شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

کیا بلیک ہول کی تصویر ساڑھے5 کروڑ سال پرانی نکلی۔۔۔


لاہور : سائنسدان کائنات کے اہم رازوں میں سے ایک راز بلیک ہول کی تصویر لینے میں کامیاب ہو گئے۔ تفصیلات کے مطابق ماہرین فلکیات طویل عرصے سے سحر زدہ کیے رکھنے والے بلیک ہول کی پہلی تصویر لینے میں کامیاب ہوگئے۔ یہ بلیک ہول جسے اب تک دریافت کیے جانے والے بلیک ہولز میں سب سے زیادہ وزنی قرار دیا جارہا ہے، زمین سے 5 کروڑ 50 لاکھ نوری (روشنی کے) سال کے فاصلے پر واقع ہے۔
یعنی اس وقت اگر ہم زمین سے آنکھوں کو چکا چوند کردینے والی کوئی ایسی روشنی خارج کرسکیں جو اس بلیک ہول تک پہنچ سکے تو اسے وہاں تک پہنچنے میں 5 کروڑ 50 لاکھ سال کا عرصہ درکار ہو گا اور یقیناً یہ تو آپ جانتے ہی ہوں گے کہ روشنی ہماری کائنات کی سب سے تیز رفتار شے ہے۔
اس بلیک ہول کی تصویر دنیا بھر سے ایونٹ ہورائزن ٹیلی اسکوپ (ای ایچ ٹی) نامی 8 ریڈیو دوربینوں کے ایک نیٹ ورک نے لی جس کے لیے 200 سے زائد سائنسدانوں نے مل کر کام کیا۔
یہ پہلی بار ہے کہ سائنسدان کسی بلیک ہول کی تصویر لینے میں کامیاب ہوسکے جس سے کائنات کے اس راز کو سمجھنے میں مدد مل سکے گی۔ اس تصویر میں مادے کا ایک ہالا دکھائی دے رہا ہے جو بلیک ہول کے گرد دائرے کی شکل میں ہے۔ بلیک ہول کے آس پاس کا علاقہ ایونٹ ہورائزن کہلاتا ہے جو خاصا روشن ہے، اُس کی وجہ یہ ہے کہ مادہ، گیس، پلازمہ یا کوئی بھی دوسری شے بلیک ہول کے اندر داخل ہونے سے قبل اس مقام (ایونٹ ہورائزن) پر نہایت تیز ہو کر بھڑک جاتی ہے اور روشن ہوجاتی ہے، یہ روشنی انہی اشیا کی ہے۔
جبکہ ہالے کے درمیان سیاہ چیز بلیک ہول ہے۔ بلیک ہول اپنی شدید کشش ثقل کی وجہ سے جب ستاروں کو نگلتا ہے تو ستاروں کے ان ٹکڑوں میں رگڑ کی وجہ سے شدید دباؤ پیدا ہوتا ہے اور اس کی وجہ سے ریڈیو لہریں نکلتی ہے. اور یہی لہریں ای ایچ ٹی نے ڈٹیکٹ کیں. ایونٹ ہورائزن ٹیلی اسکوپ کے ڈائریکٹر اور ہارورڈ یونیورسٹی کے محقق نے اس بارے میں بتایا کہ بلیک ہول ہماری کائنات کے چند پراسرار ترین چیزوں میں سے ایک ہیں، اور ہم وہ دیکھ رہے ہیں جس کے بارے میں ہمارا خیال تھا کہ اسے دیکھنا ممکن نہیں، ہم نے بلیک ہول کی ایک تصویر لے لی ہے۔
یہاں یہ بات واضح رہے کہ کوئی بھی ستارہ بلیک ہول اُس وقت بنتا ہے جب اس کے تمام مادے کو چھوٹی جگہ میں قید کردیا جائے۔ اگر ہم اپنے سورج کو ایک ٹینس بال جتنی جگہ میں مقید کردیں تو یہ بلیک ہول میں تبدیل ہوجائے گا۔ بلیک ہول میں تھوڑی جگہ پر انتہائی زیادہ مادے کی وجہ سے اس کی کشش اتنی زیادہ ہوجاتی ہے کہ روشنی، جو اب تک کی تحقیقات کے اعتبار سے اس کائنات کی سب سے تیز ترین چیز ہے، بھی اس سے فرار نہیں ہوسکتی۔





اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ ترین خبریں

دلچسپ و عجیب

بزنس