نواز شریف کی طبی بنیادوں پر ضمانت کی استدعامسترد‎


اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی طبی بنیادوں پر ضمانت کی استدعا مسترد کردی ۔نجی ٹی و ی کے مطابق نواز شریف نے طبی بنیادوں پر ضمانت کی استدعا کی تھی جس پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے 20 فروری کو نواز شریف کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا تھا ۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ نے فیصلہ سنایا ۔نیب نے بھی نواز شریف کو ضمانت پر رہا کرنے کی مخالفت کی تھی ۔ جیسے ہی فیصلہ سنایا گیا ن لیگ کے کارکنوں میں مایوسی پھیل گئی۔نجی ٹی وی

کے مطابق شہبازشریف نے جناح ہسپتال میں اپنے بھائی نوازشریف کے ہمراہ فیصلہ سنا۔واضح رہے کہ اس سے قبل احتساب عدالت نے نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس میں 7 سال قید کی سزا سنائی تھی ۔

ملک میں یوٹیلیٹی اسٹورز بند کرنے کا فیصلہ ۔۔۔ مگر اچانک تبدیلی سرکار نے یہ بڑا فیصلہ کیوں کیا ؟ جانیے


اسلام آباد( ویب ڈیسک) یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کامالی بحران سنگین ہوگیاہے۔ ذ رائع کے مطا بق ملک بھر میں 175یوٹیلیٹی اسٹورز بندکرنےکا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ اسلام آباد ریجن کے 3، چکوال ریجن کے 6،راولپنڈی اور اٹک ریجن کے5,5سٹورز بند کرنےکی تجویز ہے۔ لاہور ،گجرات,جہلم ریجن کے 4، 4 جب کہسکھر، شکار پور، دادو، ریجنز کےمتعدد سٹورز

بند کرنے کی تجویز ہے۔لاڑکانہ، گھوٹکی ،ڈی جی خان، لیہ سمیت دیگر ریجنز کے بھی متعدد سٹورز بند کرنے پرغور کیاجارہاہے۔ پہلے مرحلے میں 175 اور دوسرے مرحلے میں بھی مزید 175سٹورز بند کرنے کی تجویز ہے۔ ماہانہ 1 لاکھ روپے سے کم سیل والے سٹورز کو بھی بندکردیا جا ئےگا، اسٹورز بند کرنے کی سمری ایکنک میں پیش کی جائےگی۔ وفاقی حکومت نے عوام کو اشیائے ضروریہ سستے نرخوں پر فراہم کرنے کے لیے ملک بھر میں قائم یوٹیلیٹی اسٹورز کی 14 سو شاخیں بند کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت و صنعت عبدالرزاق دائود نے چند روز پارلیمنٹ کے ایوان بالا کو بتایا کہ گزشتہ تین سال میں یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کو 13 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوا ہے اس لیے حکومت نے ملک میں قائم یوٹیلٹی سٹورز کی 14 سو شاخیں بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے سینٹ کو بتایا کہ حکومت نے یوٹیلیٹی اسٹورز کو مکمل بند کرنے کا فیصلہ نہیں کیا بلکہ یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کو محدود کیا جائے گا۔ وزیراعظم کے مشیر کا کہنا تھا کہ یوٹیلیٹی اسٹورز کی ان 14 سو شاخوں میں کام نہ ہونے کے برابر ہے اس لیے انہیں بند

کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ گزشتہ روز حکومت نے یوٹیلیٹی اسٹورز کے لیے اشیاء کی خریداری پربھی پابندی عائد کر دی تھی۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت و صنعت عبدالرزاق داؤد کی ہدایت پریوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن میں ہرطرح کی خریداری بند کرنے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کیا گیا تھا۔ خریداری کی بندش سے یوٹیلیٹی اسٹورز پر اشیاء کی دستیابی ختم ہو جائے گی۔ پابندی سے متعلق حکومتی اعلان کے بعد سوالات اٹھے تھے کہ حکومت کےاس فیصلہ سے یوٹیلیٹی اسٹورزکارپوریشن کے 14 ہزار ملازمین کا مستقبل بھی داؤ پر لگ جائے گا۔ یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن ذرائع کے مطابق حکومت نے کارپوریشن کے 27 ارب 61 کروڑ روپے ادا کرنے ہیں جبکہ یوٹیلٹی سٹورز کارپویشن نے مختلف کمپنیوں کے تقریبا ساڈھے 6 ارب ادا کرنا ہے اسی طرح TCP کے ساتھ بھی اربوں روپے کا لین دین ہے۔ جس کی وجہ سے سٹورز مالی بحران کا شکار ہیں،اس وقت ملک بھر میں 5700 یوٹیلٹی سٹورز قائم ہیں جن میں 14000 سے زائد ملامین ہیں۔ یاد رہے شدید مالی بحران اور حکومت کی جانب سے سٹورز کو بند کرنے اور اپنے جائز حقوق کے حصول کے

لئے ملازمین نے 22 اکتوبر کو ڈی چوک اسلام آباد پر 4 دن دھرنا دیا،حکومت نے ملازمین کے تمام مطالبات تسلیم کئے اور دھرنا ختم ہو گیا،اب ایک ماہ ہونے کو ہے مگر حکومت کی جانب سے کسی قسم کا عملی اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔ سٹورز پر سامان کی ترسیل نہ ہونے کے برابر ہے سٹورز پر نمک،دالیں، آٹا، چینی، صابن سمیت کسی قسم کا کوئی سامان نہیں ریکس خالی اور سٹوروں پر ہو کا عالم ہے

ورلڈ کپ میں پاکستان سے ٹاکرا لیکن بھارتی حکومت نے ابھی سے ہتھیار ڈال دئیے،ناقابل یقین اعلان


اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ کتنا ہی نقصان ہو،پاکستان سے ورلڈکپ میچ نہیں کھیلنا چاہیے۔بھارتی کرکٹ بورڈ نے اپنے خدشات سے بذریعہ ای-میل آئی سی سی کو آگاہ کردیا ہے۔جب کہ رہنما کانگریس ششی تھرور کا کہنا ہے کہ میچ نا کھیلنا جنگ سے قبل ہی ہتھیار ڈالنے جیسا ہوگا اور سابق بھارتی بلے باز سچن ٹنڈولکر کا کہنا ہےکہ میچ کا بائیکاٹ نہیں کرنا چاہیئے۔تفصیلا ت کے مطابق،بھارتی کرکٹ بورڈ نفرت کی سیاست پر اترآیا۔ بی سی سی آئی کے منتظم اعلیٰ ونود رائے نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ

دہشت گردی کو ہوا دینے والے ممالک سے تعلقات ختم کردیے جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عالمی کرکٹ تنظیم کو ای میل کے ذریعے اپنے خدشات سے آگاہ کیا گیا ہے۔

وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس، قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلوں کی توثیق کردی گئی،شہبازشریف کے بارے میں بھی بڑا فیصلہ


اسلام آباد (این این آئی) وفاقی کابینہ نے قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلوں کی توثیق کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر، قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمد شہباز شریف کا نام ای سی ایل میں ڈالنے ،نادرا کے اکاؤنٹس کے آڈٹ ، صحت کارڈ کے حوالے سے ہیلتھ لیوی ڈرافٹ بل ، مختلف محکموں کے سربراہوں، خصوصی عدالتوں کے ججز کی تعیناتی ،پاسپورٹ میں پروفیشن کے خانہ سے متعلق تجاویزکی منظوری دیدی ہے۔جمعرات کو وفاقی کابینہ کا اجلاس وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں وفاقی وزراء ، وزرائے مملکت سمیت مختلف محکموں کے اعلی

افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے کابینہ کو قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں کئے گئے فیصلوں میں اعتماد میں لیا۔ کابینہ نے وزیراعظم کے بھارت کو کسی بھی جارحیت پر منہ توڑ جواب دینے کے فیصلے کو سراہتے ہوئے قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلوں کی توثیق کردی۔کابینہ اجلاس میں سول سروس میں مدت ملازمت کے تحفظ کے اصلاحات کی تجاویز پیش کی گئیں اور مختلف معاملات کی منظوری دی گئی۔ کابینہ ارکان کو سعودی ولی عہد کے دورہ پاکستان سے متعلق بریف کیا گیا ، کابینہ ارکان نے سعودی ولی عہد کے کامیاب دورے پر وزیراعظم کو مبارکباد دی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق وفاقی کابینہ نے قائد حزب اختلاف اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد شہباز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالنے کی منظوری دیدی ہے۔کابینہ نے اظہر حمید کو چیئرمین ای او بی آئی تعینات کرنے ،ہارون حسین اینڈ کمپنی کو نادرا اکاؤنٹس کے آڈٹ کی ذمہ داری سونپنے کی بھی منظوری دیدی ہے ۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں جسٹس شاہد کریم کو خصوصی عدالت کا جج جبکہ جسٹس طاہرہ صفدر کو خصوصی عدالت کا صدر مقرر کرنے کی منظوری دی گئی۔کابینہ نے نادراکے اکاؤنٹس کے آڈٹ،صحت کارڈ کے حوالے سے ہیلتھ لیوی ڈرافٹ بل منظور کرلیا ہے ۔کابینہ نے ملک بھر میں ملاوٹ شدہ دودھ کی روک تھام کیلئے بھرپور کارروائیوں کی منظوری بھی دیدی ہے۔وفاقی کابینہ نے پاسپورٹ میں پروفیشن کے خانہ سے متعلق تجاویز ،مختلف ممالک کیساتھ ویزا پروسس میں نرمی اور فیس میں کمی کی بھی منظوری دیدی ہے ۔ واضح رہے کہ چند روز قبل نیب نے آمدن سے زائد اثاثوں سے متعلق کیس میں شہباز شریف کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش کی تھی۔

پاکستان کی مخالفت میں نوازشریف کا انٹرویو بھارت نے کلبھوشن کے دفاع میں عالمی عدالت انصاف میں پیش کردیا،انتہائی افسوسناک انکشافات


دی ہیگ (آن لائن) عالمی عدالت انصاف میں بھارت نے پاکستان کے قومی مفادات کے خلاف سابق وزیراعظم نواز شریف کا ’’ڈان‘‘ اؔ خبار کو دیا گیا انٹر ویو کو اپنے دفاع میں سامنے لایا ہے۔ عالمی عدالت انصاف بھارتی دہشتگرد اور جاسوس کلبھوشن کے مقدمہ کی سماعت کر رہی ہے۔یہ مقدمہ پاکستان کے خلاف بھارت نے دائر کر رکھا ہے بھارت کے وکیل نے دوران سماعت عالمی عدالت انصاف کے ججوں کے سامنے اپنے دلائل دیتے ہوئے اخبار ’’ڈان ‘‘ کو نواز شریف کے انٹر ویو کی کاپی بطور دفاع ثبوت کے طور پر پیش کی اور اپنے دلائل

میں کہا کہ سابق وزیراعظم پاکستان نواز شریف نے تسلیم کر رکھا ہے کہ ممبی حملوں میں پاکستان کے غیرریاستی عناصر ملوث تھے پاکستان کے سابق وزیراعظم کے ا عتراف کے بعد حکومت پاکستان نے ممبئی حملوں میں ملوث سویلین لوگوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ہے بھارتی وکیل نے کہا کہ نواز شریف کے بیان کے بعد ثابت ہوا بھارت میں دہشتگردی کے واقعہ میں پاکستان ملوث ہے کیونکہ حکومت پاکستان نے دہشتگردوں کو سرحد پار کرنے سے نہیں روکا اگر پاکستان دہشتگردوں کو روکتا تو 16 ممالک کے 150 افراد دہشتگردی کی بھینٹ نہ چڑھتے۔ نواز شریف نے انٹر ویو ایک ایسے وقت میں دیا تھا جب بھارت نے عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن کی رہائی کا مقدمہ دائر کررکھا تھا ۔ عالمی عدالت انصاف میں نواز شریف کے انٹر ویو کے حوالہ کی اطلاع پر پاکستان میں ایک طوفان پیدا ہو گیا ہے اور سوشل میڈیا پر نواز شریف مخالف تبصرے شروع ہو چکے ہیں نواز شریف کے بارے میں عام تاثر یہ ہے کہ وہ بھارت کے لئے ہمدردیاں رکھتے تھے۔ بھارت کے وزیراعظم مودی بھی نواز شریف کی نواسی کی شادی میں شرکت کے لئے بھی جاتی امراء لاہور پہنچ گئے تھے اور مسلمانوں کے قاتل مودی کو نوازشریف نے اپنے گھر میں ٹھہرایا تھا ۔

اگلے ماہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا امکان


اسلام آباد : اگلے ماہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا امکان، مختلف پیٹرولیم مصنوعات کی فی لیٹر قیمت میں 10 سے 15 روپے تک اضافے کا امکان۔ ذرائع سے موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق اگلے ماہ سے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا امکان ہے۔

ذرائع کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی فی لیٹر قیمت میں 10 سے 15 روپے تک اضافے کا امکان ہے۔

بتایا گیا ہے کہ اس حوالے سے اوگرا کی جانب سے سمری تیار کی جا رہی ہے۔ اوگرا جلد ہی سمری حکومت کو منظوری کیلئے بھجوائی گئی۔ وزارت خزانہ کی جانب سے سمری منظور کیے جانے کی صورت میں ہی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔ بتایا گیا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت میں اضافے کے باعث پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کیلئے سمری تیار کی جا رہی ہے۔

دنیا کا نایاب ترین چیتا 100 سال بعد پھرنظر آگیا


کینیا(مانیٹرنگ ڈیسک) آپ نے ہالی ووڈ کی ریکارڈ ساز سپر ہیرو فلم بلیک پینتھر تو ضرور دیکھی ہوگی، افریقی ملک کینیا میں بھی بلیک پینتھر کا نظارہ دیکھا گیا لیکن یہ بلیک پینتھر ہالی ووڈ کی فلم سے کہیں زیادہ شاندار اور قابل دید تھا۔ افریقہ کے جنگلات میں عکس بند کیا جانے والا یہ سیاہ تیندوا، تیندوے کی نایاب ترین نسل ہے۔ اس سے تقریباً 100 سال قبل ایک سیاہ تیندوا دیکھا گیا تھا۔ اور اس کی موجودگی کے بارے میں صرف اندازے قائم تھے، تاہم اب اس خوبصورت جانور کی صاف تصاویر نے ماہرین کو خوشگوار حیرت میں مبتلا

کردیا ہے۔ اس کی تصاویر کھینچنے والے وائلڈ لائف فوٹو گرافر ول لوکس کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس علاقے میں اس خوبصورت جانور کی موجودگی کے بارے میں سنا تھا، تاہم انہیں یقین نہیں تھا کہ وہ اسے دیکھنے میں کامیاب ہوسکیں گے۔ یہ تیندوا اتنا انوکھا کیوں ہے؟ اس بارے میں ماہر جنگلی حیات نکولس پلفولڈ کا کہنا ہے کہ یہ تیندوا ایک نایاب جینیاتی مرض میلینزم کا شکار ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ انسانوں میں البانزم (یا برص) کا مرض موجود ہوتا ہے۔ یہ مرض انسانوں کے ساتھ ساتھ جانوروں کو بھی لاحق ہوجاتا ہے۔ اس مرض میں جسم کو رنگ دینے والے عناصر جنہیں پگمنٹس کہا جاتا ہے کم ہوجاتے ہیں، جس کے بعد جسم کا قدرتی رنگ بہت ہلکا ہوجاتا ہے۔ اس مرض کا شکار انسان یا جانور سفید رنگت کے حامل ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس میلینزم میں رنگ دینے والے پگمنٹس نہایت فعال ہوتے ہیں جس کے باعث یا تو جسم پر گہرے یا سیاہ رنگ کے دھبے پڑجاتے ہیں، یا پھر پورا جسم سیاہ ہوجاتا ہے۔ البانزم کی نسبت میلینزم نایاب ترین مرض ہے اور اس کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ضروری نہیں کہ اس تیندوے کے والدین میں بھی یہ مرض موجود ہو، البتہ ان کی جینیات میں اس کا امکان ضرور ہوسکتا ہے جو ان کی آنے والی نسل میں ظاہر ہوتا ہے۔

قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کا آغا سراج درانی کی گرفتاری پر شدید احتجاج ، سیاہ پٹیاں باندھ کر شریک ،سپیکر کا گھیرائو ، ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں


اسلام آباد(این این آئی)قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران پیپلز پارٹی کی جانب سے اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کی گرفتاری پر شدید احتجاج کے بعد اجلاس ہنگامہ آرائی کی نذر ہوگیا ،اپوزیشن نے سپیکر کا گھیرائو کرلیا ، ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں ، حکومتی اور اپوزیشن ارکا ن ایک دوسرے کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے رہے ۔، سپیکر اسد قیصر پیپلز پارٹی اراکین کو نشستوں پر بیٹھنے کی ہدایت کرتے رہے ، اراکین نے ایک نہ سنی ،اسپیکر اپنی نشست سے اٹھ کر چلے گئے ،اجلاس کل جمعہ کو گیارہ بجے دوبارہ ہوگا۔جمعرات کو اسپیکر اسد

قیصر کی زیرصدارت قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو پیپلز پارٹی کے اراکین آغا سراج درانی کی گرفتاری کے معاملے پر بازئوں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر شریک ہوئے ۔اجلاس کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما خورشید شاہ اور راجہ پرویز اشرف نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ سید خورشید شاہ کی تقریر کے بعد جب سپیکر نے وفاقی وزیر شفقت محمود کو مائیک دیا تو اپوزیشن کے ارکان کھڑے ہو کر نعرے بازی شروع کر دی اور شفقت محمود کی تقریر میں بار بار مداخلت کرتے رہے۔ بعد ازاں سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے سپیکر سندھ اسمبلی کی گرفتاری کے معاملے پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اس دوران جواب دینے کیلئے جب سپیکر نے وفاقی وزیر فہمیدہ مرزا کو بولنے کا موقع دیا تو اپوزیشن ارکان نے ایوان میں کھڑے ہوگئے اور شور مچاتے ہوئے سپیکر ڈائس کا گھیرائو کر لیا۔ سپیکر نے کہا کہ ہائوس بزنس ایڈوائزری کے اجلاس میں یہ معاملہ طے کیا تھا، سید خورشید شاہ کو اس بات کا علم ہے۔اپوزیشن کو اس طرح کا طرز عمل اختیار نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اپوزیشن نے احتجاج جاری رکھا تو وہ ایوان کی کارروائی ملتوی کر سکتے ہیں۔ سپیکر کے بار بار سمجھانے کے باوجود بھی اپوزیشن ارکان نے احتجاج جاری رکھا اور ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کو بولنے کا موقع نہیں دیا۔پیپلز پارٹی کے اراکین نے نشستوں سے اٹھ کر ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں۔اسپیکر اسد قیصر کی ڈائس کا گھیراؤ کیا اور شدید نعرے بازی کی۔ اس موقع پر حکومتی اراکین نے بھی پیپلز پارٹی کے اراکین کے جواب میں نعرے لگائے ۔اس موقع پر اسپیکر اسد قیصر پیپلز پارٹی اراکین کو نشستوں پر بیٹھنے کی ہدایت کرتے رہے اور کہا کہ اس طرح اجلاس نہیں چلاؤں گا، احتجاجی اراکین کے نشستوں پر نہ بیٹھنے پر اسپیکر اپنی نشست سے اٹھ کر چلے گئے اور اجلاس کل جمعہ صبح 11 بجے تک کیلئے ملتوی کر دیا۔قبل ازیں نکتہ اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ نے کہاکہ ملک کی 70 سال کی تاریخ میں پہلی بار ایک منتخب اسپیکر کو گرفتار کیا گیا، منتخب اسپیکر کی گرفتاری پر پوری پارلیمنٹ کو احتجاج کرنا چاہیے۔سید خورشید شاہ نے کہا کہ منتخب اسپیکر کی گرفتاری پر کوئی احتجاج کرے یا نہ کرے، ہم تو کریں گے، ہو سکتا ہے کل کو سندھ کے وزیراعلیٰ کو بھی آفس سے گرفتار کرلیا جائے، ہم اپنے اداروں پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔ہمارے احتجاج کو صرف لفظی جنگ نہ سمجھا جائے۔انہوں نے کہا کہ یہ نیا پاکستان ہے جس میں اسپیکر کو گھسیٹ کر لے جایا جاتا ہے، اسپیکر صاحب ڈریں کل آپ کے ساتھ بھی ایسا ہو سکتا ہے، اسپیکر کو ڈکٹیشن دی جاتی ہے کہ خبردار سعد رفیق کو بلایا، جب اسپیکر خود کمزور ہوگا تو سعد رفیق کو کیسے بلائے گا۔خورشید شاہ نے اسپیکر اسد قیصر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اسپیکر صاحب آپ کو بھی سندھ اسمبلی کے اسپیکر کی گرفتاری پر احتجاج کرنا چاہئے۔ہم گلی گلی میں سندھ اسمبلی کے اسپیکر کی گرفتاری پر احتجاج کریں گے ، یہ ملک ہمارا ہے اور ہم آپ کو ایسا نہیں کرنے دیں گے، ہر سندھی پاکستان کے لئے جان دے گا۔سید خورشید شاہ نے کہا کہ پی پی پی نے ہمیشہ جمہوریت کی خدمت کی ،۔ انہوں نے کہاکہ مارشل لائووں نے ملک کو بے بس کرکے رکھ دیا ۔ سید خورشید شاہ نے کہا کہ مارشل لا لگتے رہنے کے باوجود جمہوری لوگوں نے جدوجہد کرکے یہ ایوان بنایا ۔انہوں نے کہاکہ یہاں آنے والے سب ووٹ لیکر آتے ہیں ،یہ ایوان اپنا سپیکر منتخب کرتا ہے ۔ خورشید شاہ نے کہا کہ مولوی تمیزالدین سے لیکر اسد قیصر تک سب سپیکرز قابل احترام ہیں ،یہ ایوان سب سے زیادہ خود مختار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جب ایک ایوان کے سربراہ کو گھسیٹ کر لے جائیں گے تو ان ایوانوں کی کیا خود مختاری ہوگی ؟۔ سید خورشید شاہ نے کہا کہ آغا سراج نے ہوسکتا ہے کچھ کیا ہو مگر یہ کون سا رویہ ہے ۔انہوں نے کہاکہ سندھ وفاق کی اکائی ہے ،آغا سراج درانی سندھ اسمبلی کا سپیکر ہے ۔ انہوںنے کہاکہ ادارے نہیں پارلیمنٹ سپریم ہے۔ انہوں نے کہا کہ آغا سراج درانی اس سندھ اسمبلی کا سپیکر ہیں جس نے پاکستان کے حق میں ووٹ دیا تھا ۔ انہو ں نے کہاکہ یہ ملک بنایا ہی ہمیں مارنے کے لئے گیا ہے ؟ کبھی لیاقت علی خان کو کبھی بھٹو اور کبھی نظیر بھٹو کو شہید کیا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ آج سندھ اسمبلی کے سپیکر کو گھسیٹ کر لے جایا جا رہا ہے ۔انہوں نے کہاکہ جب سپیکر خود کمزور ہوگا تو سعد رفیق کو کیسے بلائے گا ؟سپیکر کو ڈکٹیشن دی جاتی ہے کہ خبردار سعد رفیق کو بلایا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بے نامی دار اور چور کہا جاتا ہے ۔ سید خورشید شاہ نے کہاکہ یہ نیا پاکستان ہے جس میں سپیکر کو گھسیٹ کرلے جایا جاتا ہے ،اسپیکر صاحب ڈریں کل آپ کے ساتھ بھی ایسا ہو سکتا ہے۔ سید خورشید شاہ نے کہا کہ آغا سراج درانی کا تعلق ایک معروف سیاسی گھرانے سے ہے۔جس طرح انہیں گھسیٹ کر گاڑی میں ڈالا گیا وہ افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا جھنڈا سب سے پہلے سندھ اسمبلی پر لہرایا گیا، پاکستان کے حق میں قرارداد سندھ اسمبلی سے آئی اور قومی ترانہ بھی پہلی بار سندھ اسمبلی میں گونجا۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح آغا سراج درانی کے خاندان کو 12 گھنٹے تک ہراساں کیا گیا، ہم اس پر احتجاج کریں گے۔انہوں نے کہا کہ کیا کوئی سوچ سکتا کہ ملک کا وزیر اعظم کہے کہ نئے پاکستان میں دہشتگردی نہیں ہوگی۔سوچیں کہ وہ کہہ کیا رہے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ سعودی ولی عہد کی آمد پر اپوزیشن کو نہ بلاکر کیا پیغام دیا گیا ؟ ہم دعوتوں کے بھوکے نہیں ،اپوزیشن نے 65 جبکہ حکومت 35فیصد ووٹ لئے ۔ انہوںنے کہاکہ 35 فیصد والے 65فیصد والوں کو بونے کہتے ہیں ،حال تو یہ ہے کہ تحریک انصاف کے سابق وائس چیئرمین ایک وزیر کے بارے میں کیا لکھتے ہیں ۔ اجلا س کے دور ان سید خورشید شاہ کے غیر پارلیمانی الفاظ سپیکر نے حذف کرادیئے۔سابق وزیراعظم و پیپلزپارٹی کے رہنما راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ پاکستان کی 70 سالہ تاریخ میں کسی سپیکر کو اس طرح گرفتار نہیں کیا گیا۔ ہمیں احتساب پر اعتراض نہیں ہے، احتساب ہونا چاہیے لیکن کسی کی چار اور چار دیواری کا تقدس پامال کرنے کی اجازت کیسے دی جا سکتی ہے، احتساب کا جو طریقہ کار اپنایا گیا ہے، ہمیں اس پر اعتراض ہے، ہمیں بتایا جائے کون کون سے ایسے ادارے ہیں جو پارلیمنٹ سے بالاتر ہیں، سندھ کے لوگوں کے جذبات اس گرفتاری سے مجروح ہوئے ہیں، قومی اسمبلی اور صوبوں سے سندھ کے عوام کے لئے مثبت پیغام جانا چاہیے۔

سپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی گرفتار


اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) نیب نے سپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کو گرفتار کرلیا۔نجی ٹی وی کےمطابق قومی احتساب بیورو (نیب) نے سپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کو اسلام آباد سے گرفتار کیا ہے، ان پر آمدن سے زائد اثاثوں کا الزام ہے۔ذرائع کے مطابق نیب کراچی کی جانب سے سندھ اسمبلی کےسپیکر آغا سراج درانی کو آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں پیش ہونے کیلئے نوٹس جاری کیے گئے تھے لیکن وہ پیش نہیں ہوئے جس پر نیب کی جانب سے گرفتا ی کیلئے وارنٹ جاری کرنے کیلئے چیئرمین نیب کو خط لکھا گیا تھا جس کے بعد

چیئرمین نیب نے آغاسراج درانی کی گرفتاری کیلئے وارنٹ گرفتاری پر دستخط کر دیئے ۔