شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

سعودی عرب کا ایک ایسا ساحلی مقام جہاں مستقبل میں خواتین بِکنی میں ملبوس نظر آئیں گی


ریاض(ویب ڈیسک) سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اعلان کیا ہے کہ مملکت کے شمال مغربی ساحلی علاقے میں ایک ایسا تفریحی ریزارٹ تعمیر کیا جائے گا، جہاں پر خواتین کو بِکنی پہننے کی اجازت ہو گی۔ اس مقصد کی خاطرمستقبل کے اس بین الاقوامی تفریحی مقام کو سعودی قوانین سے مستثنیٰ قرار دیا جا رہا ہے۔ شہزادہ محمد بن

سلمان جو سعودی معیشت کو جدید خطوط پر اُستوار کرنے کے لیے وِژن 2030ء کے تحت مختلف منصوبوں پر تیزی سے عمل درآمد کروا رہے ہیں، اُن کا کہنا ہے کہ یہ پُرتعیش ساحلی ریزارٹ دُنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ اپنی جانب مرکوز کرے گا۔یاد رہے کہ سعودی عرب میں خواتین کے لیے اپنے جسم کو ڈھانپنے کی خاطر مخصوص عبایہ پہننا لازمی ہے، جس کی وجہ سے مغربی ممالک کے لوگ اور خصوصاً خواتین سعودی عرب کے ساحلوں کو بے کشش اور غیر دلچسپ خیال کرتی ہیں۔اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اس ریزارٹ پر سعودی قوانین کی بجائے بین الاقوامی قوانین کا اطلاق ہو گا۔تاہم یہ بات ابھی واضح نہیں ہے کہ سعودی قوانین کے تحت شراب نوشی کی ممانعت ہے، کیا اس بین الاقوامی معیار کے ریزارٹ پر اس کی اجازت دی جائے گی یا نہیں۔ سعودی عرب پبلک انویسمنٹ فنڈ کے مطابق یہ پُرتعیش ساحلی ریزارٹ پچاسقدرتی چھوٹے چھوٹے جزائر پر محیط ہو گا۔ اعلیٰ معیار کی سہولتوں اور خوبصورت لوکیشنز کے باعث بحیرہ احمر کا یہ خطہ دُنیا بھر کے سیاحوں کے لیے مقبول ترین ساحلی مقام بن جائے گا۔اس ریزارٹ کی تعمیر

2019ء میں شروع کر دی جائے گی جبکہ یہ 2022ء میں پایۂ تکمیل کو پہنچے گا۔ سعودی حکام کو اُمید ہے کہ 2035ء تک اس تفریحی مقام پر سیاحوں کی تعداد دس لاکھ سالانہ تک پہنچ جائے گی۔ لُطف کی بات تو یہ ہے کہ جو سیاح سیدھا اس ساحلی مقام پر پہنچیں گے، اُنہیں ویزہ لینے کی ضرورت نہیں ہو گی۔ بین الاقوامی سرمایہ کاروں نے اس شاندار پراجیکٹ کو مملکت کا ایک بہترین منصوبہ قرار دیا ہے اور اس کی کامیابی کا امکان ظاہر کیا ہے۔





اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ ترین خبریں

دلچسپ و عجیب

بزنس