شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

ڈرامہ’’سپاہی مقبول حسین ‘‘ الحمرا میں نمائش کیلئے پیش


لاہور: (دنیا نیوز) پاکستانی سپاہی مقبول حسین کے حالات زندگی پر ڈرامہ نگار اصغر ندیم سید کے قلم سے تحریر کردہ کھیل پیش کیا گیا، ڈرامے میں نہ صرف آنے والی نسلوں کو جذبہ حب الوطنی کا درس دیا گیا بلکہ افواج پاکستان کی خدمات پر سلام پیش بھی کیا گیا۔ سپاہی مقبول حسین پاکستان کی تاریخ کا وہ باب ہے جو 4 دہائیوں تک بند رہنے کے بعد کھلا تو اس

نے پوری قوم میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی۔40 سال تک ہندوستان کی قید میں رہنے والے پاکستانی سپاہی مقبول حسین کے حالات زندگی پر ڈرامہ لاہور الحمرا ّرٹس کونسل میں وزرات ثقافت کی خصوصی ہدایت پر تیار کیا گیا۔ ڈرامے میں دکھایا گیا ہے کہ سپاہی سے اس کی شناخت معلوم کرنے کے لئے کتنا تشدد کیا گیا۔ تشدد کے دوران اس کی زبان کاٹ دی گئی اور ناخن بھی اکھاڑے گئے۔ ۔شائقین نے ڈرامے میں اہم کردار نبھانے والے راشد محمود کی اداکاری کو خوب سراہا۔
سپاہی مقبول حسین کون ہیں؟
ستمبر 2005 میں بھارتی حکومت کی جانب سے کچھ سویلین قیدیوں کا گروپ پاکستان کے حوالے کیا گیا، ان میں سے ایک قیدی ایسا تھا جس کی زباں کٹی ہوئی تھی لیکن آنکھوں میں چیتے سی چمک تھی۔ یہ شخص سپاہی مقبول حسین تھا ، جو کہ اپنے بارے میں کچھ بھی بتانے سے قاصر تھا لہذ ا انہیں بلقیس ایدھی سنٹر بھجوادیا گیا اور ان کے بارے میں اخباروں میں اشتہار دیے گئے۔ مقبول حسین کی ایک بہن حیات تھیں اوران کا ایک بیٹا آرمی سے ریٹائرڈ تھا۔ اسے خبر ملی کہ بھارت کی طرف سے آنے والے قیدیوں میں اپنے ماموں کو تلاش کر سکتے ہو، بشارت حسین نے تمام عمر اپنی ماں سے مقبول حسین کے بارے ہی سنا تھا اور وہ انکے سچے ہیرو تھے۔بشارت ایدھی سنٹر پہنچا اور اس نے مقبول حسین کو دیکھا،اس کی تصویر اپنی والدہ کو دکھائی اور اسے مختلف علامات اور نشانات سے پہچان لیا گیا۔ سپاہی مقبول کے عزیز محمد شریف 27 ستمبر 2005 کو انہیں بلقیس ایدھی ہوم سے ان کے آبائی گاؤں ناریاں‘ تراڑ کھل‘ ضلع سندھنوتی آزادکشمیر لے گئے۔ پھر ایک انکشاف تمام پاکستان کے لئے کسی معجزے سے کم نہیں تھا کہ یہ نیم پاگل نظر آنے والا شخص سپاہی مقبول حسین تھا۔ کشمیر میں ہونے والے آپریشن کاسپاہی جو دشمن کی قید میں زندگی ہے چالیس برس گزار کر اپنی دھرتی ماں پر واپس پہنچا تھا۔ کمانڈنٹ کو کٹی زباں والے شخص کے بارےاتنا ہی تجسس تھا جس کا اظہار دوسرے لوگ کر رہے تھے. کمانڈنٹ کے حکم پر قیدی کے لکھے نمبر کی مدد سے جب ایک پرانی فائل کھولی گئ تو یہ واقعی سپاہی مقبول حسین تھا. وہ مقبول جس کو جنگ کے دوران نہ ملنے کے سبب ایک مخصوص وقت کے بعد شہید قرار دے دیا گیا تھا۔ وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ دشمن کے علاقے میں اسلحہ کے ایک ڈپو کو تباہ کر کے واپس آ رہا تھا کہ اسی دوران اس کی دشمن سے جھڑپ ہو گئی۔ سپاہی مقبول حسین جو اپنی پشت پر وائرلیس سیٹ اٹھائے ہوئے تھا۔ اپنے افسران سے پیغام رسائی کے فرائض کے ساتھ ساتھ ہاتھ میں اٹھائی مشین گن سے دشمن کا مقابلہ بھی کر رہا تھا اور اسی دوران وہ مقابلے میں زخمی ہو گیا ۔ سپاہی اسے اٹھا کر واپس لانے لگے مگر ساتھیوں کی حفاظت اور مشکل کا سوچ کر مقبول حسین نے خود کو ایک کھائی میں گرا لیا۔ ساتھی اسے تلاش کرتے رہے جبکہ وہ آنے والے دشمن کو روکنے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ساتھی جب اسے نہ ڈھونڈ سکے تو آگے بڑھ گئےاور پھر مقبول حسین نے اپنی مشین گن سے دشمن کو مسلسل الجھائے رکھا، اسی دوران اسے مزید گولیاں لگیں اور وہ دشمن کے ہاتھوں جنگی قیدی بن گیا۔ جب جنگ ختم ہی تو دونو ملکوں کے درمیان قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ ہوا اس دوران بھارت نے کہیں بھی سپاہی مقبول حسین کا ذکر نہ کیا ۔ اس لیے پاک فوج نے بھی سپاہی مقبول حسین کو شہید تصور کر لیا ، یادگار شہداء پر بھی اس کا نام کندہ کر دیا گیا۔ بھارتی افواج نے مقبول حسین پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑےِ، اسے چار فٹ کی کوٹھری میں بند کرکے تشدد اور اذیت سے دوچار کیا گیا۔پاؤں سے ناخن اورمنہ سے دانت اکھاڑ دئیے گئے۔ اس کی زباں پر ایک ہی نعرہ ہوتا۔۔ پاکستان زندہ باد.. وہ اسے مجبور کرتے کہ پاکستان کو گالی دو.. مگر اس کی زباں پر صرف اپنے وطن عزیز کا نعرہ ہوتا، بھارتی فوجی اس پر ٹوٹ پڑتے اور تشدد کا نشانہ بناتے۔ یہ ان کے لئے برداشت اور حب الوطنی کا ٹسٹ کیس تھا، وہ اسے جنگی قیدی کا سٹیٹس بھی اس لئے نہ دے رہے تھے کہ مقبول حسین ان کے لئے ایک ضد تھا۔۔ چیلنج تھا جبکہ مقبول کے لہو میں تو صرف اس وطن کی محبت تھی ۔ سپاہی مقبول حسین ڈٹا رہا، اس کی ہمت کے سامنے بھارتی سپاہ کچھ بھی نہ کر پا رہی تھی۔۔ وہ تو بس ایک نعرہ لگاتا اور جیل کے دیوار گونج اٹھتے..پاکستان زندہ باد ۔ آخر انھوں نے اس کی زبان سے بدلہ لینے کا سفاکانہ فیصلہ کر لیا. انہوں نے سپاہی مقبول حسین کی زبان کاٹ دی. اب وہ پاکستان زندہ باد کا نعرہ نہیں لگا سکتا تھا.. ہاں مگر وہ لکھ سکتا تھا.. وہ جیل کی چار فٹ چوڑی دیوار پر لکھتا رہا.. پاکستان زندہ باد.. اور 355139.. وہ آرمی نمبر جسے وہ کبھی بھولنا نہیں چاہتا تھا.. وہ بھولنا تو اپنی اس منگیتر نصیراں کو بھی نہیں تھا جو مقبول حسین کی منتظر تھی.اپنی بہن سرور جان جو اس کی لاڈلی تھی. وہ اس ماں کو بھی نہیں بھولنا چاہتا تھا جس نے مقبول کی شہادت کا خط ملنے کے بعد کہا تھا کہ میرا مقبول زندہ ہے.. وہ ایک دن ضرور واپس آئے گا. اور پھر وہ تمام عمر اس کا گاؤں کے داخلی حصے میں رہتے ہوئے انتظار کرتی رہی۔وہ کہتی تھی کہ مجھے گاؤں کے شروع میں دفن کیا جائے،میں اپنے مقبول کا استقبال کروں گی۔ سپاہی مقبول حسین نے 1965 سے لے کر 2005 تک اپنی زندگی کے بہترین 40سال اس اندھیری کوٹھری میں گزار دئیے۔ کٹی زبان سے پاکستان زندہ آباد کا نعرہ تو نہیں لگا سکتا تھا لیکن اپنے جسم سے بہتے خون کی مدد سے پاکستان زندہ باد لکھ دیا کرتا تھا، تنگ آکر بھارت نے انہیں سویلین قیدیوں کے درمیان پاکستان کے حوالے کردیا۔

 





اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ ترین خبریں

دلچسپ و عجیب

بزنس