جیسے ہی رات میں آنکھ کھولے تو یہ آیت پڑھ لیں، پھر کما ل دیکھیں


دعا کی قبولیت کیلئے متعدد اوقات اور جگہیں ہیں، جن میں سے ہم کچھ یہاں بیان کرتے ہیں مصیبت آنے سے پہلے ہمیں کیا کرنا چاہیے عبداللہ بن عبید فرماتے ہیںکہ میں نے اللہ کے رسولۖ سے عر ض کیا ۔کہ میں کیا پڑھا کروں اپنی حفاظت کے لیے مصیبتوں کو ٹالنے کے لیے پریشانیوں سے بچنے کے لیے میں کیا پڑھوں نبی اکرم ۖ نے ان کو حل بتا رہے ہیں کیا

پڑھنا ہے تم نے اپنی مصیبت پریشانی اور غم کو دور کرنے کے لیے اور اتنی چھوٹی چھوٹی دعائیں ہیں ہم یہ نہیں کرتے اگر ہم کسی بیماری میں جائیں تو ہم ڈاکٹر کے کہنے پے بہت ساری میڈیسن کھاتے ہیں دل بھی نہیں ہے کرتا میڈیسن کھانے کو لیکن ہم کھاتے ہیں کیوں کے بیماری کو کنڑول کرنا ہے ۔لیکن اگر ہم وہی کریں مصیبت غم نہ آئے کسی آفت کو دور کرنا ہے تو کنڑول کے لیے ازکار ہے نہ پیسہ جاتا ہے لیکن وہ ہم سے نہیں ہے ہوتا۔عبداللہ بن عبید نے کہا اللہ کے رسول اپنی حفاظت کے لیے میں صبح اور شام کے معاملے میں کیا پڑھوں تو نبی اکرم ۖ فرماتے ہیں ہر صبح اور شام تین تین مرتبہ تم سورة اخلاص پڑھو پھر تین مرتبہ سورة فلک پڑھیں پھر فرمایا تین مرتبہ سورة الناس پڑھومطلب تینوں سورة ایک ساتھ پڑھیں ہر وقت پریشانی والی چیز سے اللہ پاک محفوظ رکھے گا صحابی فرما رہے ہیں کہ اللہ کے رسول ۖ نے فرما اگر کوئی پریشانی مصیبت آجائے تو صبح شام تین تین مرتبہ سورة اخلاص سورة فلک اور سورة الناس کو تین تین بار پڑھا کرویہ تمہارے لیے کافی ہو جائے گا مصیبتوں کے لیے پریشانیوں کے لیے ۔

بلڈ گروپ سے واقفیت کیوں ضروری ہے؟


کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ آپ کے خون کا گروپ کیا ہے؟ ہوسکتا ہے آپ کو معلوم ہو، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ بیشتر افراد اپنے بلڈ گروپ سے واقف ہی نہیں ہوتے حالانکہ اس سے واقفیت کچھ مخصوص امراض کا خطرہ ٹالنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ انسانی خون میں بنیادی عناصر تو یکساں ہوتے ہیں مگر اس میں کچھ مختلف چیزیں اسے4 بلڈ گروپس میں

تقسیم کرتی ہیں۔ ان چاروں بلڈ گروپس کو جو چیز ایک دوسرے سے الگ کرتی ہے وہ اینٹی جنز ہیں یعنی ایسے پروٹین یا کاربوہائیڈریٹ جو خون میں شامل ہوکر اینٹی باڈیز بنانے کا عمل تیز کرتے ہیں۔ مختلف طبی تحقیقی رپورٹس کے مطابق مختلف بلڈ گروپس جسم پر مختلف طرح سے اثرانداز ہوتے ہیں۔ بلڈ کلاٹ یا خون جمنے اور گاڑھا ہونے کا خطرہ ڈنمارک میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں یہ دعویٰ سامنے آیا تھا کہ بلڈ گروپ اے بی، اے اور بی کے حامل افراد کی ٹانگوں کے نچلے حصے میں بلڈ کلاٹ کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے جو کہ سفر کرکے پھیپھڑوں تک جاکر جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔ اس سلسلے میں 60 ہزار سے زائد افراد کے ڈیٹا کا 30 سال تک جائزہ لیا گیا اور معلوم ہوا کہ اوپر درج کیے گئے بلڈ گروپس والے افراد میں بلڈ کلاٹ کا خطرہ او بلڈ گروپ کے حامل افراد کے مقابلے میں 40 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔ امراض قلب اے بی، اے اور بی بلڈ گروپس کے حامل افراد میں امراض قلب کا خطرہ بھی زیادہ ہوتا ہے۔ ہارورڈ یونیورسٹی کی دو دہائیوں سے زائد عرصے تک جاری رہنے والی ایک تحقیق میں77 ہزار افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کرکے یہ نتیجہ نکالا گیا کہ اے بی بلڈ گروپ کے

حامل افراد میں امراض قلب کا خطرہ، او بلڈ گروپ کے مقابلے میں 23 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔ اسی طرح بی بلڈ گروپ والے افراد میں یہ خطرہ 11 فیصد اور اے بلڈ گروپ میں پانچ فیصد زیادہ ہوتا ہے۔ محققین یہ بتانے سے قاصر رہے کہ اس کی وجہ کیا ہے، تاہم ان کے خیال میں یہ بلڈ گروپس صحت کے لیے نقصان دہ کولیسٹرول کی مقدار زیادہ بناتے ہیں۔معدے کا کینسر اے بلڈ گروپ والے افراد میں معدے کے کینسر کا خطرہ کسی اور بلڈ گروپ کے مقابلے میں 20 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔ یہ بات سوئیڈن میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی، خاص طور پر اگر اس بلڈ گروپ کے حامل افراد سگریٹ نوشی کے عادی ہوں تو یہ خطرہ زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں او بلڈ گروپ والے افراد میں معدلے کے السر کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے، تاہم اس کی وجہ کے حوالے سے محققین کوئی خاص روشنی نہیں ڈال سکے۔ بانجھ پن او بلڈ گروپ والی خواتین میں بانجھ پن کا امکان دیگر کے مقابلے میں دوگنا زیادہ ہوتا ہے، جس کی وجہ جسم میں ایک ہارمون ایف ایس ایچ کی سطح زیادہ ہونا ہے جو کہ ایسے اجزاء میں کمی لاتی ہے جو کہ بانجھ پن سے بچاتے ہیں۔ البرٹ آئن اسٹائن کالج آف میڈیسن کی

تحقیق میں اس حوالے سے کوئی واضح وجہ تو نہیں بتائی گئی، تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ زیادہ تشویشناک امر نہیں، عمر بڑھنا اس سے بھی زیادہ بڑا رسک فیکٹر ہوتا ہے۔ دماغی تنزلی اور یاداشت سے محرومی ایک تحقیق کے مطابق جن لوگوں کے خون کا گروپ اے بی ہوتا ہے، ان میں ادھیڑ عمری یا بڑھاپے میں یادداشت سے محرومی کا خطرہ کافی زیادہ ہوتا ہے، اس کی وجہ VIII نامی پروٹین کی زیادہ مقدار ہونا ہے جو یاداشت کے مسائل کا خطرہ 24 فیصد تک بڑھاتا ہے۔ فالج کا خطرہ ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ او بلڈ گروپ کے حامل افراد کے مقابلے میں دیگر بلڈ گروپس والے افراد میں خون کی شریانوں کے مسائل جیسے ہارٹ اٹیک یا فالج وغیرہ کا خطرہ 9 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔ محققین اب بھی جانچ پڑتال کررہے ہیں کہ اس کی وجہ کیا ہے، تاہم ایک امکان یہ ہے کہ دیگر گروپس میں ایک مخصوص پروٹین کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے جو بلڈ کلاٹ اور فالج وغیرہ کا باعث بنتا ہے۔ مچھر جرنل آف میڈیکل اینٹومولوجی میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق او بلڈ گروپ مچھروں کو دیگر بلڈ گروپس کے مقابلے میں اپنی جانب زیادہ کھینچتا ہے، درحقیقت اس بلڈ

گروپ کے حامل افراد مچھروں کے حملے کا اے بلڈ گروپس کے مقابلے میں دوگنا زیادہ شکار ہوتے ہیں، جبکہ بی بلڈ گروپ دونوں کے درمیان ہے۔ ویسے ضروری نہیں کہ خون ہی مچھروں کو لوگوں کی جانب کھینچے، اس کی چند دیگر وجوہات بھی ہوتی ہیں، جیسے موٹاپا، حمل، الکوحل کا استعمال، مخصوص جسمانی بو، جلد میں چھپے بیکٹریا اور ورزش وغیرہ۔

میں باپردہ اور پنج گانہ نمازی ہوں ، میرے رشتے ایسے افراد کے آتے ہیں جو نماز تک نہیں پڑھتے ، کیا ایسے انسان سے شادی کرلوں یا دیندار کا انتظار کروں؟خاتون کے سوال پر مذہبی سکالر نے کیاجواب دیا؟


آج کل ہمارے معاشرے میں دیندار گھرانوں سے تعلق رکھنے والے والدین اپنی بچیوں کے مناسب رشتوں کیلئے نہایت پریشان نظر آتے ہیں ۔ دیندار گھرانوں کی بچیاں مناسب اور دیندار رشتے کے انتظار میں عمریں گنوا رہی ہیں ۔ ایسا ہی کچھ معاملہ نجی ٹی وی پروگرام میں بھی سامنے آیاجب ایک دیندار خاتون نے پروگرام کے میزبان کو ایک سوال بھیجا جس میں

اسخاتون نے سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ میری عمر 30سال ہے، میں ایک باپردہ خاتون ہوں اور دین پر مکمل عمل کرنے کی کوشش کرتی ہوں، میں دیندار آدمی سے شادی کرنا چاہتی ہوں مگر میرے رشتے ایسے افراد کے آتے ہیں جو نماز تک نہیں پڑھتے، کیا میں نماز نہ پڑھنے والے شخص سے شادی کر لوں یا کسی دیندار آدمی کے رشتے کا انتظار کروں۔ خاتون کے سوال کا جواب دیتے ہوئے پروگرام کے مہمان ایک مذہبی سکالر کا کہنا تھا کہ شادی کے حوالے سے چند اصولی چیزوں کو دیکھا جاتا ہے، جب بھی رشتہ آتا ہے تو اس میں دو تین چیزوں کو دیکھنا چاہئے، ایک چیز تو یہ دیکھنی چاہئے کہ اس شخص کی دینی حالت کیا ہے، شریعت میں دینداری سے مراد وہ شخص مکمل دیندار ہو جبکہ ہمارے ہاں دینداری سے مراد یہ لی جاتی کہ بندہ نماز پڑھتا ہو اور اس کا ظاہری شباہت اس کی دینی ہو، یہ چیز دیکھ لیں، دوسرے نمبر پر یہ دیکھیں کہ وہ بندہ اخلاق میں کیسا ہے، جس سے متعلق چھان بین کرنے سے معلوم ہو جائے گا، تیسرے نمبر پر یہ دیکھیں کہ وہ سماجی اور تمدنی اعتبار سے آپ کے جوڑ کا ہے یا نہیں۔ مذہبی سکالر نے خاتون کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایسا کوئی رشتہ ان

کیلئے آتا ہے کہ وہ سماجی اور تمدنی اعتبار سے اور اخلاقی لحاظ سے ان کیلئے مناسب ہے لیکن نماز اوردینی اعتبار سے اس کے اندر کوتاہی ہے تو اس کیلئےیہ خاتون یہ کام کر سکتی ہیں کہ شادی کے بعد اس شخص کو یہ نمازی بنا دیں۔ حدیث شریف میں تو ایسی بیوی کی تعریف آئی ہے جو ایسا کرے ۔ حضور اکرمﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ خوش ہوتے ہیں ایسی عورت سے جو شوہر کو نماز کیلئے اٹھاتی ہے اور اگر وہ نہیں اٹھتا یا کسل مندی کا مظاہرہ کرتا ہے تو بیوی اس کو جگانے کیلئے اس پر پانی کے چھینٹے ڈال دے،یعنی دین کے کاموں میں اپنے شوہر کی ممد و معاون بن جانا۔ اس میں کوئی حرج نہیں لیکن اس انتظار میں کہ میرے معیار کے مطابق کوئی شخص آئے گا اور خاتون اپنی عمر گزاردے جو کہ بالکل بھی مناسب نہیں۔ اگر آپ کو اس میں کمی محسوس ہوتی ہے اور وہ عبادت میں کمی رکھتا ہے تو خاتون اپنی کوشش سے اس کمی کو دور کرنے کی سعی کرے۔ مذہبی سکالر کا کہنا تھا کہ ظاہر ہےکہ اگر کوئی شخص کسی پردہ دار خاتون سے شادی کرے گا تو اس کے ذہن میں یہ بات ہو گی کہ یہ نمازی اور پردہ دار ہے ، تو جب یہ آئے گی تو یہ نماز پڑھنے کی تلقین کرے

گی۔ اس کیلئے بہت اخلاق اور نرمی کی ضرورت ہے، ہمارے ہاں لوگ طعنے اورطنز کر کے نماز کی تلقین کرتے نظر آتے ہیں جبکہ دین کا اسلوب طعنہ و تشنیع یا طنز نہیں ہے ۔ ہمارے ہاں لوگ اسیوجہ سے بچیوں کے رشتے میں بہت تاخیر کر دیتے ہیں جبکہ رشتوں کی تاخیر دین میں پسند نہیں فرمائی گئی۔

اسلام کا پہلا جمعہ جس مسجد میں ادا کیا گیا وہ مسجد صدیوںریت تلے دبے رہنے کے بعد اچانک برآمد ہو گئی


اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )اسلام کی پہلی مسجد مسجد قبا ہےجو مدینہ منورہ سے باہر قبا کے مقام پر حضورؐ کے ہجرت مدینہ کے موقع بنائی گئی تھی جہاں حضورؐ نے آزادانہ پہلی نماز کی امامت کروائی تھی۔ اسلام کی ایک اور اہم اور تاریخی مسجد جواثا کے مقام پر بنائی گئی تھی جس کے متعلق اسلامی تاریخ میں درج ہے کہ یہ وہی مسجد ہے جہاں اسلام کا پہلا جمعہ

پڑھایا گیا تھا۔ حوادث زمانہ نے اس مسجد کو اس کے آثار سمیت دبیز ریت تلے چھپا دیا تھا۔ مسجد جواثا صدیوں ریت میں دبی رہی جو کچھ عرصہ قبل سعودی عرب کے علاقے الاحصا کے گائوں کلابیہ سے برآمد ہوئی ۔ مسجد کی ازسر نو تزئین و آرائش کا کام شروع ہوا ہے جو کہ مکمل ہو چکا ہے اور مسجد کا افتتاح کر دیا گیا ہے۔ مسجد کا افتتاھ شہزادہ سعود بن نائف نے کیا ۔ مسجد کھلنے کے بعد عوام کی کثیر تعداد مسجد کی زیارت کیلئے الاحصا کے گائوں کلابیہ پہنچ گئی ہے۔

وہ ملک جس کا بادشاہ 21 سال تک پائلٹ کی نوکری کرتا رہا، بادشاہ کا راز کیسے فاش ہوا؟


ہالینڈ(مانیٹرنگ ڈیسک)کسی بھی ملک کا بادشاہ ہونا آسان کام نہیں کیونکہ اس عہدے کی ذمہ داریاں اور لوگوں سے ملنا وغیرہ کافی وقت طلب ہوتا ہے مگر ایک ایسے حکمران نے اپنی خفیہ جز وقتی ملازمت کے لیے بھی وقت نکال لیا اور وہ بھی پورے 21 سال تک جس کا کسی کو علم بھی نہیں ہوسکا۔ ولیم الیگزینڈر نیدرلینڈ کے بادشاہ ہیں اور انہوں نے حال ہی میں

انکشاف کیا کہ وہ اکیس سال سے کے ایل ایم (فضائی کمپنی) میں کو پائلٹ کی نوکری کرتے رہے جس کے دوران وہ ایک ماہ میں دو بار پروازیں لے کر جاتے۔ڈچ اخبار ڈی ٹیلیگراف کو انٹرویو دیتے ہوئے پچاس سالہ بادشاہ نے طیاروں کو اڑانا اپنا ‘مشغلہ’ قرار دیا جس سے انہیں اپنے شاہی فرائض سے جان چھڑانے کا موقع ملتا۔انہوں نے بتایا ‘ آپ کے پاس ایک طیارہ، مسافر اور عملہ ہوتا جو آپ کی ذمہ داری ہوتے، آپ زمین پر موجود اپنے مسائل کو آسمانوں پر نہیں لے جاسکتے، بلکہ آپ کو اپنی پوری توجہ کسی اور چیز پر مرکوز کرنا پڑتی ہے، میرے لیے تو یہ اس ملازمت کا سب سے پرسکون پہلو تھا۔وہ کے ایل ایم کے بیٹرے میں شامل فوکر طیاروں کے مہمان پائلٹ رہے جبکہ اب وہ بوئن 737 کو اڑانے کی تربیت لے رہے ہیں۔ویسے تو لوگوں کو ان کے طیارے اڑانے کے حوالے سے جذبے کا علم تھا مگر یہ پہلی بار سامنے آیا ہے کہ وہ باقاعدہ پائلٹ کی ملازمت بھی کرتے رہے۔ڈچ بادشاہ بھی پرواز کے دوران اعلان کرتے ہوئے کبھی اپنا نام استعمال نہیں کرتے جبکہ یونیفارم اور کمپنی کی ٹوپی پہنے دیکھ کر بھی بیشتر افراد انہیں پہچاننے سے قاصر رہتے۔

قیامت کی 6 نشانیاں۔۔حضور ؐ کی وہ کون کون سی پیشین گوئیاں ہیں جو اب تک پوری ہو چکی ہیں؟جانیں


قیامت مسلمانوں کے بنیادی عقائد میں سے ایک انتہائی اہم عقیدہ ہے اور اس پر ایمان لائے بغیر کوئی بھی شخص مسلمان نہیں ہوسکتا۔قیامت کا وقت اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں سے مخفی رکھا ہے اور کوئی بھی یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ قیامت کب آئے گی تاہم اللہ کے نبی ﷺ نے مسلمانوں کو بخشش کا موقع دیتے ہوئے کچھ نشانیاں بتائیں ہیں جن کے باری میں حدیث

شریف میں ارشاد کیا ہے کہ جب یہ واقعات رونما ہوجائیں تو سمجھ لینا کہ قیامت بہت نزدیک آچکی ہے ۔ قیامت کی چھ نشانیاں آپ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کی سب سے پہلی نشانی میرا انتقال ہے۔قیامت کی دوسری نشانی آپ ﷺ نے فلسطین ( موجودہ اسرائیل کے قبضے میں) میں واقع بیت المقدس کی فتح ہے۔ یاد رہے کہ ماضی میں بھی مسلمان اس علاقے کو فتح کرچکے ہیں۔تیسری نشانی یہ ہے کہ انسان جانوروں جیسی موت مرنے لگیں گے اور گردن توڑ بخار جیسی بیماریاں عام ہوجائیں گی۔آثارِ قیامت میں سے چوتھا یہ ہے کہ مال کا پھیلاؤ بے پناہ بڑھ جائے گا‘ یہاں تک کہ کسی شخص کو سو دینار بھی د یے جائیں گے تب بھی وہ ناراض ہی رہے گا۔پانچویں نشانی یہ ہے کہ قیامت سے پہلے ایک فتنہ کھڑا ہوگا جو عربوں گھر گھرمیں داخل ہوجائے گا اور کوئی بھی گھر اس سے محفوظ نہیں رہے گا۔چھٹی اور آخری نشانی یہ ہے کہ ’تمہارے(مسلمانوں) اور بنو اصفر (اہل روم) کے درمیان صلح ہوگی پھر وہ بے وفائی کریں گے اور 80 جھنڈے لے کر مسلمانوں پر چڑھ دوڑیں گے ۔قیامت کی ان نشانیوں کے ذہن میں رکھیےا وریہ بھی یادرکھیے کہ آثارِ قیامت میں سے ایک سورج کا مغرب سے طلوع ہونا

بھی ثابت ہے اور جس دن یہ نشانی پوری ہوگی اس دن اللہ تعالیٰ توبہ کا دروازہ بند کردے گا‘ پھر کسی کی توبہ قبول نہیں ہوگی۔اس لیے ہر وقت اللہ سے استغفار طلب کرتے رہیے اور لازمی دعا کا حصہ بنائیے کہ وہ ہمارا اور آپ کا خاتمہ بالخیر کرے۔

منگنی کے بعد ٹیلیفونک رابطے جائزہیں،رکن سعودی سربرآوردہ علماء بورڈ


ریاض(نیوزڈیسک) سعودی سربرآوردہ علماء بورڈ کے رکن شیخ عبداللہ المطلق نے کہا ہے کہ منگنی کے بعد ٹیلیفونک رابطے جائز ہیں بشرطیکہ خاندان کے سربراہ کو اسکا علم ہو اور ٹیلیفونک رابطوں کا مقصد ایک دوسرے کیساتھ ہم آہنگی پیدا کرنا ہو۔دونوں ایک دوسرے کو سمجھنے کیلئے مختلف قسم کے سوالات کرسکتے ہیں۔ میڈیارپورٹس کے مطابق انہوں نے

کہاکہ دونوں یہ پتہ لگا سکتے ہیں کہ دین اور دنیا کے بارے میں فریق ثانی کے خیالات کیا ہیں تاکہ اسکی روشنی میں شادی کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کیا جاسکے۔ شیخ المطلق نے تاکید کی کہ دونوں میں سے کوئی بھی ٹیلیفونک رابطوں کے دوران ایسا کوئی کام نہ کریں جس سے شکوک و شبہات جنم لیںیا غلط روش کا کوئی سلسلہ پیدا ہوتا ہو۔

“اقتدار کے مزے لو اور برا فوج کو کہہ دو کہ وہ نہیں مانتی”۔۔۔۔ اسد عمر نے یہ سخت ترین بات کس کو کہہ ڈالی ؟ جان کر آپ بھی دنگ رہ جائیں گے


اسلام آباد (ویب ڈیسک ) وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہےکہ کافی عرصے سے کہ رہا ہوں کہ معیشت ایلیٹ کلچر کا شکار ہے،معیشت میں ایلیٹ کلچر کو اوپن معیشت،پالیسیوں میں شفافیت ،پارلیمنٹ کو مضبوط اور احتساب کو بہتر کرنے سے توڑا جا سکتا ہے ،عالمی بنک کے زیر اہتمام انسانی وسائل کی کانفرنس کے دوسرے روز خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے

ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ جب ادارے مضبو ط ہونگے تو معیشت بھی اوپن ہوگی ، ایک سوال کے جواب میں وزیر خزانہ نے کہا کہ اگر پالیسیاں فوج کی ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ حکومت اپنا صحیح کردار ادا نہیں کررہی اگر میں حکومت میں ہوں تو یہ میری ذمہ داری ہےکہ یا تو میں اس پالیسی کو مان لوں یا تبدیل کر دوں ، انہوں نے کہا کہ کافی عرصے سے یہ بہانہ بازی پاکستان میں چل رہی ہے کہ اقتدار میں رہ کر حکومت کے مزے کرو اور برا فوج کو کہہ دو کہ وہ نہیں مانتی یا تو اپنی پالیسیوں پر یقین رکھتے یا نہیں رکھتے ہیں اگر نہیں رکھتے تواس پالیسی کو بدل دیں ، کالعدم تنظیموں سے تعلقات کے حوالے سےاپوزیشن کے الزام سے متعلق سوال کے جواب میں اسد عمر نے کہا کہ آپ بتائیں کہ کیا میرے کالعدم تنظیموں سے تعلقات ہیں ، میری الیکشن مہم کو دیکھ لیں کہ کن تنظیموں نے میری حمایت کا اعلان کیا تھا اپوزیشن کے الزام کے بعد ان میں سے ایک کا پیغام بھی آیا تھا ، یہ وہ تنظیمیں ہیں جو خود دہشتگردی کا شکار رہی ہیں ، جس دن مجھ پر یہ الزام لگا تو انہوں نے کہا کہ ہم آپ کے ساتھ آج بھی کھڑے ہیں اگر آپ چاہتے ہیں تو ہم بیان بھی دینے کو تیار ہیں۔ اگر آپ

چاہتے ہیں تو ہم بیان بھی دینے کو تیار ہیں۔

پی ایس ایل 5 کے میچز صرف لاہور اور کراچی میں نہیں ہوں گے بلکہ کس کس شہر کو کتنے کتنے میچز دیے جائیں گے ؟ پی سی بی نے کرکٹ کے دیوانوں کے لیے بڑی خوشخبری سنا دی


اسلام آباد (ویب ڈیسک ) پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین احسان مانی نے کہا ہے کہ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کا پانچواں ایڈیشن پاکستان میں ہی کھیلا جائے گا جس کے میچ صرف کراچی اور لاہور نہیں بلکہ 4 سے 5 شہروں میں کرائے جانے کی بھرپور کوشش کی جا رہی ہے۔نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے احسان مانی نے

کہا کہ پی ایس ایل سیزن فائیو کے میچز زیادہ سے زیادہ شہروں میں کرائے جانے کی کوشش کریں گے البتہ چار شہروں میں یقینی طور پر کرکٹ کا میلہ سجے گا مگر کوشش کریں گے کہ پانچ شہروں میں میچ ہوں تاکہ تمام شہروں پر کم سے کم بوجھ پڑے۔اس موقع پر انہوں نے سندھ حکومت اور کراچی انتظامیہ کی بھرپور تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے اپنے تمام وسائل پی ایس ایل میچوں کی کامیابی کیلئے مختص کئے اور جس طرح کا تعاون انہوں نے پیش کیا، دیگر شہروں کیلئے شہروں کیلئے یہ بہت بڑا چیلنج ہو گا، لاہور میں میچ نہ ہونے کا افسوس ہے مگر یہ ہمارے ہاتھ میں نہیں تھا، اگلے سال راولپنڈی، ملتان اور اس کے علاوہ ایک اور دو سٹیڈیمز میں میچ کھیلے جائیں البتہ حتمی فیصلہ کرنا ابھی باقی ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ قذافی سٹیڈیم کی تزئین و آرائش کا کام پچھلے سال سے جاری ہے جبکہ راولپنڈی میں ابھی کافی کام کرنا ہے جس میں سے کچھ کام شروع کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ملتان میں بھی کام ہو رہا ہے اور یقینی طور پر وہاں میچ کروائے جائیں گے تاہم ہمیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ پاکستان میں 11 سال سے انٹرنیشنل کرکٹ نہیں ہوئی اس

لئے سٹیڈیمز کے معیار کو بہتر بنانے میں ایک سے دو سال کا عرصہ لگ جائے گا۔

قومی ہیرو راشد منہاس شہید کی والدہ کے انتقال کی خبر غلط نکلی۔۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے سٹاف نے تعزیتی بیان بھی جاری کر دیا


لاہور(ویب ڈیسک) نشان حیدر کا اعزاز پانے والے راشد منہاس کے بھائی انجم منہاس نے والدہ کے انتقال کی خبر کو غلط قرار دیدیا ۔ انجم منہاس نے خبر کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ والدہ کے انتقال کے حوالے سے سوشل میڈیا پر چلنے والی اوراخبارات میں شائع ہونے والے خبر سراسر غلط ہے ۔والدہ علیل ہونے کے باعث ہسپتال میں زیر علاج ہیں اور ڈاکٹر ز نے

بتایا ہے کہ والدہ کی صحت بہتر ہو رہی ہے اور ان کو ایک یا دو دن میں ہسپتال سے فارغ کر دیا جائے گا۔وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدادر کے سٹاف کی جانب سے بغیر تصدیق کئے راشد منہاس کی والدہ کے انتقال پر تعزیتی بیان بھی جاری کر دیا گیا ۔