شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے 2019-20 کا مالی بجٹ پیش کر دیا


اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) آج اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہو رہا ہے جس میں وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر 2019-20 کا مالی بجٹ پیش کر رہے ہیں۔اس سے قبل وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ وفاقی کابینہ نے وزراء کی تنخواہوں میں 10 فیصد کمی کی منظوری دے دی ہے۔
کابینہ نے گریڈ 1 سے 16 تک کے ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے کی منظوری دی جب کہ پینشن میں بھی 10 فیصد اضافے کی منظوری دے دی گئی ہے۔اس کے علاوہ گریڈ 17 سے گریڈ 20 کے افسران کی تنخواہوں میں 5 فیصد اضافہ کر دیا ہے۔جب کہ گریڈ 21 سے گریڈ 22 کے ملازمین کی تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔ ایک اور میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا کہ بجٹ میں بجلی کی پیداواراورگیس ڈسٹریبیوشن کاہدف3.4فیصد،تعمیراتی شعبے کاہدف1.5فیصداورہاؤسنگ سروسز4فیصدجبکہ جنرل گورنمنٹ سروسزکی ترقی کاہدف5.7فیصدہے. دستاویز میں فنانس اینڈ انشورنس کا ہدف 6.5 فیصد،برآمدات26ارب،درآمدادکاہدف53ارب ڈالررکھنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ ٹیکس وصولیوں کا ہدف ساڑھے 55 سوارب مقررکیا گیا ہے. وفاقی بجٹ2019-20آج منگل کے روز آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کیا جا رہا ہے نئے بجٹمیں محصولاتی آمدنی میں اضافے، ادائیگیوں کے توازن میں بہتری اور بجٹ خسارے کو کم کرنے کرنے پر توجہ مرکوز رہے گی. بجٹ کا تخمینہ 6800 ارب روپے لگایا جا رہا ہے، اور اس بار اس میں دو نکات نہایت اہم ہیں، ایک یہ کہ پاکستانی فوج نے رضاکارانہ طور پر دفاعی بجٹ نہ بڑھانے کی تجویز اور دوسرا وزیراعظم کی جانب سے ٹیکس وصولیوں پر زوردیا ہے. اس بجٹ میں امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ 750 ارب روپے کے نئے ٹیکس عائد کیے جانے سے بجلی گیس کھانے پینے کی اشیا، گھروں میں استعمال ہونے والی اپلائینسز، الیکٹرونکس، ٹریکٹرز، زرعی آلات اور ملبوسات مہنگے ہوں گے. سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں دس فیصد اضافے کی تجویز بھی ہے‘ آئندہ مالی سال کا بجٹ آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق تیار کیا گیا ہے بجٹمیں دفاع کے لیے 1250 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے. دفاعی بجٹ اورحکومتی بجٹ میں اضافہ نہیں کیا جائے گا اس سے حاصل ہونے والی رقم کو بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع کی ترقی کے لیے استعمال کیا جائے گا آئندہ مالی سال میں قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے 2500 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہےایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف 5550 ارب روپے رکھا گیا ہے.





اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ ترین خبریں

دلچسپ و عجیب

بزنس