شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

پنجاب حکومت میں شامل تمام وزراء کی چھٹی نئے نام کون سے ہونگے؟ عبدالعلیم خان نے انکشاف کر دیا


کراچی(ویب ڈیسک) پنجاب کے سینئر وزیر علیم خان نے کہا ہے کہ حکومت میں شامل تمام وزرا جلد اپنے پارٹی عہدے چھوڑ دیں گے متبادل ناموں پر غور ہورہا ہے صوبہ پنجاب میں تمام اختیارات صرف عثمان بزدار کے پاس ہیں مجھے ابتدائی سودن کے پلان کی ذمے داری بھی وزیراعلیٰ پنجاب نے سونپی ہے ۔وزیراعلیٰ نے ہی گورنرپنجاب چودھری سرور کو

صاف پانی پراجیکٹ کی سربراہی سونپی ہے اگر چودھری سرور ایم پی اے ہوتے تو پارٹی انہیں وزیراعلیٰ کے عہدے کیلئے سوچ سکتی تھی عثمان بزدار ایک اچھے منتظم اعلیٰ ہیں جو ماتحت افراد کے ساتھ بھی نرمی سے پیش آتے ہیں،ان میں دوسروں کو ساتھ لے کر چلنے کا ہنر ہے ،عثمان بزدارنے اپنے وزیروں کو بااختیار بنایا ہے ،اوران کی صلاحیتوں کے مطابق ذمے داریاں دی ہیں۔شہبازشریف کے دورمیں وزیروں کی حیثیت محض کٹھ پتلی کی سی تھی ۔جو وزیر کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرے گا وہ کابینہ کا حصہ نہیں رہے گا۔ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ حمزہ شہبازثبوت فراہم کریں ،میں نے کب کس کی زمین پر قبضہ کیا ہے ۔ثبوت نہ دیئے تو عدالت جانے کیلئے تیار رہیں ن لیگ میں فارورڈ بلاک بن سکتا ہے جبکہ حکومتی جماعت میں دھڑے بنانا آسان نہیں ہوتا جن بیوروکریٹ کا تعلق نو ن لیگ سے ہوگا انہیں برداشت نہیں کیا جائیگا۔ جبکہ دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کی ضمنیانتخابات میں پی کے 71میں نشست گنوانے کی وجہ سامنے آگئی، الیکشن نہ جیتنے کی وجہ پارٹی اختلافات ہیں، دلدار خان کو ٹکٹ دینے کا وعدہ کرکے شاہ فرمان کو ٹکٹ دے دیا

گیا۔ ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کی ضمنی الیکشن پی کے 71میں نشست ہارنے کی وجہ 2 انتخابی امیدوار تھے۔پی کے 71میں گورنر شاہ فرمان کی چھوڑی گئی نشست پر پی ٹی آئی نے شاہ فرمان کے بھائی ذوالفقار کو ٹکٹ دے دیا جبکہ ٹکٹ کے خواہشمند دلدار خان نے آزاد حیثیت میں الیکشن لڑا۔ دلدار خان نے شاہ فرمان کے بھائی کے حق میں دستبردار ہونے سے انکار کیا۔ اور الیکشنمیں بھرپور انتخابی مہم بھی چلائی۔ جس کے نیتجے میں تحریک انصاف ٹکٹ ہار گئی۔یوں پی ٹی آئی نے عام انتخابات میں جیتی ہوئی ایک اورنشست گنوا دی۔غیرحتمی غیرسرکاری نتائج کے مطابق پی کے 71 پشاورکے 86 میں سے 80 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج کے تحت اے این پی کے صلاح الدین 10523 ووٹلے کر آگے ہیں جبکہ تحریک انصاف کے ذوالفقار خان 9084 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔ واضح رہے اس سے قبل ضمنی انتخابات2018ء کا انعقاد چودہ اگست کو ہوا۔ ضمنی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں صدر مملکت عارف علوی کی خالی نشست این اے 247 کراچی اور عمران اسماعیل کی صوبائی نشست پرانتخاب ہوا۔جبکہ خیبرپختونخواہ میں گورنر شاہ فرمان

کی چھوڑی ہوئی نشست پی کے 71میں ضمنی انتخاب ہوا۔ تاہم کراچی میں پی ٹی آئی نے دونوں نشستوں پر کامیابی حاصل کرلی ہے۔ انتخابات میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔ خیبرپختونخواہ پی کے 71میں تحریک انصاف نے گورنر کے پی شاہ فرمان کے بھائی ذوالفقار خان کو ٹکٹ دیا۔ جبکہ ان کے مدمقابل عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار صلاح الدین الیکشن لڑ رہے ہیں۔ ضمنی انتخابات میں اپوزیشن کے جماعتوں کےاتحاد سے اے این پی کو بہت زیادہ فائدہ ہوا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ضمنی الیکشن میں پی ٹی آئی کے امیدوار کو حکومتی اتحادی جماعتوں نے بھی سپورٹ کیا۔ تاہم پی ٹی آئی کے رہنماؤں میں اندرونی اختلافات کے باعث تحریک انصاف نشست جیتنے میں ناکام رہی۔تحریک انصاف کے امیدوار دلدار خان بھی ٹکٹ کے امیدوار تھے لیکن ان کو ٹکٹ دینے کی بجائے گورنر خیبرپختونخواہ شاہ فرمان کے بھائی کوٹکٹ دے دیا گیا۔تاہم دلدار خان نے آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن میں حصہ لیا۔ تاہم پی ٹی آئی کے امیدواروں میں اختلافات کے باعث ووٹ خراب ہوئے۔ جس کا فائدہ اپوزیشن جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار کو پہنچا۔ اگر دیکھا جائے تو چودہ

اکتوبر کو ہونے والے ضمنی انتخابات میں بھی پی ٹی آئی نے اپنی جیتی ہوئی نشستیں گنوا دی ہیں۔ اس کے برعکس حکومت کو ضمنی انتخابات میں حکومتی کارکردگی کے باعث بھی شکست کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ حکومت نے اپنے ابتدائی 50دنوں میں ہی مہنگائی کا طوفان کھڑا کردیا ہے۔ اسی طرح اپوزیشن جماعتوں کے مطابق پی ٹی آئی کی ضمنی انتخابات میں ہار عام انتخابات میں جیت پر سوالیہ نشان ہے۔اپوزیشن کے مطابق عام انتخابات میں پی ٹی آئی دھاندلی کی بدولت جیتی تھی۔





اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ ترین خبریں

دلچسپ و عجیب

بزنس