۔ خیال رہے کہ فیصل واوڈا نے اس سے پہلے کہا تھا کہ مہمند ڈیم کو کالا باغ کی طرح متنازعہ بنانے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔ انہوں نے کہا تھا کہ گزشتہ حکومتوں کے ادوار میں ڈیم تعمیر نہیں کیے جا سکے تاہم موجودہ حکومت نے پانی کا ذخیرہ کرنیکے لئے ڈیموں کی تعمیر کا عزم کر رکھا ہے۔

کالا باغ ڈیم کو مردہ قرار دیا جا چکا ہے: فیصل واوڈا


اسلام آباد (نیوزڈیسک) وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واواڈا نے کہا ہے کہ کالا باغ ڈیم کو مردہ قرار دیا جا چکا ہے لیکن وہ اس معاملے کا دوبارہ معائنہ کریں گے۔ کراچی میں بارش سے جان ومال کی جو تباہی ہوئی اس کا مداوا کھربوں روپے سے بھی ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ شریف خاندان جدی پشتی بے ایمان ہے

اور شہباز شریف کے داماد علی عمران کی ایک خالی پڑی بلڈنگ نیشنل بینک کو 35 لاکھ 65 ہزار روپے میں کرائے پر دیدی گئی تھی اور اب ہم یہ دستاویز نیب کو بھجوا رہے ہیں۔ کالا باغ ڈیم کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ مردہ قرار دیا جا چکا ہے لیکن وہ اس معاملے کا دوبارہ معائنہ کریں گے۔ خیال رہے کہ فیصل واوڈا نے اس سے پہلے کہا تھا کہ مہمند ڈیم کو کالا باغ کی طرح متنازعہ بنانے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔ انہوں نے کہا تھا کہ گزشتہ حکومتوں کے ادوار میں ڈیم تعمیر نہیں کیے جا سکے تاہم موجودہ حکومت نے پانی کا ذخیرہ کرنیکے لئے ڈیموں کی تعمیر کا عزم کر رکھا ہے۔

ایل پی جی کے گھریلو سلنڈر کی قیمت میں یکدم ہو شربا اضافہ ،عوام کو ایک اور جھٹکا


اسلام آباد(نیوزڈیسک)اوگرا نے یکم اگست سے ایل پی جی کے گھریلو سلنڈر کی قیمت میں 19 روپے 11 پیسے اضافہ کر دیا ہے۔اوگرا کے نوٹیفکیشن کے مطابق جولائی کے لیے 11.8 کلو گرام کے گھریلو سلنڈر کی قیمت 1330 روپے 92 پیسے تھی جس میں 19 روپے 11 پیسے اضافے سے نئی قیمت 1350 روپے 3 پیسے مقرر کی گئی ہے۔اوگرا نوٹیفکیشن

میں بتایا گیا ہے کہ ایل پی جی کی فی کلو قیمت میں ایک روپے 62 پیسے اضافہ ہوا ہے اور فی کلو ایل پی جی کی قیمت 112 روپے 78 پیسے سے بڑھ کر 114 روپے 40 پیسے ہوگئی ہے۔

حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا


اسلام آباد (نیوزڈیسک) حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا، پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے 15 پیسے فی لیٹر، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 5 روپے 65 پیسے فی لیٹر، لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 8 روپے 90 پیسے جبکہ مٹی کے تیل کی قیمت میں 5 روپے 38 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے پیٹرولیم

مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ اوگرا کی جانب سے پیٹرول 5 روپے 15 پیسے فی لیٹر مہنگا کرنے کی تجویز پیش کی گئی، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 5 روپے 65 پیسے فی لیٹر اضافے کی سفارش کی گئی۔اس کے علاوہ لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 8 روپے 90 پیسے جبکہ مٹی کا تیل 5 روپے 38 پیسے مہنگا کرنے کی سفارش کی گئی۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل سے متعلق تیار کی جانے والی سمری وزارت پٹرولیم کو کل ارسال کی گئی تھی۔اب وزارت خزانہ نے اس سمری کی منظوری دے دی ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں پر عملدرآمد یکم اگست سے ہو گا۔ خیال رہے کہ اس سے قبل پٹرولیم مصنوعات سستی ہونے کا امکان ظاہر کیا جارہا تھا۔ 25 جولائی کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت کم ہونے سے آئندہ ماہ اگست ملک میں پٹرولیم مصنوعات سستی ہونے کا امکان ہے۔خام تیل کی عالمی قیمت 62 ڈالر 47 سینٹ فی بیرل ہوگئی جبکہ 3 روز کے دوران خام تیل 4 ڈالر فی بیرل سستا ہوا ۔جبکہ

پاکستان کو سعودی عرب سے تیل کی فراہمی کا آغاز رواں ماہ سے ہو ا جس کے بعد آئندہ ماہ پٹرولیم مصنوعات 5 روپے تک سستی ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا تھا۔ تاہم اب حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دے دی ہے۔

عید الاضحیٰ پر کتنی چھٹیاں ہونگی؟ حکومت نے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا


اسلام آباد (نیوز ڈیسک )حکومت نے عید الاضحی کی چھٹیوں کا اعلان کردیا ہے۔وزارت داخلہ نے 4چھٹیوں کا اعلان کیا ۔وزارت داخلہ کی جانب سے جاری نو ٹی فیکیشن کے مطابق عید الاضحی کی تعطیلات 12سے 15اگست تک ہو ں گی ۔وزارت داخلہ نے 17اگست کو ورکنگ ڈے قرار دے دیا ۔واضح رہے کہ عید الاضحی 12اگست بروز پیر کو ہو گی اور چھٹیا

ں پندرہ اگست بروز جمعرات تک ہونگی۔ خیال رہے کہ پاکستان میں ذی الحج کا چاند 12 اگست بروزاتواکونظرآنے کے واضع امکانات ہیں جب کہ عیدالضحیٰ 22 اگست بروزبدھ کوہوگی۔رویت ہلال ریسرچ کونسل کے سیکرٹری خالداعجازمفتی کے مطابق پاکستان میں مطلع صاف ہونے کی صورت میں ذی الحج 1439 ہجری کا چاند اتوار12 اگست کونظرآجائے گا، 13 اگست کویکم ذی الحج ہوگی جب کہ عید الضحیٰ 22 اگست بروزبدھ کوہوگی۔رویت ہلال رسیرچ کونسل کے مطابق ذی الحج کا چاند ہفتہ 11 اگست کوپاکستان کے معیاری وقت کے مطابق 2 بج کر58 منٹ پرپیدا ہوگا۔ اتوار12 اگست کوغروب آفتاب کے وقت چاند کی عمرپاکستان کے تمام شہروں میں 27 گھنٹے سے زیادہ ہوگی۔ نیا چاند اس وقت دکھائی دیتا ہے جب اس کی عمرغروب آفتاب کے وقت کم ازکم 19 گھنٹے سے زائد ہوجب کہ سورج اورچاند کے غروب ہونے کا درمیانی فرق کم ازکم 40 منٹ ہونا لازمی ہے۔ذی الحج کے چاندکی شرعی رویت کا اعلان مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمن کریں گے۔ اس سے قبل فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ہجری کیلنڈر کے مطابق محرم یکم ستمبر

2019 بروز اتوار کو ہو گا، جبکہ عید الا ضحیٰ سوموار 12 اگست کو ہوگی وفاقی وزیر فواد چوہدری نے عید الا ضحیٰ کے بعد محرم کی تعطیلات کی تاریخوں کا بھی پیشگی اعلان کر دیا ہے۔فواد چوہدری کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ محرم یکم ستمبر 2019 بروز اتوار کو ہو گا۔ جبکہ عید الا ضحیٰ سوموار 12 اگست کو ہوگی۔ وفاقی وزیر سائنساینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا چلئے اب اس عید کی بحث ختم، اب اگلے دو اہم اسلامی دن یعنی عید الاضحیٰ اور محرم کب ہیں۔انہوں نے کہا ہجری کیلنڈر کے مطابق عید الا ضحیٰ سوموار 12 اگست 2019 اور محرم یکم ستمبر 2019 بروز اتوار کو ہو گا۔جبکہ اس سے قبل وفاقی وزیر فواد چوہدری کی جانب سے عید الفطر کی تاریخ کا بھی پیشگی اعلان کیا گیا تھا۔ وفاقی وزیر فوادی چوہدری نے عید الفطر 5 جون بروز بدھ کو ہونے کی پیشن گوئی کی تھی، جو درست ثابت ہوئی۔ جبکہ اب وفاقی وزیر نے عید الضحیٰ اور محرم کی تعطیلات کا بھی پیشگی اعلان کر دیا ہے۔ تاہم دوسری جانب علماء کرام وفاقی وزیر کے اعلان کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔علماء کا مطالبہ ہے کہ وفاقی وزیر فواد چوہدری دینی معاملات میں مداخلت سے باز رہیں۔ اسلامی مہینوں کی رویت کا حتمی فیصلہ رویت ہلال کمیٹی کی جانب سے ہی کیا جائے گا۔

اقتصادی رابط کمیٹی کی تشکیل نو


اسلام آباد(نیوزڈیسک) وفاقی حکومت نے وفاقی وزیر اقتصادی امور ڈویژن حماد اظہر کو اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا رکن مقرر کرنے کے ساتھ ہی کمیٹی کی تشکیل نو کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے‘ بتایا گیا کہ وفاقی کابینہ نے 25 جولائی کو وزیر اقتصادی امور ڈویژن کو ای سی سی کا رکن مقرر کرنے کی منظوری دی تھی. نوٹیفکیشن کے مطابق وفاقی

وزیر برائے مواصلات و پوسٹل سروسز مراد سعید اور وفاقی وزیر پیٹرولیم عمر ایوب بھی ای سی سی ارکان میں شامل ہیں‘ نوٹیفکیشن کے مطابق وزیر قانون ڈاکٹر فروغ نسیم ، وفاقی وزیر میری ٹائم افیئرز سیّد علی حیدر زیدی اور وزیر نیشنل فوڈ سیکورٹی اینڈ ریسرچ صاحبزادہ محمد محبوب سلطان بھی ای سی سی کے ارکان میں شامل ہیں. علاوہ ازیں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات مخدوم خسرو بختیار، نجکاری کے وزیر محمد میاں سومرو، وزیر ریلوے شیخ رشید احمد اور آبی وسائل کے وزیر فیصل واڈا بھی ای سی سی کے ارکان کی فہرست میں شامل ہیں. ای سی سی میں شامل ہونے والے دیگر ارکان میں مشیر تجارت اور مشیر ادارہ جاتی اصلاحات ہیں‘ٹوٹیفکیشن کے مطابق ای سی سی میں اراکین کی مجموعی تعداد 15 ہوگئی‘مزید برآں نوٹیفکیشن کے مطابق مشیر خزانہ ای سی سی کے چیئرمین ہوں گے. وفاقی حکومت نے کابینہ کمیٹیوں، قومی اقتصادی کونسل اور ایکنک کے اجلاس اور ان میں ہونے والے فیصلوں کی تفصیلات جاری کردی‘فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق قومی اقتصادی کونسل کا ایک اجلاس ہوا جس میں 7 اہم فیصلے لیے گئے‘علاوہ ازیں ایکنک کے

مجموعی طور پر 5 اجلاس منعقد ہوئے اور اب تک31 فیصلے لیے گئے. حکومت کی جانب سے بتایا گیا کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے 42 اجلاس میں 356 فیصلے لیے گئے‘دستاویزات کے مطابق کابینہ نجکاری کمیٹی کے 4 اجلاس منعقد ہوئے جس میں مجموعی طور پر 51 فیصلے ہوئے‘اس ضمن میں مزید بتایا گیا کہ کابینہ توانائی کمیٹی کے 10 اجلاس میں 82 فیصلے ہوئے. پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کی کابینہ کمیٹی کے اب تک 3 اجلاس ہوئے جن میں 22 فیصلے لیے گئے. فراہم کردہ دستاویزات کے مطابق کابینہ کابینہ کمیٹی سرکاری ملکیتی ادارہ جات کا صرف ایک اجلاس ہوا اور صرف ایک ہی فیصلہ لیا گیا.

پی سی بی پھر سے بھارت کی میزبانی کے سہانے خواب دیکھنے لگا


لاہور(نیوزڈیسک) پی سی بی ایک بار پھر کسی نیوٹرل مقام پر بھارت کی میزبانی کا سہانے خواب دیکھنے لگا۔ایم ڈی وسیم خان نے کہاکہ ہم بھارت کیخلاف پاکستان یا کسی بھی نیوٹرل مقام پر کھیلنے کو تیار ہیں، بی سی سی آئی کی سپورٹ بھی ہمیں حاصل ہے، تمام نظریں بھارتی حکومت پر ہیں کہ وہ اپنی ٹیم کو کھیلنے کی کب اجازت دیتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم

بی سی سی آئی حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں، پاکستانی ویمنز ٹیم کو بھی اکتوبر،نومبر میں بھارت میں سیریز کھیلنا ہے، اس بارے میں بھی بھارتی حکومت نے کوئی فیصلہ نہیں کیا، امید ہے کہ جلد کوئی پیش رفت ہوگی۔ ایم سی سی کی کمیٹی بھی دونوں ملکوں کے درمیان سیریز کی بحالی کے لیے کوشاں ہے۔ایک سوال پر وسیم خان نے کہا کہ بھارت کے خلاف سیریز سے بہت مالی فائدہ ہوتا ہے لیکن اگر ان کے ساتھ میچز نہیں ہوئے توپھر بھی ہم اپنے وسائل پیداکرنے کی پلاننگ کررہے ہیں، روایتی حریف کے ساتھ 5 سال بھی سیریز نہ ہوتو خسارے میں نہیں جائیں گے، ماضی میں کرکٹ بورڈ کو کماﺅپوت بنانے میں زیادہ سنجیدگی نہیں اپنائی گئی، ہم اب اس پر توجہ دے رہے ہیں۔ یاد رہے کہ بھارتی ٹیم نے آخری مرتبہ2006ءمیں پاکستان کا دورہ کیا تھا اور موجود ہ بھارتی ٹیم کے ایک بھی کھلاڑی نے پاکستان میں ٹیسٹ کرکٹ نہیں کھیلی ہے ۔