شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

شہباز شریف کے بعد نواز شریف کی دوبارہ گرفتاری ۔۔۔ پوری (ن) لیگ میں ہلچل مچ گئی


لاہور (ویب ڈیسک )مسلم لیگ ن میں ایک نیا بحران سامنے آگیا کہ شہباز شریف زیرحراست ہیں اور نوازشریف کی بھی دوبارہ گرفتاری متوقع ہے ،انکے بعد پارٹی کی قیادت کون سنبھالے گا؟ ،ن لیگ کو کس طرح متحد رکھا جائیگا؟ ۔نوازشریف کی متوقع گرفتاری کے بعد کہیں ن لیگ کے اندر فارورڈ بلاک تو نہیں بن جائیگا۔ن لیگی قیادت نے متوقع حالات سے

نمٹنے کیلئے سر جوڑ لئے جبکہ،پارٹی کے اندر ہی قیادت سنبھالنے کیلئے کئی گروپ متحرک ہو گئے ۔ ن لیگی ذرائع کے مطابق رواں ماہ میں نوازشریف کیخلاف چلنے والے دو کیسز کے فیصلے متوقع ہیں اور انکی رہائی کیخلاف نیب کی اپیل پر ن لیگ میں پارٹی بحران سے متعلق نئی بحث بھی شروع ہو چکی، کہا جا رہا ہے کہ اگر نوازشریف کو دیگر کیسز میں سزا ہو جاتی ہے یا سپریم کورٹ میں نیب کی اپیل منظور ہو جاتی ہے تو اس صورت میں ان کو دوبارہ جیل جانا پڑ یگا جبکہ شہباز شریف پہلے ہی نیب کی حراست میں ہیں، ان حالات میں ن لیگ کے اندر ایک بڑی گروپنگ ہو اور فارورڈ بلاک کی شکل اختیار کر سکتی ہے ، اس صور ت میں پارٹی کی قیادت کو کون سنبھالے گا ۔ ن لیگ کے اندر اس حوالے سے تین گروپ متحرک ہو چکے ہیں، ایک گروپ خواجہ آصف ، دوسرا شاہد خاقان عباسی اور تیسرا رانا تنویر کے حق میں ہے ۔ کچھ پرانے ن لیگی رہنما کوشاں ہیں کہ چند دنوں کے اندر چودھری نثار اور نوازشریف میں اختلافات اور فاصلوں کو کم کیا جائے اور،پارٹی کو مشکل سے نکلنے کیلئے چودھری نثار کا کندھا استعمال کیا جائے ۔شاہد خاقان کے حوالے سے کہا جا رہا

ہے کہ انکے وزیر اعظم بننے کے بعد شریف خاندان پر مزید سختی آ گئی تھی اور وہ بے بس نظر آ ئے ، اسلئے یہ پارٹی کو متحرک نہیں رکھ سکیں گے ۔ خواجہ آ صف زیادہ بہترہیں مگر انکی ن لیگ کے تمام ارکان اسمبلی کیساتھ ایسی انڈر سٹینڈنگ نہیں کہ وہ سب کو اکٹھا رکھ سکیں ۔ رانا تنویر کاچودھری نثار کیساتھ قریبی تعلق ہے ۔ پارٹی قیادت کو واضح کہا گیا ہے کہ حمزہ شہباز اور خواجہ سعد رفیق کے سر پر بھی نیب کی تلوار لٹک رہی ہے ۔اگر شہباز شریف کے بعد نوازشریف بھی اندر چلے گئے تو ن لیگ کو متحد رکھنا بہت مشکل ہو گا ۔پنجاب اور وفاق دونوں میں ن لیگ کے اندر گروپنگ ہو سکتی ہے ۔ اہم ن لیگی ذرائع کے مطابق ن لیگ کے چند رہنمائوں نے تو پارٹی میٹنگ میں یہاں تک کہہ دیا ہے کہ میاں نوازشریف اور شہباز شریف خود وقت سے پہلے کوئی ایسا فیصلہ کریں جس سے پارٹی کے اندر ممکنہ بحران ٹل جائے ۔





اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ ترین خبریں

دلچسپ و عجیب

بزنس