شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

امریکی فوج اسامہ بن لادن کو قتل نہیں کرنا چاہتی تھی تاہم مزاحمت پر قتل کرنا پڑا


ریاض۔ (نیوزڈیسک) سعودی عرب کے سابق انٹیلی جنس سربراہ شہزادہ ترکی الفیصل نے القاعدہ کے بانی سربراہ اسامہ بن لادن کے حوالے سے اہم انکشافات کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سعودی حکومت نے طالبان کے سابق امیر مٴْلا محمد عمر سے متعدد بار بن لادن کو ریاض کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا مگر انہوں نے سعودی عرب کا مطالبہ مسترد کر دیا تھا۔ ایک

عرب ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسامہ بن لادن کی نعش دفنانے کے بجائے سمندر برد کرنے کا فیصلہ اس بنا پر کیا گیا کہ تدفین کی صورت میں لوگ ان کا مزار نہ بنا لیں۔ایک سوال کے جواب میں شہزادہ ترکی الفیصل نے کہا کہ سعودی حکام اسامہ کے اہل خانہ کو صرف اور صرف انسانی بنیادوں پر ان سے ملنے کی اجازت دیتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی فوج کا بن لادن کے قتل کا کوئی منصوبہ نہیں تھا۔ امریکی فوجیوں نے دعویٰ کیا تھا کہ کارروائی کے وقت بن لادن نے اسلحہ اٹھا رکھا تھا جس کے باعث انہیں قتل کیا گیا۔





اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ ترین خبریں

دلچسپ و عجیب

بزنس