شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

سندھ میں حکومت کے خاتمے کے لیے عمران حکومت کیا کرنے والی ہے ؟ نامور صحافی نے بڑادعویٰ کر دیا


لاہور(ویب ڈیسک) وفاقی حکومت نے سندھ حکومت کو گرانے کی تیاری شروع کردی ہے؟ سینئر تجزیہ کار افتخار احمد نے واضح کیا ہے کہ غیرقانونی طریقے سے حکومت گرانے کی حمایت نہیں کریں گے،وفاقی حکومت گورنر راج لگا سکتی ہے ، یا پھر تحریک عدم اعتماد لاسکتی ہے، گورنرراج کیلئے قانونی جوازہونا لازمی ہے،لیکن کسی بھی غیرقانونی اقدام کے

منفی اثرات مرتب ہوں گے۔انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جعلی اکاؤنٹس سے پیسے نکلنے پر انکوائری ہوگی یا کیا ہوگا یہ ایک لمبی چوڑی کہانی ہے۔انہوں نے کہا کہ اب یہ ہے کہ پیپلزپارٹی کی حکومت کتنے دن رہتی ہے۔ اگر توپیپلزپارٹی کی سندھ حکومت کو غیرقانونی طریقے سے ہٹانے کی کوشش کی گئی تو ہم جیسے لوگ غیرقانونی اقدام کا ساتھ نہیں دیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم جمہوریت اور آئین کے تحت ہر اقدام کی حمایت کرتے ہیں لیکن کسی بھی غیرقانونی اقدام کی مخالفت کریں گے۔ تحریک عدم اعتماد لیکر آئیں اگر تحریک عدم اعتماد کے تحت حکومت بدلی جاتی ہے تو یہ ایک آئینی طریقہ ہوگا اس کے علاوہ باقی تمام غیرقانونی اقدام تصور کیے جائیں گے۔اس طرح کے اقدام کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ دو طریقے ہیں کہ ایک یہ کہ گورنر راج لگا دیا جائے لیکن گورنر راج کیلئے بھی قانونی جواز ہونا چاہیے دوسرا طریقہ تحریک عدم اعتماد ہے۔انہوں نے کہا کہ فالودے والے کے اکاؤنٹس سے پیسے نکلتے ہیں تواس کی بنیاد پرحکومتیں تو نہیں گرائی جاسکتیں؟پاکستان کی خرابی کی وجہ یہی تھی کہ ہم نے

غیرجمہوری طریقوں کیحمایت کرتے رہے ہیں۔اسی کی وجہ سے آج ہم یہاں کھڑے ہیں۔ واضح رہے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ احتساب پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا کیونکہ ہمیں اسی بنیاد پر ووٹ ملے ہیں، سندھ میں غنڈہ راج ہے جس کا خاتمہ ضروری ہے، پیپلزپارٹی کی فرسودہ سیاست ہے جس کی آمین آصف زرداری کی پارٹی ہے، پی ٹی آئی نے سندھ میں لسانی سیاست کے خاتمے کی بنیاد رکھ دی ہے،اگلے الیکشن میں سندھ میں پی ٹی آئی کی دو تہائی اکثریت ہوگی، ماضی میں کراچی کو بند کیا جاتا تھا اس دفعہ لاہور بند ہوگیا جب کہ ہم پہلی بار سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے جارہے ہیں۔وہ اتوارکوکراچی کے مقامی ہوٹل میں سیمینار سے خطاب اور میڈیا سے بات چیت کررہے تھے۔ فواد چوہدری نے کہا کہ ماضی میں کراچی کو بند کیا جاتا تھا اس دفعہلاہور بند ہوگیا جب کہ وزیر خزانہ کو نشانہ بنایا گیا کہ وہ آئی ایم ایف کے سامنے جھک گئے ہیں تاہم اسٹیٹ بینک کو باہر سے ملنے والی رقم سے سپورٹ ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا سوشل میڈیا پر کنٹرول بالکل بھی نہیں اور ٹی ایل پی کی جانب سے سوشل میڈیا کا بہت استعمال کیا گیا۔ فواد چوہدری

نے کہا کہ انفارمیشن منسٹری ہمارے لیے ایک چیلنج ہے۔





اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ ترین خبریں

دلچسپ و عجیب

بزنس