شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

بغیر سازش کے اس طرح کا واقعہ نہیں ہوسکتا! مولانا سمیع الحق قتل کیس میں چوہدری نثارکا ردعمل آگیا ،اہم مطالبہ کرڈالا


اسلام آباد (ویب ڈیسک) سابق وزیر داخلہ چویدری نثار کی دار العلوم حقانیہ آمد ہوئی ہے۔چوہدری نثار نے مولانا سمیع الحق کے اہل خانہ سے ان کے انتقال پر اظہار تعزیت کرتے ہوئے ان کے بلند درجات کے لیے دعا کی۔اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ مولانا سمیع الحق ایک بہت بڑے محب وطن تھے اور ان کی ساری زندگی

پاکستان کی خدمت کرتے ہوئے گزری۔پاکستان کو جب بھی کوئی مشکل پیش آئی اور مولانا سمیع الحق کی مدد درکار ہوئی تو وہ پیش پیش ہوتے تھے۔اس موقع پر صحافی نے سوال کیا کہ ان کی شہادت کے پیچھے کیا محرکات ہو سکتے ہیں؟ تو چوہدری نثار نے کہا کہ اس موقع پر اس متعلق اظہارِ خیال کرنا مناسب نہیں ہے تاہم میں اتنا کہوں گا کہ جن لوگوں نے بھی یہ غیر انسانی فعل کیا وہ صرف مولانا سمیع الحق کے دشمن نہیں تھے بلکہ وہ پاکستان اور انسانیت کے بھی دشمن تھے۔تاہم بغیر سازش کے اس طرح کا واقعہ نہیں ہوسکتا۔ چوہدری نثار علی خان نے مولانا سمیع الحق کے بلند درجات کے لیے بھی دعا کی۔حکومتی حالات اور سیاست سے متعلق سوال کے جواب میں چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ اس وقت اس پر گفتگو کرنا مناسب نہیں تاہم حالات قابل تشویش ضرور ہیں۔واضح رہے معروف عالم دین، مذہبی اسکالر اور جمعیت علماء اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق کو راولپنڈی میں ان گھر میں ہی قاتلانہ حملے میں شہید کردیا گیا۔ملزمان نے مولانا سمیع الحق پر چاقوؤں سے حملہ کیا۔ حملے کے وقت مولانا سمیع الحق اکیلے ہی گھر میں موجود تھے۔ ملازم کا کہنا ہے کہ میں باہر گیا

تھا، جونہی میں گھر واپس آیا تو مولانا سمیع الحق خون میں لت پت تھے۔ ان کو اسپتال لے جایا گیا تووہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگئے۔ یاد رہے مولانا سمیع الحق جمعیت علماء اسلام (س)، دفاع پاکستان کونسل کے سربراہ اور جامعہ حقانیہ کے مہتمم تھے۔ان کی عمر81 برس تھی۔مولانا سمیع الحق 18دسمبر،1937ء کو اکوڑہ خٹک میں پید ا ہوئے۔ مولانا سمیع الحق1988 سے دارالعلوم حقانیہ کے سربراہ ہیں جہاں سے ہزاروں طالبان نے دینی تعلیم حاصل کی ہے۔ دارالعلوم حقانیہ کو 1990 کی دہائی میں افغان جہاد کی نرسری تصور کیا جاتا تھا۔ وہ مذہبی اسکالر، عالم اور سیاست دان تھے وہ متعدد مرتبہ قومی اسمبلی اور سینٹ کے رکن منتخب ہوئے۔مولانا سمیع الحق کے طالبان اور ملا محمد عمر کے ساتھ قریبی تعلقات تھے انہیں طالبان کے حوالے سے ایک بااثرشخصیت سمجھا جاتا تھا۔مولانا سمیع الحق دار العلوم حقانیہ کے مہتمم اور سربراہ بھی تھے۔ دار العلوم حقانیہ ایک دینی درس گاہ ہے جو دیوبندی مکتب فکر سے تعلق رکھتی ہے۔ مولانا سمیع الحق دفاع پاکستان کونسل کے چیئرمین اور جمعیت علما اسلام کے سمیع الحق گروپ کے امیرتھے۔





اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ ترین خبریں

دلچسپ و عجیب

بزنس