شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

اسلام آباد پولیس 18 مذہبی رہنمائوں کو گرفتار کرنے سے گریزاں


اسلام آباد : وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی پولیس 18 مذہبی رہنمائوں اور شخصیات کو گرفتار کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر رہی ہے ۔ میڈیا کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پولیس نے 18 مقامی مذہبی سیاسی رہنمائوں کی گرفتاری کے حوالے سے پہلے کے احکامات کے لئے وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ان سے مزید ہدایات حاصل کر سکیں ۔
ایک پولیس افسر کا کہنا ہے کہ یہ مذہبی اور سیاسی راہنما دارالحکومت میں امن و عامہ کے لئے ایک خطرہ تصور کئے جا رہے تھے ۔ان رہنمائوں کی گرفتاری کے احکامات گزشتہ ہفتے ضلعی مجسٹریٹ نے اس وقت جاری کئے تھے جب سپریم کورٹ کی جانب سے آسیہ بی بی کی بربریت پر ملک بھر میں مظاہرہ ٹوٹ پڑے تھے ۔
پولیس افسر کا کہنا ہے کہ یہ گرفتاری کے احکامات عوامی ایم پی او کے تحت جاری کئے گئے تھے تاکہ مظاہروں میں مذہبی رہنمائوں کی موجودگی روکی جا سکے لیکن متعدد وجوہات کی بنا پر ان کے خلاف احکامات کی تعمیل میں کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اب ملک اور وفاقی دارالحکومت میں حالات معمول پر آ گئے ہیں اور ایم پی او کے تحت ان رہنمائوں کی گرفتار کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے لیکن یہ حکم ابھی تک واپس نہیں لیا گیا ہے اس لئے مزید ہدایات کے لئے پولیس ضلعی مجسٹریٹ سے رجوع کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ یہ راہنما مظاہروں کے دوران کسی بھی توڑ پھوڑ یا تشدد میں ملوث نہیں تھے اس لئے ان کے خلاف کسی کارروائی کی کوئی ضرورت نہیں ۔ حکومت کی طرف سے واضح ہدایات میں ان مظاہرین کو گرفتار کیا جائے جو مظاہروں کے دوران توڑ پھوڑ میں ملوث تھے اور جن کے خلاف شواہد بھی موجود ہیں ۔ ۔





اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ ترین خبریں

دلچسپ و عجیب

بزنس